حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ مِنْكُمْ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
It was narrated from Umm Salamah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“You refer your disputes to me and I am only human. Perhaps some of you may be more eloquent in presenting your case than others, so I rule in your favor because of what I hear from you. If I pass a judgement in favor of one of you that detracts from his brother's rights, then he should not take it, because it is a piece of fire that is given to him which he will bring forth on the Day Resurrection.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس جھگڑے اور اختلافات لاتے ہو اور میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، اور میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو تم سے سنتا ہوں، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں تو وہ اس کو نہ لے، اس لیے کہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا دلاتا ہوں جس کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا ۔
Takhreej
صحیح البخاری/المظالم ۱۶ (۲۴۵۸)، الشہادات ۲۷ (۲۶۸۰)، الحیل ۱۰ (۶۹۶۷)، الأحکام ۲۰ (۷۱۶۹)،۲۹ (۷۱۸۱)،۳۱ (۷۱۸۵)، صحیح مسلم/الأقضیة ۳ (۱۷۱۳)، سنن ابی داود/الأقضیة ۷ (۳۵۸۳)، سنن الترمذی/الأحکام ۱۱ (۱۳۳۹)، سنن النسائی/آداب القضاة ۱۲ (۵۴۰۳)،(تحفة الأشراف:۱۸۲۶۱)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ۱ (۱)، مسند احمد (۶/۳۰۷،۳۲۰)
2317
Sahih