TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of asking permission. - کتاب اجازت لینے کے بیان میں - Book 80 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 80 of Sahih Bukhari, with 55 chapters and 77 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

77 Hadith · 55 Chapters
(30) CHAPTER. Whoever replies (on being called) saying, “Labbaik wa Sadaik” (I respond to your call, and I am obedient to your orders).
کوئی بلائے تو جواب میں لفظ لبیک ( حاضر ) اور سعدیک ( آپ کی خدمت کے لئے مستعد ) کہنا
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ : أَنَا رَدِيفُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ قَالَ : مِثْلَهُ ثَلَاثًا هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قُلْتُ : لَا ، قَالَ : حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ .
Narrated Mu`adh: While I was a companion rider with the Prophet he said, O Mu`adh! I replied, Labbaik wa Sa`daik. He repeated this call three times and then said, Do you know what Allah's Right on His slaves is? I replied, No. He said, Allah's Right on His slaves is that they should worship Him (Alone) and should not join partners in worship with Him. He said, O Mu`adh! I replied, Labbaik wa Sa`daik. He said, Do you know what the right of (Allah's) salves on Allah is, if they do that (worship Him Alone and join none in His worship)? It is that He will not punish them. (another chain through Mu'adh)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! میں نے کہا «لبيك وسعديك‏.‏» ( حاضر ہوں ) ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ مجھے اسی طرح مخاطب کیا اس کے بعد فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ ( پھر خود ہی جواب دیا ) کہ یہ کہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر آپ تھوڑی دیر چلتے رہے اور فرمایا کہ اے معاذ! میں نے عرض کی «لبيك وسعديك‏.‏» فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ جب وہ یہ کر لیں تو اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ یہ کہ انہیں عذاب نہ دے۔
6267
Sahih
(30) CHAPTER. Whoever replies (on being called) saying, “Labbaik wa Sadaik” (I respond to your call, and I am obedient to your orders).
کوئی بلائے تو جواب میں لفظ لبیک ( حاضر ) اور سعدیک ( آپ کی خدمت کے لئے مستعد ) کہنا
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا وَاللَّهِ أَبُو ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ ، قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرَّةِ الْمَدِينَةِ عِشَاءً اسْتَقْبَلَنَا أُحُدٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، مَا أُحِبُّ أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا يَأْتِي عَلَيَّ لَيْلَةٌ ، أَوْ ثَلَاثٌ عِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ ، إِلَّا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ إِلَّا أَنْ أَقُولَ بِهِ فِي عِبَادِ اللَّهِ : هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَأَرَانَا بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الْأَكْثَرُونَ هُمُ الْأَقَلُّونَ ، إِلَّا مَنْ قَالَ : هَكَذَا وَهَكَذَا ، ثُمَّ قَالَ لِي : مَكَانَكَ لَا تَبْرَحْ يَا أَبَا ذَرٍّ حَتَّى أَرْجِعَ ، فَانْطَلَقَ حَتَّى غَابَ عَنِّي ، فَسَمِعْتُ صَوْتًا فَخَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَذْهَبَ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْرَحْ ، فَمَكُثْتُ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُ صَوْتًا خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عُرِضَ لَكَ ، ثُمَّ ذَكَرْتُ قَوْلَكَ ، فَقُمْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ذَاكَ جِبْرِيلُ أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا ، دَخَلَ الْجَنَّةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ، قَالَ : وَإِنْ زَنَى ، وَإِنْ سَرَقَ ، قُلْتُ لِزَيْدٍ : إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ : أَشْهَدُ لَحَدَّثَنِيهِ أَبُو ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، نَحْوَهُ ، وَقَالَ أَبُو شِهَابٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ : يَمْكُثُ عِنْدِي فَوْقَ ثَلَاثٍ .
Narrated Abu Dhar: While I was walking with the Prophet at the Hurra of Medina in the evening, the mountain of Uhud appeared before us. The Prophet said, O Abu Dhar! I would not like to have gold equal to Uhud (mountain) for me, unless nothing of it, not even a single Dinar remains of it with me, for more than one day or three days, except that single Dinar which I will keep for repaying debts. I will spend all of it (the whole amount) among Allah's slaves like this and like this and like this. The Prophet pointed out with his hand to illustrate it and then said, O Abu Dhar! I replied, Labbaik wa Sa`daik, O Allah's Apostle! He said, Those who have much wealth (in this world) will be the least rewarded (in the Hereafter) except those who do like this and like this (i.e., spend their money in charity). Then he ordered me, Remain at your place and do not leave it, O Abu Dhar, till I come back. He went away till he disappeared from me. Then I heard a voice and feared that something might have happened to Allah's Apostle, and I intended to go (to find out) but I remembered the statement of Allah's Apostle that I should not leave, my place, so I kept on waiting (and after a while the Prophet came), and I said to him, O Allah's Apostle, I heard a voice and I was afraid that something might have happened to you, but then I remembered your statement and stayed (there). The Prophet said, That was Gabriel who came to me and informed me that whoever among my followers died without joining others in worship with Allah, would enter Paradise. I said, O Allah's Apostle! Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft? He said, Even if he had committed illegal sexual intercourse and theft.
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا ( کہا کہ ) واللہ ہم سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رات کے وقت مدینہ منورہ کی کالی پتھروں والی زمین پر چل رہا تھا کہ احد پہاڑ دکھائی دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر! مجھے پسند نہیں کہ اگر احد پہاڑ کے برابر بھی میرے پاس سونا ہو اور مجھ پر ایک رات بھی اس طرح گزر جائے یا تین رات کہ اس میں سے ایک دینار بھی میرے پاس باقی بچے۔ سوائے اس کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لیے محفوظ رکھ لوں میں اس سارے سونے کو اللہ کی مخلوق میں اس اس طرح تقسیم کر دوں گا۔ ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کی کیفیت ہمیں اپنے ہاتھ سے لپ بھر کر دکھائی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ابوذر! میں نے عرض کیا «لبيك وسعديك‏.‏» یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زیادہ جمع کرنے والے ہی ( ثواب کی حیثیت سے ) کم حاصل کرنے والے ہوں گے۔ سوائے اس کے جو اللہ کے بندوں پر مال اس اس طرح یعنی کثرت کے ساتھ خرچ کرے۔ پھر فرمایا یہیں ٹھہرے رہو ابوذر! یہاں سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک میں واپس نہ آ جاؤں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ اس کے بعد میں نے آواز سنی اور مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی پریشانی نہ پیش آ گئی ہو۔ اس لیے میں نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے ) جانا چاہا لیکن فوراً ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد آیا کہ یہاں سے نہ ہٹنا۔ چنانچہ میں وہیں رک گیا ( جب آپ تشریف لائے تو ) میں نے عرض کی۔ میں نے آواز سنی تھی اور مجھے خطرہ ہو گیا تھا کہ کہیں آپ کو کوئی پریشانی نہ پیش آ جائے پھر مجھے آپ کا ارشاد یاد آیا اس لیے میں یہیں ٹھہر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ جبرائیل علیہ السلام تھے۔ میرے پاس آئے تھے اور مجھے خبر دی ہے کہ میری امت کا جو شخص بھی اس حال میں مرے گا کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ اس نے زنا اور چوری کی ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگر اس نے زنا اور چوری بھی کی ہو۔ ( اعمش نے بیان کیا کہ ) میں نے زید بن وہب سے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس حدیث کے راوی ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں؟ زید نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حدیث مجھ سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے مقام ربذہ میں بیان کی تھی۔ اعمش نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوصالح نے حدیث بیان کی اور ان سے ابو الدرداء رضی اللہ عنہ نے اسی طرح بیان کیا اور ابوشہاب نے اعمش سے بیان کیا۔
6268
Sahih
(31) CHAPTER. A man should not make another get up from his (the latter's) seat.
