حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ ثَابِتٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ بِيَمِينٍ آثِمَةٍ عِنْدَ مِنْبَرِي هَذَا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ أَخْضَرَ .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
'Whoever swears a false oath near this pulpit of mine, let him take his place in Hell, even if it is for a green twig.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے لیے ہو ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الأیمان ۳ (۲۳۴۶)،(تحفة الأشراف:۲۳۷۶)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ۸ (۱۰)، مسند احمد (۳/۳۴۴)
Explanation
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹی قسم متبرک مقام میں کھانا اور زیادہ سخت گناہ ہے، اگرچہ ہر جگہ جھوٹی قسم کھانا خود ایک سخت گناہ ہے،بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ مدعی کو اختیار ہے جہاں پر چاہے اور جن الفاظ سے چاہے مدعی علیہ سے قسم لے سکتا ہے، اور بعضوں نے کہا: صرف عدالت میں قسم ہے وہ بھی اللہ تعالی کے نام کی قسم کھانا کافی ہے، اس سے زیادہ کے لئے مدعی جبر نہیں کر سکتا۔
2325
Sahih