TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of the times of as-salat (the prayers) and its superiority. - کتاب اوقات نماز کے بیان میں - Book 9 of Sahih Bukhari with Urdu and English Translation

Book 9 of Sahih Bukhari, with 41 chapters and 82 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

82 Hadith · 41 Chapters
(11) CHAPTER. The time of Zuhr prayer is when the sun declines (just after mid-day).
اس بیان میں کہ ظہر کا وقت سورج ڈھلنے پر ہے
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِى الْمِنْهَالِ ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ ، وَأَحَدُنَا يَعْرِفُ جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ فِيهَا مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ ، وَيُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ ، وَأَحَدُنَا يَذْهَبُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ يَرْجَعَ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ، وَلَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ، ثُمَّ قَالَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ ، وَقَالَ مُعَاذٌ : قَالَ شُعْبَةُ : لَقِيتُهُ مَرَّةً ، فَقَالَ : أَوْ ثُلُثِ اللَّيْلِ .
Narrated Abu Al-Minhal: Abu Barza said, The Prophet used to offer the Fajr (prayer) when one could recognize the person sitting by him (after the prayer) and he used to recite between 60 to 100 Ayat (verses) of the Qur'an. He used to offer the Zuhr prayer as soon as the sun declined (at noon) and the `Asr at a time when a man might go and return from the farthest place in Medina and find the sun still hot. (The sub-narrator forgot what was said about the Maghrib). He did not mind delaying the `Isha prayer to one third of the night or the middle of the night.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ابوالمنہال کی روایت سے، انہوں نے ابوبرزہ (فضلہ بن عبید رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب ہم اپنے پاس بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان لیتے تھے۔ صبح کی نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھتے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا۔ اور عصر کی نماز اس وقت کہ ہم مدینہ منورہ کی آخری حد تک ( نماز پڑھنے کے بعد ) جاتے لیکن سورج اب بھی تیز رہتا تھا۔ نماز مغرب کا انس رضی اللہ عنہ نے جو وقت بتایا تھا وہ مجھے یاد نہیں رہا۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز کو تہائی رات تک دیر کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، پھر ابوالمنہال نے کہا کہ آدھی رات تک ( مؤخر کرنے میں ) کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ اور معاذ نے کہا کہ شعبہ نے فرمایا کہ پھر میں دوبارہ ابوالمنہال سے ملا تو انہوں نے فرمایا ”یا تہائی رات تک“۔
541
Sahih
(11) CHAPTER. The time of Zuhr prayer is when the sun declines (just after mid-day).
اس بیان میں کہ ظہر کا وقت سورج ڈھلنے پر ہے
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مُقَاتِلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي غَالِبٌ الْقَطَّانُ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظَّهَائِرِ فَسَجَدْنَا عَلَى ثِيَابِنَا اتِّقَاءَ الْحَرِّ .
Narrated Anas bin Malik: When we offered the Zuhr prayers behind Allah's Apostle we used to prostrate on our clothes to protect ourselves from the heat.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے غالب قطان نے بکر بن عبداللہ مزنی کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے آپ نے فرمایا کہ جب ہم ( گرمیوں میں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ظہر کی نماز دوپہر دن میں پڑھتے تھے تو گرمی سے بچنے کے لیے کپڑوں پر سجدہ کیا کرتے۔
542
Sahih
(12) CHAPTER. To delay the Zuhr (prayer) up to the Asr (prayer) time.
اس بارے میں کہ کبھی ظہر کی نماز عصر کے وقت تک تاخیر کر کے پڑھی جا سکتی ہے
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ ، فَقَالَ أَيُّوبُ : لَعَلَّهُ فِي لَيْلَةٍ مَطِيرَةٍ ، قَالَ : عَسَى .
Narrated Ibn `Abbas: The Prophet prayed eight rak`at for the Zuhr and `Asr, and seven for the Maghrib and `Isha prayers in Medina. Aiyub said, Perhaps those were rainy nights. Anas said, May be.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا عمرو بن دینار سے۔ انہوں نے جابر بن زید سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں رہ کر سات رکعات ( ایک ساتھ ) اور آٹھ رکعات ( ایک ساتھ ) پڑھیں۔ ظہر اور عصر ( کی آٹھ رکعات ) اور مغرب اور عشاء ( کی سات رکعات ) ایوب سختیانی نے جابر بن زید سے پوچھا شاید برسات کا موسم رہا ہو۔ جابر بن زید نے جواب دیا کہ غالباً ایسا ہی ہو گا۔
543
Sahih
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا ، وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ : عَنْ هِشَامٍ مِنْ قَعْرِ حُجْرَتِهَا .
