TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of al-ahkam (judgements). - کتاب حکومت اور قضا کے بیان میں - Book 95 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 95 of Sahih Bukhari, with 51 chapters and 89 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

89 Hadith · 51 Chapters
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “(O you who believe!) Obey Allah and obey the Messenger (Muhammad (p.b.u.h.)) and those of you (Muslims) who are in authority… (V.4:59)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا کہ
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمَنْ أَطَاعَ أَمِيرِي فَقَدْ أَطَاعَنِي، وَمَنْ عَصَى أَمِيرِي فَقَدْ عَصَانِي» .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Whoever obeys me, obeys Allah, and whoever disobeys me, disobeys Allah, and whoever obeys the ruler I appoint, obeys me, and whoever disobeys him, disobeys me.
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں زہری نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے میرے ( مقرر کئے ہوئے ) امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میرے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔“
7137
Sahih
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “(O you who believe!) Obey Allah and obey the Messenger (Muhammad (p.b.u.h.)) and those of you (Muslims) who are in authority… (V.4:59)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا کہ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ ، وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، فَالْإِمَامُ الَّذِي عَلَى النَّاسِ رَاعٍ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى أَهْلِ بَيْتِ زَوْجِهَا وَوَلَدِهِ ، وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ ، وَعَبْدُ الرَّجُلِ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ ، وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ ، أَلَا فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ .
Narrated `Abdullah bin `Umar: Allah's Apostle said, Surely! Everyone of you is a guardian and is responsible for his charges: The Imam (ruler) of the people is a guardian and is responsible for his subjects; a man is the guardian of his family (household) and is responsible for his subjects; a woman is the guardian of her husband's home and of his children and is responsible for them; and the slave of a man is a guardian of his master's property and is responsible for it. Surely, everyone of you is a guardian and responsible for his charges.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آگاہ ہو جاؤ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ پس امام ( امیرالمؤمنین ) لوگوں پر نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعایا کے بارے میں سوال ہو گا اور عورت اپنے شوہر کے گھر والوں اور اس کے بچوں کی نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہو گا اور کسی شخص کا غلام اپنے سردار کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں سوال ہو گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعایا کے بارے میں پرسش ہو گی۔“
7138
Sahih
(2) CHAPTER. The (chief) rulers (of all Muslims must be) from the Quraish.
امیر اور سردار اور خلیفہ ہمیشہ قریش قبیلے سے ہونا چاہئے
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ بَلَغَ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَيَكُونُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ ، فَغَضِبَ ، فَقَامَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ يُحَدِّثُونَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا تُوثَرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأُولَئِكَ جُهَّالُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ أَهْلَهَا ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ ،تَابَعَهُ نُعَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ .
Narrated Muhammad bin Jubair bin Mut`im: That while he was included in a delegation of Quraish staying with Muawiya, Muawiya heard that `Abdullah bin `Amr had said that there would be a king from Qahtan tribe, whereupon he became very angry. He stood up, and after glorifying and praising Allah as He deserved, said, To proceed, I have come to know that some of you men are narrating things which are neither in Allah's Book, nor has been mentioned by Allah's Apostle . Such people are the ignorant among you. Beware of such vain desires that mislead those who have them. I have heard Allah's Apostle saying, 'This matter (of the caliphate) will remain with the Quraish, and none will rebel against them, but Allah will throw him down on his face as long as they stick to the rules and regulations of the religion (Islam).'
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے کہ میں قریش کے ایک وفد کے ساتھ معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عنقریب قبیلہ قحطان کا ایک بادشاہ ہو گا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ اس پر غصہ ہوئے اور کھڑے ہو کر اللہ کی تعریف اس کی شان کے مطابق کی پھر فرمایا، امابعد! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسی حدیث بیان کرتے ہیں جو نہ کتاب اللہ میں ہے اور اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، یہ تم میں سے جاہل لوگ ہیں۔ پس تم ایسے خیالات سے بچتے رہو جو تمہیں گمراہ کر دیں کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ یہ امر ( خلافت ) قریش میں رہے گا۔ کوئی بھی ان سے اگر دشمنی کرے گا تو اللہ اسے رسوا کر دے گا لیکن اس وقت تک جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے۔ اس روایت کی متابعت نعیم نے ابن مبارک سے کی ہے، ان سے معمر نے، ان سے زہری نے اور ان سے محمد بن جبیر نے۔
7139
Sahih
(2) CHAPTER. The (chief) rulers (of all Muslims must be) from the Quraish.
