It was narrated from Abu Hurairah:
that the Prophet used to say, when offering congratulations of the occasion of marriage: “Barak Allahu lakum, wa barak 'alaikum, wa jama'a bainakuma fi khair (May Allah bless you and bestow blessings upon you, and bring you together in harmony).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے: «بارك الله لكم وبارك عليكم وجمع بينكما في خير» اللہ تم کو برکت دے، اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے، اور تم دونوں میں خیر پر اتفاق رکھے۔
Takhreej
سنن ابی داود/النکاح ۳۷ (۲۱۳۰)، سنن الترمذی/النکاح ۷ (۱۰۹۱)،(تحفة الأشراف:۱۲۶۹۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/ ۳۸۱)، سنن الدارمی/النکاح ۶ (۲۲۱۹)
It was narrated from `Aqil bin Abu Talib:
that he married a woman from Banu Jusham, and they said: “May you live in harmony and have many sons.” He said: “Do not say that, rather say what the Messenger of Allah said: 'Allahumma barik lahum wa barik `alaihim (O Allah, bless them and bestow blessings upon them).' ”
عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے ( جاہلیت کے دستور کے مطابق ) یوں کہا:«بالرفاء والبنين» میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں تو آپ نے کہا: اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«اللهم بارك لهم وبارك عليهم» اے اللہ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۰۱۴)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/النکاح ۷۳ (۳۳۷۳)، مسند احمد (۱/۲۰۱،۳/ ۴۵۱)
It was narrated from Anas bin Malik:
the Prophet saw traces of yellow perfume on 'Abdur-Rahmaan bin 'Awf, and he asked him “What is this?” He said: “O Messenger of Allah, I married a women for the weight of a Nawah (Stone) of gold. He said: “May Allah bless you. Give a feast even if it is only with one sheep.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ( کے جسم ) پر پیلے رنگ کے اثرات دیکھے، تو پوچھا: یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے ایک عورت سے گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«بارك الله لك أولم ولو بشاة» اللہ تمہیں برکت دے ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۱؎۔
واضح رہے کہ یہ بات نبی اکرم ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی مالی حیثیت کو دیکھ کر کہی تھی کہ ولیمہ میں کم سے کم ایک بکری ضرور ہو اس سے اس بات پر استدلال صحیح نہیں کہ ولیمہ میں گوشت ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں ستو اور کھجور ہی پر اکتفا کیا تھا، ولیمہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو شوہر کی طرف سے شب زفاف کے بعد ہوتا ہے اور یہ کھانا مسنون ہے۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
“I never saw the Messenger of Allah give a wedding feast for any of his wives like the feast he gave for Zainab, for which he slaughtered a sheep.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن میں سے کسی کا اتنا بڑا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنا بڑا آپ نے اپنی بیوی زینب رضی اللہ عنہا کا کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ولیمہ میں ایک بکری ذبح کی۔
Takhreej
صحیح البخاری/النکاح ۶۸ (۵۱۶۸)، صحیح مسلم/النکاح ۱۳ (۱۴۲۸)، سنن ابی داود/الأطعمة ۲ (۳۷۴۳)،(تحفة الأشراف:۲۸۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۲۲۷)
It was narrated from Sufyan (Ibn 'Uyainah) from `Ali bin Zaid bin Ju`dan from Anas bin Malik who said:
“I attended a wedding feast for the Prophet in which there was no meat and no bread.” Ibn Majah said: It was not narrated except by Ibn `Uyainah.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ولیمہ میں شریک ہوا، اس میں نہ گوشت تھا نہ روٹی تھی۔ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث صرف سفیان بن عیینہ ہی نے علی بن زید بن جدعان سے روایت کی ہے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۰۵)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح ۶۱ (۵۱۵۹)، صحیح مسلم/النکاح ۱۴ (۱۳۶۵)، مسند احمد (۳/۹۹)
It was narrated that 'Aishah and Umm Salamah said:
“The Messenger of Allah commanded us to prepare Fatimah (for her wedding) and take her in to 'Ali. We went to the house and sprinkled it with soft earth from the land of Batha'. Then we stuffed two pillows with (date - palm) fiber which we picked with our own hands. Then we offered dates and raisins to eat, and sweet water to drink. We went and got some wood and set it up at the side of the room, to hang the clothes and water skins on. And we never saw any wedding better than the wedding of Fatimah.”
