It was narrated that Umm Kurz said:
“I heard the Prophet (ﷺ) say: ‘On behalf of a boy, two sheep of equal age and on behalf of a girl one sheep.’”
ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کی طرف سے دو ہم عمر بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الضحایا ۲۱ (۲۸۳۵،۲۸۳۶)، سنن النسائی/العقیقة ۳ (۴۲۲۲،۴۲۲۳)،(تحفة الأشراف:۱۷۸۳۳)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأضاحي ۱۷ (۱۵۱۶)، مسند احمد (۶/۳۸۱،۴۲۲)، سنن الدارمی/الأضاحي ۹ (۲۰۰۹)
Explanation
جو جانور نومولود کی طرف سے ذبح کیا جاتا ہے اسے عقیقہ کہتے ہیں، اور نومولود کے بالوں کو بھی عقیقہ کہا جاتا ہے، جو جانور کے ذبح کے وقت اتارے جاتے ہیں۔
It was narrated that ‘Aishah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded us to sacrifice two sheep for a boy’s ‘Aqiqah and one sheep for a girl.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا: ہم لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی طرف سے ایک بکری کا عقیقہ کریں۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الأضاحي ۱۶ (۱۵۱۳)،(تحفة الأشراف:۱۷۸۳۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۳۱،۸۲،۱۵۸،۲۵۱)، سنن الدارمی/الأضاحي ۹ (۲۰۰۹)
It was narrated from Salman bin ‘Amir that he heard the Prophet (ﷺ) say:
“For a boy there should be an ‘Aqiqah, so shed blood for him and remove the harm from him.”
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کا عقیقہ ہے تو تم اس کی طرف سے خون بہاؤ، اور اس سے گندگی کو دور کرو ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/العقیقة ۲ (۷۱ ۵۴)، سنن ابی داود/الضحایا۲۱ (۲۸۳۹)، سنن الترمذی/الضحایا ۱۷ (۱۵۱۵)،(تحفة الأشراف:۴۴۸۵)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/العقیقة ۱ (۴۲۱۹)، مسند احمد (۴/۱۷،۱۸،۲۱۴)، سنن الدارمی/الأضاحي ۹ (۲۰۱۰)
It was narrated from Samurah that the Prophet (ﷺ) said:
“Every boy is mortgaged by his ‘Aqiqah, so slaughter for him on the seventh day, and shave his head, and name him.”
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر لڑکا اپنے عقیقہ میں گروی ہے، اس کی طرف سے ساتویں دن عقیقہ کیا جائے، اس کا سر مونڈا جائے، اور نام رکھا جائے ۔
Takhreej
«سنن الترمذی/الأضاحي ۲۳ (۱۵۲۲)، سنن ابی داود/الضحایا ۲۱ (۲۸۳۷،۲۸۳۸)، سنن النسائی/العقیقة ۴ (۴۲۲۵)،(تحفة الأشراف:۴۵۸۱)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العقیقة ۲ (۵۴۷۲)، مسند احمد (۵/۷،۸،۱۲،۱۷،۱۸،۲۲)، سنن الدارمی/الأضاحي ۹ (۲۰۱۲)
Yazid bin ‘Abdul-Muzani narrated that the Prophet (ﷺ) said:
“Offer an ‘Aqiqah for the boy, but do not smear his head with blood.”
یزید بن عبدالمزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑکے کی طرف سے عقیقہ کیا جائے، اور اس کے سر میں عقیقہ کے جانور کا خون نہ لگایا جائے ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۱۸۳۲)
Explanation
جیسا کہ جاہلیت میں رواج تھا، سنن ابی داود کی روایت رقم (۲۸۳۷) جس میں عقیقہ کا خون بچے کے سر پر لگانے کا ذکر ہے یہ روایت منسوخ ہے۔
It was narrated that Nubaishah said:
“A man called the Messenger of Allah (ﷺ) and said: ‘O Messenger of Allah, we used to sacrifice the ‘Atirah during the Ignorance days in Rajab,; what do you command us to do?’ He said: “Sacrifice to Allah whatever month it is, do good for the sake of Allah and feed (the poor).’ They said: ‘O Messenger of Allah, we used to sacrifice the Far’ah during the Ignorance days; what do you command us to do?’ He said: ‘For every Sa’imah* (flock of grazing animals), feed the firstborn as you feed the rest of your flock until it reaches an age where it could be used to carry loads, then sacrifice it, and give its meat in charity’ – I** think he said – ‘to the wayfarer, for that is good.’”