Narrated Aisha: Allah's Apostle used to offer the `Asr prayer when the sunshine had not disappeared from my chamber.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن عیاض لیثی نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے اپنے والد سے کہ مائی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت پڑھتے تھے کہ ان کے حجرہ میں سے ابھی دھوپ باہر نہیں نکلتی تھی۔
544
Sahih
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا .
Narrated `Aisha: Allah's Apostle used to offer the `Asr prayers at a time when the sunshine was still inside my chamber and no shadow had yet appeared in it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے ابن شہاب سے بیان کیا، انہوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی تو دھوپ ان کے حجرہ ہی میں تھی۔ سایہ وہاں نہیں پھیلا تھا۔
545
Sahih
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ بَعْدُ ، وَقَالَ مَالِكٌ : وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَشُعَيْبٌ ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَالشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ .
Narrated Aisha: The Prophet used to pray the `Asr prayers at a time when the sunshine was still inside my chamber and no shadow had yet appeared in it.
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابن شہاب زہری سے بیان کیا، انہوں نے عروہ سے، انہوں نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج ابھی میرے حجرے میں جھانکتا رہتا تھا۔ ابھی سایہ نہ پھیلا ہوتا تھا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) کہتے ہیں کہ امام مالک اور یحییٰ بن سعید، شعیب رحمہم اللہ اور ابن ابی حفصہ کے روایتوں میں ( زہری سے ) «والشمس قبل أن تظهر‏» کے الفاظ ہیں، ( جن کا مطلب یہ ہے کہ دھوپ ابھی اوپر نہ چڑھی ہوتی ) ۔
546
Sahih
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ سَلَامَةَ ، قَالَ : دَخَلْتُ أنَا وَأَبِي عَلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ؟ فَقَالَ : كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ وَيَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ .
Narrated Saiyar bin Salama: I along with my father went to Abu- Barza Al-Aslami and my father asked him, How Allah's Apostle used to offer the five compulsory congregational prayers? Abu- Barza said, The Prophet used to pray the Zuhr prayer which you (people) call the first one at midday when the sun had just declined The `Asr prayer at a time when after the prayer, a man could go to the house at the farthest place in Medina (and arrive) while the sun was still hot. (I forgot about the Maghrib prayer). The Prophet Loved to delay the `Isha which you call Al- `Atama [??] and he disliked sleeping before it and speaking after it. After the Fajr prayer he used to leave when a man could recognize the one sitting beside him and he used to recite between 60 to 100 Ayat (in the Fajr prayer) .
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عوف نے خبر دی سیار بن سلامہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرے باپ ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان سے میرے والد نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کن وقتوں میں پڑھتے تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ دوپہر کی نماز جسے تم ”پہلی نماز“ کہتے ہو سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے۔ اور جب عصر پڑھتے اس کے بعد کوئی شخص مدینہ کے انتہائی کنارہ پر اپنے گھر واپس جاتا تو سورج اب بھی تیز ہوتا تھا۔ سیار نے کہا کہ مغرب کے وقت کے متعلق آپ نے جو کچھ کہا تھا وہ مجھے یاد نہیں رہا۔ اور عشاء کی نماز جسے تم «عتمه» کہتے ہو اس میں دیر کو پسند فرماتے تھے اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند فرماتے اور صبح کی نماز سے اس وقت فارغ ہو جاتے جب آدمی اپنے قریب بیٹھے ہوئے دوسرے شخص کو پہچان سکتا اور صبح کی نماز میں آپ ساٹھ سے سو تک آیتیں پڑھا کرتے تھے۔
547
Sahih
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَنَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ .
Narrated Anas bin Malik: We used to pray the `Asr prayer and after that if someone happened to go to the tribe of Bani `Amr bin `Auf, he would find them still praying the `Asr (prayer).
