TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-fitan. - کتاب فتنوں کے بیان میں - Book 94 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 94 of Sahih Bukhari, with 28 chapters and 89 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

89 Hadith · 28 Chapters
(19) CHPATER. If Allah sends a punishment upon a nation.
جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے ( تو سب قسم کے لوگ اس میں شامل ہو جاتے ہیں )
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, If Allah sends punishment upon a nation then it befalls upon the whole population indiscriminately and then they will be resurrected (and judged) according to their deeds.
ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمزہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔“
7108
Sahih
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) about Al-Hasan bin Ali, This son of mine is a chief, and Allah may make peace between two groups of Muslims through him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن رضیاللہعنہ کے متعلق فرمانا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَى ، وَلَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ وَجَاءَ إِلَى ابْنِ شُبْرُمَةَ ، فَقَالَ : أَدْخِلْنِي عَلَى عِيسَى فَأَعِظَهُ ، فَكَأَنَّ ابْنَ شُبْرُمَةَ خَافَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْعَلْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ : لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالْكَتَائِبِ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ : أَرَى كَتِيبَةً لَا تُوَلِّي حَتَّى تُدْبِرَ أُخْرَاهَا ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : مَنْ لِذَرَارِيِّ الْمُسْلِمِينَ ؟ ، فَقَالَ : أَنَا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ : نَلْقَاهُ ، فَنَقُولُ لَهُ : الصُّلْحَ ، قَالَ الْحَسَنُ : وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ ، قَالَ : بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ جَاءَ الْحَسَنُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
Narrated Al-Hasan Al-Basri: When Al-Hasan bin `Ali moved with army units against Muawiya, `Amr bin AL-As said to Muawiya, I see an army that will not retreat unless and until the opposing army retreats. Muawiya said, (If the Muslims are killed) who will look after their children? `Amr bin Al-As said: I (will look after them). On that, `Abdullah bin 'Amir and `Abdur-Rahman bin Samura said, Let us meet Muawaiya and suggest peace. Al-Hasan Al-Basri added: No doubt, I heard that Abu Bakra said, Once while the Prophet was addressing (the people), Al-Hasan (bin `Ali) came and the Prophet said, 'This son of mine is a chief, and Allah may make peace between two groups of Muslims through him.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل ابوموسیٰ نے بیان کیا اور میری ان سے ملاقات کوفہ میں ہوئی تھی۔ وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسیٰ ( منصور کے بھائی اور کوفہ کے والی ) کے پاس لے چلو تاکہ میں اسے نصیحت کروں۔ غالباً ابن شبرمہ نے خوف محسوس کیا اور نہیں لے گئے۔ انہوں نے اس پر بیان کیا کہ ہم سے حسن بصری نے بیان کیا کہ جب حسن بن علی امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے خلاف لشکر لے کر نکلے تو عمرو بن العاص نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھتا ہوں جو اس وقت تک واپس نہیں جا سکتا جب تک اپنے مقابل کو بھگا نہ لے۔ پھر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال کا کون کفیل ہو گا؟ جواب دیا کہ میں، پھر عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا کہ ہم امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ سے ملتے ہیں ( اور ان سے صلح کے لیے کہتے ہیں ) حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ حسن رضی اللہ عنہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔
7109
Sahih
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) about Al-Hasan bin Ali, This son of mine is a chief, and Allah may make peace between two groups of Muslims through him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن رضیاللہعنہ کے متعلق فرمانا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : قَالَ عَمْرٌو ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّ حَرْمَلَةَ مَوْلَى أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ ، قَالَ عَمْرٌو : قَدْ رَأَيْتُ حَرْمَلَةَ ، قَالَ : أَرْسَلَنِي أُسَامَةُ إِلَى عَلِيٍّ ، وَقَالَ : إِنَّهُ سَيَسْأَلُكَ الْآنَ ، فَيَقُولُ : مَا خَلَّفَ صَاحِبَكَ ، فَقُلْ لَهُ : يَقُولُ لَكَ : لَوْ كُنْتَ فِي شِدْقِ الْأَسَدِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِيهِ ، وَلَكِنَّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ أَرَهُ ، فَلَمْ يُعْطِنِي شَيْئًا ، فَذَهَبْتُ إِلَى حَسَنٍ ، وَحُسَيْنٍ ، وَابْنِ جَعْفَرٍ فَأَوْقَرُوا لِي رَاحِلَتِي .