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور کہا: اللہ کے رسول! ہم زمانہ جاہلیت میں ماہ رجب میں «عتیرہ» کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مہینے میں چاہو اللہ کے لیے قربانی کرو، اللہ تعالیٰ کے لیے نیک عمل کرو، اور ( غریبوں کو ) کھانا کھلاؤ ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ زمانہ جاہلیت میں «فرع» کرتے تھے، اب آپ اس سلسلے میں ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر «سائمہ» ( چرنے والے جانور ) میں «فرع» ہے جس کو تمہارا جانور جنے یہاں تک کہ جب وہ بوجھ لادنے کے لائق ( یعنی جوان ) ہو جائے تو اسے ذبح کرو، اور اس کا گوشت ( میرا خیال ہے انہوں نے کہا ) مسافروں پر صدقہ کر دے تو یہ بہتر ہے ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الضحایا ۱۰ (۲۸۱۳)،۲۰ (۲۸۳۰)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ۱ (۴۲۳۵)،(تحفة الأشراف:۱۱۵۸۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۷۵،۷۶)، سنن الدارمی/الأضي ۶ (۲۰۰۱)
Explanation
«عتیرہ» رجب کی قربانی ہے، اور «فرع» جاہلیت میں جو مروج تھا وہ اونٹنی کا پہلونٹا بچہ ہوتا تھا، جس کو مشرک بتوں کے لئے ذبح کرتے تھے اور بعضوں نے کہا کہ جب سو اونٹ کسی کے پاس پورے ہو جاتے تو وہ ایک بچہ ذبج کرتا،اس کو «فرع» کہتے ہیں، اسلام میں یہ لغو ہو گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بچہ کاٹنے سے تو یہ بہتر ہے کہ اس کو جوان ہونے دے، جب مضبوط اور تیار ہو جائے تو اس کو اس وقت ذبح کر کے مسافروں کو کھلا دیا جائے ، بعضوں نے کہا: «فرع» اور «عتیرہ» اب بھی مستحب ہے لیکن اللہ تعالی کے لئے کرنا چاہئے، اور اس حدیث سے «فرع» کا جواز نکلتا ہے، دوسری روایت میں ہے کہ جب وہ جوان ہو جائے، تو اس کو اللہ تعالی کی راہ میں دے دے تاکہ جہاد میں اس پر سواری یا بوجھ لایا جائے۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
“There is no Far’ah and no ‘Atirah.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ «فرعہ» ہے اور نہ «عتیرہ» ( یعنی واجب اور ضروری نہیں ہے ) ، ہشام کہتے ہیں:«فرعہ»: جانور کے پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں، ۱؎ اور «عتیرہ: وہ بکری ہے جسے گھر والے رجب میں ذبح کرتے ہیں ۲؎۔
جاہلیت میں اونٹنی کے پہلوٹے بچے کو لوگ اپنے معبودوں کے نام پر ذبح کر دیا کرتے تھے اسے «فرعہ» کہتے تھے۔ ۲؎: اسے «رجبیہ» بھی کہا جاتا ہے۔ یعنی وہ جانور جسے رجب کے مہینے میں ایک خاص نیت و ارادہ سے ذبح کیا جائے۔
It was narrated from Muhammad bin Abu (‘Umar) ‘Adani that the Prophet (ﷺ) said:
“There is no Far’ah and no ‘Atirah.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہ «فرعہ» ( واجب ) ہے اور نہ «عتیرہ» ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: یہ حدیث محمد بن ابی عمر عدنی کے تفردات میں سے ہے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۶۴۸، ومصباح الزجاجة:۱۰۹۶)
It was narrated from Shaddad bin Aws that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Allah has prescribed Al-Ihsan (proficiency) in all things. So if you kill, then kill well, and if you slaughter, then slaughter well. Let one of you sharpen his blade and spare suffering to the animal he slaughters.”
