It was narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) used to put oil on his head when he was in the state of Ihram, but not oil that was perfumed.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں اپنے سر میں زیتون کا تیل لگاتے تھے جو «مقتت» ( خوشبودار ) نہ ہوتا۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الحج ۱۱۴ (۹۶۲)،(تحفة الأشراف:۷۰۶۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۵،۲۹،۵۹،۷۲،۱۲۶،۱۴۵)
It was narrated from Ibn ‘Abbas that a man’s neck was broken by his mount (from falling) while he was in the state of Ihram. The Prophet (ﷺ) said:
“Wash him with water and lote leaves, and shroud him in his two garments, but do not cover his face or his head, for he will be raised on the Day of Resurrection reciting the Talbiyah.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ احرام کی حالت میں ایک شخص کی اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اس کے دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دو، اس کا منہ اور سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا ۔
It was narrated that Jabir said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) stipulated (the penalty of) a man for a hyena killed by a man in Ihram, and he considered it as game.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے شکار کئے ہوئے بجو کے کفارہ میں ایک مینڈھا متعین فرمایا، اور اسے شکار قرار دیا ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الأطعمة ۳۲ (۳۸۰۱)، سنن الترمذی/الحج ۲۸ (۸۵۱)، الاطعمة ۴ (۱۷۹۲)، سنن النسائی/الحج ۸۹ (۲۸۳۹)، الصید ۲۷ (۴۳۲۸)،(تحفة الأشراف:۲۳۸۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۲۹۷،۳۱۸،۳۲۲)، سنن الدارمی/المناسک ۹۰ (۱۹۸۴)
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said, concerning an ostrich egg taken by a Muhrim:
“Its cost (must be paid as a penalty).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شتر مرغ کے انڈوں کے بارے میں جو محرم کو ملیں، فرمایا: اسے اس کی قیمت دینی ہو گی ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۸۳۵، ومصباح الزجاجة:۱۰۷۰)
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) said:
“There are five vermin that might be killed whether one is in or outside the sacred precincts: the snake, the speckled crow, the mouse, the vicious dog, and the kite.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ موذی جانور ہیں جنہیں حرم اور حرم سے باہر دونوں جگہوں میں قتل کیا جائے گا: سانپ، چتکبرا کوا، چوہیا، کاٹنے والا کتا، اور چیل ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“There are five animals, for which there is no sin on a person if he kills them” – or he said: “if he kills them when in Ihram – the scorpion, the crow, the kite, the mouse and the vicious dog.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں احرام کی حالت میں مارنے میں گناہ نہیں: بچھو، کوا، چیل، چوہیا اور کاٹ کھانے والا کتا ۱؎۔
It was narrated from Abu Sa’eed that the Prophet (ﷺ) said:
‘The one in Ihram may kill the snake, the scorpion, the aggressive predator, the vicious dog and the harmful mouse.” It was said to him: “Why is it said that they are harmful?” He said:* “Because the Messenger of Allah (ﷺ) woke up because of one, and it had taken the wick (of the lamp) to burn down the house.”
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محرم سانپ، بچھو، حملہ آور درندے، کاٹ کھانے والے کتے، اور فسادی چوہیا کو قتل کر سکتا ہے ، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: اسے فسادی کیوں کہا گیا؟ کہا: اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی وجہ سے جاگتے رہے، وہ بتی لے گئی تھی تاکہ گھر میں آگ لگا دے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۱۳۳، ومصباح الزجاجة:۱۰۷۱)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/المناسک ۴۰ (۱۸۴۸)، سنن الترمذی/الحج ۲۱ (۸۳۸)، مسند احمد (۳/۳،۴۲،۷۹)
It was narrated that Ibn ‘Abbas said:
“Sa;b bin Jaththamah told us: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) passed by me when I was in Abwa’ or Waddan, and I gave him some meat of a wild donkey, but he gave it back to me, and when he saw from my face that I was upset, he said: ‘The only reason that we are giving it back is that we are in Ihram.’”
صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس گزرے، میں ابواء یا ودان میں تھا، میں نے آپ کو ہدیہ میں ایک نیل گائے دی، آپ نے اسے لوٹا دیا، پھر جب آپ نے میرے چہرہ پر ناگواری دیکھی تو فرمایا: ہم یہ تمہیں نہیں لوٹاتے، لیکن ہم احرام باندھے ہوئے ہیں ۱؎۔
محرم کے لیے خود بھی خشکی کا شکار کرنا جائز نہیں ہے، اسی طرح وہ جانور بھی جائز نہیں جو اس کے لیے شکار کیا جائے، اور اسی طرح محرم کو شکار زندہ جانور لا کر دیا جائے تو بھی اس کا کھانا جائز نہیں، اسی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نیل گائے کو واپس کر دیا، اکثر علماء کا یہ قول ہے کہ جس شکار کو حلال ذبح کر ے اس کا بھی کھانا محرم کے لیے جائز نہیں، ثوری اور مالک یہی مذہب ہے لیکن امام ابوحنیفہ اور امام احمد کا قول ہے کہ اس کا کھانا جائز ہے اگر محرم کے لیے ذبح نہ ہوا ہو، اور نہ محرم نے اس کے شکار میں مدد کی ہو جیسے آگے آئے گا۔
It was narrated from Talhah bin ‘Ubaidullah that the Prophet (ﷺ) gave him some wild donkey meat, and told him to distribute it among his Companions, who were in Ihram.
طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک نیل گائے دی، اور حکم دیا کہ اسے اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں، اور وہ سب محرم تھے
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۰۰۶، ومصباح الزجاجة:۱۰۷۳)
It was narrated from ‘Abdullah bin Abu Qatadah that his father said:
“I went out with the Messenger of Allah (ﷺ) at the time of Hudaibiyah, and his Companions entered Ihram, but I did not. I saw a donkey do I hunted it. I mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him: ‘I had not entered Ihram, and I was hunting it for you.’ The Prophet (ﷺ) told his Companions to eat it, but he did not eat from it, because I told him that I had hunted it for him.”
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حدیبیہ کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، آپ کے صحابہ نے احرام باندھ لیا، اور میں بغیر احرام کے تھا، میں نے ایک نیل گائے دیکھی تو اس پر حملہ کر کے اس کا شکار کر لیا، پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، اور عرض کیا کہ میں بغیر احرام کے تھا، اور میں نے اس کا شکار آپ ہی کے لیے کیا ہے، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کہ وہ اسے کھا لیں، اور جب میں نے آپ کو یہ بتایا کہ یہ شکار میں نے آپ کے لیے کیا ہے تو آپ نے اس میں سے نہیں کھایا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/جزاء الصید ۲ (۱۸۲۱)،۵ (۱۸۲۴)، الھبة ۳ (۲۵۷۰)، الجہاد ۴۶ (۲۸۵۴)،۸۸ (۲۹۱۴)، الأطعمة ۱۹ (۴۱۴۹)، الذبائح ۱۰ (۵۴۹۰)،۱۱ (۵۴۹۱)، صحیح مسلم/الحج ۸ (۱۱۹۶)کلاھما دون قولہ: ''ولم یأکل منہ'' فإنہ عندھما أنہ أکل منہ، سنن النسائی/الحج ۷۸ (۲۸۱۸)،۸۰ (۲۸۲۸)،(تحفة الأشراف:۱۲۱۰۹)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الحج ۴۱ (۱۸۵۲)، سنن الترمذی/الحج ۲۵ (۸۴۷)، موطا امام مالک/الحج ۲۴ (۷۶)، مسند احمد (۵/۳۰۰،۳۰۷)، سنن الدارمی/المناسک ۲۲ (۱۸۶۷)
Explanation
کیونکہ جس جانور کا شکار محرم کے لیے کیا جائے اس کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں جیسے اوپر گذرا اور صحیحین کی روایت میں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نیل گائے میں سے کھایا جس کو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے شکار کیا تھا، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، اور شاید وہ دوسرا واقعہ ہو گا۔