امیر اور سردار اور خلیفہ ہمیشہ قریش قبیلے سے ہونا چاہئے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : قَالَ ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْهُمُ اثْنَانِ .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, This matter (caliphate) will remain with the Quraish even if only two of them were still existing.
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، کہا میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ امر خلافت اس وقت تک قریش میں رہے گا جب تک ان میں دو شخص بھی باقی رہیں گے۔“
7140
Sahih
(3) CHAPTER. The reward of the person who judging according to (the principles of) Al-Hikmah.
جو شخص اللہ کی عطا کردہ حکمت کے ساتھ فیصلہ کرے ۔
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْس ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا .
Narrated `Abdullah: Allah's Apostle said, Do not wish to be like anyone, except in two cases: (1) A man whom Allah has given wealth and he spends it righteously. (2) A man whom Allah has given wisdom (knowledge of the Qur'an and the Hadith) and he acts according to it and teaches it to others.
ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک بس دو آدمیوں پر ہی کیا جانا چاہئے۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور پھر اس نے وہ حق کے راستے میں بےدریغ خرچ کیا اور دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دین کا علم ( قرآن و حدیث کا ) دیا ہے وہ اس کے موافق فیصلے کرتا ہے۔“
7141
Sahih
(4) CHAPTER. To listen to and obey one's Imam (Muslim ruler) as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah).
امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا ، وَإِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ حَبَشِيٌّ كَأَنَّ رَأْسَهُ زَبِيبَةٌ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle said, You should listen to and obey, your ruler even if he was an Ethiopian (black) slave whose head looks like a raisin.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سنو اور اطاعت کرو، خواہ تم پر کسی ایسے حبشی غلام کو ہی عامل بنایا جائے جس کا سر منقیٰ کی طرح چھوٹا ہو۔“
7142
Sahih
(4) CHAPTER. To listen to and obey one's Imam (Muslim ruler) as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah).
امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ الْجَعْدِ ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ رَأَى مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَكَرِهَهُ فَلْيَصْبِرْ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُفَارِقُ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَيَمُوتُ ، إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet said, If somebody sees his Muslim ruler doing something he disapproves of, he should be patient, for whoever becomes separate from the Muslim group even for a span and then dies, he will die as those who died in the Pre-lslamic period of ignorance (as rebellious sinners). (See Hadith No. 176 and 177)
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے جعد نے بیان کیا اور ان سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے اپنے امیر میں کوئی برا کام دیکھا تو اسے صبر کرنا چاہئے کیونکہ کوئی اگر جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔“
7143
Sahih
(4) CHAPTER. To listen to and obey one's Imam (Muslim ruler) as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah).
امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ عَلَى الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ فِيمَا أَحَبَّ وَكَرِهَ مَا لَمْ يُؤْمَرْ بِمَعْصِيَةٍ ، فَإِذَا أُمِرَ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا سَمْعَ وَلَا طَاعَةَ .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, A Muslim has to listen to and obey (the order of his ruler) whether he likes it or not, as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah), but if an act of disobedience (to Allah) is imposed one should not listen to it or obey it. (See Hadith No. 203, Vol. 4)
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”مسلمان کے لیے امیر کی بات سننا اور اس کی اطاعت کرنا ضروری ہے، ان چیزوں میں بھی جنہیں وہ پسند کرے اور ان میں بھی جنہیں وہ ناپسند کرے، جب تک اسے معصیت کا حکم نہ دیا جائے۔ پھر جب اسے معصیت کا حکم دیا جائے تو نہ سننا باقی رہتا ہے نہ اطاعت کرنا۔“
7144
Sahih
(4) CHAPTER. To listen to and obey one's Imam (Muslim ruler) as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah).
امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً ، وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يُطِيعُوهُ ، فَغَضِبَ عَلَيْهِمْ ، وَقَالَ : أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي ، قَالُوا : بَلَى ، قَالَ : قَدْ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَمَا جَمَعْتُمْ حَطَبًا وَأَوْقَدْتُمْ نَارًا ثُمَّ دَخَلْتُمْ فِيهَا ، فَجَمَعُوا حَطَبًا فَأَوْقَدُوا نَارًا ، فَلَمَّا هَمُّوا بِالدُّخُولِ فَقَامَ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، قَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا تَبِعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرَارًا مِنَ النَّارِ أَفَنَدْخُلُهَا ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ ، إِذْ خَمَدَتِ النَّارُ وَسَكَنَ غَضَبُهُ ، فَذُكِرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لَوْ دَخَلُوهَا مَا خَرَجُوا مِنْهَا أَبَدًا ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ .
Narrated `Ali: The Prophet sent an army unit (for some campaign) and appointed a man from the Ansar as its commander and ordered them (the soldiers) to obey him. (During the campaign) he became angry with them and said, Didn't the Prophet order you to obey me? They said, Yes. He said, I order you to collect wood and make a fire and then throw yourselves into it. So they collected wood and made a fire, but when they were about to throw themselves into, it they started looking at each other, and some of them said, We followed the Prophet to escape from the fire. How should we enter it now? So while they were in that state, the fire extinguished and their commander's anger abated. The event was mentioned to the Prophet and he said, If they had entered it (the fire) they would never have come out of it, for obedience is required only in what is good. (See Hadith No. 629. Vol. 5)
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا، ان سے ابوعبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا اور اس پر انصار کے ایک شخص کو امیر بنایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ ان کی اطاعت کریں۔ پھر امیر فوج کے لوگوں پر غصہ ہوئے اور کہا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں میری اطاعت کا حکم نہیں دیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ضرور دیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ لکڑی جمع کرو اور اس سے آگ جلاؤ اور اس میں کود پڑو۔ لوگوں نے لکڑی جمع کی اور آگ جلائی، جب کودنا چاہا تو ایک دوسرے کو لوگ دیکھنے لگے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری آگ سے بچنے کے لیے کی تھی، کیا پھر ہم اس میں خود ہی داخل ہو جائیں۔ اسی دوران میں آگ ٹھنڈی ہو گئی اور امیر کا غصہ بھی جاتا رہا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ اس میں کود پڑتے تو پھر اس میں سے نہ نکل سکتے۔ اطاعت صرف اچھی باتوں میں ہے۔
7145
Sahih
(5) CHAPTER. If somebody does not seek authority of ruling, then Allah will surely help him (if he is given such authority).
جسے بن مانگے سرداری ملے تو اللہ اس کی مدد کرے گا
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ .
Narrated `Abdur-Rahman bin Samura: The Prophet said, O `Abdur-Rahman! Do not seek to be a ruler, for if you are given authority on your demand then you will be held responsible for it, but if you are given it without asking (for it), then you will be helped (by Allah) in it. If you ever take an oath to do something and later on you find that something else is better, then you should expiate your oath and do what is better.
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے حسن نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن! حکومت کے طالب نہ بننا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد حکومت ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور وہ تمہیں بلا مانگے ملی تو اس میں تمہاری ( اللہ کی طرف سے ) مدد کی جائے گی اور اگر تم نے قسم کھا لی ہو پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو اور وہ کام کرو جس میں بھلائی ہو۔“
7146
Sahih
(6) CHAPTER. He who seeks to be a ruler will be held responsible for that (i.e., Allah will not help him in his duty).
جو شخص مانگ کر حکومت لے اس کو اسی کے سپرد کر دیا گیا
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنِ الْحَسَن ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ ، لَا تَسْأَلِ الْإِمَارَةَ ، فَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا ، وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا ، وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ ، فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ .
Narrated `Abdur-Rahman bin Samura: Allah's Apostle said, O `Abdur-Rahman bin Samura! Do not seek to be a ruler, for if you are given authority on your demand, you will be held responsible for it, but if you are given it without asking for it, then you will be helped (by Allah) in it. If you ever take an oath to do something and later on you find that something else is better, then do what is better and make expiation for your oath.
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے حسن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدالرحمٰن ابن سمرہ! حکومت طلب مت کرنا کیونکہ اگر تمہیں مانگنے کے بعد امیری ملی تو تم اس کے حوالے کر دئیے جاؤ گے اور اگر تمہیں مانگے بغیر ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر تم کسی بات پر قسم کھا لو اور پھر اس کے سوا دوسری چیز میں بھلائی دیکھو تو وہ کرو جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو۔“
7147
Sahih
(6) CHAPTER. He who seeks to be a ruler will be held responsible for that (i.e., Allah will not help him in his duty).
