TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of holding fast to the qur’an and the sunna. - کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا - Book 98 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 98 of Sahih Bukhari, with 28 chapters and 103 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

103 Hadith · 28 Chapters
(7) CHAPTER. What is said against judging (in religion) made on the basis of one's own opinion or by Qiyas (without referring to the Quran or Sunna).
دین کے مسائل میں رائے پر عمل کرنے کی مذمت ‘ اسی طرح بے ضرورت قیاس کرنے کی برائی
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ ، سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ، قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا وَائِلٍ : هَلْ شَهِدْتَ صِفِّينَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَسَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ ، يَقُولُ : . ح وحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ عَلَى دِينِكُمْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ أَسْتَطِيعُ أَنْ أَرُدَّ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ لَرَدَدْتُهُ وَمَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَلَى عَوَاتِقِنَا إِلَى أَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلْنَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ غَيْرَ هَذَا الْأَمْرِ ، قَالَ : وَقَالَ أَبُو وَائِلٍ : شَهِدْتُ صِفِّينَ وَبِئْسَتْ صِفُّون .
Narrated Al-A`mash: I asked Abu Wail, Did you witness the battle of Siffin between `Ali and Muawiya? He said, Yes, and added, Then I heard Sahl bin Hunaif saying, 'O people! Blame your personal opinions in your religion. No doubt, I remember myself on the day of Abi Jandal; if I had the power to refuse the order of Allah's Apostle, I would have refused it. We have never put our swords on our shoulders to get involved in a situation that might have been horrible for us, but those swords brought us to victory and peace, except this present situation.' Abu Wail said, I witnessed the battle of Siffin, and how nasty Siffin was!
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، کہا میں نے اعمش سے سنا، کہا کہ میں نے ابووائل سے پوچھا تم صفین کی لڑائی میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں، پھر میں نے سہل بن حنیف کو کہتے سنا ( دوسری سند ) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نے ( جنگ صفین کے موقع پر ) کہا کہ لوگوں! اپنے دین کے مقابلہ میں اپنی رائے کو بےحقیقت سمجھو میں نے اپنے آپ کو ابوجندل رضی اللہ عنہ کے واقعہ کے دن ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) دیکھا کہ اگر میرے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ہٹنے کی طاقت ہوتی تو میں اس دن آپ سے انحراف کرتا ( اور کفار قریش کے ساتھ ان شرائط کو قبول نہ کرتا ) اور ہم نے جب کسی مہم پر اپنی تلواریں کاندھوں پر رکھیں ( لڑائی شروع کی ) تو ان تلواروں کی بدولت ہم کو ایک آسانی مل گئی جسے ہم پہچانتے تھے مگر اس مہم میں ( یعنی جنگ صفین میں مشکل میں گرفتار ہیں دونوں طرف والے اپنے اپنے دلائل پیش کرتے ہیں ) ابواعمش نے کہا کہ ابووائل نے بتایا کہ میں صفین میں موجود تھا اور صفین کی لڑائی بھی کیا بری لڑائی تھی جس میں مسلمان آپس میں کٹ مرے۔
7308
Sahih
(8) CHAPTER. Whenever the Prophet (p.b.u.h.) was asked about something regarding which no Verse was revealed, he would either say, I do not know, or give no reply, but he never gave a verdict based on opinion or on Qiyas.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسئلہ رائے یا قیاس سے نہیں بتلا یا ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : مَرِضْتُ ، فَجَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي ، وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا مَاشِيَانِ ، فَأَتَانِي وَقَدْ أُغْمِيَ عَلَيَّ ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صَبَّ وَضُوءَهُ عَلَيَّ ، فَأَفَقْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي ؟ ، قَالَ : فَمَا أَجَابَنِي بِشَيْءٍ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: I fell ill, Allah's Apostle and Abu Bakr came to visit me on foot. The Prophet came to me while I was unconscious. Allah's Apostle performed ablution and poured the Remaining water of his ablution over me whereupon I became conscious and said, 'O Allah's Apostle! How should I spend my wealth? Or how should I deal with my wealth? But the Prophet did not give me any reply till the Verse of the laws of inheritance was revealed.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا میں نے محمد بن المنکدر سے سنا، بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں بیمار پڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ عیادت کے لیے تشریف لائے۔ یہ دونوں بزرگ پیدل چل کر آئے تھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو مجھ پر بے ہوشی طاری تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر چھڑکا، اس سے مجھے افاقہ ہوا تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اور بعض اوقات سفیان نے یہ الفاظ بیان کئے کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کے بارے میں کس طرح فیصلہ کروں، میں اپنے مال کا کیا کروں؟ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ میراث کی آیت نازل ہوئی۔
7309
Sahih
(9) CHAPTER. The way the Prophet (p.b.u.h.) taught his followers, whether men or women, of what Allah taught him.He did not impart his own opinions, nor did he give a verdict based on Qiyas.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے مردوں وعورتوں کو وہی باتیں سکھا نا جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں باقی رائے اور تمثیل آپ نے نہیں سکھائی ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : اجْتَمِعْنَ ، فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ، فَاجْتَمَعْنَ ، فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ، ثُمَّ قَالَ : مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوِ اثْنَيْنِ ، قَالَ : فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ ، وَاثْنَيْنِ .