Narrated Harmala: (Usama's Maula) Usama (bin Zaid) sent me to `Ali (at Kufa) and said, `Ali will ask you, 'What has prevented your companion from joining me?' You then should say to him, 'If you (`Ali) were in the mouth of a lion, I would like to be with you, but in this matter I won't take any part.' Harmala added: `Ali didn't give me anything (when I conveyed the message to him) so I went to Hasan, Hussain and Ibn Ja`far and they loaded my camels with much (wealth).
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا کہ عمرو نے بیان کیا، انہیں محمد بن علی نے خبر دی، انہیں اسامہ رضی اللہ عنہ کے غلام حرملہ نے خبر دی، عمرو نے بیان کیا کہ میں نے حرملہ کو دیکھا تھا۔ حرملہ نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ نے علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا، اس وقت تم سے علی رضی اللہ عنہ پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھی ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) جنگ جمل و صفین سے کیوں پیچھے رہ گئے تھے تو ان سے کہنا کہ انہوں نے آپ سے کہا ہے کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تب بھی میں اس میں بھی آپ کے ساتھ رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے یعنی مسلمانوں کی آپس کی جنگ تو ( اس میں شرکت صحیح ) نہیں معلوم ہوئی ( حرملہ کہتے ہیں کہ ) چنانچہ انہوں نے کوئی چیز نہیں دی۔ پھر میں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کے پاس گیا تو انہوں نے میری سواری پر اتنا مال لدوا دیا جتنا کہ اونٹ اٹھا نہ سکتا تھا۔
7110
Sahih
(21) CHAPTER. If a person says something in the presence of some people and then goes out and says something different..
کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے ( تو یہ دغابازی ہے ۔ )
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَر حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ، وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُنْصَبُ لَهُ الْقِتَالُ ، وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْكُمْ خَلَعَهُ ، وَلَا بَايَعَ فِي هَذَا الْأَمْرِ إِلَّا كَانَتِ الْفَيْصَلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ .
Narrated Nafi`: When the people of Medina dethroned Yazid bin Muawiya, Ibn `Umar gathered his special friends and children and said, I heard the Prophet saying, 'A flag will be fixed for every betrayer on the Day of Resurrection,' and we have given the oath of allegiance to this person (Yazid) in accordance with the conditions enjoined by Allah and His Apostle and I do not know of anything more faithless than fighting a person who has been given the oath of allegiance in accordance with the conditions enjoined by Allah and His Apostle , and if ever I learn that any person among you has agreed to dethrone Yazid, by giving the oath of allegiance (to somebody else) then there will be separation between him and me.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص ( یزید ) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔
7111
Sahih
(21) CHAPTER. If a person says something in the presence of some people and then goes out and says something different..
کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے ( تو یہ دغابازی ہے ۔ )
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ ابْنُ زِيَادٍ وَمَرْوَانُ بِالشَّأْمِ ، وَوَثَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ ، وَوَثَبَ الْقُرَّاءُ بِالْبَصْرَةِ ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي دَارِهِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ عُلِّيَّةٍ لَهُ مِنْ قَصَبٍ ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ ، فَأَنْشَأَ أَبِي يَسْتَطْعِمُهُ الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : يَا أَبَا بَرْزَةَ ، أَلَا تَرَى مَا وَقَعَ فِيهِ النَّاسُ ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ تَكَلَّمَ بِهِ : إِنِّي احْتَسَبْتُ عِنْدَ اللَّهِ أَنِّي أَصْبَحْتُ سَاخِطًا عَلَى أَحْيَاءِ قُرَيْشٍ ، إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ كُنْتُمْ عَلَى الْحَالِ الَّذِي عَلِمْتُمْ مِنَ الذِّلَّةِ وَالْقِلَّةِ وَالضَّلَالَةِ ، وَإِنَّ اللَّهَ أَنْقَذَكُمْ بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ بِكُمْ مَا تَرَوْنَ وَهَذِهِ الدُّنْيَا الَّتِي أَفْسَدَتْ بَيْنَكُمْ ، إِنَّ ذَاكَ الَّذِي بِالشَّأْمِ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا ، وَإِنَّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُونَ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا ، وَإِنْ ذَاكَ الَّذِي بِمَكَّةَ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا .
Narrated Abu Al-Minhal: When Ibn Ziyad and Marwan were in Sham and Ibn Az-Zubair took over the authority in Mecca and Qurra' (the Kharijites) revolted in Basra, I went out with my father to Abu Barza Al-Aslami till we entered upon him in his house while he was sitting in the shade of a room built of cane. So we sat with him and my father started talking to him saying, O Abu Barza! Don't you see in what dilemma the people has fallen? The first thing heard him saying I seek reward from Allah for myself because of being angry and scornful at the Quraish tribe. O you Arabs! You know very well that you were in misery and were few in number and misguided, and that Allah has brought you out of all that with Islam and with Muhammad till He brought you to this state (of prosperity and happiness) which you see now; and it is this worldly wealth and pleasures which has caused mischief to appear among you. The one who is in Sham (i.e., Marwan), by Allah, is not fighting except for the sake of worldly gain: and those who are among you, by Allah, are not fighting except for the sake of worldly gain; and that one who is in Mecca (i.e., Ibn Az-Zubair) by Allah, is not fighting except for the sake of worldly gain.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شہاب نے بیان کیا، ان سے عوف نے بیان کیا، ان سے ابومنہال نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زیاد اور مروان شام میں تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اور خوارج نے بصرہ میں قبضہ کر لیا تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ جب ہم ان کے گھر میں ایک کمرہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے جو بانس کا بنا ہوا تھا، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے اور میرے والد ان سے بات کرنے لگے اور کہا: اے ابوبرزہ! آپ نہیں دیکھتے لوگ کن باتوں میں آفت اور اختلاف میں الجھ گئے ہیں۔ میں نے ان کی زبان سے سب سے پہلی بات یہ سنی کہ میں جو ان قریش کے لوگوں سے ناراض ہوں تو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے، اللہ میرا اجر دینے والا ہے۔ عرب کے لوگو! تم جانتے ہو پہلے تمہارا کیا حال تھا تم گمراہی میں گرفتار تھے، اللہ نے اسلام کے ذریعہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تم کو اس بری حالت سے نجات دی۔ یہاں تک کہ تم اس رتبہ کو پہنچے۔ ( دنیا کے حاکم اور سردار بن گئے ) پھر اسی دنیا نے تم کو خراب کر دیا۔ دیکھو! یہ شخص جو شام میں حاکم بن بیٹھا ہے یعنی مروان دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔ یہ لوگ جو تمہارے سامنے ہیں۔ ( خوارج ) واللہ! یہ لوگ صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں اور وہ جو مکہ میں ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، واللہ! وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔
7112
Sahih
(21) CHAPTER. If a person says something in the presence of some people and then goes out and says something different..
کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے ( تو یہ دغابازی ہے ۔ )
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ : إِنَّ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ شَرٌّ مِنْهُمْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَئِذٍ يُسِرُّونَ ، وَالْيَوْمَ يَجْهَرُونَ .
Narrated Abi Waih: Hudhaifa bin Al-Yaman said, 'The hypocrites of today are worse than those of the lifetime of the Prophet, because in those days they used to do evil deeds secretly but today they do such deeds openly.'
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واصل احدب نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ بن الیمان نے بیان کیا کہ آج کل کے منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے منافقین سے بدتر ہیں۔ اس وقت چھپاتے تھے اور آج اس کا کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں۔
7113
Sahih
(21) CHAPTER. If a person says something in the presence of some people and then goes out and says something different..
کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے ( تو یہ دغابازی ہے ۔ )
حَدَّثَنَا خَلَّادٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : إِنَّمَا كَانَ النِّفَاقُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَإِنَّمَا هُوَ الْكُفْرُ بَعْدَ الْإِيمَانِ .
Narrated Abi Asha'sha: Hudhaifa said, 'In fact, it was hypocrisy that existed in the lifetime of the Prophet but today it is Kufr (disbelief) after belief.'
ہم سے خلاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، ان سے ابوالشعثاء نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نفاق تھا آج تو ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا ہے۔
7114
Sahih
(22) CHAPTER. The Hour will not be established until the living wish to be in the place of the dead (i.e., in the place of the people in graves).
قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ لوگ قبر والوں پر رشک نہ کریں
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ ، فَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The Hour will not be established till a man passes by a grave of somebody and says, 'Would that I were in his place.'
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا، کاش! میں اسی کی جگہ ہوتا۔“
7115
Sahih
(23) CHAPTER. Time will change until idols will be worshipped.
قیامت کے قریب زمانہ کا بدلنا یہاں تک کہ وہ لوگ بتوں کی عبادت کریں گے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ عَلَى ذِي الْخَلَصَةِ ، وَذُو الْخَلَصَةِ : طَاغِيَةُ دَوْسٍ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The Hour will not be established till the buttocks of the women of the tribe of Daus move while going round Dhi-al-Khalasa. Dhi-al-Khalasa was the idol of the Daus tribe which they used to worship in the Pre Islamic Period of ignorance.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ قبیلہ دوس کی عورتوں کا ذوالخلصہ کا ( طواف کرتے ہوئے ) چوتڑ سے چوتڑ چھلے اور ذوالخلصہ قبیلہ دوس کا بت تھا جس کو وہ زمانہ جاہلیت میں پوجا کرتے تھے۔
7116
Sahih
(23) CHAPTER. Time will change until idols will be worshipped.
قیامت کے قریب زمانہ کا بدلنا یہاں تک کہ وہ لوگ بتوں کی عبادت کریں گے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ ثَوْرٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ رَجُلٌ مِنْ قَحْطَانَ يَسُوقُ النَّاسَ بِعَصَاهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The Hour will not be established till a man from Qahtan appears, driving the people with his stick.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوالغیث نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ قحطان کا ایک شخص ( بادشاہ بن کر ) نکلے گا اور لوگوں کو اپنے ڈنڈے سے ہانکے گا۔“
7117
Sahih
(24) CHAPTER. The coming of the Fire.
قرب قیامت آگ کا نکلنا
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ : أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَخْرُجَ نَارٌ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ تُضِيءُ أَعْنَاقَ الْإِبِلِ بِبُصْرَى .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The Hour will not be established till a fire will come out of the land of Hijaz, and it will throw light on the necks of the camels at Busra.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا شعیب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں زہری نے خبر دی کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ سر زمین حجاز سے ایک آگ نکلے گی اور بصریٰ میں اونٹوں کی گردنوں کو روشن کر دے گی۔“
7118
Sahih
(24) CHAPTER. The coming of the Fire.
قرب قیامت آگ کا نکلنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّه ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَدِّهِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُوشِكُ الْفُرَاتُ أَنْ يَحْسِرَ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ ، فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ،
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Soon the river Euphrates will disclose the treasure (the mountain) of gold, so whoever will be present at that time should not take anything of it. Al-A'raj narrated from Abii Huraira that the Prophet said the same but he said, It (Euphrates) will uncover a mountain of gold (under it).
ہم سے عبداللہ بن سعید الکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عقبہ بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا حفص بن عاصم نے بیان کیا ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عنقریب دریائے فرات سے سونے کا ایک خزانہ نکلے گا پس جو کوئی وہاں موجود ہو وہ اس میں سے کچھ نہ لے۔“
7119
Sahih
(18) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدٌ ، سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : تَصَدَّقُوا ، فَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ، قَالَ مُسَدَّدٌ : حَارِثَةُ أَخُو عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ لِأُمِّهِ ، قَالَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ .
Narrated Haritha bin Wahb: I heard Allah's Apostle saying, Give in charity because there will come a time on the people when a person will go out with his alms from place to place but will not find anybody to accept it.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے معبد نے بیان کیا، انہوں نے حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”صدقہ کرو کیونکہ عنقریب لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب ایک شخص اپنا صدقہ لے کر پھرے گا اور کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔“ مسدد نے بیان کیا کہ حارثہ عبیداللہ بن عمر کے ماں شریک بھائی تھے۔
7120
Sahih
(18) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ يَكُونُ بَيْنَهُمَا مَقْتَلَةٌ عَظِيمَةٌ ، دَعْوَتُهُمَا وَاحِدَةٌ ، وَحَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ ، وَحَتَّى يُقْبَضَ الْعِلْمُ ، وَتَكْثُرَ الزَّلَازِلُ ، وَيَتَقَارَبَ الزَّمَانُ ، وَتَظْهَرَ الْفِتَنُ ، وَيَكْثُرَ الْهَرْجُ : وَهُوَ الْقَتْلُ ، وَحَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ وَحَتَّى يَعْرِضَهُ عَلَيْهِ ، فَيَقُولَ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ : لَا أَرَبَ لِي بِهِ ، وَحَتَّى يَتَطَاوَلَ النَّاسُ فِي الْبُنْيَانِ ، وَحَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ ، فَيَقُولُ : يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ ، وَحَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَإِذَا طَلَعَتْ وَرَآهَا النَّاسُ ، يَعْنِي آمَنُوا أَجْمَعُونَ ، فَذَلِكَ حِينَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ نَشَرَ الرَّجُلَانِ ثَوْبَهُمَا بَيْنَهُمَا ، فَلَا يَتَبَايَعَانِهِ ، وَلَا يَطْوِيَانِهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدِ انْصَرَفَ الرَّجُلُ بِلَبَنِ لِقْحَتِهِ فَلَا يَطْعَمُهُ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَهُوَ يُلِيطُ حَوْضَهُ فَلَا يَسْقِي فِيهِ ، وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ أُكْلَتَهُ إِلَى فِيهِ فَلَا يَطْعَمُهَا .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, The Hour will not be established (1) till two big groups fight each other whereupon there will be a great number of casualties on both sides and they will be following one and the same religious doctrine, (2) till about thirty Dajjals (liars) appear, and each one of them will claim that he is Allah's Apostle, (3) till the religious knowledge is taken away (by the death of Religious scholars) (4) earthquakes will increase in number (5) time will pass quickly, (6) afflictions will appear, (7) Al-Harj, (i.e., killing) will increase, (8) till wealth will be in abundance ---- so abundant that a wealthy person will worry lest nobody should accept his Zakat, and whenever he will present it to someone, that person (to whom it will be offered) will say, 'I am not in need of it, (9) till the people compete with one another in constructing high buildings, (10) till a man when passing by a grave of someone will say, 'Would that I were in his place (11) and till the sun rises from the West. So when the sun will rise and the people will see it (rising from the West) they will all believe (embrace Islam) but that will be the time when: (As Allah said,) 'No good will it do to a soul to believe then, if it believed not before, nor earned good (by deeds of righteousness) through its Faith.' (6.158) And the Hour will be established while two men spreading a garment in front of them but they will not be able to sell it, nor fold it up; and the Hour will be established when a man has milked his she-camel and has taken away the milk but he will not be able to drink it; and the Hour will be established before a man repairing a tank (for his livestock) is able to water (his animals) in it; and the Hour will be established when a person has raised a morsel (of food) to his mouth but will not be able to eat it.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو عظیم جماعتیں جنگ نہ کریں گی۔ ان دونوں جماعتوں کے درمیان بڑی خونریزی ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور یہاں تک کہ بہت سے جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے۔ تقریباً تین دجال۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور یہاں تک کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زلزلوں کی کثرت ہو گی اور زمانہ قریب ہو جائے گا اور فتنے ظاہر ہو جائیں گے اور ہرج بڑھ جائے گا اور ہرج سے مراد قتل ہے اور یہاں تک کہ تمہارے پاس مال کی کثرت ہو جائے گی بلکہ بہہ پڑے گا اور یہاں تک کہ صاحب مال کو اس کا فکر دامن گیر ہو گا کہ اس کا صدقہ قبول کون کرے اور یہاں تک کہ وہ پیش کرے گا لیکن جس کے سامنے پیش کرے گا وہ کہے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اور یہاں تک کہ لوگ بڑی بڑی عمارتوں پر آپس میں فخر کریں گے۔ ایک سے ایک بڑھ چڑھ کر عمارات بنائیں گے اور یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے کی قبر سے گزرے گا اور کہے گا کہ کاش میں بھی اسی جگہ ہوتا اور یہاں تک کہ سورج مغرب سے نکلے گا۔ پس جب وہ اس طرح طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لے آئیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان لانا فائدہ نہ پہنچائے گا جو پہلے سے ایمان نہ لایا ہو یا اس نے اپنے ایمان کے ساتھ اچھے کام نہ کئے ہوں اور قیامت اچانک اس طرح قائم ہو جائے گی کہ دو آدمیوں نے اپنے درمیان کپڑا پھیلا رکھا ہو گا اور اسے ابھی بیچ نہ پائے ہوں گے نہ لپیٹ پائے ہوں گے اور قیامت اس طرح برپا ہو جائے گی کہ ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ نکال کر واپس ہوا ہو گا کہ اسے کھا بھی نہ پایا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ وہ اپنے حوض کو درست کر رہا ہو گا اور اس میں سے پانی بھی نہ پیا ہو گا اور قیامت اس طرح قائم ہو جائے گی کہ اس نے اپنا لقمہ منہ کی طرف اٹھایا ہو گا اور ابھی اسے کھایا بھی نہ ہو گا۔
7121
Sahih
(26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal.
دجال کا بیان
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : قَالَ لِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مَا سَأَلْتُهُ ، وَإِنَّهُ قَالَ لِي : مَا يَضُرُّكَ مِنْهُ ، قُلْتُ : لِأَنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ جَبَلَ خُبْزٍ وَنَهَرَ مَاءٍ ، قَالَ : هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ .
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba: Nobody asked the Prophet as many questions as I asked regarding Ad-Dajjal. The Prophet said to me, What worries you about him? I said, Because the people say that he will have a mountain of bread and a river of water with him (i.e. he will have abundance of food and water) The Prophet said, Nay, he is too mean to be allowed such a thing by Allah ' (but it is only to test mankind whether they believe in Allah or in Ad-Dajjal.)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے اسماعیل نے بیان کیا، ان سے قیس نے بیان کیا، کہ مجھ سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دجال کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جتنا میں نے پوچھا اتنا کسی نے نہیں پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اس سے تمہیں کیا نقصان پہنچے گا۔ میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ روٹی کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی، فرمایا کہ وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔
7122
Sahih
(26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal.
دجال کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَى كَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ .
Narrated Ibn 'Umar (ra) : The Prophet (saws) said (about Ad-Dajjal) that he is one eyed, his right eye is as if a protruding out grape.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے کہا ہم سے ایوب سختیانی نے انہوں نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا میں سمجھتا ہوں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال داہنی آنکھ سے کانا ہو گا اس کی آنکھ کیا ہے گویا پھولا ہوا انگور۔“
7123
Sahih
(26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal.
دجال کا بیان
حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَجِيءُ الدَّجَّالُ حَتَّى يَنْزِلَ فِي نَاحِيَةِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ تَرْجُفُ الْمَدِينَةُ ثَلَاثَ رَجَفَاتٍ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ كُلُّ كَافِرٍ وَمُنَافِقٍ .
Narrated Anas bin Malik: The Prophet said, Ad-Dajjal will come and encamp at a place close to Medina and then Medina will shake thrice whereupon every Kafir (disbeliever) and hypocrite will go out (of Medina) towards him.