‘Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said; “The Messenger of Allah (ﷺ) used to send the sacrificial animal from Al-Madinah, and I would twist the garlands for his sacrificial animal, then, he would not (because of that) avoid the things that the one in Ihram avoids.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہدی کا جانور مدینہ سے بھیجتے تھے، میں آپ کے ہدی کے جانوروں کے لیے قلادہ ۱؎ ( پٹہ ) بٹتی تھی، پھر آپ ان چیزوں سے پرہیز نہیں کرتے تھے جن سے محرم پرہیز کرتا ہے ۲؎۔
قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ یا اور کوئی چیز لٹکانے کو تقلید کہتے ہیں، تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ جانور ہدی کا ہے، اس کا فائدہ یہ تھا کہ عرب ایسے جانور کو لوٹتے نہیں تھے۔ ۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مقیم کے لیے بھی ہدی کا جانور بھیجنا درست ہے، اور صرف ہدی بھیج دینے سے وہ محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی جو محرم پر ہوتی ہے، جب تک کہ وہ احرام کی نیت کر کے احرام پہن کر خود حج کو نہ جائے۔
It was narrated that ‘Aishah the wife of the Prophet (ﷺ) said:
“I used to twist the garlands for the sacrificial animal of the Prophet (ﷺ), and his sacrificial animal would be garlanded and sent (to Makkah), and he would stay (in Al-Madinah) without avoiding any of the things that the one in Ihram avoids.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ۱؎ کے لیے قلادہ ( پٹہ ) بٹتی تھی، آپ وہ قلادہ اپنی ہدی والے جانور کے گلے میں ڈالتے، پھر اس کو روانہ فرما دیتے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہی میں مقیم رہتے، اور جن باتوں سے محرم پرہیز کرتا ہے ان میں سے کسی بات سے آپ پرہیز نہیں کرتے تھے ۲؎۔
Takhreej
«أنظر ما قبلہ،(تحفة الأشراف:۱۵۹۴۷)
Explanation
ہدی اس جانور کو کہتے ہیں جو حج تمتع یا حج قران میں مکہ میں ذبح کیا جاتا ہے، نیز اس جانورکو بھی ہدی کہتے ہیں جس کو غیر حاجی حج کے موقع سے مکہ میں ذبح کر نے کے لیے بھیجتا ہے۔ ۲؎: کیونکہ ہدی بھیج دینے سے آدمی محرم نہیں ہوتا، امام نودی کہتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ نکلتاہے کہ ہدی کا حرم میں بھیجنا مستحب ہے، اگر خود نہ جائے تو کسی اور کے ہاتھ بھیج دے، جمہور کا یہی قول ہے کہ اگر ہدی کسی اور کے ہاتھ بھیج دے تو بھیجنے والے پر احرام کا حکم جاری نہ ہو گا، البتہ اگر اپنے ساتھ ہدی لے کر جائے تو محرم ہو جائے گا۔
It was narrated that ‘Aishah said:
“On one occasion the Messenger of Allah (ﷺ) sent sheep to the House, and he garlanded them.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی کے لیے بکریاں بھیجیں، تو آپ نے ان کے گلے میں بھی قلادہ ( پٹہ ) ڈال کر بھیجا۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Prophet (ﷺ) marked the sacrificial animal on the right side of the hump and wiped away the blood.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان میں اشعار کیا، اور اس سے خون صاف کیا، علی بن محمد نے اپنی روایت میں کہا کہ اشعار ذو الحلیفہ میں کیا، اور دو جوتیاں اس کے گلے میں لٹکائیں۔
