It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) saw a man driving a camel and said:
“Ride it.” He said: “It is a sacrificial animal.” He said: “Ride it, woe to you!”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہدی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ ، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہوسلم نے فرمایا: سوار ہو جاؤ، تمہارا برا ہو ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۶۶۹)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج ۱۰۳ (۱۶۸۹)،۱۱۲ (۱۷۰۶)، الوصایا ۱۲ (۲۷۵۵)، الأدب ۹۵ (۶۱۶۰)، صحیح مسلم/الحج ۶۵ (۱۳۲۲)، سنن ابی داود/الحج ۱۸ (۱۷۶۰)، سنن النسائی/الحج ۷۴ (۲۸۰۱)، موطا امام مالک/الحج ۴۵ (۱۳۹)، مسند احمد (۲/۲۵۴،۲۷۸،۳۱۲،۴۶۴،۴۷۴،۴۷۸،۴۸۱)
Explanation
یہ مخاطب کرنے کا ایک اسلوب ہے، بددعا مقصود نہیں اور سواری کا حکم اس لیے دیا کہ سوار ہونے میں اونٹ کو تکلیف نہیں ہوتی، امام احمد اور اصحاب حدیث کا یہی قول ہے کہ بلا عذر بھی ہدی کے اونٹ پر سوار ہونا جائز ہے، اور شافعی کے نزدیک ضرورت کے وقت جائز ہے، اس سے مقصد یہ تھا کہ مشرکوں کے اعتقاد کا رد کیا جائے جو ہدی کے جانوروں پر سواری کو برا جانتے تھے، اور بحیرہ اور سائبہ کی تعظیم کرتے تھے۔
It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) was brought a sacrificial animal and he said (to the man driving the animal):
“Ride it.” He said: “It is a sacrificial animal.” He said: “Ride it.” He said: “I saw him riding it with the Prophet (ﷺ), and there was a sandal (tied) around its neck.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے کوئی شخص ایک اونٹ لے کر گزرا تو آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ ، اس نے کہا: یہ ہدی کا اونٹ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ ۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اسے دیکھا وہ اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سوار تھا، اس کی گردن میں ایک جوتی لٹک رہی تھی۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas that Dhu’aib Al-Khuza’i narrated that the Prophet (ﷺ) used to send the sacrificial animals with him, then he would say:
“If any of them becomes unfit and you are afraid that it will die, then slaughter it, dip the sandal (tied around its neck) in its blood and place it on its side, but neither you nor any of your companions should eat anything from it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ذویب خزاعی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ ہدی کے اونٹ بھیجتے تو فرماتے: اگر ان میں سے کوئی تھک کر مرنے کے قریب پہنچ جائے، اور تمہیں اس کے مر جانے کا ڈر ہو، تو اس کو نحر ( ذبح ) کر ڈالو، پھر اس کے گلے کی جوتی اس کے خون میں ڈبو کر اس کے پٹھے پر مار لگا دو، اور اس میں سے نہ تم کچھ کھاؤ، اور نہ تمہارے ساتھ والے کچھ کھائیں ۱؎۔
Takhreej
«صحیح مسلم/الحج ۶۶ (۱۳۲۶)،(تحفة الأشراف:۳۵۴۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۲۵)
Explanation
بلکہ یہ نشان لگا کر اس جانور کو راستہ ہی میں چھوڑ دیا جائے تاکہ لوگ پہچان لیں کہ یہ ہدی کا جانور ہے، اور جو محتاج ہو وہ اس میں سے کھائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذویب اور اس کے ساتھیوں کو اس خیال سے کھانے سے منع فرمایا کہ لوگ تہمت نہ لگائیں کہ اپنے کھانے کی غرض سے اچھے تندرست جانور کو ذبح کر ڈالا، نیز اس سے معلوم ہوا کہ جو ہدی راستہ میں لاچار اور عاجز ہو جائے اس کو اسی طرح ذبح کر کے یہی نشان لگا کر چھوڑ دینا چاہیے، اور صاحب ہدی اور مالداروں کے لیے اس میں سے کھانا جائز نہیں، اور جو ہدی حرم تک پہنچ جائے وہاں نحر کی جائے اس میں سے صاحب ہدی اور مالدار بھی کھا سکتے ہیں، جیسے اوپر حدیث میں گزرا، اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور علی رضی اللہ عنہ نے ہدی کے جانوروں کا گوشت کھایا۔
It was narrated that Najiyah Al-Khuza’i – in his narration, ‘Amr (one of the narrators) said that he was the one who looked after the sacrificial animals of the Prophet (ﷺ) – said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, what should I do with those sacrificial animals that become unfit?’ He said: ‘Slaughter them, dip its sandal in its blood, then place it on its side, and leave them for the people to eat.’”
ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ (جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے اونٹ لے جایا کرتے تھے) کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول! ہدی کا جو اونٹ تھک کر مرنے کے قریب ہو جائے اسے میں کیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو نحر ( ذبح ) کر ڈالو، اور اس کی جوتی اسی کے خون میں ڈبو کر اس کے پٹھے میں مار لگا دو، پھر اس کو چھوڑ دو کہ لوگ اسے کھائیں ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الحج ۱۹ (۱۷۶۲)، سنن الترمذی/الحج ۷۱ (۹۱۰)،(تحفة الأشراف:۱۱۵۸۱)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الحج ۴۷ (۱۴۸)، مسند احمد (۴/۳۳۳)، سنن الدارمی/المناسک ۶۶ (۱۹۵۰)
It was narrated that ‘Alqamah bin Nadlah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ), Abu Bakr and ‘Umar died, and the houses in Makkah were still called free. Whoever needed to, lived there, and whoever had no need of them allowed others to live there (without asking for rent).”
علقمہ بن نضلہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے انتقال کے وقت تک مکہ کے گھروں کو صرف «سوائب» کہا جاتا تھا ۱؎جو ضرورت مند ہوتا ان میں رہتا، اور جس کو حاجت نہ ہوتی، وہ دوسروں کو اس میں رہنے کے لیے دے دیتا۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۰۰۱۸، ومصباح الزجاجة:۱۰۷۵)
Abu Salamah bin ‘Abdur-Rahman bin ‘Awf narrated that ‘Abdullah bin ‘Adiy bin Hamra’ said to him:
“I saw the Messenger of Allah (ﷺ), when he was on his she-camel, standing in Al-Hazwarah* saying: ‘By Allah, you are the best land of Allah, and the dearest of the land of Allah to me. By Allah, had I not been expelled from you I would never have left.’” *A place in Makkah.
عبداللہ بن عدی بن حمراء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنی اونٹنی پر حزورہ ( مکہ میں ایک مقام ) میں کھڑے فرما رہے تھے: قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی ساری زمین سے بہتر ہے، اور اللہ کی زمین میں مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، قسم اللہ کی! اگر میں تجھ سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/المناقب ۶۹ (۳۹۲۵)،(تحفة الأشراف:۶۶۴۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۰۵)، سنن الدارمی/السیر ۶۷ (۲۵۵۲)
It was narrated that Safiyyah bint Shaibah said:
“I heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon in the Year of the Conquest (of Makkah), and he said: ‘O people, Allah made Makkah sacred the day He created the heavens and the earth, and it is sacred until the Day of Resurrection. Its trees are not to be cut, its game is not to be disturbed, and its lost property is not to be taken except by one who will announce it.’‘Abbas said: ‘Except for Idhkhir (a kind of fragrant grass), for it is (used) for houses and graves.’ The messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Except for Idhkhir.’”
صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے سال خطبہ دیتے ہوئے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اللہ نے مکہ کو اسی دن حرام قرار دے دیا جس دن اس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا، اور وہ قیامت تک حرام رہے گا، نہ وہاں کا درخت کاٹا جائے گا، نہ وہاں کا شکار بدکایا جائے گا، اور نہ وہاں کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے گی، البتہ اعلان کرنے والا اٹھا سکتا ہے ، اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اذخر ( نامی گھاس ) کا اکھیڑنا جائز فرما دیجئیے کیونکہ وہ گھروں اور قبروں کے کام آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اچھا اذخر اکھاڑنا جائز ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۹۰۸، ومصباح الزجاجة:۱۰۷۶)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجنائز ۷۶ (۱۳۴۹ تعلیقاً)
It was narrated from ‘Ayyash bin Abu Rabi’ah (Makhzumi) that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
‘The goodness of this nation will not cease as long as they revere this sanctuary* as it is due. But when they lose that reverence, they will be doomed.”
عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ امت برابر خیر اور بھلائی میں رہے گی جب تک وہ اس حرمت والے شہر کی اس طرح تعظیم کرتی رہے گی جیسا کہ اس کی تعظیم کا حق ہے، پھر جب لوگ اس کی تعظیم کو چھوڑ دیں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۰۱۲، ومصباح الزجاجة:۱۰۷۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۴۷)
it was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Faith will retreat to Al-Madinah as a snake retreats to its hole.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایمان مدینہ میں اسی طرح سمٹ آئے گا جیسے سانپ اپنی بل میں سما جاتا ہے ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الحج۶ (۱۸۷۶)، صحیح مسلم/الإیمان ۶۵ (۱۴۷)،(تحفة الأشراف:۱۲۲۶۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۸۶،۴۲۲،۴۹۶)
Explanation
اس طرح آخری زمانہ میں اسلام بھی سب ملکوں سے ہوتا ہوا مدینہ میں آ کر دم لے گا، سابق میں مدینہ ہی سے اسلام ساری دنیا میں پھیلا اخیر زمانہ میں سمٹ کر پھر مدینہ ہی میں آ جائے گا۔
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
‘Whoever among you can die in Al-Madinah, let him do so, for I will bear witness in favor of those who die there.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو مدینہ میں مر سکے تو وہ ایسا ہی کرے، کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے لیے گواہی دوں گا ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/المناقب ۶۸ (۳۹۱۷)،(تحفة الأشراف:۷۵۵۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۷۴،۱۰۴)
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
“O Allah! Ibrahim was Your Friend and Prophet, and You declared Makkah to be sacred through Ibrahim. O Allah! I am Your slave and Prophet, and I declare what is between its two lava fields to be sacred.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! ابراہیم تیرے خلیل ( گہرے دوست ) اور تیرے نبی ہیں، اور تو نے مکہ کو بزبان ابراہیم حرام ٹھہرایا ہے، اے اللہ! میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں، اور میں مدینہ کو اس کی دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے درمیان کی جگہ کو حرام ٹھہراتا ہوں ۱؎۔ ابومروان کہتے ہیں: «لابتيها» کے معنی مدینہ کے دونوں طرف کی کالی پتھریلی زمینیں ہیں
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۴۰۴۰، ومصباح الزجاجة:۱۰۷۸)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ۸۵ (۱۳۷۲)، سنن الترمذی/الدعوات ۵۴ (۳۴۵۴)، موطا امام مالک/الجامع ۱ (۲)
Explanation
جو دونوں طرف مدینہ کے کناروں پر ہیں، اور اس وقت حرہ شرقیہ اور حرہ غربیہ کے نام سے دو بڑے آباد محلے ہیں، ایک جماعت علماء اور اہل حدیث کا یہ مذہب ہے کہ مدینہ کا حرم بھی حرمت میں مکہ کے حرم کی طرح ہے، اور وہاں کا درخت بھی اکھیڑنا منع ہے، اسی طرح وہاں کے شکار کا ستانا اور حنفیہ اور جمہور علماء یہ کہتے ہیں کہ مدینہ کا حرم احکام میں مکہ کے حرم کی طرح نہیں ہے، اور اس حدیث سے صر ف اس کی تعظیم مراد ہے، یعنی وہ ہلاک اور تباہ ہو جائے گا۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever wishes bad upon the people of Al-Madinah, Allah will cause him to melt as salt melts in water.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ والوں کو جو کوئی تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس کو اس طرح گھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۰۶۸)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج ۸۹ (۱۳۸۶)، مسند احمد (۲/۲۷۹،۳۰۹،۳۵۷)
It was narrated that ‘Abdullah bin Miknaf said:
“I heard Anas bin Malik say: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Uhud is a mountain which loves us and we love it, and it stands at one of the gates of Paradise. And ‘Aer* stands at one of the gates of Hell.’”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے، اور ہم اس سے، اور وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ پر قائم ہے، اور عیر ( یہ بھی ایک پہاڑ ہے ) جہنم کے باغات میں سے ایک باغ پر قائم ہے ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۹۷۷، ومصباح الزجاجة:۱۰۷۹)
It was narrated that Shaqiq said:
“A man sent some Dirham through me to the House.” He said: “I entered the House and Shaibah was sitting on a chair. I handed it (the money) to him and he said: ‘Is this yours?’ I said: ‘No, if it were mine I would not have given it to you.’ He said: ‘Since you say that, ‘Umar was sitting in the place where you are sitting now and said: “I will not go out until I distribute the wealth of the poor Muslims.” I said: “You will not do that.” He said: “I will certainly do that.” He said: “Why is that?” I said: “Because, the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr saw where it was, and they had more need of the money than you do. But, they did not move it. Then, he stood up just as he was and went out.”