ام المؤمنین عائشہ اور ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیار کریں اور علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں، چنانچہ ہم گھر میں گئے، اور میدان بطحاء کے کناروں سے نرم مٹی لے کر اس گھر میں بطور فرش ہم نے بچھا دی، پھر دو تکیوں میں کھجور کی چھال بھری، اور ہم نے اسے اپنے ہاتھوں سے دھنا، پھر ہم نے لوگوں کو کھجور اور انگور کھلایا، اور میٹھا پانی پلایا، اور ہم نے ایک لکڑی گھر کے ایک گوشہ میں لگا دی تاکہ اس پر کپڑا ڈالا جا سکے، اور مشکیزے لٹکائے جا سکیں چنانچہ ہم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی سے بہتر کوئی شادی نہیں دیکھی۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۷۶۳۱،۱۸۲۱۲، ومصباح الزجاجة:۶۸۰)
It was narrated that Sahl bin Sa'd As-Sa'idi said:
“Abu Usaid As-Sa'idi invited the Messenger of Allah to his wedding, and the bride herself served them. She said: 'Do you know what I gave the Messenger of Allah to drink? I had soaked some dates the night before, then in the morning I strained them and gave him that water to drink.' ”
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں: جانتے ہو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا شربت پلایا۔
It was narrated that Abu Hurairah said:
“The worst of food is food of a wedding feast to which the rich are invited and the poor are not. Whoever does not accept an invitation has disobeyed Allah and His Messenger.' ”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے، اور جس نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/النکاح ۷۳ (۵۱۷۷،۵۱۷۸)موقوفًا، صحیح مسلم/النکاح ۱۶ (۱۴۳۲)مرفوعاً، سنن ابی داود/الأطعمة ۱ (۳۷۴۲)،(تحفة الأشراف:۱۳۹۵۵)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ۲۱ (۵۰)، مسند احمد (۲/۲۴۰)، سنن الدارمی/الأطعمة ۲۸ (۲۱۱۰)
Explanation
ولیمہ کا کھانا سنت ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ولیمہ کیا ہے، مگر اس ولیمہ کو برا کہا جس میں مالداروں کی ہی دعوت ہوتی ہے، اور محتاجوں کو کوئی نہیں پوچھتا، معلوم ہوا کہ عمدہ کھانا وہ ہے جس میں غریب و محتاج بھی شریک ہوں، سب سے عمدہ بات یہ ہے کہ محتاجوں اور فقیروں کو دعوت میں زیادہ بلایا جائے، اگر کچھ دوست و احباب اور متعارفین مالدار بھی ہوں تو مضائقہ نہیں، پھر جب یہ فقیر و محتاج آئیں تو ان کو بڑی خاطر داری کے ساتھ عمدہ عمدہ کھانے کھلائے اور اگر ممکن ہو تو خود بھی ان کے ساتھ شریک ہو کر کھائے۔
بعضوں نے کہا: اس حدیث کی رو سے ولیمہ کی دعوت قبول کرنا واجب ہے، اور بعضوں نے کہا فرض کفایہ ہے، اور بعضوں نے کہا مستحب ہے، یہ جب ہے کہ دعوت متعین طور پر ہو، اگر دعوت عام ہو تو قبول کرنا واجب نہ ہو گا اس لئے کہ اس کے نہ جانے سے میزبان کی دل شکنی نہ ہو گی، اور دعوت قبول کرنا عذر کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے، مثلاً دعوت کا کھانا مشتبہ ہو، یا وہاں صرف مالدار حاضر ہوتے ہوں، یا صاحب دعوت صحبت اور دوستی کے لائق نہ ہوں، یا دعوت سے مقصود حب جاہ اور کبر و غرور ہو، یا وہاں خلاف شرع کام ہوں جیسے فواحش کا ارتکاب، بے پردگی اور بے حیائی اور ناچ گانا وغیرہ منکر امور۔
It was narrated from Abu Hurairah:
that the Messenger of Allah said: 'The wedding feast on the first day is an obligation, on the second day is a custom and on the third day is showing off.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ پہلے دن حق ہے، دوسرے دن عرف اور دستور کے موافق، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت ہے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۴۳۳، ومصباح الزجاجة:۶۸۱)
It was narrated from Anas:
that the Messenger of Allah said: “Three days for a previously-married woman and seven days for a virgin.”