کوئی شخص کسی دوسرے بیٹھے ہوئے مسلمان بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet said, A man should not make another man get up from his (the latter's) seat (in a gathering) in order to sit there.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کے بیٹھنے کی جگہ سے نہ اٹھائے کہ خود وہاں بیٹھ جائے۔“
6269
Sahih
(32) CHAPTER. (The Statement of Allah): “(O you who believe!) When you are told to make room in the assemblies, (spread out and) make room...” (V.58:11)
اللہ پاک کا سورۃ المجادلہ میں فرمانا کہ
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُقَامَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَجْلِسَ فِيهِ آخَرُ ، وَلَكِنْ تَفَسَّحُوا وَتَوَسَّعُوا ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَكْرَهُ أَنْ يَقُومَ الرَّجُلُ مِنْ مَجْلِسِهِ ، ثُمَّ يَجْلِسَ مَكَانَهُ .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet forbade that a man should be made to get up from his seat so that another might sit on it, but one should make room and spread out. Ibn `Umar disliked that a man should get up from his seat and then somebody else sit at his place.
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ عمری نے، ان سے نافع اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا تھا کہ کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھایا جائے تاکہ دوسرا اس کی جگہ پر بیٹھے، البتہ ( آنے والے کو مجلس میں ) جگہ دے دیا کرو اور فراخی کر دیا کرو اور ابن عمر رضی اللہ عنہما ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص مجلس میں سے کسی کو اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جائے۔
6270
Sahih
(33) CHAPTER. Whoever got up from his gathering or his house without taking the permission of his companions, or seemed to be ready to get up that the people might get up (and leave).
جو اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر مجلس یا گھر میں کھڑا ہوا یا کھڑے ہونے کے لئے ارادہ کیا تاکہ دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو جائیں تو یہ جائز ہے
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُ ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ ، دَعَا النَّاسَ طَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ ، قَالَ : فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ ، فَلَمْ يَقُومُوا فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ ، فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ مَعَهُ مِنَ النَّاسِ ، وَبَقِيَ ثَلَاثَةٌ ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا ، قَالَ : فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا ، فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى قَوْلِهِ : إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 53 .
Narrated Anas bin Malik: When Allah's Apostle married Zainab bint Jahsh, he invited the people who took their meals and then remained sitting and talking. The Prophet pretended to be ready to get up, but the people did not get up. When he noticed that, he got up, and when he had got up, some of those people got up along with him and there remained three (who kept on sitting). Then the Prophet came back and found those people still sitting. Later on those people got up and went away. So I went to the Prophet and informed him that they had left. The Prophet came, and entered (his house). I wanted to enter(along with him) but he dropped a curtain between me and him. Allah then revealed: 'O you who believe! Do not enter the Prophet's Houses until leave is given... (to His statement)... Verily! That shall be an enormity, in Allah's sight.' (33.53)
ہم سے حسن بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، وہ ابومجلز (حق بن حمید) سے بیان کرتے تھے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہ سے نکاح کیا تو لوگوں کو ( دعوت ولیمہ پر ) بلایا۔ لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھ کر باتیں کرتے رہے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں۔ لیکن لوگ ( پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے ) پھر بھی کھڑے نہیں ہوئے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو آپ کھڑے ہو گئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ کے ساتھ اور بھی بہت سے صحابہ کھڑے ہو گئے لیکن تین آدمی اب بھی باقی رہ گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر جانے کے لیے تشریف لائے لیکن وہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی چلے گئے۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں آیا اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ وہ ( تین آدمی ) بھی جا چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم‏» اے ایمان والو! نبی کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے۔“ ارشاد ہوا «إن ذلكم كان عند الله عظيما‏» تک۔
6271
Sahih
(34) CHAPTER. Al-Ihtiba with the hand, i.e., Al-Qurfusa (a sitting posture wherein one sits with one's legs drawn up and wrapped in one's garment or surrounded with one's arms).
ہاتھ سے احتباء کرنا اور اس کو قرفصا کہتے ہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِنَاءِ الْكَعْبَةِ مُحْتَبِيًا بِيَدِهِ هَكَذَا .
Narrated Ibn `Umar: I saw Allah's Apostle in the courtyard of the Ka`ba in the Ihtiba.' posture putting his hand round his legs like this.
ہم سے محمد بن ابی غالب نے بیان کیا، کہا ہم کو ابراہیم بن المنذر حزامی نے خبر دی، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحن کعبہ میں دیکھا کہ آپ سرین پر بیٹھے ہوئے دونوں رانیں شکم مبارک سے ملائے ہوئے ہاتھوں سے پنڈلی پکڑے ہوئے بیٹھے تھے۔
6272
Sahih
(35) CHAPTER. Whoever sat in a reclining posture in the company of his companions.
اپنے ساتھیوں کے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھنا
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ ؟ ، قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ .
Narrated Abu Bakra: Allah's Apostle said, Shall I inform you of the biggest of the great sins? They said, Yes, O Allah's Apostle! He said, To join partners in worship with Allah, and to be undutiful to one's parents.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ایاس جریری نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا میں تمہیں سب سے بڑے گناہ کی خبر نہ دوں۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔
6273
Sahih
(35) CHAPTER. Whoever sat in a reclining posture in the company of his companions.
اپنے ساتھیوں کے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھنا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، مِثْلَهُ ، وَكَانَ مُتَّكِئًا فَجَلَسَ ، فَقَالَ : أَلَا وَقَوْلُ الزُّورِ ، فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا : لَيْتَهُ سَكَتَ .