جو شخص مانگ کر حکومت لے اس کو اسی کے سپرد کر دیا گیا
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الْإِمَارَةِ وَسَتَكُونُ نَدَامَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَنِعْمَ الْمُرْضِعَةُ وَبِئْسَتِ الْفَاطِمَةُ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُمْرَان ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَوْلَهُ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, You people will be keen to have the authority of ruling which will be a thing of regret for you on the Day of Resurrection. What an excellent wet nurse it is, yet what a bad weaning one it is!
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
7148
Sahih
(6) CHAPTER. He who seeks to be a ruler will be held responsible for that (i.e., Allah will not help him in his duty).
جو شخص مانگ کر حکومت لے اس کو اسی کے سپرد کر دیا گیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ قَوْمِي ، فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ : أَمِّرْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَهُ ، فَقَالَ : إِنَّا لَا نُوَلِّي هَذَا مَنْ سَأَلَهُ ، وَلَا مَنْ حَرَصَ عَلَيْهِ .
Narrated Abu Musa: Two men from my tribe and I entered upon the Prophet. One of the two men said to the Prophet, O Allah's Apostle! Appoint me as a governor, and so did the second. The Prophet said, We do not assign the authority of ruling to those who ask for it, nor to those who are keen to have it.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے بریدہ نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کے دو آدمیوں کو لے کر حاضر ہوا۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہمیں کہیں کا حاکم بنا دیجئیے اور دوسرے نے بھی یہی خواہش ظاہر کی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم ایسے شخص کو یہ ذمہ داری نہیں سونپتے جو اسے طلب کرے اور نہ اسے دیتے ہیں جو اس کا حریص ہو۔
7149
Sahih
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
حکومت اور سرداری کی حرص کرنا مکروہ ہے
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ عَادَ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَا مِنْ عَبْدٍ اسْتَرْعَاهُ اللَّهُ رَعِيَّةً فَلَمْ يَحُطْهَا بِنَصِيحَةٍ إِلَّا لَمْ يَجِدْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ .
Narrated Ma'qil: I heard the Prophet saying, Any man whom Allah has given the authority of ruling some people and he does not look after them in an honest manner, will never feel even the smell of Paradise.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالاشہب نے بیان کیا، ان سے حسن نے کہ عبیداللہ بن زیاد، معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے اس مرض میں آئے جس میں ان کا انتقال ہوا تو معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو کسی رعیت کا حاکم بناتا ہے اور وہ خیر خواہی کے ساتھ اس کی حفاظت نہیں کرتا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔“
7150
Sahih
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
جو شخص رعیت کا حاکم بنے اور ان کی خیرخواہی نہ کرے اس کا عذاب
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ ، قَالَ زَائِدَةُ ، ذَكَرَهُ عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ : أَتَيْنَا مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ نَعُودُهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : مَا مِنْ وَالٍ يَلِي رَعِيَّةً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَيَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهُمْ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ .
Narrated Ma'qil: Allah's Apostle said, If any ruler having the authority to rule Muslim subjects dies while he is deceiving them, Allah will forbid Paradise for him.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو حسین الجعفی نے خبر دی کہ زائدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے اور ان سے حسن نے بیان کیا کہ ہم معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے ان کے پاس گئے پھر عبیداللہ بھی آئے تو معقل رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کا حاکم بنایا گیا اور اس نے ان کے معاملہ میں خیانت کی اور اسی حالت میں مر گیا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔
7151
Sahih
(9) CHAPTER. Whoever puts the people into troubles and difficulties will be put into troubles and difficulties by Allah.
جو شخص بندگان خدا کو ستائے ( مشکل میں پھانسے ) اللہ اس کو ستائے گا ( مشکل میں پھنسائے گا )
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ طَرِيفٍ أَبِي تَمِيمَةَ ، قَالَ : شَهِدْتُ صَفْوَانَ ، وَجُنْدَبًا وَأَصْحَابَهُ وَهُوَ يُوصِيهِمْ ، فَقَالُوا : هل سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ : وَمَنْ يُشَاقِقْ يَشْقُقِ اللَّهُ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالُوا : أَوْصِنَا ، فَقَالَ : إِنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنَ الْإِنْسَانِ بَطْنُهُ ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يَأْكُلَ إِلَّا طَيِّبًا فَلْيَفْعَلْ ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا يُحَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ بِمِلْءِ كَفِّهِ مِنْ دَمٍ أَهْرَاقَهُ فَلْيَفْعَلْ ، قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ : مَنْ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، جُنْدَبٌ ، قَالَ : نَعَمْ جُنْدَبٌ .
