حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَاشُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ خَيْرَكُمْ أَوْ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحَاسِنُكُمْ قَضَاءً .
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The best of you - or among the best of you - are those who pay off their debts in the best manner.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں بہتر وہ ہے یا بہتر لوگوں میں سے وہ ہے جو قرض کی ادائیگی میں بہتر ہو ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الوکالة ۵ (۲۳۰۵)،۶ (۲۳۰۶)، الاستقراض ۴ (۲۳۹۰)،۶ (۲۳۹۲)،۷ (۲۳۹۳)،۱۳ (۲۴۰۱)، الھبة ۲۳ (۲۶۰۶)،۲۵ (۲۶۰۹)، صحیح مسلم/المساقاة ۲۲ (۱۶۰۱)، سنن الترمذی/البیوع ۷۵ (۱۳۱۶،۱۳۱۷)، سنن النسائی/البیوع ۶۲ (۴۶۲۲)،۱۰۱ (۴۶۹۷)،(تحفة الأشراف:۱۴۹۶۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/ ۳۷۳،۳۹۳،۴۱۶،۴۳۱،۴۵۶،۴۷۶،۵۰۹)
Explanation
قرض کا اچھی طرح ادا کرنا یہ ہے کہ قرض کے مال سے اچھا مال دے یا کچھ زائد دے یا قرض خواہ کا شکریہ ادا کرے، قرض میں زائد ادا کرنا مستحب ہے اور یہ منع نہیں ہے، منع وہ قرض ہے جس میں زیادہ دینے کی شرط ہو اور وہ سود ہے۔
2423
Sahih