Narrated Bishr: as above (No. 290) adding: The Prophet was reclining (leaning) and then he sat up saying, And I warn you against giving a false statement. And he kept on saying that warning so much so that we said, Would that he had stopped.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے اسی طرح مثال بیان کیا، ( اور یہ بھی بیان کیا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا ”ہاں اور جھوٹی بات بھی۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اتنی مرتبہ باربار دہراتے رہے کہ ہم نے کہا، کاش آپ خاموش ہو جاتے۔
6274
Sahih
(36) CHAPTER. (Regarding) the one who walks quickly for some necessity.
جو کسی ضرورت یا کسی غرض کی وجہ سے تیز تیز چلے
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَهُ قَالَ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَأَسْرَعَ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ .
Narrated `Uqba bin Al-Harith: Once the Prophet offered the `Asr prayer and then he walked quickly and entered his house.
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عمر بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور پھر بڑی تیزی کے ساتھ چل کر آپ گھر میں داخل ہو گئے۔
6275
Sahih
(36) CHAPTER. (Regarding) the one who walks quickly for some necessity.
جو کسی ضرورت یا کسی غرض کی وجہ سے تیز تیز چلے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَسْطَ السَّرِيرِ ، وَأَنَا مُضْطَجِعَةٌ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ تَكُونُ لِي الْحَاجَةُ ، فَأَكْرَهُ أَنْ أَقُومَ فَأَسْتَقْبِلَهُ ، فَأَنْسَلُّ انْسِلَالًا .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle used to offer his prayer (while standing) in the midst of the bed, and I used to lie in front of him between him and the Qibla It I had any necessity for getting up and I used to dislike to get up and face him (while he was in prayer), but I would gradually slip away from the bed.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تخت کے وسط میں نماز پڑھتے تھے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قبلہ کے درمیان لیٹی رہتی تھی مجھے کوئی ضرورت ہوتی لیکن مجھ کو کھڑے ہو کر آپ کے سامنے آنا برا معلوم ہوتا۔ البتہ آپ کی طرف رخ کر کے میں آہستہ سے کھسک جاتی تھی۔
6276
Sahih
(38) CHAPTER. Anyone for whom a cushion was put.
چارپائی یا تخت کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الْمَلِيحِ ، قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِيكَ زَيْدٍ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذُكِرَ لَهُ صَوْمِي ، فَدَخَلَ عَلَيَّ فَأَلْقَيْتُ لَهُ وِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ ، فَجَلَسَ عَلَى الْأَرْضِ وَصَارَتِ الْوِسَادَةُ بَيْنِي وَبَيْنَهُ ، فَقَالَ لِي : أَمَا يَكْفِيكَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : خَمْسًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : سَبْعًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : تِسْعًا ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : إِحْدَى عَشْرَةَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لَا صَوْمَ فَوْقَ صَوْمِ دَاوُدَ ، شَطْرَ الدَّهْرِ : صِيَامُ يَوْمٍ ، وَإِفْطَارُ يَوْمٍ .
Narrated `Abdullah bin `Amr: The news of my fasting was mentioned to the Prophet . So he entered upon me and I put for him a leather cushion stuffed with palm-fibres. The Prophet sat on the floor and the cushion was between me and him. He said to me, Isn't it sufficient for you (that you fast) three days a month? I said, O Allah's Apostle! (I can fast more than this). He said, You may fast) five days a month. I said, O Allah's Apostle! (I can fast more than this). He said, (You may fast) seven days. I said, O Allah's Apostle! He said, Nine. I said, O Allah's Apostle! He said, Eleven. I said, O Allah's Apostle! He said, No fasting is superior to the fasting of (the Prophet David) which was one half of a year, and he used, to fast on alternate days. (See Hadith No. 300, Vol 3)
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عون نے بیان کیا، ان سے خالد (خالد بن عبداللہ طحان) نے بیان کیا، ان سے خالد (خالد حذاء) نے، ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوالملیح عامر بن زید نے خبر دی، انہوں نے (ابوقلابہ) کو (خطاب کر کے) کہا کہ میں تمہارے والد زید کے ساتھ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے روزے کا ذکر کیا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے میں نے آپ کے لیے چمڑے کا ایک گدا، جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی بچھا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر بیٹھے اور گدا میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ویسا ہی پڑا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تمہارے لیے ہر مہینے میں تین دن کے ( روزے ) کافی نہیں؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر پانچ دن رکھا کر۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا سات دن۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا نو دن۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! فرمایا گیارہ دن۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرمایا داؤد علیہ السلام کے روزے سے زیادہ کوئی روزہ نہیں ہے۔ زندگی کے نصف ایام، ایک دن کا روزہ اور ایک دن بغیر روزہ کے رہنا۔
6277
Sahih
(38) CHAPTER. Anyone for whom a cushion was put.
کسی کے لیے گاؤ تکیہ لگانا یا گدا بچھا نا ( جائز ہے )
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ قَدِمَ الشَّأْمَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ فَأَتَى الْمَسْجِدَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا ، فَقَعَدَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ، فَقَالَ : مِمَّنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ ، قَالَ : أَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي كَانَ لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ : يَعْنِي حُذَيْفَةَ ، أَلَيْسَ فِيكُمْ أَوْ كَانَ فِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّيْطَانِ : يَعْنِي عَمَّارًا ، أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ السِّوَاكِ وَالْوِسَادِ : يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ ، كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى سورة الليل آية 1 ، قَالَ : 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0 ، فَقَالَ : مَا زَالَ هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يُشَكِّكُونِي ، وَقَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated Ibrahim: 'Alaqama went to Sham and came to the mosque and offered a two-rak`at prayer, and invoked Allah: O Allah! Bless me with a (pious) good companion. So he sat beside Abu Ad-Darda' who asked, From where are you? He said, From the people of Kufa. Abu Darda' said, Wasn't there among you the person who keeps the secrets (of the Prophet ) which nobody knew except him (i.e., Hudhaifa (bin Al-Yaman)). And isn't there among you the person whom Allah gave refuge from Satan through the request (tongue) of Allah's Apostle? (i.e., `Ammar). Isn't there among you the one who used to carry the Siwak and the cushion (or pillows (of the Prophets)? (i.e., Ibn Mas`ud). How did Ibn Mas`ud use to recite 'By the night as it conceals (the light)? (Sura 92). 'Alqama said, Wadhdhakari Wal Untha' (And by male and female. ) Abu Ad-Darda added. 'These people continued to argue with me regarding it till they were about to cause me to have doubts although I heard it from Allah's Apostle.
