It was narrated that Jabir said:
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘You should use antimony when you go to sleep, for it improves the eyesight and makes the hair (eyelashes) grow.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سوتے وقت اثمد کا سرمہ ضرور لگاؤ، کیونکہ اس سے نظر ( نگاہ ) تیز ہوتی ہے اور بال اگتے ہیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۳۰۰۸، ومصباح الزجاجة:۱۲۲۰)
It was narrated from Ibn ‘Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“The best of your kohl is antimony, for it improves the eyesight and makes the hair (eyelashes) grow.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر سرمہ اثمد کا ہے، وہ نظر ( بینائی ) تیز کرتا، اور بالوں کو اگاتا ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
“Whoever applies kohl, let him do it an odd number of times. Whoever does that has done well, and whoever does not, it does not matter.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، اگر ایسا کرے گا تو بہتر ہو گا، اور اگر نہ کیا تو حرج کی بات نہیں ۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الطہارة ۲۳ (۳۵)،(تحفة الأشراف:۱۴۹۳۸)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ۱ (۲)، مسند احمد (۲/۳۷۱، سنن الدارمی/الطہارة ۵ (۶۸۹)
It was narrated that Tariq bin Suwaid Al-Hadrami said:
“I said: ‘O Messenger of Allah, in our land there are grapes which we squeeze (to make wine). Can we drink from it?’ He said: ‘No.’ I repeated the question and said: ‘We treat the sick with it.’ He said: ‘That is not a cure, it is a disease.’”
طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے ملک میں انگور ہیں، کیا ہم انہیں نچوڑ کر پی لیا کریں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، میں نے دوبارہ عرض کیا کہ ہم اس سے مریض کا علاج کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دوا نہیں بلکہ خود بیماری ہے ۱؎۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الطب ۱۱ (۳۸۷۳)،(تحفة الأشراف:۴۹۸۰)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۳۱۱،۵/۲۹۳)
Explanation
بیماری کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ ہے کہ ہر گناہ بیماری ہے، دوسرے یہ کہ شراب سے بیماری پیدا ہو تی ہے شفا نہیں ہوتی، دونوں سچ ہیں، شراب سے مسلمان کو سوائے ضرر کے کبھی فائدہ حاصل نہ ہو گا، اور بادی النظر میں جو کسی کو شراب پینے سے پہلے پہل کچھ فائدہ نظر آتا ہے، یہ فائدہ نہیں بلکہ مقدمہ ہے اس بڑے نقصان کا جو آگے چل کر پیدا ہو گا، اب تمام اطباء اتفاق کرتے جاتے ہیں کہ شراب میں نقصان ہی نقصان ہے، فائدہ موہوم ہے، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث اوپر گزری کہ رسول اکرم ﷺ نے خبیث دوا سے منع کیا۔
Salma Umm Rafi’, the freed slave woman of the Messenger of Allah (ﷺ), said:
“The Prophet (ﷺ) did not suffer any injury or thorn- prick but he would apply henna to it.”
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی سلمیٰ ام رافع رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی زخم لگتا، یا کانٹا چبھتا تو آپ اس پر مہندی لگاتے۔
Takhreej
«سنن ابی داود/الطب ۳ (۳۸۵۸)، سنن الترمذی/الطب ۱۳ (۲۰۵۴)،(تحفة الأشراف:۱۵۸۹۳)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۶۲)
It was narrated from Anas that some people from ‘Urainah came to the Messenger of Allah (ﷺ) but they were averse to the climate of Al- Madinah. He (ﷺ) said:
“Why don’t you go out to a flock of camels of ours, and drink their milk and urine.” And they did that.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ آئے، انہیں مدینے کی آب و ہوا راس نہ آئی، اور بیمار ہو گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کے دودھ اور پیشاب پیتے ( تو اچھا ہوتا ) ، تو انہوں نے ایسا ہی کیا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الوضوء ۶۷ (۲۳۷)، الزکاة ۶۸ (۱۵۰۱)، الجہاد ۱۵۲ (۳۰۱۸)، المغازي ۳۷ (۴۱۹۲،۴۱۹۳)، الطب ۵ (۵۶۸۵)،۶ (۵۶۸۶)،۲۹ (۵۷۲۷)، الحدود ۱ (۶۸۰۲)،۲ (۶۸۰۳)،۳ (۶۸۰۴)،۴ (۶۸۰۵)، الدیات ۲۲ (۶۸۹۹)، صحیح مسلم/القسامة ۲ (۱۶۷۱)، سنن الترمذی/الحدود ۳ (۴۳۶۴)، الأطعمة ۳۸ (۱۸۴۵)، الطب ۶ (۲۰۴۲)، سنن النسائی/الطہارة ۱۹۱ (۳۰۶)،(تحفة الأشراف:۷۲۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۱۶۱،۱۶۳،۱۷۰،۲۳۳)