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر کنواری ( شوہر دیدہ ) کے لیے تین دن، اور کنواری کے لیے سات دن ہیں، ( پھر باری تقسیم کر دیں ) ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/النکاح ۱۰۰ (۵۲۱۴)، صحیح مسلم/الرضاع ۱۲ (۱۴۶۱)، سنن ابی داود/النکاح ۳۵ (۲۱۲۴)، سنن الترمذی/النکاح ۴۰ (۱۱۳۹)،(تحفة الأشراف:۹۴۴)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ۵ (۱۵)، سنن الدارمی/النکاح ۲۷ (۲۲۵۵)
Explanation
باب کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک شخص کے پاس پہلے سے بیوی ہو، اب ایک نئی شادی اور کر لے تو اگر نئی بیوی کنواری ہو تو سات دن تک اس کے پاس رہے، اور اگر ثیبہ ہو تو تین دن تک، پھر دونوں بیویوں کے پاس باری باری ایک ایک روز رہا کرے، اور اس سے غرض یہ ہے کہ نئی دلہن کا دل ملانا ضروری ہے، اگر پہلے سے ہی باری باری رہے تو اس کو وحشت ہو جانے کا ڈر ہے، اور کنواری کا دل ذرا دیر میں ملتا ہے، اس لئے سات دن اس کے لئے رکھے، اور ثیبہ کا دل جلدی مل جاتا ہے، تین دن اس کے لئے رکھے، اور اس باب میں صحیح حدیثیں وارد ہیں۔
It was narrated from Al-Harith from his father that when when the Messenger of Allah (ﷺ) married Umm Salamah, he stayed with her for three days, then he said:
“You are not insignificant in your husband's eyes. If you wish, I will stay with you for seven days, but then I will stay with my other wives for seven days too.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان کے پاس تین دن رہے، اور فرمایا: تم میرے نزدیک کم تر نہیں ہو اگر تم چاہتی ہو میں سات روز تک تمہارے پاس رہ سکتا ہوں، اس صورت میں میں سب عورتوں کے پاس سات سات روز تک رہوں گا ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الرضاع ۱۲ (۱۴۶۰)، سنن ابی داود/النکاح ۳۵ (۲۱۲۲)،(تحفة الأشراف:۱۸۲۲۹)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/النکاح ۵ (۱۴)، مسند احمد (۶/۲۹۲،۲۹۵،۳۰۷)، سنن الدارمی/النکاح ۲۷ (۲۲۵۶)
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr:
that the Prophet said: “When anyone of you gets a new wife, a servant, or an animal, let him take hold of the forelock and say: Allahumma inni as`aluka min khayriha wa khayri ma jubilat 'alaihi, wa 'audhu bika min sharriha wa sharri ma jubilat `alaih (O Allah, I ask You for the goodness within her and the goodness that she is inclined towards, and I seek refuge with you from the evil to which she is inclined).' ”
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کوئی بیوی، خادم یا جانور حاصل کرے، تو اس کی پیشانی پکڑ کر یہ دعا پڑھے «اللهم إني أسألك من خيرها وخير ما جبلت عليه وأعوذ بك من شرها وشر ما جبلت عليه» اے اللہ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی خلقت اور طبیعت کی بھلائی مانگتا ہوں، اور اس کے شر اور اس کی خلقت اور طبیعت کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
It was narrated from Ibn `Abbas:
that the Prophet said: “When anyone of you has intercourse with his wife, let him say: Allahumma jannibnish-Shaitana wa jannibish-Shaitana ma razaqtani (O Allah, keep Satan away from me and keep Satan away from that with which You bless me).' Then if they have a child, Allah will never allow Satan to gain control over him or he will never harm him.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو یہ دعا پڑھے «اللهم جنبني الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتني» اے اللہ! تو مجھے شیطان سے بچا، اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھ پھر اس ملاپ سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا، یا شیطان اسے نقصان نہ پہنچ اس کے گا۔
Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:
“I said: 'O Messenger of Allah, with regard to our 'Awrah, what may we uncover of it and what must we conceal?' He said: 'Cover your 'Awrah, except from your wife and those whom your right hand possesses.' I said: 'O Messenger of Allah, what if the people live close together?' He said: 'If you can make sure that no one sees it, then do not let anyone see it.' I said: 'O Messenger of Allah, what if one of us is alone?' He said: 'Allah is more deserving that you should feel shy before Him than People.' ”
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الحمام ۲ (۴۰۱۷)، سنن الترمذی/الأدب ۲۶ (۲۷۶۹)،(تحفة الأشراف:۱۱۳۸۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۳،۴)
Explanation
آپ ﷺ نے کسی طرح کشف ستر کی اجازت نہ دی، اب جو لوگ حمام میں نہلانے والوں یا حجام کے سامنے ننگے ہو جاتے ہیں، یا عورتیں ایک دوسری کے سامنے، یہ شرعی نقطہء نظر سے بالکل منع ہے، بوقت ضرورت تنہائی میں ننگے ہونا درست ہے،جیسے نہاتے وقت یہ نہیں کہ بلاضرورت ننگے ہو کر بیٹھے، اللہ تعالی سے اور فرشتوں سے شرم کرنا چاہئے، سبحان اللہ جیسا شرم و حیا کا اعتبار دین اسلام میں ہے ویسا کسی دین میں نہیں ہے، یہود اور نصاری ایک دوسرے کے سامنے ننگے نہاتے ہیں، اور مشرکین عہد جاہلیت میں جاہلیت کے وقت ننگے ہو کر طواف اور عبادت کیا کرتے تھے، اور اب بھی یہ رسم ہندوؤں میں موجود ہے، مگر اسلام نے ان سب ہی باتوں کو رد کر دیا، تہذیب، حیاء اور شرم سکھائی۔
It was narrated from 'Utbah bin 'Abd Sulamain:
that the Messenger of Allah said: “When anyone of you has intercourse with his wife, let him cover himself and not be naked liked donkeys.”
عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے تو کپڑا اوڑھ لے، اور گدھا گدھی کی طرح ننگا نہ ہو جائے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۹۷۵۵، ومصباح الزجاجة:۶۸۲)
It was narrated from a freed slave of 'Aishah that 'Aishah said:
“I never looked at or I never saw the private part of the Messenger of Allah.' ”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی۔ ابوبکر بن ابوشیبہ کہتے ہیں کہ ابونعیم کی روایت میں«عن مولیٰ لعائشۃ» کے بجائے «عن مولاۃ لعائشۃ» ہے۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۷۸۱۶، ومصباح الزجاجة:۶۸۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۶۳،۱۹۰)
It was narrated from Abu Hurairah:
that the Prophet said: “Allah will not look at a man who has intercourse with his wife in her buttocks.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو کسی عورت سے اس کے دبر ( پچھلی شرمگاہ ) میں جماع کرے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۲۲۳۷، ومصباح الزجاجة:۶۸۴)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/النکاح ۴۶ (۲۱۶۲)، مسند احمد (۲/۲۷۲،۳۴۴،۴۴۴،۴۷۹)، سنن الدارمی/الطہارة ۱۱۳ (۱۱۷۶)
Explanation
ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: عورت سے دبر میں جماع کرنا لواطت صغری ہے اور اس باب میں کئی حدیثیں ہیں جو ایک دوسرے کو قوی کرتی ہیں، اور ائمہ اربعہ اور تمام علماء حدیث نے اس کی حرمت پر اتفاق کیا، اس لئے کہ اللہ تعالی فرماتا: «فَأْتُواْ حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ» (سورة البقرة: 223) اور «حرث» کہتے ہیں کھیتی کو یعنی جہاں سے پیدا ہو وہ کھیتی ہے، اور وہ قبل ہے اور دبر «فرث» ہے یعنی نجاست۔
It was narrated from Khuzaimah bin Thabit:
That the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah is not too shy to tell the truth,” three times. “Do not have intercourse with women in their buttocks.”
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا، اور فرمایا: عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الاشراف:۳۵۳۰، ومصباح الزجاجة:۶۸۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۲۱۳،۲۱۷)، سنن الدارمی/الطہارة ۱۱۴ (۱۱۸۳)
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.