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل نے ہر چیز میں احسان ( رحم اور انصاف ) کو فرض قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھی طرح قتل کرو ( تاکہ مخلوق کو تکلیف نہ ہو ) اور جب ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے، اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ۱؎۔
It was narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:
“The Prophet (ﷺ) passed by a man who was dragging a sheep by its ear. He said: ‘Leave its ear alone and hold it by the sides of its neck.’”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک ایسے شخص پر ہوا جو ایک بکری کا کان پکڑے اسے گھسیٹ رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا کان چھوڑ دو، اور اس کی گردن کی طرف پکڑ لو ( تاکہ اسے تکلیف نہ ہو ) ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۴۲۹۳، ومصباح الزجاجة:۱۰۹۷)
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Umar said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) commanded that the blade should be sharpened, and hidden from the animals, and he said: ‘When one of you slaughters, let him do it quickly.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری کو تیز کرنے، اور اسے جانوروں سے چھپانے کا حکم دیا، اور فرمایا: جب تم میں سے کوئی ذبح کرے تو اچھی طرح ذبح کرے تاکہ اس کی جان جلد نکل جائے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۹۰۵، ومصباح الزجاجة:۱۰۹۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۰۸)
It was narrated from Ibn ‘Abbas:
“And certainly, the Shayatin (devils) do inspire their friends (from mankind).” [6:121] He said: “They used to say: ‘Whatever the Name of Allah has been mentioned over, do not eat it, and whatever the Name of Allah has not been mentioned over, eat it.’ Then Allah said: “Eat not of that over which Allah’s Name has not been pronounced.’” [6:121]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ آیت کریمہ: «إن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» ( سورة الأنعام: 121 ) کی تفسیر میں کہتے ہیں: ان کی وحی یہ تھی کہ جس ( ذبیحہ ) پر اللہ کا نام لیا جائے اس کو مت کھاؤ، اور جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے کھاؤ، تو اللہ عزوجل نے فرمایا: «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» جس پر اللہ کا نام نہ لیا جائے اسے نہ کھاؤ ۱؎۔
اس سے معلوم ہوا کہ مسلمان سے گوشت لے لینا جائز ہے، اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے ذبح کے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا یا نہیں کیونکہ مسلمان کی ظاہری حالت امید دلاتی ہے کہ اس نے اللہ تعالی کا نام ضرور لیا ہو گا، البتہ مشرک سے گوشت لینا جائز نہیں جب تک اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے، اگر دیکھے نہیں لیکن مشرک یہ کہے کہ اس کو مسلمان نے ذبح کیا ہے تو اس کا لینا جائز ہے، بشرطیکہ یہ معلوم نہ ہو کہ وہ مردار ہے«منخنقہ» وغیرہ ورنہ ہرگز جائز نہ ہو گا۔
It was narrated from ‘Aishah, the Mother of the Believers, that some people said:
“O Messenger of Allah, some people bring us meat, and we do not know whether the Name of Allah has been mentioned over it or not.” He said: “Say: Bismillah and eat.’ They were new in Islam.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ لوگ ہمارے پاس گوشت ( بیچنے کے لیے ) لاتے ہیں، اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے یا نہیں؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بسم اللہ کہہ کر کھاؤ اور وہ لوگ ( ابھی ) نو مسلم تھے۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۷۰۲۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/البیوع ۵ (۲۰۵۷)، الصید ۲۱ (۵۵۰۷)، التوحید ۱۳ (۷۳۹۸)، صحیح مسلم/الأضاحي ۵ (۱۹۷۱)، سنن ابی داود/الأضاحي ۱۹ (۲۸۲۹)، سنن النسائی/الضحایا ۳۸ (۴۴۴۱)، موطا امام مالک/الذبائح ۱ (۱)، سنن الدارمی/الأضاحي ۱۴ (۲۰۱۹)
It was narrated that Muhammad bin Saifi said:
“I slaughtered two rabbits with a sharp-edges stone and brought them to the Prophet (ﷺ), and he told me to eat them.”
محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک تیز دھار والے پتھر سے دو خرگوش ذبح کئے، پھر انہیں لے کر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے کھانے کی اجازت دی۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الضحایا ۱۷ (۲۸۲۲)، سنن النسائی/الصید ۲۵ (۴۳۱۸)، الضحایا ۱۹ (۴۴۰۴)،(تحفة الأشراف:۱۱۲۲۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۱۲،۷۶،۸۰)
It was narrated from Zaid bin Thabit that a wolf bit a sheep, and they slaughtered it with a sharp-edged stone, and the Messenger of Allah (ﷺ) allowed them to eat it
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بھیڑئیے نے ایک بکری میں دانت گاڑ دیئے، تو لوگوں نے اس بکری کو پتھر سے ذبح کر ڈالا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دے دی۔
Takhreej
«سنن النسائی/الضحایا ۱۷ (۴۴۰۵)،۲۳ (۴۴۱۲)،(تحفة الأشراف:۳۷۱۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۸۴)
It was narrated that ‘Adi bin Hatim said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, we hunt game but we cannot find anything but the sharp edge of a stone or stick (with which to slaughter it).’ He said: ‘Cause the blood to flow with whatever you want, and mention the Name of Allah over it.’”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم شکار کرتے ہیں اور ہمیں ذبح کرنے کے لیے تیز پتھر اور دھار دار لکڑی کے سوا کچھ نہیں ملتا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس چیز سے چاہو خون بہاؤ، اور اس پر اللہ کا نام لے لو ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الضحایا ۱۵ (۲۸۲۴)، سنن النسائی/الذبائح ۲۰ (۴۳۰۹)، الضحایا ۱۸ (۴۴۰۶)،(تحفة الأشراف:۹۸۷۵)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۲۵۶،۲۵۸)
It was narrated that Rafi’ bin Khadij said:
“We were with the Prophet (ﷺ) on a journey, and I said: ‘O Messenger of Allah, we are (sometimes) on military campaigns, and we have no knife with us.’ He said: ‘(Use) whatever causes the blood to flow, mention the Name of Allah and eat, but (do not use) teeth or nails, for the tooth is a bone and the nail is the knife of the Ethiopians.”