Narrated Tarif Abi Tamima: I saw Safwan and Jundab and Safwan's companions when Jundab was advising. They said, Did you hear something from Allah's Apostle? Jundab said, I heard him saying, 'Whoever does a good deed in order to show off, Allah will expose his intentions on the Day of Resurrection (before the people), and whoever puts the people into difficulties, Allah will put him into difficulties on the Day of Resurrection.' The people said (to Jundab), Advise us. He said, The first thing of the human body to purify is the `Abdomen, so he who can eat nothing but good food (Halal and earned lawfully) should do so, and he who does as much as he can that nothing intervene between him and Paradise by not shedding even a handful of blood, (i.e. murdering) should do so.
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے، ان سے جریری نے، ان سے ظریف ابوتمیمہ نے بیان کیا کہ میں صفوان اور جندب اور ان کے ساتھیوں کے پاس موجود تھا۔ صفوان اپنے ساتھیوں ( شاگردوں ) کو وصیت کر رہے تھے، پھر ( صفوان اور ان کے ساتھیوں نے جندب رضی اللہ عنہ سے ) پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ جو لوگوں کو ریاکاری کے طور پر دکھانے کے لیے کام کرے گا اللہ قیامت کے دن اس کی ریاکاری کا حال لوگوں کو سنا دے گا اور فرمایا کہ جو لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے تکلیف میں مبتلا کرے گا، پھر ان لوگوں نے کہا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے انسان کے جسم میں اس کا پیٹ سڑتا ہے پس جو کوئی طاقت رکھتا ہو کہ پاک و طیب کے سوا اور کچھ نہ کھائے تو اسے ایسا ہی کرنا چاہئے اور جو کوئی طاقت رکھتا ہو وہ چلو بھر لہو بہا کر ( یعنی ناحق خون کر کے ) اپنے آپ کو بہشت میں جانے سے روکے۔ جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابوعبداللہ سے پوچھا، کون صاحب اس حدیث میں یہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا؟ کیا جندب کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں وہی کہتے ہیں۔
7152
Sahih
(10) CHAPTER. To give judgements and legal opinions on the road.
چلتے چلتے راستہ میں کوئی فیصلہ کرنا اور فتویٰ دینا
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجَانِ مِنَ الْمَسْجِدِ ، فَلَقِيَنَا رَجُلٌ عِنْدَ سُدَّةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَتَى السَّاعَةُ ؟ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ ، فَكَأَنَّ الرَّجُلَ اسْتَكَانَ ، ثُمَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صِيَامٍ ، وَلَا صَلَاةٍ ، وَلَا صَدَقَةٍ ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، قَالَ : أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ .
Narrated Anas bin Malik: While the Prophet and I were coming out of the mosque, a man met us outside the gate. The man said, O Allah's Apostle! When will be the Hour? The Prophet asked him, What have you prepared for it? The man became afraid and ashamed and then said, O Allah's Apostle! I haven't prepared for it much of fasts, prayers or charitable gifts but I love Allah and His Apostle. The Prophet said, You will be with the one whom you love.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد سے نکل رہے تھے کہ ایک شخص مسجد کی چوکھٹ پر آ کر ہم سے ملا اور دریافت کیا: یا رسول اللہ! قیامت کب ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟“ اس پر وہ شخص خاموش سا ہو گیا، پھر اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے بہت زیادہ روزے، نماز اور صدقہ قیامت کے لیے نہیں تیار کئے ہیں لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔“
7153
Sahih
(11) CHAPTER. It is mentioned that there was no gatekeeper for the Prophet (p.b.u.h.).
یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دربان نہیں تھا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ لِامْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ : تَعْرِفِينَ فُلَانَةَ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، قَالَ : فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهَا وَهِيَ تَبْكِي عِنْدَ قَبْرٍ ، فَقَالَ : اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي ، فَقَالَتْ : إِلَيْكَ عَنِّي ، فَإِنَّكَ خِلْوٌ مِنْ مُصِيبَتِي ، قَالَ : فَجَاوَزَهَا وَمَضَى ، فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَتْ : مَا عَرَفْتُهُ ، قَالَ : إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَجَاءَتْ إِلَى بَابِهِ فَلَمْ تَجِدْ عَلَيْهِ بَوَّابًا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُكَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الصَّبْرَ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ .
Narrated Thabit Al-Bunani: Anas bin Malik said to a woman of his family, Do you know such-and-such a woman? She replied, Yes. He said, The Prophet passed by her while she was weeping over a grave, and he said to her, 'Be afraid of Allah and be patient.' The woman said (to the Prophet). 'Go away from me, for you do not know my calamity.' Anas added, The Prophet left her and proceeded. A man passed by her and asked her, 'What has Allah's Apostle said to you?' She replied, 'I did not recognize him.' The man said, 'He was Allah's Apostle. ' Anas added, So that woman came to the gate of the Prophet and she did not find a gate-keeper there, and she said, 'O Allah's Apostle! By Allah. I did not recognize you!' The Prophet said, 'No doubt, patience is at the first stroke of a calamity.'
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالصمد نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا ہم سے ثابت البنانی نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ وہ اپنے گھر کی ایک عورت سے کہہ رہے تھے فلانی کو پہچانتی ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس سے گزرے اور وہ ایک قبر کے پاس رو رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ اس عورت نے جواب دیا۔ آپ میرے پاس سے چلے جاؤ، میری مصیبت آپ پر نہیں پڑی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے ہٹ گئے اور چلے گئے۔ پھر ایک صاحب ادھر سے گزرے اور ان سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا تھا؟ اس عورت نے کہا کہ میں نے انہیں پہچانا نہیں۔ ان صاحب نے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ پھر وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ انہوں نے آپ کے یہاں کوئی دربان نہیں پایا پھر عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں ( تھا ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو صدمہ کے شروع میں ہی ہوتا ہے۔
7154
Sahih
(12) CHAPTER. A governor (of a province, etc.,) who is under can sentence to death a person who deserve such punishement without consulting the Imam.
ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : إِنَّ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ كَانَ يَكُونُ بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ .
Narrated Anas: Qais bin Sa`d was to the Prophet like a chief police officer to an Amir (chief).
ہم سے محمد بن خالد ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے انصاری محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ قیس بن سعد رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح رہتے تھے جیسے امیر کے ساتھ کوتوال رہتا ہے۔
7155
Sahih
(12) CHAPTER. A governor (of a province, etc.,) who is under can sentence to death a person who deserve such punishement without consulting the Imam.
ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَأَتْبَعَهُ بِمُعَاذٍ .
Narrated Abu Musa: that the Prophet sent him and sent Mu`adh after him (as rulers to Yemen).
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قرہ نے، ان سے حمید بن ہلال نے، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تھا اور ان کے ساتھ معاذ رضی اللہ عنہ کو بھی بھیجا تھا۔
7156
Sahih

Chapters

51
01
(1) CHAPTER. The Statement of Allah: “(O you who believe!) Obey Allah and obey the Messenger (Muhammad (p.b.u.h.)) and those of you (Muslims) who are in authority… (V.4:59)
اللہ تعالیٰ نے سورۃ نساء میں فرمایا کہ
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. The (chief) rulers (of all Muslims must be) from the Quraish.
امیر اور سردار اور خلیفہ ہمیشہ قریش قبیلے سے ہونا چاہئے
2 Hadith
03
(3) CHAPTER. The reward of the person who judging according to (the principles of) Al-Hikmah.
جو شخص اللہ کی عطا کردہ حکمت کے ساتھ فیصلہ کرے ۔
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. To listen to and obey one's Imam (Muslim ruler) as long as his orders involve not one in disobedience (to Allah).
امام اور بادشاہ اسلام کی بات سننا اور ماننا واجب ہے جب تک وہ خلاف شرع اور گناہ کی بات کا حکم نہ دے
4 Hadith
05
(5) CHAPTER. If somebody does not seek authority of ruling, then Allah will surely help him (if he is given such authority).
جسے بن مانگے سرداری ملے تو اللہ اس کی مدد کرے گا
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. He who seeks to be a ruler will be held responsible for that (i.e., Allah will not help him in his duty).
جو شخص مانگ کر حکومت لے اس کو اسی کے سپرد کر دیا گیا
3 Hadith
07
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
حکومت اور سرداری کی حرص کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
08
(8) CHAPTER. If somebody is assigned the authority of ruling some people but, he does not look after them in an honest manner!
جو شخص رعیت کا حاکم بنے اور ان کی خیرخواہی نہ کرے اس کا عذاب
1 Hadith
09
(9) CHAPTER. Whoever puts the people into troubles and difficulties will be put into troubles and difficulties by Allah.