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے میرے ساتھ کچھ درہم خانہ کعبہ کے لیے ہدیہ بھیجے، میں خانہ کعبہ کے اندر آیا، اور شیبہ ( خانہ کعبہ کے کلید بردار ) کو جو ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے انہیں وہ درہم دے دئیے، انہوں نے پوچھا: کیا یہ تمہارے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں، اگر میرے ہوتے تو میں انہیں آپ کے پاس نہ لاتا، ( فقیروں اور مسکینوں کو دے دیتا ) انہوں نے کہا: اگر تم ایسا کہتے ہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ عمر رضی اللہ عنہ اسی جگہ بیٹھے جہاں تم بیٹھے ہو، پھر انہوں نے فرمایا: میں باہر نہیں نکلوں گا جب تک کہ کعبہ کا مال مسلمان محتاجوں میں تقسیم نہ کر دوں، میں نے ان سے کہا: آپ ایسا نہیں کر سکتے، انہوں نے کہا: میں ضرور کروں گا، پھر آپ نے پوچھا: تم نے کیوں کہا کہ میں ایسا نہیں کر سکتا؟، میں نے کہا: اس وجہ سے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مال کی جگہ دیکھی ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی، اور وہ دونوں آپ سے زیادہ اس کے ضرورت مند تھے، اس کے باوجود انہوں نے اس کو نہیں سرکایا، یہ سن کر وہ جیسے تھے اسی حالت میں اٹھے اور باہر نکل گئے۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الحج ۴۸ (۱۵۹۴)، الاعتصام ۲ (۷۲۷۵)، سنن ابی داود/المناسک ۹۶ (۲۰۳۱)،(تحفة الأشراف:۴۸۴۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۱۰)
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever is in Makkah when the month of Ramadan comes, and he fasts it and prays at night as much as he can, Allah will record for him (reward equivalent to that for) one hundred thousand months of Ramadan observed elsewhere. For each day Allah will record for him (reward equivalent to that for) freeing a slave, and for each day (reward equivalent to that for) providing a horse in the cause of Allah, and for every day merits and for every night merits.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مکہ میں ماہ رمضان پائے پھر روزے رکھے، اور قیام کرے جتنا اس سے ہو سکے، تو اللہ اس کے لیے دوسرے شہروں کے ایک لاکھ رمضان کے مہینہ کا ثواب لکھے گا، اور ہر دن کے بدلہ ایک غلام آزاد کرنے، اور ہر رات کے بدلے ایک غلام آزاد کرنے کا، اور ہر دن کے بدلے ایک گھوڑے کا جو اللہ کی راہ ( جہاد ) میں سواری کے لیے دیا گیا ہو، ہر دن اور ہر رات کے بدلے ایک ایک نیکی لکھے گا ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۵۵۰۸، ومصباح الزجاجة:۱۰۸۰)
Dawud bin ‘Ajlan said:
“We performed Tawaf with Abu ‘Iqal in the rain, and when we finished our Tawaf, we came behind the Maqam. He said: I performed Tawaf with Anas bin Malik in the rain. When we finished the Tawaf, we came behind the Maqam and prayed two Rak’ah.’ Anas said to us: ‘Start your deeds anew, for you have been forgiven. This is what the Messenger of Allah (ﷺ) said to us when we performed Tawaf with him in the rain.’”
داود بن عجلان کہتے ہیں کہ ہم نے ابوعقال ( ہلال بن زید ) کے ساتھ بارش میں طواف کیا، جب ہم طواف کر چکے تو مقام ابراہیم کے پیچھے آئے، تو انہوں نے کہا: میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بارش میں طواف کیا، جب ہم طواف کر چکے تو مقام ابراہیم پر آئے اور وہاں دو رکعتیں پڑھیں، انس رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: اب نئے سرے سے اپنے عمل کا حساب سمجھو کیونکہ تمہارے گناہ بخش دئیے گئے، ایسے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا تھا، اور ہم نے آپ کے ساتھ بارش میں طواف کیا تھا۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۷۲۴، ومصباح الزجاجة:۱۰۸۱)
It was narrated that Abu Sa’eed said:
“The Prophet (ﷺ) and his Companions performed Hajj walking from Al-Madinah to Makkah. He said: ‘Tie your lower garments around your waists,’ and he alternated between walking and jogging.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے مدینہ سے مکہ پیدل چل کر حج کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے تہ بند اپنی کمر میں باندھ لو ، اور آپ ایسی چال چلے جس میں دوڑ ملی ہوئی تھی ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۰۸۹، ومصباح الزجاجة:۱۰۸۲)
Explanation
کسی حدیث میں یہ ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج میں کہیں دوڑ کر چلے ہوں سوائے دو مقاموں کے ایک تو طواف قدوم کے پہلے تین پھیروں میں، دوسرے صفا اور مروہ میں دو نشانوں کے درمیان۔