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ بن قیس نے کہ آپ ملک شام میں پہنچے ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے اور ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ علقمہ ملک شام گئے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر یہ دعا کی اے اللہ! مجھے ایک ہم نشین عطا فرما۔ چنانچہ وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جا بیٹھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا۔ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ کہا کہ اہل کوفہ سے، پوچھا کیا تمہارے یہاں ( نفاق اور منافقین کے ) بھیدوں کے جاننے والے وہ صحابی نہیں ہیں جن کے سوا کوئی اور ان سے واقف نہیں ہے؟ ان کا اشارہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں ( یا یوں کہا کہ ) تمہارے وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دی تھی؟ اشارہ عمار رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں مسواک اور گدے والے نہیں ہیں؟ ان کا اشارہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ «والليل إذا يغشى‏» کس طرح پڑھتے تھے۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ «والذكر والأنثى‏» پڑھتے تھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ لوگ کوفہ والے اپنے مسلسل عمل سے قریب تھا کہ مجھے شبہ میں ڈال دیتے حالانکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود اسے سنا تھا۔
6278
Sahih
(39) CHAPTER. (Mid-day nap) after Al-Jumuah [Friday Salat (prayer)].
جمعہ کے بعد قیلولہ کرنا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : كُنَّا نَقِيلُ وَنَتَغَدَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ .
Narrated Sahl bin Sa`d: We used to have a midday nap and take our meals after the Jumua (prayer).
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کھانا اور قیلولہ نماز جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے۔
6279
Sahih
(40) CHAPTER. Mid-day nap in the mosque.
مسجد میں بھی قیلولہ کرنا جائز ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : مَا كَانَ لِعَلِيٍّ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَبِي تُرَابٍ ، وَإِنْ كَانَ لَيَفْرَحُ بِهِ إِذَا دُعِيَ بِهَا ، جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَام ، فَلَمْ يَجِدْ عَلِيًّا فِي الْبَيْتِ ، فَقَالَ : أَيْنَ ابْنُ عَمِّكِ ؟ فَقَالَتْ : كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ شَيْءٌ فَغَاضَبَنِي ، فَخَرَجَ فَلَمْ يَقِلْ عِنْدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ : انْظُرْ أَيْنَ هُوَ ؟ فَجَاءَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ فِي الْمَسْجِدِ رَاقِدٌ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ قَدْ سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ شِقِّهِ فَأَصَابَهُ تُرَابٌ ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ : قُمْ أَبَا تُرَابٍ ، قُمْ أَبَا تُرَابٍ .
Narrated Sahl bin Sa`d: There was no name dearer to `Ali than his nickname Abu Turab (the father of dust). He used to feel happy whenever he was called by this name. Once Allah's Apostle came to the house of Fatima but did not find `Ali in the house. So he asked Where is your cousin? She replied, There was something (a quarrel) between me and him whereupon he got angry with me and went out without having a midday nap in my house. Allah's Apostle asked a person to look for him. That person came, and said, O Allah's Apostle! He (Ali) is sleeping in the mosque. So Allah's Apostle went there and found him lying. His upper body cover had fallen off to one side of his body, and so he was covered with dust. Allah's Apostle started cleaning the dust from him, saying, Get up, O Abu Turab! Get up, Abu Turab! (See Hadith No. 432, Vol 1)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن حازم نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ کو کوئی نام ابوتراب سے زیادہ محبوب نہیں تھا۔ جب ان کو اس نام سے بلایا جاتا تو وہ خوش ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، فاطمہ علیہا السلام کے گھر تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ کو گھر میں نہیں پایا تو فرمایا کہ بیٹی تمہارے چچا کے لڑکے ( اور شوہر ) کہاں گئے ہیں؟ انہوں نے کہا میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہو گئی تھی وہ مجھ پر غصہ ہو کر باہر چلے گئے اور میرے یہاں ( گھر میں ) قیلولہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ دیکھو وہ کہاں ہیں۔ وہ صحابی واپس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے اور چادر آپ کے پہلو سے گر گئی تھی اور گرد آلود ہو گئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹی صاف کرنے لگے اور فرمانے لگے، ابوتراب! ( مٹی والے ) اٹھو، ابوتراب! اٹھو۔
6280
Sahih
(41) CHAPTER. Whoever visited some people and then had a mid-day nap at their home.
اگر کوئی شخص کہیں ملاقات کو جائے اور دوپہر کو وہیں آرام کرے تو یہ جائز ہے
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ كَانَتْ تَبْسُطُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِطَعًا ، فَيَقِيلُ عِنْدَهَا عَلَى ذَلِكَ النِّطَعِ ، قَالَ : فَإِذَا نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَتْ مِنْ عَرَقِهِ وَشَعَرِهِ فَجَمَعَتْهُ فِي قَارُورَةٍ ، ثُمَّ جَمَعَتْهُ فِي سُكٍّ ، قَالَ : فَلَمَّا حَضَرَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْوَفَاةُ ، أَوْصَى إِلَيَّ أَنْ يُجْعَلَ فِي حَنُوطِهِ مِنْ ذَلِكَ السُّكِّ ، قَالَ : فَجُعِلَ فِي حَنُوطِهِ .
Narrated Thumama: Anas said, Um Sulaim used to spread a leather sheet for the Prophet and he used to take a midday nap on that leather sheet at her home. Anas added, When the Prophet had slept, she would take some of his sweat and hair and collect it (the sweat) in a bottle and then mix it with Suk (a kind of perfume) while he was still sleeping. When the death of Anas bin Malik approached, he advised that some of that Suk be mixed with his Hanut (perfume for embalming the dead body), and it was mixed with his Hanut.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ( ان کی والدہ ) ام سلیم، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چمڑے کا فرش بچھا دیتی تھیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں اسی پر قیلولہ کر لیتے تھے۔ بیان کیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ( اور بیدار ہوئے ) تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ اور ( جھڑے ہوئے ) آپ کے بال لے لیے اور ( پسینہ کو ) ایک شیشی میں جمع کیا اور پھر «سك» ( ایک خوشبو ) میں اسے ملا لیا۔ بیان کیا ہے کہ پھر جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے وصیت کی کہ اس «سك» ( جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ملا ہوا تھا ) میں سے ان کے حنوط میں ملا دیا جائے۔ بیان کیا ہے کہ پھر ان کے حنوط میں اسے ملایا گیا۔
6281
Sahih
(41) CHAPTER. Whoever visited some people and then had a mid-day nap at their home.
اگر کوئی شخص کہیں ملاقات کو جائے اور دوپہر کو وہیں آرام کرے تو یہ جائز ہے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ قَالَ : مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، شَكَّ إِسْحَاقُ ، قُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ ، فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ .
Narrated Anas bin Malik: Whenever Allah's Apostle went to Quba, he used to visit Um Haram bint Milhan who would offer him meals; and she was the wife of 'Ubada bin As-samit. One day he went to her house and she offered him a meal, and after that he slept, and then woke up smiling. She (Um Haram) said, I asked him, 'What makes you laugh, O Allah's Apostle?' He said, 'Some people of my followers were displayed before me as warriors fighting for Allah's Cause and sailing over this sea, kings on thrones,' or said, 'like kings on thrones.' (The narrator, 'Is-haq is in doubt about it.) I (Um Haram) said, 'O Allah's Apostle! Invoke Allah that He may make me one of them.' He invoked (Allah) for her and then lay his head and slept again and then woke up smiling. I asked, 'What makes you laugh, O Allah's Apostle?' He said, 'Some people of my followers were displayed before me as warriors fighting for Allah's Cause and sailing over this sea, kings on the thrones,' or said, 'like kings on the thrones.' I (Um Haram) said, 'O Allah's Apostle! Invoke Allah that He may make me one of them.' He said, You will be amongst the first ones. It is said that Um Haram sailed over the sea at the time of Muawiya, and on coming out of the sea, she fell down from her riding animal and died.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔ عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جاتے تھے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے ( خواب میں ) پیش کئے گئے، جو اس سمندر کے اوپر ( کشتیوں میں ) سوار ہوں گے ( جنت میں وہ ایسے نظر آئے ) جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں، یا بیان کیا کہ بادشاہوں کی طرح تخت پر۔ اسحاق کو ان لفظوں میں ذرا شبہ تھا ( ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے بنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستہ میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمندر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تحت پر ہوتے ہیں یا مثل بادشاہوں کے تخت پر۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس گروہ کے سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے ( معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام پر گورنری کے زمانہ میں ) سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔
6282
Sahih
(41) CHAPTER. Whoever visited some people and then had a mid-day nap at their home.
اگر کوئی شخص کہیں ملاقات کو جائے اور دوپہر کو وہیں آرام کرے تو یہ جائز ہے
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَى قُبَاءٍ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، فَدَخَلَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ ، مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ أَوْ قَالَ : مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، شَكَّ إِسْحَاقُ ، قُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا ، ثُمَّ وَضَعَ رَأْسَهُ فَنَامَ ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ ، فَقُلْتُ : مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْكَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوكًا عَلَى الْأَسِرَّةِ ، أَوْ مِثْلَ الْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، فَقُلْتُ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ، فَرَكِبَتِ الْبَحْرَ زَمَانَ مُعَاوِيَةَ ، فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنَ الْبَحْرِ فَهَلَكَتْ .
Narrated Anas bin Malik: Whenever Allah's Apostle went to Quba, he used to visit Um Haram bint Milhan who would offer him meals; and she was the wife of 'Ubada bin As-samit. One day he went to her house and she offered him a meal, and after that he slept, and then woke up smiling. She (Um Haram) said, I asked him, 'What makes you laugh, O Allah's Apostle?' He said, 'Some people of my followers were displayed before me as warriors fighting for Allah's Cause and sailing over this sea, kings on thrones,' or said, 'like kings on thrones.' (The narrator, 'Is-haq is in doubt about it.) I (Um Haram) said, 'O Allah's Apostle! Invoke Allah that He may make me one of them.' He invoked (Allah) for her and then lay his head and slept again and then woke up smiling. I asked, 'What makes you laugh, O Allah's Apostle?' He said, 'Some people of my followers were displayed before me as warriors fighting for Allah's Cause and sailing over this sea, kings on the thrones,' or said, 'like kings on the thrones.' I (Um Haram) said, 'O Allah's Apostle! Invoke Allah that He may make me one of them.' He said, You will be amongst the first ones. It is said that Um Haram sailed over the sea at the time of Muawiya, and on coming out of the sea, she fell down from her riding animal and died.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے۔ عبداللہ بن ابی طلحہ نے ان سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قباء تشریف لے جاتے تھے تو ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے گھر بھی جاتے تھے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانا کھلاتی تھیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستے میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے ( خواب میں ) پیش کئے گئے، جو اس سمندر کے اوپر ( کشتیوں میں ) سوار ہوں گے ( جنت میں وہ ایسے نظر آئے ) جیسے بادشاہ تخت پر ہوتے ہیں، یا بیان کیا کہ بادشاہوں کی طرح تخت پر۔ اسحاق کو ان لفظوں میں ذرا شبہ تھا ( ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! دعا کریں کہ اللہ مجھے بھی ان میں سے بنائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر رکھ کر سو گئے اور جب بیدار ہوئے تو ہنس رہے تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اللہ کے راستہ میں غزوہ کرتے ہوئے میرے سامنے پیش کئے گئے جو اس سمندر کے اوپر سوار ہوں گے جیسے بادشاہ تحت پر ہوتے ہیں یا مثل بادشاہوں کے تخت پر۔ میں نے عرض کیا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں سے کر دے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو اس گروہ کے سب سے پہلے لوگوں میں ہو گی چنانچہ ام حرام رضی اللہ عنہا نے ( معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام پر گورنری کے زمانہ میں ) سمندری سفر کیا اور خشکی پر اترنے کے بعد اپنی سواری سے گر پڑیں اور وفات پا گئیں۔
6283
Sahih
(42) CHAPTER. Sitting in any convenient position.
آسانی کے ساتھ آدمی جس طرح بیٹھ سکے بیٹھ سکتاہے
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ ، وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ : اشْتِمَالِ الصَّمَّاءِ ، وَالِاحْتِبَاءِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى فَرْجِ الْإِنْسَانِ مِنْهُ شَيْءٌ ، وَالْمُلَامَسَةِ ، وَالْمُنَابَذَةِ ، تَابَعَهُ مَعْمَرٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: The Prophet forbade two kinds of dresses and two kinds of bargains; Ishtimal As-Samma and Al- Ihtiba in one garment with no part of it covering one's private parts. (The two kinds of bargains were:) Al-Mulamasa and Al-Munabadha.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو طرح کے پہناوے سے اور دو طرح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا تھا۔ اشتمال صماء اور ایک کپڑے میں اس طرح احتباء کرنے سے کہ انسان کی شرمگاہ پر کوئی چیز نہ ہو اور ملامست اور منابذت سے۔ اس روایت کی متابعت معمر، محمد بن ابی حفصہ اور عبداللہ بن بدیل نے زہری سے کی ہے۔
6284
Sahih
(43) CHAPTER. Whoever has a confidential talk with somebody in front of the people and the latter does not disclose his companion's secret, but when his companion dies, he discloses it.