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال آئے گا اور مدینہ کے ایک کنارے قیام کرے گا، پھر مدینہ تین مرتبہ کانپے گا اور اس کے نتیجے میں ہر کافر اور منافق نکل کر اس کی طرف چلا جائے گا۔“
7124
Sahih
(26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal.
دجال کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ وَلَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ .
Narrated Abu Bakra: The Prophet said, The terror caused by Al-Masih Ad-Dajjal will not enter Medina and at that time Medina will have seven gates and there will be two angels at each gate (guarding them).
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف کے دادا نے بیان کیا، انہوں نے ابوبکرہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ والوں پر دجال کا رعب نہیں پڑے گا اس دن مدینہ کے سات دروازے ہوں گے ہر دروازے پر دو فرشتے ( پہرہ دیتے ) ہوں گے۔“
7125
Sahih
(26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal.
دجال کا بیان
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ رُعْبُ الْمَسِيحِ لَهَا يَوْمَئِذٍ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ عَلَى كُلِّ بَابٍ مَلَكَانِ ، قَالَ : وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ،عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْبَصْرَةَ ، فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرَةَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا .
Narrated Abu Bakra: [as above]
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ پر مسیح دجال کا رعب نہیں پڑے گا۔ اس وقت اس کے سات دروازے ہوں گے اور ہر دروازے پر پہرہ دار دو فرشتے ہوں گے۔“ علی بن عبداللہ نے کہا کہ محمد بن اسحاق نے صالح بن ابراہیم سے روایت کیا، ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا کہ میں بصرہ گیا تو مجھ سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے یہی حدیث بیان کی۔
7126
Sahih
(26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal.
دجال کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي النَّاسِ ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ ، فَقَالَ : إِنِّي لَأُنْذِرُكُمُوهُ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ أَنْذَرَهُ قَوْمَهُ ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلًا لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle stood up amongst the people and then praised and glorified Allah as He deserved and then he mentioned Ad-Dajjal, saying, I warn you of him, and there was no prophet but warned his followers of him; but I will tell you something about him which no prophet has told his followers: Ad- Dajjal is one-eyed whereas Allah is not.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے صالح نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سالم بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق بیان کی۔ پھر دجال کا ذکر فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں اور کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو، البتہ میں تمہیں اس کے بارے میں ایک بات بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی تھی اور وہ یہ کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے۔
7127
Sahih

Chapters

28
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “And fear the Fitnah (trial and affliction) which affects not in particular (only) those among you who do wrong...” (V.8:25). And the warning of the Prophet against Al-Fitan.
صبح کی نماز کے بعد خواب کی تعبیر بیان کرنا
1 Hadith
02
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “And fear the Fitnah (trial and affliction) which affects not in particular (only) those among you who do wrong...” (V.8:25). And the warning of the Prophet against Al-Fitan.
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانفال میں یہ فرمانا کہ
3 Hadith
03
(2) CHAPTER. The statement of Prophet : “After me you will see things which you will disapprove of.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ میرے بعد تم بعض کام دیکھو گے جو تم کو برے لگیں گے
6 Hadith
04
(3) CHAPTER. The statement of Prophet : “The destruction of my followers will be through the hands of foolish young men.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمایا کہ میری امت کی تباہی چند بیوقوف لڑکوں کے ہاتھوں ہو گی
1 Hadith
05
(4) CHAPTER. The statement of the Prophet : “Woe to the Arabs from the great evil that is nearly, approaching them.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ ایک بلا سے جو نزدیک آ گئی ہے عرب کی خرابی ہونے والی ہے
2 Hadith
06
(5) CHAPTER. The appearance of Al-Fitan (trials and afflictions).
فتنوں کے ظاہر ہونے کا بیان
7 Hadith
07
(6) CHAPTER. No time will come but the time following it will be worse than it.