Narrated Abu Sa`id: A woman came to Allah's Apostle and said, O Allah's Apostle! Men (only) benefit by your teachings, so please devote to us from (some of) your time, a day on which we may come to you so that you may teach us of what Allah has taught you. Allah's Apostle said, Gather on such-and-such a day at suchand- such a place. They gathered and Allah's Apostle came to them and taught them of what Allah had taught him. He then said, No woman among you who has lost her three children (died) but that they will screen her from the Fire. A woman among them said, O Allah's Apostle! If she lost two children? She repeated her question twice, whereupon the Prophet said, Even two, even two, even two! (See Hadith No. 341, Vol. 2)
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن الاصبہانی نے، ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے، ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ کے پاس آئیں اور آپ ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھایا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی۔ ( یعنی ان کی وفات ہو جائے گی ) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یا رسول اللہ! دو؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں دو، دو، دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں۔“
7310
Sahih
(10) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.), “A group of my followers will remain victorious in their struggle in the cause of the Truth.” Those are the religious learned men (i.e., Mujtahidun).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ” میری امت کی ایک جماعت حق پر غالب رہے گی اور جنگ کرتی رہے گی “
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ .
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba: The Prophet said, A group of my follower swill remain predominant (victorious) till Allah's Order (the Hour) comes upon them while they are still predominant (victorious).
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے، ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا ( اس میں علمی و دینی غلبہ بھی داخل ہے ) یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ غالب ہی رہیں گے۔“
7311
Sahih
(10) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.), “A group of my followers will remain victorious in their struggle in the cause of the Truth.” Those are the religious learned men (i.e., Mujtahidun).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ” میری امت کی ایک جماعت حق پر غالب رہے گی اور جنگ کرتی رہے گی “
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَخْطُبُ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ وَلَنْ يَزَالَ أَمْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ مُسْتَقِيمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ ، أَوْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ .
Narrated Humaid: I heard Muawiya bin Abi Sufyan delivering a sermon. He said, I heard the Prophet saying, If Allah wants to do a favor to somebody, He bestows on him, the gift of understanding the Qur'an and Sunna. I am but a distributor, and Allah is the Giver. The state of this nation will remain good till the Hour is established, or till Allah's Order comes.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے انہیں حمید نے خبر دی، کہا کہ میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے اور اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا، یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ ) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے۔
7312
Sahih
(11) CHAPTER. The Statement of Allah: “... or to cover you with confusion in party strife...” (V.6:65)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانعام میں یوں فرمانا کہ یا وہ تمہارے کئی فرقے کر دے ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : لَمَّا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ : أَعُوذُ بِوَجْهِكَ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ، قَالَ : أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سورة الأنعام آية 65 ، قَالَ : هَاتَانِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَرُ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: When the (following) Verse was revealed to Allah's Apostle: 'Say: He has power to send torment on you from above,'..(6.65) he said, O Allah! I seek refuge with Your Face (from that punishment). And when this was revealed: '..or from beneath your feet.' (6.65) he said, O Allah! I seek refuge with Your Face (from that). And when this Verse was revealed: '..or to cover you with confusion in partystrife, and make you to taste the violence of one another,'...(6.65) he said: These two warnings are easier (than the previous ones).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم‏» کہ ”کہو کہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تیرے با عظمت و بزرگ منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ «أو من تحت أرجلكم‏» ”یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے“ ( عذاب بھیجے ) تو اس پر پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تیرے مبارک منہ کی پناہ مانگتا ہوں، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض‏» کہ ”یا تمہیں فرقوں میں تقسیم کر دے اور تم میں سے بعض کو بعض کا خوف چکھائے“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ دونوں آسان و سہل ہیں۔
7313
Sahih
(12) CHAPTER. Whoever compares an ambiguous situation to a clear well-defined one, both of which have already been explained by the Prophet (p.b.u.h.) to make the questioner understand.