جس نے لوگوں کے سامنے سرگوشی کی اور جس نے اپنے ساتھی کا راز نہیں بتایا پھر جب وہ انتقال کر گیا تو بتایا یہ جائز ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ ، قَالَتْ : إِنَّا كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَمْشِي لَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِابْنَتِي ، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا ، فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا ، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ ، قَالَتْ : مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ لَهَا : عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ ، لَمَّا أَخْبَرْتِنِي . قَالَتْ : أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ ، فَأَخْبَرَتْنِي ، قَالَتْ : أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْأَمْرِ الْأَوَّلِ ، فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً ، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ ، وَلَا أَرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ ، قَالَتْ : فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ ، قَالَ : يَا فَاطِمَةُ ، أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
Narrated `Aisha: Mother of the Believers: We, the wives of the Prophet were all sitting with the Prophet and none of us had left when Fatima came walking, and by Allah, her gait was very similar to that of Allah's Apostle .' When he saw her, he welcomed her, saying, Welcome, O my daughter! Then he made her sit on his right or his left, confided something to her, whereupon she wept bitterly. When he noticed her sorrow, he confided something else to her for the second time, and she started laughing. Only I from among the Prophet's wives said to her, (O Fatima), Allah's Apostle selected you from among us for the secret talk and still you weep? When Allah's Apostle got up (and went away), I asked her, What did he confide to you? She said, I wouldn't disclose the secrets of Allah's Apostle But when he died I asked her, I beseech you earnestly by what right I have on you, to tell me (that secret talk which the Prophet had with you) She said, As you ask me now, yes, (I will tell you). She informed me, saying, When he talked to me secretly the first time, he said that Gabriel used to review the Qur'an with him once every year. He added, 'But this year he reviewed it with me twice, and therefore I think that my time of death has approached. So, be afraid of Allah, and be patient, for I am the best predecessor for you (in the Hereafter).' Fatima added, So I wept as you (`Aisha) witnessed. And when the Prophet saw me in this sorrowful state, he confided the second secret to me saying, 'O Fatima! Will you not be pleased that you will be chief of all the believing women (or chief of the women of this nation i.e. my followers? )
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح نے، کہا ہم سے فراس بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے، ان سے مسروق نے کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ تمام ازواج مطہرات ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی ( بلکہ بہت ہی مشابہ تھی ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹی! مرحبا! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں“ بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی، فرمایا ”فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا ( فرمایا کہ ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی۔“
6285
Sahih
(43) CHAPTER. Whoever has a confidential talk with somebody in front of the people and the latter does not disclose his companion's secret, but when his companion dies, he discloses it.
جس نے لوگوں کے سامنے سرگوشی کی اور جس نے اپنے ساتھی کا راز نہیں بتایا پھر جب وہ انتقال کر گیا تو بتایا یہ جائز ہے
حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا فِرَاسٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِيِنَ ، قَالَتْ : إِنَّا كُنَّا أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهُ جَمِيعًا لَمْ تُغَادَرْ مِنَّا وَاحِدَةٌ ، فَأَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَام تَمْشِي لَا وَاللَّهِ مَا تَخْفَى مِشْيَتُهَا مِنْ مِشْيَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَآهَا رَحَّبَ ، قَالَ : مَرْحَبًا بِابْنَتِي ، ثُمَّ أَجْلَسَهَا عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ سَارَّهَا فَبَكَتْ بُكَاءً شَدِيدًا ، فَلَمَّا رَأَى حُزْنَهَا سَارَّهَا الثَّانِيَةَ ، فَإِذَا هِيَ تَضْحَكُ ، فَقُلْتُ لَهَا : أَنَا مِنْ بَيْنِ نِسَائِهِ خَصَّكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسِّرِّ مِنْ بَيْنِنَا ، ثُمَّ أَنْتِ تَبْكِينَ ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَمَّا سَارَّكِ ، قَالَتْ : مَا كُنْتُ لِأُفْشِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ قُلْتُ لَهَا : عَزَمْتُ عَلَيْكِ بِمَا لِي عَلَيْكِ مِنَ الْحَقِّ ، لَمَّا أَخْبَرْتِنِي . قَالَتْ : أَمَّا الْآنَ فَنَعَمْ ، فَأَخْبَرَتْنِي ، قَالَتْ : أَمَّا حِينَ سَارَّنِي فِي الْأَمْرِ الْأَوَّلِ ، فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ يُعَارِضُهُ بِالْقُرْآنِ كُلَّ سَنَةٍ مَرَّةً ، وَإِنَّهُ قَدْ عَارَضَنِي بِهِ الْعَامَ مَرَّتَيْنِ ، وَلَا أَرَى الْأَجَلَ إِلَّا قَدِ اقْتَرَبَ ، فَاتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، فَإِنِّي نِعْمَ السَّلَفُ أَنَا لَكِ ، قَالَتْ : فَبَكَيْتُ بُكَائِي الَّذِي رَأَيْتِ ، فَلَمَّا رَأَى جَزَعِي سَارَّنِي الثَّانِيَةَ ، قَالَ : يَا فَاطِمَةُ ، أَلَا تَرْضَيْنَ أَنْ تَكُونِي سَيِّدَةَ نِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ ، أَوْ سَيِّدَةَ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ .
Narrated `Aisha: Mother of the Believers: We, the wives of the Prophet were all sitting with the Prophet and none of us had left when Fatima came walking, and by Allah, her gait was very similar to that of Allah's Apostle .' When he saw her, he welcomed her, saying, Welcome, O my daughter! Then he made her sit on his right or his left, confided something to her, whereupon she wept bitterly. When he noticed her sorrow, he confided something else to her for the second time, and she started laughing. Only I from among the Prophet's wives said to her, (O Fatima), Allah's Apostle selected you from among us for the secret talk and still you weep? When Allah's Apostle got up (and went away), I asked her, What did he confide to you? She said, I wouldn't disclose the secrets of Allah's Apostle But when he died I asked her, I beseech you earnestly by what right I have on you, to tell me (that secret talk which the Prophet had with you) She said, As you ask me now, yes, (I will tell you). She informed me, saying, When he talked to me secretly the first time, he said that Gabriel used to review the Qur'an with him once every year. He added, 'But this year he reviewed it with me twice, and therefore I think that my time of death has approached. So, be afraid of Allah, and be patient, for I am the best predecessor for you (in the Hereafter).' Fatima added, So I wept as you (`Aisha) witnessed. And when the Prophet saw me in this sorrowful state, he confided the second secret to me saying, 'O Fatima! Will you not be pleased that you will be chief of all the believing women (or chief of the women of this nation i.e. my followers? )
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ وضاح نے، کہا ہم سے فراس بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عامر شعبی نے، ان سے مسروق نے کہ مجھ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہ تمام ازواج مطہرات ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض وفات میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھیں، کوئی وہاں سے نہیں ہٹا تھا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چلتی ہوئی آئیں۔ اللہ کی قسم! ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال سے الگ نہیں تھی ( بلکہ بہت ہی مشابہ تھی ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا تو خوش آمدید کہا۔ فرمایا بیٹی! مرحبا! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دائیں طرف یا بائیں طرف انہیں بٹھایا۔ اس کے بعد آہستہ سے ان سے کچھ کہا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا بہت زیادہ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا غم دیکھا تو دوبارہ ان سے سرگوشی کی اس پر وہ ہنسنے لگیں۔ تمام ازواج میں سے میں نے ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں صرف آپ کو سرگوشی کی خصوصیت بخشی۔ پھر آپ رونے لگیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے کان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا انہوں نے کہا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا راز نہیں کھول سکتی۔ پھر جب آپ کی وفات ہو گئی تو میں نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میرا جو حق آپ پر ہے اس کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ مجھے وہ بات بتا دیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بتا سکتی ہوں چنانچہ انہوں نے مجھے بتایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پہلی سرگوشی کی تھی تو فرمایا تھا کہ ”جبرائیل علیہ السلام ہر سال مجھ سے سال میں ایک مرتبہ دور کیا کرتے تھے لیکن اس سال مجھ سے انہوں نے دو مرتبہ دور کیا اور میرا خیال ہے کہ میری وفات کا وقت قریب ہے، اللہ سے ڈرتی رہنا اور صبر کرنا کیونکہ میں تمہارے لیے ایک اچھا آگے جانے والا ہوں“ بیان کیا کہ اس وقت میرا رونا جو آپ نے دیکھا تھا اس کی وجہ یہی تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پریشانی دیکھی تو آپ نے دوبارہ مجھ سے سرگوشی کی، فرمایا ”فاطمہ بیٹی! کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جنت میں تم مومنوں کی عورتوں کی سردار ہو گی، یا ( فرمایا کہ ) اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی۔“
6286
Sahih

Chapters

55
01
(1) CHAPTER. How the Salam began (greeting) began.