جو شخص بندگان خدا کو ستائے ( مشکل میں پھانسے ) اللہ اس کو ستائے گا ( مشکل میں پھنسائے گا )
1 Hadith
10
(10) CHAPTER. To give judgements and legal opinions on the road.
چلتے چلتے راستہ میں کوئی فیصلہ کرنا اور فتویٰ دینا
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. It is mentioned that there was no gatekeeper for the Prophet (p.b.u.h.).
یہ بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی دربان نہیں تھا
1 Hadith
12
(12) CHAPTER. A governor (of a province, etc.,) who is under can sentence to death a person who deserve such punishement without consulting the Imam.
ماتحت حاکم قصاص کا حکم دے سکتا ہے بڑے حاکم سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں
3 Hadith
13
(13) CHAPTER. Can a judge give a judgement or a formal legal opinion while he is in an angry mood?
قاضی کو فیصلہ یا فتویٰ غصہ کی حالت میں دینا درست ہے یا نہیں
3 Hadith
14
(14) CHAPTER. Whosoever thinks that a judge can give judgements for the people according to his knowledge if he is not afraid of being suspected or blamed.
قاضی کا اپنے ذاتی علم کی رو سے معاملات میں فیصلہ دینا درست ہے
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. To bear witness as to the writer of a stamped letter.
مہری خط پر گواہی دینے کا بیان
1 Hadith
16
(17) CHAPTER. The salaries of rulers and those employed to administer the funds.
حکام اور حکومت کے عاملوں کا تنخواہ لینا
2 Hadith
17
(18) CHAPTER. Whoever gave judgements of Lian in the mosque.
جو مسجد میں فیصلہ کرے یا لعان کرائے
3 Hadith
18
(19) CHAPTER. Whoever passed a judgement in the mosque and when the actual legal punishement was to be put to action,he ordered the guilty person to be taken outside the mosque so that the punishment might be carried out.
حدکا مقدمہ مسجد میں سننا پھر جب حد لگانے کا وقت آئے تو مجرم کو مسجد کے باہر لے جانا
1 Hadith
19
(20) CHAPTER. The advice of the Imam (ruler) to the litigants.
فریقین کو امام کا نصیحت کرنا
1 Hadith
20
(21) CHAPTER. If a judge has to witness in favour of a litigant when he is a judge or he had it before he became a judge (can he pass a judgement in his favour accordingly or should he refer the case to another judge before whom he would bear witness?).
جب حاکم اعلیٰ دو شخصوں کو کسی ایک جگہ ہی کا حاکم مقرر کرے تو انہیں یہ حکم دے کہ وہ مل کر رہیں اور ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں
2 Hadith
21
(22) CHAPTER. The order of the Wali (chief ruler) sending two Amir (governors) to one place that they should coopertae and agree with each other and should not differ with one another.
حاکم دعوت قبول کر سکتا ہے
1 Hadith
22
(23) CHAPTER. The ruler's acceptance of invitation.
حاکموں کو جو ہدیے تحفے دیئے جائیں ان کا بیان
1 Hadith
23
(24) CHAPTER. The gifts taken by the employees.
آزاد شدہ غلام کو قاضی یا حاکم بنانا
1 Hadith
24
(25) CHAPTER. To appoint the Maula (freed slaves) as judges and officials.
لوگوں کے چودھری یا نقیب بنانا
1 Hadith
25
(26) CHAPTER. The Urafa appointed to look after the people's affairs.
بادشاہ کے سامنے منہ در منہ خوشامد کرنا ، پیٹھ پیچھے اس کو براکہنا منع ہے
4 Hadith
26
(28) CHAPTER. Passing a Judgement against an absent person.
ایک طرفہ فیصلہ کرنے کا بیان
3 Hadith
27
(30) CHAPTER. Judgement regarding cases involving wells, etc.
اگر کسی شخص کو حاکم دوسرے مسلمان بھائی کا مال ناحق دلا دے تو اس کو نہ لے کیونکہ حاکم کے فیصلہ سے نہ حرام حلال ہو سکتا ہے نہ حلال حرام ہو سکتا ہے
2 Hadith
28
(31) CHAPTER. To judge (all) cases involving wealth weather it is much or little in amount, in one and the same.
کنویں اور اس جیسی چیزوں کے مقدمات فیصل کرنا
1 Hadith
29
(32) CHAPTER. The selling of the people's real or personal estates by the ruler on their behalf.
ناحق مال اڑانے میں جو وعید ہے وہ تھوڑے اور بہت دونوں مالوں کو شامل ہے
1 Hadith
30
(33) CHAPTER. Whoever does not care slanders made by ignorant people against the Amirs (leaders).