ایک امر معلوم کو دوسرے امر واضح سے تشبیہ دینا جس کا حکم اللہ نے بیان کر دیا ہے تاکہ پوچھنے والا سمجھ جائے
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلَامًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَمَا أَلْوَانُهَا ؟ ، قَالَ : حُمْرٌ ، قَالَ : هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ؟ ، قَالَ : إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ، قَالَ : فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عِرْقٌ نَزَعَهَا ، قَالَ : وَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الِانْتِفَاءِ مِنْهُ .
Narrated Abu Huraira: A bedouin came to Allah's Apostle and said, My wife has delivered a black boy, and I suspect that he is not my child. Allah's Apostle said to him, Have you got camels? The bedouin said, Yes. The Prophet said, What color are they? The bedouin said, They are red. The Prophet said, Are any of them Grey? He said, There are Grey ones among them. The Prophet said, Whence do you think this color came to them? The bedouin said, O Allah's Apostle! It resulted from hereditary disposition. The Prophet said, And this (i.e., your child) has inherited his color from his ancestors. The Prophet did not allow him to deny his paternity of the child.
ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو میں اپنا نہیں سمجھتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہیں۔ دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں؟ کہا کہ سرخ ہیں۔ پوچھا کہ ان میں کوئی خاکی بھی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ان میں خاکی بھی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو؟ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بچے کے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی۔
7314
Sahih
(12) CHAPTER. Whoever compares an ambiguous situation to a clear well-defined one, both of which have already been explained by the Prophet (p.b.u.h.) to make the questioner understand.
ایک امر معلوم کو دوسرے امر واضح سے تشبیہ دینا جس کا حکم اللہ نے بیان کر دیا ہے تاکہ پوچھنے والا سمجھ جائے
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ ، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ ، أَفَأَحُجَّ عَنْهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا ، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ ؟ ، قَالَتْ : نَعَمْ ، فَقَالَ : اقْضُوا اللَّهَ الَّذِي لَهُ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ .
Narrated Ibn `Abbas: A woman came to the Prophet and said, My mother vowed to perform the Hajj but she died before performing it. Should I perform the Hajj on her behalf? He said, Yes! Perform the Hajj on her behalf. See, if your mother had been in debt, would you have paid her debt? She said, Yes. He said, So you should pay what is for Him as Allah has more right that one should fulfill one's obligations to Him.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ ( ادائیگی سے پہلے ہی ) وفات پا گئیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے حج کر لو۔ تمہارا کیا خیال ہے، اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو تم اسے پورا کرتیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس قرض کو بھی پورا کر جو اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس قرض کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔
7315
Sahih
(13) CHAPTER. What has been said regarding exerting oneself to find out the proper legal verdict which is in harmony with what Allah has revealed.
قاضیوں کو کوشش کر کے اللہ کی کتاب کے موافق حکم دینا چائیے کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا .
Narrated `Abdullah: Allah's Apostle said, Do not wish to be like anybody except in two cases: The case of a man whom Allah has given wealth and he spends it in the right way, and that of a man whom Allah has given religious wisdom (i.e., Qur'an and Sunna) and he gives his verdicts according to it and teaches it. (to others i.e., religious knowledge of Qur'an and Sunna (Prophet's Traditions)).
ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے، ایک وہ جیسے اللہ نے مال دیا اور اسے ( مال کو ) راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوتی ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔“
7316
Sahih
(13) CHAPTER. What has been said regarding exerting oneself to find out the proper legal verdict which is in harmony with what Allah has revealed.
قاضیوں کو کوشش کر کے اللہ کی کتاب کے موافق حکم دینا چائیے کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ إِمْلَاصِ الْمَرْأَةِ هِيَ الَّتِي يُضْرَبُ بَطْنُهَا فَتُلْقِي جَنِينًا ؟ ، فَقَالَ : أَيُّكُمْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا ؟ ، فَقُلْتُ : أَنَا ، فَقَالَ : مَا هُوَ ؟ ، قُلْتُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ فِيهِ : غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، فَقَالَ : لَا تَبْرَحْ حَتَّى تَجِيئَنِي بِالْمَخْرَجِ فِيمَا قُلْتَ .