جب جمائی آئے تو چاہیے کہ منہ پر ہاتھ رکھ لے
1 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Enter not houses other than your own... up to... (And Allah has knowledge of what you reveal) and what you conceal.” (V.24:27-29)
سلام کے شروع ہونے کا بیان
1 Hadith
03
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: “O you who believe! Enter not houses other than your own... up to... (And Allah has knowledge of what you reveal) and what you conceal.” (V.24:27-29)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ النور میں یہ فرمانا
1 Hadith
04
(3) CHAPTER. As-Salam is one of the Names of Allah: (Allah's Statement): When you are greeted with a greeting, greet in return with what is better than it, or (at least) return it equally... (V.4:86)
سلام کے بیان میں
1 Hadith
05
(4) CHAPTER. The small number (of persons) should greet the large number (of persons).
تھوڑی جماعت بڑی جماعت کو پہلے سلام کرے
1 Hadith
06
(5) CHAPTER. The riding person should greet the walking person.
سوار پہلے پیدل کو سلام کرے
1 Hadith
07
(6) CHAPTER. The walking person should greet the sitting one.
چلنے والا پہلے بیٹھے ہوئے شخص کوسلام کرے
1 Hadith
08
(7) CHAPTER. The younger person should greet the older one.
کمعمر والا پہلے بڑی عمر والے کو سلام کرے
1 Hadith
09
(8) CHAPTER. To propagate As-Salam (greeting) (among people).
سلام کو زیادہ رواج دینا
1 Hadith
10
(9) CHAPTER. To greet those whom one knows and those whom one does not know.
پہچان ہو یا نہ ہو ہر ایک مسلمان کو سلام کرنا
2 Hadith
11
(10) CHAPTER. The Divine Verse of Al-Hijab (veiling of women).
پردہ کی آیت کے بارے میں
3 Hadith
12
(11) CHAPTER. Asking permission because of looking.
اذن لینے کا اس لئے حکم دیا گیا کہ نظرنہ پڑے
2 Hadith
13
(12) CHAPTER. (What is said regarding) the adultery of the body parts other than the private parts.
شرمگاہ کے علاوہ دوسرے اعضاء کے زنا کابیان
1 Hadith
14
(13) CHAPTER. To greet somebody and ask permission thrice (only).
سلام اور اجازت تین مرتبہ ہو نی چاہئے
2 Hadith
15
(14) CHAPTER. If a man is invited, should he ask permission to enter at his arrival?
اگر کوئی شخص بلانے پر آیا ہو تو کیا اسے بھی اندر داخل ہونے کے لئے اذن لینا چاہئے یا نہیں
1 Hadith
16
(15) CHAPTER. To greet the boys.
بچوں کو سلام کرنا
1 Hadith
17
(16) CHAPTER. The greetings of the men to the women, and of the women to the men.
مردوں کا عورتوں کو سلام کرنا اور عورتوں کا مردوں کو
2 Hadith
18
(17) CHAPTER. If somebody says, “Who is that?” And the other replies, I.
اگر گھر والا پوچھے کہ کون ہے اس کے جواب میں کوئی کہے کہ میں ہوں اور نام نہ لے
1 Hadith
19
(18) CHAPTER. Whoever replied to a greeting by saying, “Alaikas-Salam.” (Peace be on you) (singular).
جواب میں صرف علیک السلام کہنا
2 Hadith
20
(19) CHAPTER. If one says, “So-and-so sends Salam (greetings) to you.
اگر کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص نے تجھ کو سلام کہاہے تو وہ کیا کہے
1 Hadith
21
(20) CHAPTER. Greeting (how to greet) a mix-up gathering in which there are Muslims and Al-Mushrikun.
ایسی مجلس والوں کو سلام کرنا جس میں مسلمان اور مشرک سب شامل ہوں
1 Hadith
22
(21) CHAPTER. He who does not greet a person who has committed a sin, and the one who does not reply to his greeting till the evidence of his repentance becomes obvious. And up to what time limit (one should wait for) till the repentance of a sinner is known.
جس نےگناہ کرنے والے کو سلام نہیں کیا
1 Hadith
23
(22) CHAPTER. How to return the greetings of the Dhimmi (non-Muslims under the protection of a Muslim state).
ذمیوں کے سلام کا جواب کس طرح دیا جائے ؟
3 Hadith
24
(23) CHAPTER. (The legal aspect of) the one who looks at a letter in order to know its written contents and the meanings of its subject which is not allowed for the Muslims to look at.
جس نے حقیقت حال معلوم کرنے کے لئے ایسے شخص کامکتوب پکڑ لیا جس میں مسلمانوں کے خلاف کوئی بات لکھی گئی ہو تو یہ جائز ہے ۔
1 Hadith
25
(24) CHAPTER. How to write a letter to the people of the Scripture.
اہلکتاب کو کس طرح خط لکھا جائے
1 Hadith
26
(25) CHAPTER. Whose name is to be written first in a letter, i.e., the sender or the addressee?
خط کس کے نام سے شروع کیاجائے
1 Hadith
27
(26) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Get up for your chief!”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے سردار کو لینے کے لئے اٹھو
1 Hadith
28
(27) CHAPTER. Shaking hands.
مصافحہ کا بیان
2 Hadith
29
(28) CHAPTER. The shaking of hands with both the hands.