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، وہ امام مالک رحمہ اللہ علیہ سے، انہوں نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے روایت کیا، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا، انہوں نے فرمایا کہ ہم عصر کی نماز پڑھ چکتے اور اس کے بعد کوئی بنی عمرو بن عوف ( قباء ) کی مسجد میں جاتا تو ان کو وہاں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔
548
Sahih
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، يَقُولُ : صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ ، فَقُلْتُ : يَا عَمِّ ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : الْعَصْرُ ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ .
Narrated Abu Bakr bin `Uthman bin Sahl bin Hunaif: that he heard Abu Umama saying: We prayed the Zuhr prayer with `Umar bin `Abdul `Aziz and then went to Anas bin Malik and found him offering the `Asr prayer. I asked him, O uncle! Which prayer have you offered? He said 'The `Asr and this is (the time of) the prayer of Allah s Apostle which we used to pray with him.
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف نے خبر دی، انہوں نے کہا میں نے ابوامامہ (سعد بن سہل) سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر ہم نکل کر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا آپ نماز پڑھ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ اے مکرم چچا! یہ کون سی نماز آپ نے پڑھی ہے۔ فرمایا کہ عصر کی اور اسی وقت ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی یہ نماز پڑھتے تھے۔
549
Sahih
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي ، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ، وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنْ الْمَدِينَةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ نَحْوِهِ .
Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle used to offer the `Asr prayer at a time when the sun was still hot and high and if a person went to Al-`Awali (a place) of Medina, he would reach there when the sun was still high. Some of Al-`Awali of Medina were about four miles or so from the town.
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا کہ کہا ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو سورج بلند اور تیز روشن ہوتا تھا۔ پھر ایک شخص مدینہ کے بالائی علاقہ کی طرف جاتا وہاں پہنچنے کے بعد بھی سورج بلند رہتا تھا ( زہری نے کہا کہ ) مدینہ کے بالائی علاقہ کے بعض مقامات تقریباً چار میل پر یا کچھ ایسے ہی واقع ہیں۔
550
Sahih
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ مِنَّا إِلَى قُبَاءٍ فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ .
Narrated Anas bin Malik: We used to pray the `Asr and after that if one of US went to Quba' he would arrive there while the sun was still high.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے ابن شہاب زہری کے واسطہ سے خبر دی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ آپ نے فرمایا ہم عصر کی نماز پڑھتے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) اس کے بعد کوئی شخص قباء جاتا اور جب وہاں پہنچ جاتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔
551
Sahih
(14) CHAPTER. The sin of one who misses the Asr prayer (intentionally).
اس بیان میں کہ نماز عصر چھوٹ جانے پر کتنا گناہ ہے ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : يَتِرَكُمْ وَتَرْتُ الرَّجُلَ إِذَا قَتَلْتَ لَهُ قَتِيلًا أَوْ أَخَذْتَ لَهُ مَالًا .
Narrated Ibn `Umar: Allah's Apostle said, Whoever misses the `Asr prayer (intentionally) then it is as if he lost his family and property.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہمیں امام مالک نے نافع کے ذریعہ سے خبر پہنچائی، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس کی نماز عصر چھوٹ گئی گویا اس کا گھر اور مال سب لٹ گیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ سورۃ محمد میں جو «يترکم» کا لفظ آیا ہے وہ «وتر» سے نکالا گیا ہے۔ «وتر» کہتے ہیں کسی شخص کا کوئی آدمی مار ڈالنا یا اس کا مال چھین لینا۔
552
Sahih
(15) CHAPTER. One who omits (does not offer) the Asr prayer (intentionally).
اس بیان میں کہ نماز عصر چھوڑ دینے پر کتنا گناہ ہے ؟
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ قَالَ : كُنَّا مَعَ بُرَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ ، فَقَالَ : بَكِّرُوا بِصَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ .
Narrated Abu Al-Mahh [??]: We were with Buraida in a battle on a cloudy day and he said, Offer the `Asr prayer early as the Prophet said, Whoever leaves the `Asr prayer, all his (good) deeds will be annulled.
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، کہا ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے خبر دی۔ انہوں نے ابوالملیح سے، کہا ہم بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر جنگ میں تھے۔ ابر و بارش کا دن تھا۔ آپ نے فرمایا کہ عصر کی نماز جلدی پڑھ لو۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عصر کی نماز چھوڑ دی، اس کا نیک عمل ضائع ہو گیا۔
553
Sahih
(16) CHAPTER. Superiority of the Asr prayer.