Narrated Al-Mughira bin Shu`ba: `Umar bin Al-Khattab asked (the people) about the Imlas of a woman, i.e., a woman who has an abortion because of having been beaten on her `Abdomen, saying, Who among you has heard anything about it from the Prophet? I said, I did.'' He said, What is that? I said, I heard the Prophet saying, Its Diya (blood money) is either a male or a female slave.' `Umar said, Do not leave till you present witness in support of your statement.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے متعلق ( صحابہ سے ) پوچھا۔ یہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے پیٹ پر مار دیا گیا ( جبکہ وہ حاملہ ہو ) ہو اور اس کا ناتمام ( ادھورا ) بچہ گر گیا ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے؟ میں نے کہا کہ میں نے سنی ہے۔ پوچھا کیا حدیث ہے؟ میں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسی صورت میں ایک غلام یا باندی تاوان کے طور پر ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اب چھوٹ نہیں سکتے یہاں تک کہ تم نے جو حدیث بیان کی ہے اس سلسلے میں نجات کا کوئی ذریعہ ( یعنی کوئی شہادت کہ واقعی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی تھی ) لاؤ۔
7317
Sahih
(13) CHAPTER. What has been said regarding exerting oneself to find out the proper legal verdict which is in harmony with what Allah has revealed.
قاضیوں کو کوشش کر کے اللہ کی کتاب کے موافق حکم دینا چائیے کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا
فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ ، فَجِئْتُ بِهِ ، فَشَهِدَ مَعِي ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِ : غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ، تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ .
So I went out, and found Muhammad bin Maslama. I brought him, and he bore witness with me that he had heard the Prophet saying, Its Diya (blood money) is either a male slave or a female slave.
پھر میں نکلا تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور میں انہیں لایا اور انہوں نے میرے ساتھ گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اس میں ایک غلام یا باندی کی تاوان ہے۔ ہشام بن عروہ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ابی الزناد نے بھی اپنے باپ سے، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا۔
7318
Sahih
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.), “Certainly you (Muslims!) will follow the ways of those who were before you (i.e., Jews and Christians).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اے مسلمانو ! تم اگلے لوگوں کی چال پر چلو گے
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِأَخْذِ الْقُرُونِ قَبْلَهَا شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَفَارِسَ ، وَالرُّومِ ، فَقَالَ : وَمَنِ النَّاسُ إِلَّا أُولَئِكَ .
Narrated Abu Huraira: The Prophet said, The Hour will not be established till my followers copy the deeds of the previous nations and follow them very closely, span by span, and cubit by cubit (i.e., inch by inch). It was said, O Allah's Apostle! Do you mean by those (nations) the Persians and the Byzantines? The Prophet said, Who can it be other than they?
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔“ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں، پارسی اور نصرانی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر اور کون۔“
7319
Sahih
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.), “Certainly you (Muslims!) will follow the ways of those who were before you (i.e., Jews and Christians).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اے مسلمانو ! تم اگلے لوگوں کی چال پر چلو گے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ مِنْ الْيَمَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، قَالَ : فَمَنْ .
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: The Prophet said, You will follow the ways of those nations who were before you, span by span and cubit by cubit (i.e., inch by inch) so much so that even if they entered a hole of a mastigure, you would follow them. We said, O Allah's Apostle! (Do you mean) the Jews and the Christians? He said, Whom else?
ہم سے محمد بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے یمن کے ابوعمر صنعانی بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے۔“ ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں؟ فرمایا پھر اور کون۔
7320
Sahih
(15) CHAPTER. The sin of the person who invites others to an evil deed or establishes a bad tradition.
اس کا گناہ جو کسی گمراہی کی طرف بلائے یا کوئی بری رسم قائم کرے
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا ، وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ : مِنْ دَمِهَا لِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلًا .
Narrated `Abdullah: The Prophet said, None is killed unjustly, but the first son of Adam will have a part of its burden. Sufyan said, ..a part of its blood because he was the first to establish the tradition of murdering
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے عبداللہ بن مروہ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل ) پر بھی پڑے گا۔“ بعض اوقات سفیان نے اس طرح بیان کیا کہ ”اس کے خون کا“ کیونکہ اسی نے سب سے پہلے ناحق خون کی بری رسم قائم کی۔
7321
Sahih
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ ، فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي ، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَهُ ، فَقَالَ : أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ، ثُمَّ جَاءَهُ ، فَقَالَ : أَقِلْنِي بَيْعَتِي فَأَبَى ، فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا وَيَنْصَعُ طِيبُهَا .