دونوں ہاتھ پکڑنا اور حماد بنزید نے ابنمبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا
1 Hadith
30
(29) CHAPTER. Al-Muanaqa (to embrace each other by putting arms round the neck on meeting). And the saying of one man to another: How are you this morning?
معانقہ یعنی گلے ملنے کے بیان میں اور ایک آدمی کا دوسرے سے پوچھنا کیوں آج صبح آپ کا مزاج کیساہے
1 Hadith
31
(30) CHAPTER. Whoever replies (on being called) saying, “Labbaik wa Sadaik” (I respond to your call, and I am obedient to your orders).
کوئی بلائے تو جواب میں لفظ لبیک ( حاضر ) اور سعدیک ( آپ کی خدمت کے لئے مستعد ) کہنا
2 Hadith
32
(31) CHAPTER. A man should not make another get up from his (the latter's) seat.
کوئی شخص کسی دوسرے بیٹھے ہوئے مسلمان بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے
1 Hadith
33
(32) CHAPTER. (The Statement of Allah): “(O you who believe!) When you are told to make room in the assemblies, (spread out and) make room...” (V.58:11)
اللہ پاک کا سورۃ المجادلہ میں فرمانا کہ
1 Hadith
34
(33) CHAPTER. Whoever got up from his gathering or his house without taking the permission of his companions, or seemed to be ready to get up that the people might get up (and leave).
جو اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر مجلس یا گھر میں کھڑا ہوا یا کھڑے ہونے کے لئے ارادہ کیا تاکہ دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو جائیں تو یہ جائز ہے
1 Hadith
35
(34) CHAPTER. Al-Ihtiba with the hand, i.e., Al-Qurfusa (a sitting posture wherein one sits with one's legs drawn up and wrapped in one's garment or surrounded with one's arms).
ہاتھ سے احتباء کرنا اور اس کو قرفصا کہتے ہیں
1 Hadith
36
(35) CHAPTER. Whoever sat in a reclining posture in the company of his companions.
اپنے ساتھیوں کے سامنے ٹیک لگا کر بیٹھنا
2 Hadith
37
(36) CHAPTER. (Regarding) the one who walks quickly for some necessity.
جو کسی ضرورت یا کسی غرض کی وجہ سے تیز تیز چلے
2 Hadith
38
(38) CHAPTER. Anyone for whom a cushion was put.
چارپائی یا تخت کا بیان
1 Hadith
39
(38) CHAPTER. Anyone for whom a cushion was put.
کسی کے لیے گاؤ تکیہ لگانا یا گدا بچھا نا ( جائز ہے )
1 Hadith
40
(39) CHAPTER. (Mid-day nap) after Al-Jumuah [Friday Salat (prayer)].
جمعہ کے بعد قیلولہ کرنا
1 Hadith
41
(40) CHAPTER. Mid-day nap in the mosque.
مسجد میں بھی قیلولہ کرنا جائز ہے
1 Hadith
42
(41) CHAPTER. Whoever visited some people and then had a mid-day nap at their home.
اگر کوئی شخص کہیں ملاقات کو جائے اور دوپہر کو وہیں آرام کرے تو یہ جائز ہے
3 Hadith
43
(42) CHAPTER. Sitting in any convenient position.
آسانی کے ساتھ آدمی جس طرح بیٹھ سکے بیٹھ سکتاہے
1 Hadith
44
(43) CHAPTER. Whoever has a confidential talk with somebody in front of the people and the latter does not disclose his companion's secret, but when his companion dies, he discloses it.
جس نے لوگوں کے سامنے سرگوشی کی اور جس نے اپنے ساتھی کا راز نہیں بتایا پھر جب وہ انتقال کر گیا تو بتایا یہ جائز ہے
2 Hadith
45
(44) CHAPTER. Al-Istilqa (lying flat on the back).
چت لیٹنے کا بیان
1 Hadith
46
(45) CHAPTER. No two persons should talk secretly excluding a third person (who is present with them). And the Statement of Allah: O you who believe! When you hold secret counsel, do it not for sin and wrongdoing, and disobedience towards the Messenger (Muhammad ), but do it for Al-Birr (righteousness) and Taqwa (virtues and piety); and fear Allah unto Whom you shall be gathered. Secret counsels (conspiracies) are only from Satan, in order that he may cause grief to the believers. But he cannot harm them in the least, except as Allah permits, and in Allah let the believers put their trust. (V.58:9,10) And also the Statement of Allah: O you who believe! When you (want to) consult the Messenger (Muhammad) in private, spend something in charity before your private consultation. That will be better and purer for you. But if you find not (the means for it), then verily, Allah is Oft-Forgivind, Most Merciful. Are you afraid of spending in charity before your private consultation (with him)? If then you do it not, and Allah has forgive you, then (at least) perform Salat (prayers) (Iqamat-as-Salat) and give Zakat and obey Allah (i.e., do all what Allah and His Prophet order you to do). And Allah is All-Aware of what you do. (V.58:12,13)
کسی جگہ صرف تین آدمی ہوں تو ایک کو اکیلا چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کریں
1 Hadith
47
(46) CHAPTER. Keeping secrets.
راز چھپانا
1 Hadith
48
(47) CHAPTER. If in a gathering there are more than three persons, then there is no harm if two of them have a secret talk.
جب تین سے زیادہ آدمی ہوں تو کانا پھوسی کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے
2 Hadith
49
(48) CHAPTER. Holding secret counsel for a long while.
دیر تک سرگوشی کرنا
1 Hadith
50
(49) CHAPTER. Fire (lanterns, etc.) should not be kept lit in the house at bedtime.
سوتے وقت گھر میں آگ نہ رہنے دی جائے ( نہ چراغ روشن کیا جائے )
3 Hadith
51
(50) CHAPTER. To close the doors at night.
رات کے وقت دروازے بند کرنا
1 Hadith
52
(51) CHAPTER. Circumcision at an old age, and pulling out one's armpit hair.
بوڑھا ہونے پر ختنہ کرنا اور بغل کے بال نوچنا
4 Hadith
53
(52) CHAPTER. Every Lahw (amusement, idle talk, etc.) or deed that diverts one from fulfilling one's obedience (duties) towards Allah, is Batil [falsehood (disbelief, etc.)].
آدمی جس کام میں مصروف ہو کر اللہ کی عبادت سے غافل ہو جائے وہ لھو میں داخل اور باطل ہے
1 Hadith
54
(53) CHAPTER. What has been mentioned regarding the buildings.
عمارت بنانا کیسا ہے
1 Hadith
55
(53) CHAPTER. What has been mentioned regarding the buildings.
اللہ تعالیٰ ٰ نے فرمایا مجھے پکارو ! میں تمہاری پکار قبول کروں گا
1 Hadith
No chapter matched that.