نماز عصر کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرِ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةً يَعْنِي الْبَدْرَ ، فَقَالَ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ ، لَا تُضَامُّونَ فِي رُؤْيَتِهِ فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا ، ثُمَّ قَرَأَ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوبِ سورة ق آية 39 ، قَالَ إِسْمَاعِيلُ : افْعَلُوا لَا تَفُوتَنَّكُمْ .
Narrated Qais: Jarir said, We were with the Prophet and he looked at the moon--full-moon--and said, 'Certainly you will see your Lord as you see this moon and you will have no trouble in seeing Him. So if you can avoid missing (through sleep or business, etc.) a prayer before the sunrise (Fajr) and a prayer before sunset (`Asr), you must do so.' He then recited Allah's Statement: And celebrate the praises Of your Lord before the rising of the sun and before (its) setting. (50.39) Isma`il said, Offer those prayers and do not miss them.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے۔ انہوں نے جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاند پر ایک نظر ڈالی پھر فرمایا کہ تم اپنے رب کو ( آخرت میں ) اسی طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو اب دیکھ رہے ہو۔ اس کے دیکھنے میں تم کو کوئی زحمت بھی نہیں ہو گی، پس اگر تم ایسا کر سکتے ہو کہ سورج طلوع ہونے سے پہلے والی نماز ( فجر ) اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز ( عصر ) سے تمہیں کوئی چیز روک نہ سکے تو ایسا ضرور کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ ”پس اپنے مالک کی حمد و تسبیح کر سورج طلوع ہونے اور غروب ہونے سے پہلے۔“ اسماعیل ( راوی حدیث ) نے کہا کہ ( عصر اور فجر کی نمازیں ) تم سے چھوٹنے نہ پائیں۔ ان کا ہمیشہ خاص طور پر دھیان رکھو۔
554
Sahih
(16) CHAPTER. Superiority of the Asr prayer.
نماز عصر کی فضیلت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ ، كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي ؟ فَيَقُولُونَ : تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, Angels come to you in succession by night and day and all of them get together at the time of the Fajr and `Asr prayers. Those who have passed the night with you (or stayed with you) ascend (to the Heaven) and Allah asks them, though He knows everything about you, well, In what state did you leave my slaves? The angels reply: When we left them they were praying and when we reached them, they were praying.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے ابوالزناد عبداللہ بن ذکوان سے، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات اور دن میں فرشتوں کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں۔ اور فجر اور عصر کی نمازوں میں ( ڈیوٹی پر آنے والوں اور رخصت پانے والوں کا ) اجتماع ہوتا ہے۔ پھر تمہارے پاس رہنے والے فرشتے جب اوپر چڑھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہت زیادہ اپنے بندوں کے متعلق جانتا ہے، کہ میرے بندوں کو تم نے کس حال میں چھوڑا۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم نے جب انہیں چھوڑا تو وہ ( فجر کی ) نماز پڑھ رہے تھے اور جب ان کے پاس گئے تب بھی وہ ( عصر کی ) نماز پڑھ رہے تھے۔
555
Sahih
(17) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہوگئی
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ ، وَإِذَا أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ .
Narrated Abu Huraira: Allah's Apostle said, If anyone of you can get one rak`a of the `Asr prayer before sunset, he should complete his prayer. If any of you can get one rak`a of the Fajr prayer before sunrise, he should complete his prayer.
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر عصر کی نماز کی ایک رکعت بھی کوئی شخص سورج غروب ہونے سے پہلے پا سکا تو پوری نماز پڑھے ( اس کی نماز ادا ہوئی نہ قضاء ) اسی طرح اگر سورج طلوع ہونے سے پہلے فجر کی نماز کی ایک رکعت بھی پا سکے تو پوری نماز پڑھے۔
556
Sahih
(17) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہوگئی
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَا سَلَفَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ ، أُوتِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، ثُمَّ أُوتِيَ أَهْلُ الْإِنْجِيلِ الْإِنْجِيلَ فَعَمِلُوا إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ عَجَزُوا فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، ثُمَّ أُوتِينَا الْقُرْآنَ فَعَمِلْنَا إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ فَأُعْطِينَا قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، فَقَالَ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ : أَيْ رَبَّنَا أَعْطَيْتَ هَؤُلَاءِ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ وَأَعْطَيْتَنَا قِيرَاطًا قِيرَاطًا وَنَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلًا ؟ قَالَ : قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ مِنْ شَيْءٍ ؟ قَالُوا : لَا ، قَالَ : فَهُوَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ .
Narrated Salim bin `Abdullah: My father said, I heard Allah's Apostle saying, 'The period of your stay as compared to the previous nations is like the period equal to the time between the `Asr prayer and sunset. The people of the Torah were given the Torah and they acted (upon it) till midday then they were exhausted and were given one Qirat (of gold) each. And then the people of the Gospel were given the Gospel and they acted (upon it) till the `Asr prayer then they were exhausted and were! given one Qirat each. And then we were given the Qur'an and we acted (upon it) till sunset and we were given two Qirats each. On that the people of both the scriptures said, 'O our Lord! You have given them two Qirats and given us one Qirat, though we have worked more than they.' Allah said, 'Have I usurped some of your right?' They said, 'No.' Allah said: That is my blessing I bestow upon whomsoever I wish.
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تم سے پہلے کی امتوں کے مقابلہ میں تمہاری زندگی صرف اتنی ہے جتنا عصر سے سورج ڈوبنے تک کا وقت ہوتا ہے۔ توراۃ والوں کو توراۃ دی گئی۔ تو انہوں نے اس پر ( صبح سے ) عمل کیا۔ آدھے دن تک پھر وہ عاجز آ گئے، کام پورا نہ کر سکے، ان لوگوں کو ان کے عمل کا بدلہ ایک ایک قیراط دیا گیا۔ پھر انجیل والوں کو انجیل دی گئی، انہوں نے ( آدھے دن سے ) عصر تک اس پر عمل کیا، اور وہ بھی عاجز آ گئے۔ ان کو بھی ایک ایک قیراط ان کے عمل کا بدلہ دیا گیا۔ پھر ( عصر کے وقت ) ہم کو قرآن ملا۔ ہم نے اس پر سورج کے غروب ہونے تک عمل کیا ( اور کام پورا کر دیا ) ہمیں دو دو قیراط ثواب ملا۔ اس پر ان دونوں کتاب والوں نے کہا۔ اے ہمارے پروردگار! انہیں تو آپ نے دو دو قیراط دئیے اور ہمیں صرف ایک ایک قیراط۔ حالانکہ عمل ہم نے ان سے زیادہ کیا۔ اللہ عزوجل نے فرمایا، تو کیا میں نے اجر دینے میں تم پر کچھ ظلم کیا۔ انہوں نے عرض کی کہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر یہ ( زیادہ اجر دینا ) میرا فضل ہے جسے میں چاہوں دے سکتا ہوں۔
557
Sahih
(17) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہوگئی
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ ، وَالْيَهود ، والنَّصَارَى كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلًا إِلَى اللَّيْلِ فَعَمِلُوا إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ ، فَقَالُوا : لَا حَاجَةَ لَنَا إِلَى أَجْرِكَ فَاسْتَأْجَرَ آخَرِينَ ، فَقَالَ : أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ ، قَالُوا : لَكَ مَا عَمِلْنَا ، فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا فَعَمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمْ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ وَاسْتَكْمَلُوا أَجْرَ الْفَرِيقَيْنِ .
Narrated Abu Musa: The Prophet said, The example of Muslims, Jews and Christians is like the example of a man who employed laborers to work for him from morning till night. They worked till midday and they said, 'We are not in need of your reward.' SO the man employed another batch and said to them, 'Complete the rest of the day and yours will be the wages I had fixed (for the first batch). They worked Up till the time of the `Asr prayer and said, 'Whatever we have done is for you.' He employed another batch. They worked for the rest of the day till sunset, and they received the wages of the two former batches.