Explanation
اونٹ کے پیشاب سے علاج کو آپ ﷺ نے مباح قرار دیا، لہذا ونٹ کے پیشاب کو شراب پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ شراب کے حرام ہونے اور اونٹ کے پیشاب کے مباح ہونے کے سلسلہ میں احادیث الگ الگ وارد ہیں۔
Abu Sa’eed narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“On one of the wings of a fly there is a poison and on the other is the cure. If it falls into the food, then dip it into it, for it puts the poison first and holds back the cure.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مکھی کے ایک پر میں زہر اور دوسرے میں شفاء ہے، اگر وہ کھانے میں گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، اس لیے کہ وہ زہر والا پر آگے رکھتی ہے ( اور وہی کھانے میں ڈالتی ہے ) اور شفاء والا پیچھے رکھتی ہے ۔
Takhreej
«سنن النسائی/الفرع والعتیرة ۱۰ (۴۲۶۷)،(تحفة الأشراف:۴۴۲۶، ومصباح الزجاجة:۱۲۲۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۲۴،۶۷)
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:
“If a fly falls into your drink, dip it into it then throw it away, for on one of its wings is a disease and on the other is a cure.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے اس میں پوری طرح ڈبو دو، پھر نکال کر پھینک دو، اس لیے کہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفاء ہے ۔
Takhreej
«صحیح البخاری/بدء الخلق ۱۷ (۳۳۲۰)، الطب ۵۸ (۵۷۸۲)، سنن ابی داود/الأطعمة ۴۹ (۳۸۴۴)،(تحفة الأشراف:۱۴۱۲۶)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۲/۲۲۹،۲۴۶،۴۴۳)، سنن الدارمی/الأطعمة ۱۲ (۲۰۸۱)
It was narrated that Abu Umamah bin Sahl bin Hunaif said:
“ ‘Amir bin Rabi’ah passed by Sahl bin Hunaif when he was having a bath, and said: ‘I have never seen such beautiful skin.’ Straightaway, he (Sahl) fell to the ground. He was brought to the Prophet (ﷺ) and it was said: ‘Sahl has had a fit.’ He said: ‘Whom do you accuse with regard to him?’ They said: “ ‘Amir bin Rabi’ah.’ They said: ‘Why would anyone of you kill his brother? If he sees something that he likes, then let him pray for blessing for him.’ Then he called for water, and he told ‘Amir to perform ablution, then he washed his face and his arms up to the elbows, his knees and inside his lower garment, then he told him to pour the water over him.”
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا گزر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ ( ابوامامہ کے باپ ) کے پاس ہوا، سہل رضی اللہ عنہ اس وقت نہا رہے تھے، عامر نے کہا: میں نے آج کے جیسا پہلے نہیں دیکھا، اور نہ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی کا بدن ایسا دیکھا، سہل رضی اللہ عنہ یہ سن کر تھوڑی ہی دیر میں چکرا کر گر پڑے، تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اور عرض کیا گیا کہ سہل کی خبر لیجئیے جو چکرا کر گر پڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم لوگوں کا گمان کس پر ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس بنیاد پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے ، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے جو اس کے دل کو بھا جائے تو اسے اس کے لیے برکت کی دعا کرنی چاہیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اور عامر کو حکم دیا کہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک، اور اپنے دونوں گھٹنے اور تہبند کے اندر کا حصہ دھویا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سہل رضی اللہ عنہ پر وہی پانی ڈالنے کا حکم دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ معمر کی روایت میں جو انہوں نے زہری سے روایت کی ہے اس طرح ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ برتن کو ان کے پیچھے سے ان پر انڈیل دیں ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۳۶، ومصباح الزجاجة:۱۲۲۵)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین ۱ (۱)مسند احمد (۳/۴۸۶)
It was narrated that ‘Ubaid bin Rifa’ah Az-Zuraqi said:
“Asma’ said: ‘O Messenger of Allah! The children of Ja’far have been afflicted by the evil eye, shall I recite Ruqyah* for them?’ He said: ‘Yes, for if anything were to overtake the Divine decree it would be the evil eye.’”