حکم ( بیوقوف اور غائب لوگوں کی جائیداد منقولہ اور غیر منقولہ دونوں کو بیچ سکتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مدبر غلام بن نحام کے ہاتھ بیچ ڈالا
1 Hadith
31
(34) CHAPTER. The one who is the most contentious of enemies; and that is, the most quarrelsome person of the opponents.
الدالخصم کا بیان
1 Hadith
32
(35) CHAPTER. If a judge passes an unjust judgement or a judgement which differs from that of the learned religious men, such a judgement is to be rejected.
جب حاکم کا فیصلہ ظالمانہ ہو یا علماء کے خلاف ہو تو وہ رد کر دیا جائے گا
1 Hadith
33
(36) CHAPTER. The Imam (ruler) going to some people to establish peace among them.
امام کسی جماعت کے پاس آئے اور ان میں باہم صلح کرادے
1 Hadith
34
(37) CHAPTER. It is desirable that a scribe should be honest and wise.
فیصلہ لکھنے والا امانتدار اور عقلمند ہونا چاہئے
1 Hadith
35
(38) CHAPTER. The writing of a letter by the ruler to his representatives (in the provinces), and by judge to his workers who look after the problems of the people.
امام کا اپنے نائبوں کو اور قاضی کا اپنے عملہ کو لکھنا
1 Hadith
36
(39) CHAPTER. Is ir permissible for a ruler to send one man only to manage certain affairs?
کیا حاکم کیلئے جائز ہے کہ وہ کسی ایک شخص کو معاملات کی دیکھ بھال کیلئے بھیجے
2 Hadith
37
(40) CHAPTER. The translators of a ruler; and is it permissible to keep one translator?
حاکم کے سامنے مترجم کا رہنا اور کیا ایک ہی شخص ترجمانی کے لئے کافی ہے ۔
2 Hadith
38
(41) CHAPTER. The ruler calling his employees to account.
امام کا اپنے عاملوں سے حساب طلب کرنا
1 Hadith
39
(42) CHAPTER. The courtiers and advisers of the Imam (ruler).
امام کا خاص مشیر جسے بطانہ بھی کہتے ہیں یعنی راز دار دوست
1 Hadith
40
(43) CHAPTER. How do the people give the Baia (pledge) to the Imam (ruler).
امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے ؟
9 Hadith
41
(44) CHAPTER. Whosoever gave the Baia (pledge) twice.
جس نے دو مرتبہ بیعت کی
1 Hadith
42
(45) CHAPTER. The giving of the Baia (pledge) by the bedouins.
دیہاتیوں کا اسلام اور جہاد پر بیعت کرنا
1 Hadith
43
(46) CHAPTER. The Baia (pledge) of a child.
نابالغ لڑکے کا بیعت کرنا
1 Hadith
44
(47) CHAPTER. Whoever gave the Baia (pledge) and then cancelled it.
بیعت کرنے کے بعد اس کا فسخ کرانا
1 Hadith
45
(48) CHAPTER. The person who gives the Baia (pledge) to a man just for worldly benefits.
جس نے کسی سے بیعت کی اور مقصد خالص دنیا کمانا ہو اس کی برائی کا بیان
1 Hadith
46
(49) CHAPTER. The Baia (pledge) given by women.
عورتوں سے بیعت لینا
3 Hadith
47
(S0) CHAPTER. Whoever violates a Baia (pledge).
اس کا گناہ جس نے بیت توڑی
1 Hadith
48
(51) CHAPTER. The appointment of a caliph (to succeed another).
ایک خلیفہ مرتے وقت کسی اور کو خلیفہ کر جائے تو کیسا ہے ؟
5 Hadith
49
(51b) CHAPTER.
۔ ۔ ۔
2 Hadith
50
(52) CHAPTER. The expulsion of quarrelsome people and people accused of something, from houses after having a firm proof against them.
جھگڑا اور فسق وفجور کرنے والوں کو معلوم ہونے کے بعد گھروں سے نکالنا
1 Hadith
51
(53) CHAPTER. Is it legal for the Imam to forbid the criminals and those who commit sin to talk to or visit him, etc.?
کیا امام کے لیے جائز ہے کہ وہ مجرموں اور گنہگاروں کو اپنے ساتھ بات چیت کرنے اور ملاقات وغیرہ کرنے سے روک دے ۔
1 Hadith
No chapter matched that.