ہم سے ابوکریب محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے برید بن عبداللہ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے ابوبردہ عامر بن عبداللہ سے، انہوں نے اپنے باپ ابوموسیٰ اشعری عبداللہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں اور یہود و نصاری کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے کہ جس نے کچھ لوگوں سے مزدوری پر رات تک کام کرنے کے لیے کہا۔ انہوں نے آدھے دن کام کیا۔ پھر جواب دے دیا کہ ہمیں تمہاری اجرت کی ضرورت نہیں، ( یہ یہود تھے ) پھر اس شخص نے دوسرے مزدور بلائے اور ان سے کہا کہ دن کا جو حصہ باقی بچ گیا ہے ( یعنی آدھا دن ) اسی کو پورا کر دو۔ شرط کے مطابق مزدوری تمہیں ملے گی۔ انہوں نے بھی کام شروع کیا لیکن عصر تک وہ بھی جواب دے بیٹھے۔ ( یہ نصاریٰ تھے ) پس اس تیسرے گروہ نے ( جو اہل اسلام ہیں ) پہلے دو گروہوں کے کام کی پوری مزدوری لے لی۔
558
Sahih
(18) CHAPTER. The time of the Maghrib prayer (evening prayer).
مغرب کی نماز کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النَّجَاشِيِّ صُهَيْبٌ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيج ، يَقُولُ : كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيُبْصِرُ مَوَاقِعَ نَبْلِهِ .
Narrated Rafi` bin Khadij: We used to offer the Maghrib prayer with the Prophet and after finishing the prayer one of us may go away and could still see as Par as the spots where one's arrow might reach when shot by a bow.
ہم سے محمد بن مہران نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلمہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن عمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوالنجاشی نے بیان کیا، ان کا نام عطاء بن صہیب تھا اور یہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے رافع بن خدیج سے سنا آپ نے فرمایا کہ ہم مغرب کی نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھ کر جب واپس ہوتے اور تیر اندازی کرتے ( تو اتنا اجالا باقی رہتا تھا کہ ) ایک شخص اپنے تیر گرنے کی جگہ کو دیکھتا تھا۔
559
Sahih
(18) CHAPTER. The time of the Maghrib prayer (evening prayer).
مغرب کی نماز کے وقت کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : قَدِمَ الْحَجَّاجُ فَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ نَقِيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ ، وَالْعِشَاءَ أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا إِذَا رَآهُمُ اجْتَمَعُوا عَجَّلَ ، وَإِذَا رَآهُمْ أَبْطَوْا أَخَّرَ ، وَالصُّبْحَ كَانُوا أَوْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهَا بِغَلَسٍ .
Narrated Jabir bin `Abdullah: The Prophet used to pray the Zuhr at midday, and the `Asr at a time when the sun was still bright, the Maghrib after sunset (at its stated time) and the `Isha at a variable time. Whenever he saw the people assembled (for `Isha' prayer) he would pray earlier and if the people delayed, he would delay the prayer. And they or the Prophet used to offer the Fajr Prayers when it still dark.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے محمد بن عمرو بن حسن بن علی سے، انہوں نے کہا کہ حجاج کا زمانہ آیا ( اور وہ نماز دیر کر کے پڑھایا کرتا تھا اس لیے ) ہم نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی نماز ٹھیک دوپہر میں پڑھایا کرتے تھے۔ ابھی سورج صاف اور روشن ہوتا تو نماز عصر پڑھاتے۔ نماز مغرب وقت آتے ہی پڑھاتے اور نماز عشاء کو کبھی جلدی پڑھاتے اور کبھی دیر سے۔ جب دیکھتے کہ لوگ جمع ہو گئے ہیں تو جلدی پڑھا دیتے اور اگر لوگ جلدی جمع نہ ہوتے تو نماز میں دیر کرتے۔ ( اور لوگوں کا انتظار کرتے ) اور صبح کی نماز صحابہ رضی اللہ عنہم یا ( یہ کہا کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندھیرے میں پڑھتے تھے۔
560
Sahih

Chapters

41
01
(1) CHAPTER. The times of As-Salat (the prayers) and the superiority of offering Salat (prayers) in time.
نماز کے اوقات اور ان کے فضائل اور اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وضاحت
2 Hadith
02
(2) CHAPTER. The Statement of Allah: (And remain always) turning in repentance to Him (only), and be afraid and dutiful to Him; and perform As-Salat (Iqamat-as-Salat) and be not of Al-Mushrikun (the disbelievers in the Oneness of Allah, polytheists.idolaters). (V.30:31)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” اللہ پاک کی طرف رجوع کرنے والے ( ہو جاؤ ) اور اس سے ڈرو اور نماز قائم کرو اور مشرکین میں سے نہ ہو جاؤ ۔ “ ( سورۃ الروم )
1 Hadith
03
(3) CHAPTER. To give the Baiah (pledge) for Iqamat-as-Salat [the offering of As-Salat (the prayers)].