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ غزوات میں ہوتے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خون بہا دے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ۱؎۔
دانت اور ناخن کے سوا ہر دھار دار اور تیز چیز سے ذبح کرنا جائز ہے، اور تلوار، چھری، نیزے، تیر کے پھل، دھاردار پتھر اور لکڑی، کانچ، تانبے اور ٹین وغیرہ سے غرض جو چیز تیز ہو کر خون بہا دے اس سے ذبح کرنا جائز، اور ذبیحہ حلال ہے،اور شافعی کہتے ہیں کہ ذبح میں حلقوم (گلے کی وہ نالی جس سے کھانا پانی نیچے اترتا ہے)، اور مری (مڑکنی ہڈی گلے سے معدہ تک کی نلی) کا کٹ جانا شرط ہے اور دونوں رگوں کا بھی کاٹ ڈالنا مستحب ہے، امام احمد سے بھی اصح روایت یہی ہے، اور لیث بن سعد، ابو ثور، داود ظاہری اور ابن منذر نے کہا ہے کہ ان سب کا کٹنا شرط ہے، اور ابوحنیفہ نے کہا:اگر ان چاروں میں تین بھی کٹ جائیں تو درست ہے، اور مالک نے کہا کہ حلقوم اور دونوں (ودج) رگوں کا کٹنا ضروری ہے، مری کا کٹنا شرط نہیں،ابن منذر نے کہا: علماء کا اجماع ہے اس پر کہ جب حلقوم اور مری، اور مری اور دونوں رگیں کٹ جائیں، اور خون بہہ جائے،تو ذبح ہو گیا،امام نووی نے اہلحدیث کے مذہب میں اوداج کا کٹنا ضروری قرار دیا ہے۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by a boy who was skinning a sheep. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him:
“Step aside and I will show you how.” The Messenger of Allah (ﷺ) put his hand between the skin and the flesh, and thrust his arm in until it disappeared up to the armpit, and said: “O boy, this is how you skin it.” Then he went and led the people in prayer and did not perform Wudu’.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک لڑکے کے پاس سے ہوا جو بکری کی کھال اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الگ ہو جاؤ میں تمہیں بتاتا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک گوشت اور کھال کے بیچ داخل فرمایا یہاں تک کہ آپ کا ہاتھ بغل تک پہنچ کر چھپ گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لڑکے! اس طرح سے کھال اتارو ، پھر آپ وہاں سے چلے، اور لوگوں کو نماز پڑھائی اور وضو نہیں کیا ۱؎۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) came to a man from among the Ansar who had picked up a knife to slaughter an animal for the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to him:
“Avoid those that are lactating.” (i.e. those from which milk is received).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے پاس تشریف لائے تو اس نے آپ کی ضیافت کے لیے جانور ذبح کرنے کے واسطے چھری سنبھالی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: دودھ والی سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا ۱؎۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۴۶۲)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الأشربة ۲۰ (۲۰۳۸)، سنن الترمذی/الزہد ۳۹ (۲۳۶۹)
Explanation
دودھ والے جانور کا بلا عذر ذبح کرنا مکروہ ہے، اس لئے کہ دودھ سے بہتوں کو بہت دنوں تک فائدہ ہو سکتا ہے، اور گوشت کھا لینے میں یہ فائدہ جاتا رہے گا۔
Abu Hurairah narrated that Abu Bakr bin Abu Quhafah narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said to him and to ‘Umar:
“Let us go out to Waqifi.” He said: “So we went out in the moonlight until we came to the garden and he (the owner of the garden) said: ‘Welcome.’ Then he took up the knife and went among the sheep (to choose one for slaughter), and the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Avoid those that are lactating.’”
ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم دونوں ہمیں واقفی کے پاس لے چلو، تو ہم لوگ چاندنی رات میں چلے یہاں تک کہ باغ میں پہنچے تو اس نے ہمیں مرحبا و خوش آمدید کہا، پھر چھری سنبھالی اور بکریوں میں گھوما آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دودھ والی یا فرمایا: تھن والی بکری سے اپنے آپ کو بچانا یعنی اسے ذبح نہ کرنا۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۶۶۲۷، ومصباح الزجاجة:۱۱۰۰)
Pick a verse, and get a ready Quran image or a short vertical video for
YouTube Shorts, Instagram and Facebook Reels, TikTok and WhatsApp Status —
Arabic with English and Urdu translation, free on
WizTools123.