ہر زمانہ کے بعد دوسرے آنے والے زمانہ کا اس سے بد تر آنا
2 Hadith
08
(7) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) : “Whosoever takes up arms against us, is not from us.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ جو ہم مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے
2 Hadith
09
(7) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) : “Whosoever takes up arms against us, is not from us.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میرے بعد ایک دوسرے کی گردن مار کر کافر نہ بن جانا
9 Hadith
10
(9) CHAPTER. There will be Fitnah (trial and affliction) during which a sitting person will be better than standing one.
ایک ایسا فتنہ اٹھے گا جس سے بیٹھنے والا کھڑے رہنے والے سے بہتر ہوگا
2 Hadith
11
(10) CHAPTER. If two Muslims meet (fight) each other with their swords.
جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے سے بھڑ جائیں تو ان کے لیے کیا حکم ہے ؟
2 Hadith
12
(12) CHAPTER. Whoever disliked to increase the number of (those people who practice) Al-Fitan (trials and afflictions) and oppressions (against the believers).
جب ( مسلمانوں کی ) جماعت نہ ہو تو معاملہ کیسے ہو گا ؟
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. If a Muslim stays among the bad people.
جس نے مفسدوں اور ظالموں کی جماعت کو بڑھانا ناپسند کیا
1 Hadith
14
(14) CHAPTER. To stay (in the desert) with the Bedouins during the periods of Al-Fitnah (trial and affliction).
جب کوئی برے لوگوں میں رہ جائے تو کیا کرے ؟
1 Hadith
15
(14) CHAPTER. To stay (in the desert) with the Bedouins during the periods of Al-Fitnah (trial and affliction).
فتنہ فساد کے وقت جنگل میں جارہنا
1 Hadith
16
(15) CHAPTER. To seek refuge with Allah from Al-Fitan (trials and afflictions).
فتنوں سے پناہ مانگنا
3 Hadith
17
(16) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.): Al-Fitnah (trial and affliction) will appear from the east.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ فتنہ مشرق کی طرف سے اٹھے گا
4 Hadith
18
(17) CHAPTER. Al-Fitnah (trial and affliction) that will move like the waves of the sea.
اس فتنے کا بیان جو فتنہ سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مار کر اٹھے گا
3 Hadith
19
(18) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
11 Hadith
20
(19) CHPATER. If Allah sends a punishment upon a nation.
جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے ( تو سب قسم کے لوگ اس میں شامل ہو جاتے ہیں )
1 Hadith
21
(20) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) about Al-Hasan bin Ali, This son of mine is a chief, and Allah may make peace between two groups of Muslims through him.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت حسن رضیاللہعنہ کے متعلق فرمانا میرا یہ بیٹا سردار ہے اور یقیناً اللہ پاک اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرائے گا ۔
2 Hadith
22
(21) CHAPTER. If a person says something in the presence of some people and then goes out and says something different..
کوئی شخص لوگوں کے سامنے ایک بات کہے پھر اس کے پاس سے نکل کر دوسری بات کہے ( تو یہ دغابازی ہے ۔ )
4 Hadith
23
(22) CHAPTER. The Hour will not be established until the living wish to be in the place of the dead (i.e., in the place of the people in graves).
قیامت قائم نہ ہو گی یہاں تک کہ لوگ قبر والوں پر رشک نہ کریں
1 Hadith
24
(23) CHAPTER. Time will change until idols will be worshipped.
قیامت کے قریب زمانہ کا بدلنا یہاں تک کہ وہ لوگ بتوں کی عبادت کریں گے ۔
2 Hadith
25
(24) CHAPTER. The coming of the Fire.
قرب قیامت آگ کا نکلنا
2 Hadith
26
(26) CHAPTER. Information about Ad-Dajjal.
دجال کا بیان
10 Hadith
27
(27) CHAPTER. Ad-Dajjal will not be able to enter Al-Madina.
دجال مدینہ کے اندر نہیں داخل ہو سکے گا
3 Hadith
28
(28) CHAPTER. Yajuj and Majuj (Gog and Magog people).
یاجوج و ماجوج کا بیان
2 Hadith
No chapter matched that.