نماز درست طریقے سے پڑھنے پر بیعت کرنا
1 Hadith
04
(4) CHAPTER. As-Salat (the prayer) is expiation (of sins).
اس بیان میں کہ گناہوں کے لیے نماز کفارہ ہے ( یعنی اس سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں )
2 Hadith
05
(5) CHAPTER. Superiority of offering As-Salat (the prayer) at the stated times.
نماز وقت پر پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں
1 Hadith
06
(6) CHAPTER. The five Salat (prayers) are expiations (of sins).
اس بیان میں کہ پانچوں وقت کی نمازیں گناہوں کا کفارہ ہو جاتی ہیں جب کوئی ان کو جماعت سے یا اکیلا ہی اپنے وقت پر پڑھے
1 Hadith
07
(7) CHAPTER. Not offering As-Salat (the prayer) at its stated fixed time.
اس بارے میں کہ بے وقت نماز پڑھنا ، نماز کو ضائع کرنا ہے
2 Hadith
08
(8) CHAPTER. A person in Salat (prayer) is speaking in private to his Lord (Allah).
اس بارے میں کہ نماز پڑھنے والا نماز میں اپنے رب سے پوشیدہ طور پر بات چیت کرتا ہے
2 Hadith
09
(9) CHAPTER. In severe heat, offer Zuhr prayers when it becomes (a bit) cooler.
اس بارے میں کہ سخت گرمی میں ظہر کو ذرا ٹھنڈے وقت پڑھنا
6 Hadith
10
(10) CHAPTER. When going on a journey, pray Zuhr prayer when it becomes cooler.
اس بارے میں کہ سفر میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا
1 Hadith
11
(11) CHAPTER. The time of Zuhr prayer is when the sun declines (just after mid-day).
اس بیان میں کہ ظہر کا وقت سورج ڈھلنے پر ہے
3 Hadith
12
(12) CHAPTER. To delay the Zuhr (prayer) up to the Asr (prayer) time.
اس بارے میں کہ کبھی ظہر کی نماز عصر کے وقت تک تاخیر کر کے پڑھی جا سکتی ہے
1 Hadith
13
(13) CHAPTER. The time of the Asr prayer.
نماز عصر کے وقت کا بیان
8 Hadith
14
(14) CHAPTER. The sin of one who misses the Asr prayer (intentionally).
اس بیان میں کہ نماز عصر چھوٹ جانے پر کتنا گناہ ہے ؟
1 Hadith
15
(15) CHAPTER. One who omits (does not offer) the Asr prayer (intentionally).
اس بیان میں کہ نماز عصر چھوڑ دینے پر کتنا گناہ ہے ؟
1 Hadith
16
(16) CHAPTER. Superiority of the Asr prayer.
نماز عصر کی فضیلت کے بیان میں
2 Hadith
17
(17) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) only one Raka of the Asr prayer before sunset.
جو شخص عصر کی ایک رکعت سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے پڑھ سکا تو اس کی نماز ادا ہوگئی
3 Hadith
18
(18) CHAPTER. The time of the Maghrib prayer (evening prayer).
مغرب کی نماز کے وقت کا بیان
4 Hadith
19
(19) CHAPTER. Whoever disliked to call the Maghrib prayer as the lsha prayer.
اس بارے میں جس نے مغرب کو عشاء کہنا مکروہ جانا
1 Hadith
20
(20) CHAPTER. The mention of lsha and Atama and whoever took the two names as one and the same.
عشاء اور عتمہ کا بیان اور جو یہ دونوں نام لینے میں کوئی ہرج نہیں خیال کرتے
1 Hadith
21
(21) CHAPTER. The time of the lsha prayer. If the people get together (pray earlier), and if they come late (delay it).
نماز عشاء کا وقت جب لوگ ( جلدی ) جمع ہو جائیں یا جمع ہونے میں دیر کر دیں
1 Hadith
22
(22) CHAPTER. Superiority of the lsha prayer.
