TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

جس نے وقف کیا اس کا بیان

Chapter 4 of The chapters on charity in Sunnan Ibn e Maja. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 21 · 2 Hadith
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَصَابَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْمَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ شِئْتَ حَبَّسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَعَمِلَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لَا يُبَاعَ أَصْلُهَا وَلَا يُوهَبَ وَلَا يُورَثَ تَصَدَّقَ بِهَا لِلْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَالضَّيْفِ لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ.
It was narrated that Ibn 'Umar said: “Umar bin Khattab acquired some land at Khaibar, and he came to the Prophet (ﷺ) and consulted him. He said: 'O Messenger of Allah(ﷺ), I have been given some wealth at Khaibar and I have never been given any wealth that is more precious to me than it. What do you command me to do with it? He said: 'If you wish, you can make it an endowment and give (its produce) in charity.' So 'Umar gave it on the basis that it would not be sold, given away or inherited, and (its produce) was to be given to the poor, to relatives, for freeing slaves, in the cause of Allah, to way fares and to guests; and there was nothing wrong if a person appointed to be in charge of it consumed from it on a reasonable basis or feeding a fried, without accumulating it for himself.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں کچھ زمین ملی، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے مشورہ لیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے خیبر میں کچھ مال ملا ہے، اتنا عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا، تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو تو اصل زمین اپنی ملکیت میں باقی رکھو اور اسے ( یعنی اس کے پھلوں اور منافع کو ) صدقہ کر دو ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اس طرح کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ اسے وراثت میں دیا جائے، اور وہ صدقہ رہے فقیروں اور رشتہ داروں کے لیے، غلاموں کے آزاد کرانے اور مجاہدین کے سامان تیار کرنے کے لیے، اور مسافروں اور مہمانوں کے لیے اور جو اس کا متولی ہو وہ اس میں دستور کے مطابق کھائے یا کسی دوست کو کھلائے لیکن مال جمع نہ کرے۔
Takhreej
صحیح البخاری/الشروط ۱۹ (۲۷۳۷)، الوصایا ۲۲ (۶۷۶۴)،۲۸ (۲۷۷۲)،۳۲ (۲۷۷۷)، صحیح مسلم/الوصایا ۴ (۱۶۳۲)، سنن ابی داود/الوصایا ۱۳ (۲۸۷۸)، سنن الترمذی/الأحکام ۳۶ (۱۳۷۵)، سنن النسائی/الإحباس ۱ (۳۶۲۹)،(تحفة الأشراف:۷۷۴۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۵۵،۱۲۵)
2396
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّه بْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ نَافِعٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الْمِائَةَ سَهْمٍ الَّتِي بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ احْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلْ ثَمَرَهَا .
It was narrated that Ibn 'Umar said: “Umar bin Khattab said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), the one hundred shares of the Khaibar I have never been given any wealth that is more beloved to me than them, and I wanted to give them in charity.' The Prophet (ﷺ) said: 'Make it an endowment and give its produce in the cause of Allah (SWT).”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! خیبر کے جو سو حصے مجھے ملے ہیں ان سے بہتر مال مجھے کبھی نہیں ملا، میں چاہتا ہوں کہ ان کو صدقہ کر دوں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصل زمین کو رہنے دو، اور اس کے پھلوں کو اللہ کی راہ میں خیرات کر دو ۔
Takhreej
سنن النسائی/الإحباس ۲ (۳۶۳۳)،(تحفة الأشراف:۷۹۰۲)
2397
Sahih

Chapters

21
01
صدقہ دے کر واپس لینے کا بیان
2 Hadith
02
صدقہ کر دینے کے بعد کیا اسے بکتا ہوا پا کر خرید سکتا ہے؟۔
2 Hadith
03
صدقہ کئے ہوئے مال کے وارث ہونے کا بیان
2 Hadith
04
جس نے وقف کیا اس کا بیان
2 Hadith
05
عاریت کا بیان
3 Hadith
06
امانت کا بیان
1 Hadith
07
امانت کے مال سے تجارت کرنے والا نفع کمائے تو اس کے حکم کا بیان۔
1 Hadith
08
حوالہ (یعنی قرض کو دوسرے کے ذمہ کر دینے) کا بیان ؎
2 Hadith
09
ضمانت کا بیان
3 Hadith
10
قرض اس نیت سے لینا کہ اسے واپس بھی کرنا ہے اس کے فضل کا بیان
2 Hadith
11
جس شخص نے قرض اس نیت سے لیا کہ اسے واپس نہیں لوٹانا ہے اس کی شناعت کا بیان
2 Hadith
12
قرض کی شناعت اور اس پر وعید کا بیان
3 Hadith
13
جو قرض یا بےسہارا اولاد چھوڑ جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذمے ہیں
2 Hadith
14
محتاج قرض دار کو قرض کی ادائیگی میں مہلت دینے کا بیان
4 Hadith
15
حق کا مطالبہ نرمی سے کرنے اور حق کو اچھے ڈھنگ سے وصول کرنے کا بیان
2 Hadith
16
اچھے ڈھنگ سے قرض ادا کرنے کا بیان
2 Hadith
17
قرض خواہ کو یہ حق ہے کہ وہ مقروض کو سخت سست کہے
2 Hadith
18
قرض کی وجہ سے قید کرنے اور قرض دار کو پکڑے رہنے کا بیان
3 Hadith
19
قرض دینے کا ثواب
3 Hadith
20
میت کی طرف سے قرض ادا کرنے کا بیان
2 Hadith
21
جو کوئی تین چیزوں کی وجہ سے مقروض ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اس کا قرض ادا کرا دے گا
1 Hadith
No chapter matched that.