ہدی کے اونٹ کے داہنے کوہان کو چیر کر اس سے خون نکالنے اور اسے آس پاس مل دینے کا نام اشعار ہے، یہ بھی ہدی کے جانور کی علامت اور پہچان ہے۔ اشعار مسنون ہے اس کا انکار صرف امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے کیا ہے وہ کہتے ہیں: یہ مثلہ ہے جو جائز نہیں لیکن صحیح یہ ہے کہ مثلہ ناک، کان وغیرہ کاٹنے کو کہتے ہیں، اشعار فصد یا حجامت کی طرح ہے جو صحیح حدیث سے ثابت ہے۔
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) garlanded, and marked, and sent (the sacrificial animals), but he did not avoid anything that the one in Ihram avoids.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدی کو قلادہ پہنایا، اس کا اشعار کیا، اور اسے ( مکہ ) بھجوایا، اور ان باتوں سے پرہیز نہیں کیا جن سے محرم پرہیز کرتا ہے۔
Takhreej
«صحیح البخاری/ الحج ۱۰۶ (۱۶۹۶)،۱۰۸ (۱۶۹۹)، صحیح مسلم/الحج ۶۴ (۱۳۲۱)، سنن ابی داود/المناسک ۱۷ (۱۷۵۷)، سنن النسائی/الحج ۶۲ (۲۷۷۴)،(تحفة الأشراف:۱۷۴۳۳)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ۱۵ (۵۱)، مسند احمد (۶/۲۵،۳۶،۷۸،۸۵،۱۹۱،۱۰۲،۱۲۷،۱۷۴،۱۸۰،۱۸۵،۱۹۱،۲۰۰)
It was narrated that ‘Ali bin Abu Talib said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded me to look after his sacrificial camels, to share out their covers and skins, and not to give the butcher any of it. He said: ‘We will give him (his wages).’”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے ہدی کے اونٹوں کی نگرانی کا حکم دیا، اور کہا کہ میں ان کی جھولیں اور ان کی کھالیں ( غریبوں اور محتاجوں میں ) بانٹ دوں، اور ان میں سے قصاب کو کچھ نہ دوں، آپ نے فرمایا: ہم اسے اجرت اپنے پاس سے دیں گے ۱؎۔
قربانی کی کھال اور جھول اللہ کی راہ میں بانٹ دینا چاہئے، اور بعضوں نے کہا کہ اگر قربانی کرنے والا کھال کو اپنے گھر کے کام میں استعمال کرے جیسے بچھانے یا ڈول وغیرہ کے لیے تو بھی جائز ہے، لیکن قصاب کی اجرت میں کھال دینا کسی طرح جائز نہیں، مقصد یہ ہے کہ قربانی کے جانور کا ہر ایک جزء اللہ ہی کے واسطے رہے، اجرت میں دینا گویا اس کو بیچنا ہے
It was narrated from Ibn ‘Abbas that among the sacrificial animals the Prophet (ﷺ) included a (male) camel belonging to Abu Jahl, which had a silver nose ring
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہدی کے جانوروں میں ابوجہل کا ایک اونٹ بھیجا جو ( جنگ میں بطور غنیمت آپ کو ملا تھا ) جس کی ناک میں چاندی کا ایک چھلا تھا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۴۸۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۳۴،۲۶۹)
Explanation
حدیث میں «جمل» (اونٹ) کا لفظ ہے جو نر اونٹ کو کہتے ہیں۔
It was narrated from Iyas bin Salamah, from his father, that the Prophet (ﷺ) had a (male) camel among his sacrificial animals.
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹوں میں ایک نر اونٹ بھی تھا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۵۳۰، ومصباح الزجاجة:۱۰۷۴)
Explanation
اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی میں اکثر اونٹیناں بھیجتے تھے اس لیے کہ اونٹنی کی قدر عربوں میں زیادہ ہے اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے، تو اللہ تعالیٰ کے واسطے قربانی میں اسی کو زیادہ ثواب ہے۔