نماز عشاء ( کے لیے انتظار کرنے ) کی فضیلت
2 Hadith
23
(23) CHAPTER. What is disliked about sleeping before the lsha prayer.
اس بیان میں کہ نماز عشاء پڑھنے سے پہلے سونا ناپسند ہے
1 Hadith
24
(24) CHAPTER. Sleeping before the Isha prayer if (one is) overwhelmed by it (sleep).
اگر نیند کا غلبہ ہو جائے تو عشاء سے پہلے بھی سونا درست ہے
3 Hadith
25
(25) CHAPTER. Time of the Isha prayer is up to the middle of the night.
اس بارے میں کہ عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک رہتا ہے
1 Hadith
26
(26) CHAPTER. Superiority of the Fajr (early morning) prayer.
نماز فجر کی فضیلت کے بیان میں
2 Hadith
27
(27) CHAPTER. Time of the Fajr (early morning) prayer.
نماز فجر کا وقت
4 Hadith
28
(28) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) one Raka of the Fajr prayer (in time) [One Raka means, one standing, one bowing, and two prostrations].
فجر کی ایک رکعت کا پانے والا
1 Hadith
29
(29) CHAPTER. Whoever got (or was able to offer) one Raka of a prayer (in time).
جو کوئی کسی نماز کی ایک رکعت پالے ، اس نے وہ نماز پالی
1 Hadith
30
(30) CHAPTER. What is said regarding the offering of As-Salat (the prayers) between the Fajr prayer and sunrise.
اس بیان میں کہ صبح کی نماز کے بعد سورج بلند ہونے تک نماز پڑھنے کے متعلق کیا حکم ہے ؟
4 Hadith
31
(31) CHAPTER. One should not try to offer As-Salat (the prayer) just before sunset.
اس بارے میں کہ سورج چھپنے سے پہلے قصد کر کے نماز نہ پڑھے
4 Hadith
32
(32) CHAPTER. Whoever did not dislike to offer optional prayers except after the compulsory prayers of Asr and Fajr only.
اس شخص کی دلیل جس نے فقط عصر اور فجر کے بعد نماز کو مکروہ رکھا ہے
1 Hadith
33
(33) CHAPTER. To offer the missed Salat (prayers) and the like after the Asr prayer.
عصر کے بعد قضاء نمازیں یا اس کے مانند مثلاً جنازہ کی نماز وغیرہ پڑھنا
4 Hadith
34
(34) CHAPTER. To offer (the Asr prayers) earlier on a cloudy day.
بادل والے دنوں میں نماز کے لیے جلدی کرنا ( یعنی سویرے پڑھنا )
1 Hadith
35
(35) CHAPTER. The Adhan for the Salat (prayer) after its stated time is over.
وقت نکل جانے کے بعد نماز پڑھتے وقت اذان دینا
1 Hadith
36
(36) CHAPTER. Whoever led the people in Salat (prayer) after its time was over.
اس کے بارے میں جس نے وقت نکل جانے کے بعد قضاء نماز لوگوں کے ساتھ جماعت سے پڑھی
1 Hadith
37
(37) CHAPTER. One who forgets a Salat (prayer) should offer it when he remembers it, and should not repeat anything except that particular prayer.
جو شخص کوئی نماز بھول جائے تو جب یاد آئے اس وقت پڑھ لے اور فقط وہی نماز پڑھے
1 Hadith
38
(38) CHAPTER. The Qada of prayers (Qada means to perform or offer or do a missed religious obligation after its stated time).
اگر کئی نمازیں قضاء ہو جائیں تو ان کو ترتیب کے ساتھ پڑھنا
1 Hadith
39
(39) CHAPTER. What is disliked about talking after the Isha prayer.
عشاء کی نماز کے بعد سمر یعنی دنیا کی باتیں کرنا مکروہ ہے
1 Hadith
40
(40) CHAPTER. Talking about the Islamic jurisprudence and good things after the Isha prayer.
اس بارے میں کہ مسئلے مسائل کی باتیں اور نیک باتیں عشاء کے بعد بھی کرنا درست ہے
2 Hadith
41
(41) CHAPTER. To talk with the family and the guests after the Isha prayer.
اپنی بیوی یا مہمان سے رات کو ( عشاء کے بعد ) گفتگو کرنا
1 Hadith
No chapter matched that.