Narrated Jabir bin 'Abdullah As-Salami: A bedouin gave the Pledge of allegiance for embracing Islam to Allah's Apostle, and then he got an attack of fever in Medina and came to Allah's Apostle: and said, O Allah's Apostle! Cancel my pledge. Allah's Apostle refused to do so. The bedouin came to him again and said, Cancel my pledge, but he refused again, and then again, the bedouin came to him and said, Cancel my pledge, and Allah's Apostle refused. The bedouin finally went away, and Allah's Apostle said, Medina is like a pair of bellows (furnace), it expels its impurities while it brightens and clears its good.'
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن منکدر سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ ایک گنوار ( قیس بن ابی حازم یا قیس بن حازم یا اور کوئی ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر مدینہ میں اس کو تپ آنے لگی۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت توڑ دیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ وہ پھر آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میری بیعت فسخ کر دیجئیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انکار کیا۔ اس کے بعد وہ مدینہ سے نکل کر اپنے جنگل کو چلا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی طرح ہے جو اپنی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور کھرے پاکیزہ مال کو رکھ لیتی ہے۔
7322
Sahih
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كُنْتُ أُقْرِئُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ ، فَلَمَّا كَانَ آخِرُ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ : بِمِنًى لَوْ شَهِدْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَاهُ رَجُلٌ ، قَالَ : إِنَّ فُلَانًا ، يَقُولُ : لَوْ مَاتَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ لَبَايَعْنَا فُلَانًا ، فَقَالَ عُمَرُ : لَأَقُومَنَّ الْعَشِيَّةَ ، فَأُحَذِّرَ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ ، قُلْتُ : لَا تَفْعَلْ فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ يَغْلِبُونَ عَلَى مَجْلِسِكَ فَأَخَافُ أَنْ لَا يُنْزِلُوهَا عَلَى وَجْهِهَا ، فَيُطِيرُ بِهَا كُلُّ مُطِيرٍ ، فَأَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ دَارَ الْهِجْرَةِ وَدَارَ السُّنَّةِ ، فَتَخْلُصَ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ ، وَالْأَنْصَارِ فَيَحْفَظُوا مَقَالَتَكَ وَيُنْزِلُوهَا عَلَى وَجْهِهَا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَأَقُومَنَّ بِهِ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أُنْزِلَ آيَةُ الرَّجْمِ .
Narrated Ibn 'Abbas: I used to teach Qur'an to 'Abdur-Rahman bin Auf. When Umar performed his last Hajj, 'Abdur-Rahman said (to me) at Mina, Would that you had seen Chief of the believers today! A man came to him and said, So-and-so has said, If Chief of the Believers died, we will give the oath of allegiance to such-and-such person,' 'Umar said, 'I will get up tonight and warn those who want to usurp the people's rights.' I said, 'Do not do so, for the season (of Hajj) gathers the riffraff mob who will form the majority of your audience, and I am afraid that they will not understand (the meaning of) your saying properly and may spread (an incorrect statement) everywhere. You should wait till we reach Medina, the place of migration and the place of the Sunna (the Prophet's Traditions). There you will meet the companions of Allah's Apostle from the Muhajirin and the Ansar who will understand your statement and place it in its proper position' 'Umar said, 'By Allah, I shall do so the first time I stand (to address the people) in Medina.' When we reached Medina, 'Umar (in a Friday Khutba-sermon) said, No doubt, Allah sent Muhammad with the Truth and revealed to him the Book (Quran), and among what was revealed, was the Verse of Ar-Rajm (stoning adulterers to death).' (See Hadith No. 817,Vol. 8)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر بن راشد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ( قرآن مجید ) پڑھایا کرتا تھا۔ جب وہ آخری حج آیا جو عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو عبدالرحمٰن نے منیٰ میں مجھ سے کہا کاش تم امیرالمؤمنین کو آج دیکھتے جب ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اگر امیرالمؤمنین کا انتقال ہو جائے تو ہم فلاں سے بیعت کر لیں گے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آج سہ پہر کو کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سناؤں گا اور ان کو ڈراؤں کا جو ( عام مسلمانوں کے حق کو ) غصب کرنا چاہتے ہیں اور خود اپنی رائے سے امیر منتخب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ موسم حج میں ہر طرح کے ناواقف اور معمولی لوگ جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کثرت سے آپ کی مجلس میں جمع ہو جائیں گے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کی بات کا صحیح مطلب نہ سمجھ کر کچھ اور معنیٰ نہ کر لیں اور اسے منہ در منہ اڑاتے پھریں۔ اس لیے ابھی توقف کیجئے۔ جب آپ مدینے پہنچیں جو دار الہجرت اور دار السنہ ہے تو وہاں آپ کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ، مہاجرین و انصار خالص ایسے ہی لوگ ملیں گے وہ آپ کی بات کو یاد رکھیں گے اور اس کا مطلب بھی ٹھیک بیان کریں گے۔ اس پر امیرالمؤمنین نے کہا کہ واللہ! میں مدینہ پہنچ کر جو پہلا خطبہ دوں گا اس میں اس کا بیان کروں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم مدینے آئے تو عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دوپہر ڈھلے برآمد ہوئے اور خطبہ سنایا۔ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر قرآن اتارا، اس قرآن میں رجم کی آیت بھی تھی۔
7323
Sahih
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَشَّقَانِ مِنْ كَتَّانٍ ، فَتَمَخَّطَ ، فَقَالَ : بَخْ بَخْ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتَمَخَّطُ فِي الْكَتَّانِ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَأَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ مَغْشِيًّا عَلَيَّ ، فَيَجِيءُ الْجَائِي فَيَضَعْ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِي وَيُرَى أَنِّي مَجْنُونٌ ، وَمَا بِي مِنْ جُنُونٍ مَا بِي ، إِلَّا الْجُوعُ .
Narrated Muhammad: We were with Abu Huraira while he was wearing two linen garments dyed with red clay. He cleaned his nose with his garment, saying, Bravo! Bravo! Abu Huraira is cleaning his nose with linen! There came a time when I would fall senseless between the pulpit of Allah's Apostle and `Aisha's dwelling whereupon a passerby would come and put his foot on my neck, considering me a mad man, but in fact, I had no madness, I suffered nothing but hunger.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے اور ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے گیرو میں رنگے ہوئے تھے۔ انہوں نے ان ہی کپڑوں میں ناک صاف کی اور کہا واہ واہ دیکھو ابوہریرہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کرتا ہے، اب ایسا مالدار ہو گیا حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ایک زمانہ میں ایسا پایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گڑ پڑتا تھا اور گزرنے والا میری گردن پر یہ سمجھ کر پاؤں رکھتا تھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں، حالانکہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا، بلکہ صرف بھوک کی وجہ سے میری یہ حالت ہو جاتی تھی۔
7324
Sahih
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : نَعَمْ ، وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ ، فَأَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً ، ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ ، فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ فَأَمَرَ بِلَالًا : فَأَتَاهُنَّ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
Narrated `Abdur-Rahman bin `Abis: Ibn `Abbas was asked, Did you offer the Id prayer with the Prophet? He said, Yes, had it not been for my close relation to the Prophet, I would not have performed it (with him) because of my being too young The Prophet came to the mark which is near the home of Kathir bin As-Salt and offered the Id prayer and then delivered the sermon. I do not remember if any Adhan or Iqama were pronounced for the prayer. Then the Prophet ordered (the women) to give alms, and they started stretching out their hands towards their ears and throats (giving their ornaments in charity), and the Prophet ordered Bilal to go to them (to collect the alms), and then Bilal returned to the Prophet.
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں گئے ہیں؟ کہا کہ ہاں میں اس وقت کم سن تھا۔ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھ کو اتنا نزدیک کا رشتہ نہ ہوتا اور کم سن نہ ہوتا تو آپ کے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے اور وہاں آپ نے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ انہوں نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا، پھر آپ نے صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں زیوروں کا صدقہ دینے کے لیے، اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا، وہ آئے اور صدقہ میں ملی ہوئی چیزوں کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے۔
7325
Sahih
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِي قُبَاءً مَاشِيًا وَرَاكِبًا .
Narrated Ibn `Umar: The Prophet used to go to the Quba' mosque, sometimes walking, sometimes riding.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء میں تشریف لاتے تھے، کبھی پیدل اور کبھی سواری پر۔
7326
Sahih
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ : ادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي وَلَا تَدْفِنِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُزَكَّى .
Narrated Hisham's father: `Aisha said to `Abdullah bin Az-Zubair, Bury me with my female companions (i.e. the wives of the Prophet) and do not bury me with the Prophet in the house, for I do not like to be regarded as sanctified (just for being buried there).''
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا تھا کہ مجھے انتقال کے بعد میری سوکنوں کے ساتھ دفن کرنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجرہ میں دفن مت کرنا کیونکہ میں پسند نہیں کرتی کہ میری آپ کی اور بیویوں سے زیادہ پاکی بیان کی جائے۔
7327
Sahih

Chapters

28
01
(CHAPTER.)
کتاباللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مضبوطی سے تھامے رہنا
5 Hadith
02
(1) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.) “I have been sent with Jawami Kalim (the shortest expression carrying the widest meaning).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد کہ جوامع الکلم کے ساتھ بھیجا گیا ہوں
2 Hadith
03
(2) CHAPTER. Following the Sunna (legal ways) of the Prophet (p.b.u.h.) .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی پیروی کرنا
14 Hadith
04
(3) CHAPTER. What is disliked of asking too many questions and of troubling oneself with what does not concern one.
بےفائدہ بہت سوالات کرنا منع ہے
9 Hadith
05
(4) CHAPTER. To follow the actions of the Prophet (p.b.u.h.) .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کاموں کی پیروی کرنا
1 Hadith
06
(5) CHAPTER. What is disliked of going deeply into and arguing about (religious) knowledge, and exaggerating in matter of religion, and of inventing heresies.
کسی امر میں تشدد اور سختی کرنا
3 Hadith
07
(5) CHAPTER. What is disliked of going deeply into and arguing about (religious) knowledge, and exaggerating in matter of religion, and of inventing heresies.
جو شخص بدعتی کو ٹھکانا دے ‘ اس کو اپنے پاس ٹھہرائے
5 Hadith
08
(7) CHAPTER. What is said against judging (in religion) made on the basis of one's own opinion or by Qiyas (without referring to the Quran or Sunna).
دین کے مسائل میں رائے پر عمل کرنے کی مذمت ‘ اسی طرح بے ضرورت قیاس کرنے کی برائی
2 Hadith
09
(8) CHAPTER. Whenever the Prophet (p.b.u.h.) was asked about something regarding which no Verse was revealed, he would either say, I do not know, or give no reply, but he never gave a verdict based on opinion or on Qiyas.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسئلہ رائے یا قیاس سے نہیں بتلا یا ۔
1 Hadith
10
(9) CHAPTER. The way the Prophet (p.b.u.h.) taught his followers, whether men or women, of what Allah taught him.He did not impart his own opinions, nor did he give a verdict based on Qiyas.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی امت کے مردوں وعورتوں کو وہی باتیں سکھا نا جو اللہ نے آپ کو سکھائی تھیں باقی رائے اور تمثیل آپ نے نہیں سکھائی ۔
1 Hadith
11
(10) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.), “A group of my followers will remain victorious in their struggle in the cause of the Truth.” Those are the religious learned men (i.e., Mujtahidun).
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ” میری امت کی ایک جماعت حق پر غالب رہے گی اور جنگ کرتی رہے گی “
2 Hadith
12
(11) CHAPTER. The Statement of Allah: “... or to cover you with confusion in party strife...” (V.6:65)
اللہ تعالیٰ کا سورۃ الانعام میں یوں فرمانا کہ یا وہ تمہارے کئی فرقے کر دے ۔
1 Hadith
13
(12) CHAPTER. Whoever compares an ambiguous situation to a clear well-defined one, both of which have already been explained by the Prophet (p.b.u.h.) to make the questioner understand.
ایک امر معلوم کو دوسرے امر واضح سے تشبیہ دینا جس کا حکم اللہ نے بیان کر دیا ہے تاکہ پوچھنے والا سمجھ جائے
2 Hadith
14
(13) CHAPTER. What has been said regarding exerting oneself to find out the proper legal verdict which is in harmony with what Allah has revealed.
قاضیوں کو کوشش کر کے اللہ کی کتاب کے موافق حکم دینا چائیے کیونکہ اللہ پاک نے فرمایا
3 Hadith
15
(14) CHAPTER. The statement of the Prophet (p.b.u.h.), “Certainly you (Muslims!) will follow the ways of those who were before you (i.e., Jews and Christians).”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ اے مسلمانو ! تم اگلے لوگوں کی چال پر چلو گے
2 Hadith
16
(15) CHAPTER. The sin of the person who invites others to an evil deed or establishes a bad tradition.
اس کا گناہ جو کسی گمراہی کی طرف بلائے یا کوئی بری رسم قائم کرے
1 Hadith
17
(16) CHAPTER. The Prophet (p.b.u.h.) mentioned and recommended that the religious learned men should not differ. What common opinions the people of the two Haram (sanctuaries) of Makkah and Al-Madina had.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عالموں کے اتفاق کرنے کا جو ذکر فرمایا ہے اس کی ترغیب دی ہے اور مکہ اور مدینہ کے عالموں کے اجماع کا بیان
24 Hadith
18
(17) CHAPTER. The Statement of Allah: “Not for you (O Muhammad (p.b.u.h.), but for Allah) is the decision…” (V.3:128)
اللہ تعالیٰ کا فرمان سورۃ آلعمران میں کہ اے پیغمبر ! تجھ کو اس کام میں کوئی دخل نہیں آخر آیت تک ۔
2 Hadith
19
(18) CHAPTER. The Statementof Allah: “...But, man is ever more quarrelsome than anything.” (V.18:54).
اللہ تعالیٰ کا ارشاد سورۃ الکہف میں ” اور انسان سب سے زیادہ جھگڑالو ہے “
1 Hadith
20
(19) CHAPTER. The Statement of Allah: “Thus We have made you [true Muslims, --- real believers of Islamic Monotheism, true followers of Prophet Muhammad (p.b.u.h.) and his Sunna (legal ways)], a just (and the best) nation…” (V.2:143)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ” اور ہم نے اسی طرح تمہیں امت وسط بنا دیا ہے ۔
1 Hadith
21
(20) CHAPTER. If a governor or a ruler gives a verdict based on his opinion and the verdict proves to be wrong and disagrees with the verdict of Allah's Messenger (p.b.u.h.), but he is unaware of that; then his verdict will be rejected.
حاکم کا ثواب ‘ جب کہ وہ اجتہاد کرے اور صحت پر ہو یا غلطی کر جائے ۔
3 Hadith
22
(22) CHAPTER. The refutation of the claim of those who say, All the legal decisions and verdicts given by the Prophet (p.b.u.h.) were apparent (i.e., known to all people).
اس شخص کا رد جو یہ سمجھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام ہر ایک صحابی کو معلوم رہتے تھے
2 Hadith
23
(23) CHAPTER. Whoever thinks that if the Prophet (p.b.u.h.) did not disapprove of something (said or done in his presence), his silence indicated that it was permissible, but if another person faced a similar situation, his silence should not be taken as a sign of his agreement.
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات کہی جائے اور آپ اس پر انکار نہ کریں جسے تقریر کہتے ہیں تو یہ حجت ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کی تقریر پر حجت نہیں ۔
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. The laws that are inferred from certain evidences and what the meaning of an evidence is, and how it is explained.
دلائل شرعیہ سے احکام کا نکالا جانا اور دلالت کے معنی اور اس کی تفسیر کیا ہو گی ؟
5 Hadith
25
(25) CHAPTER. The statement of Prophet (p.b.u.h.): “Do not ask the people of the Scripture (Jews and Chrisrians) about anything.”
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ” اہلکتاب سے دین کی کوئی بات نہ پوچھو “
3 Hadith
26
(26) CHAPTER. It is disliked to differ.
احکام شرع میں جھگڑا کرنے کی کراہت کا بیان
3 Hadith
27
(27) CHAPTER. Something forbidden, by the Prophet (p.b.u.h.) is legally prohibited unless there is a proof that (later on) it was (made) legal. Similarly, his orders render things obigatory, as he said (to his Companions) when they finished their Ihram, Sleep with your wives.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز سے لوگوں کو منع کریں تو وہ حرام ہو گا مگر یہ کہ اس کی اباحت دلائل سے معلوم ہو جائے ۔
2 Hadith
28
(28) CHAPTER. The Statement of Allah: “... And who (conduct) their affair by mutual consultation...” (V.42:38) … And consult them in the affair… (V.3:159)
اللہ تعالیٰ کا ( سورۃ شوریٰ میں ) فرمانا مسلمانوں کا کام آپس کے صلاح اور مشورے سے چلتا ہے
2 Hadith
No chapter matched that.