عبید بن رفاعہ زرقی کہتے ہیں کہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! جعفر کے بیٹوں کو نظر بد لگ جاتی ہے، کیا میں ان کے لیے دم کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اگر کوئی چیز لکھی ہوئی تقدیر پر سبقت لے جاتی تو نظر بد لے جاتی ۱؎۔
Takhreej
سنن الترمذی/الطب ۱۷ (۲۰۵۹)،(تحفة الأشراف:۱۵۷۵۸)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۴۳۸)
Explanation
مقصد یہ ہے کہ نظر بد کا اثر نقصان دہ اور تکلیف پہنچانے والا ہوتا ہے، حتی کہ تقدیر کے خلاف اگر کوئی چیز پیش آ سکتی ہے اور وہ نقصان پہنچا سکتی ہے تو وہ نظر بد ہے، جس سے بچنے کے لئے نبی اکرم ﷺ معوذتین «قُل أعوذ برب الفلق» اور «قل أعوذ برب الناس» پڑھتے جو ہر بلا اور ہر بدنظری سے بچنے کے لئے مجرب ہیں، لبید بن عاصم یہودی نے جب رسول اکرم ﷺ پر جادو کر دیا تھا تو آپ ﷺ کے کہنے پر وہ گرہ دار بال بھی ایک اندھے کنویں سے منگوایا گیا، ایک ایک آیت ان سورتوں کی آپ ﷺ پڑھتے جاتے تھے، اور ایک ایک گرہ کھلتی جاتی تھی، یہاں تک کہ سب گرہیں کھل گئیں، اور لبید یہودی کا سحر باطل ہوا۔
It was narrated that Abu Sa’eed said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) used to seek refuge from the evil eye of the jinn and of mankind. When the Mu’awwidhatain* were revealed, he started to recite them and stopped reciting anything else.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جنوں کی نظر بد سے، پھر آدمیوں کی نظر بد سے پناہ مانگتے تھے، پھر جب معوذتین ( سورۃ الفلق اور سورۃ الناس ) نازل ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو پڑھنا شروع کیا، اور باقی تمام چیزیں چھوڑ دیں۔
It was narrated from ‘Aishah that the Prophet (ﷺ) commanded her to recite Ruqyah to treat the evil eye.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نظر بد لگ جانے پر دم کرنے کا حکم دیا ۱؎۔
Takhreej
«صحیح البخاری/الطب ۳۵ (۵۷۳۸)، صحیح مسلم/السلام ۲۱ (۲۱۹۵)،(تحفة الأشراف:۱۶۱۹۹)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۶/۶۳،۱۳۸)
Explanation
امام شوکانی الدرر البہیۃ میں کہتے ہیں کہ جھاڑ پھونک میں کوئی حرج نہیں، نواب صدیق حسن الرروضۃ الندیۃ میں فرماتے ہیں کہ دم کرنے (جھاڑ پھونک) میں کچھ حرج نہیں اور شرعی قواعد اس سے مانع نہیں ہیں، بشرطیکہ اس میں شرک نہ ہوں، اور بالخصوص جب وہ قرآن یا حدیث سے ہو یا ان دونوں کے مشابہ اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور گڑگڑانے والی دعائیں تو یہ جائز ہے، اور جن احادیث میں دم (جھاڑ پھونک) تعویذ اور تِوَلہ (یعنی وہ منتر جو عورت کو اس کے شوہر کے نزدیک پسندیدہ بنا دے، اور جو جادو وغیرہ کے ذریعے سے کیا جاتا ہے) سے ممانعت ہے، وہ شرک کے مضامین پر محمول ہیں یا اسباب پر زیادہ بھروسہ کرنا، اس طرح سے کہ انسان اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جائے، اور شاہ ولی اللہ دہلوی المسوی شرح الموطأ میں فرماتے ہیں کہ جھاڑ پھونک کے بارے میں احادیث کا اختلاف ہے، ان میں جمع و تطبیق کی صورت یہ ہو گی کہ ان کو مختلف احوال پر محمول کیا جائے گا، تو ممنوع جھاڑ پھونک وہ ہے جس میں شرک ہے، یا جس میں بدمعاش شیطانوں کا ذکر ہوتا ہے، یا جو غیرعربی زبان میں ہوتے ہیں اور جن کا معنی معلوم نہیں ہوتا، اور شاید کہ اس میں جادو یا کفر موجود ہو، اور جو دم قرآن یا اللہ کے ذکر پر مشتمل ہو، وہ مستحب ہے۔ (الروضۃ الندیۃ ۳/۱۵۸)
It as narrated from Abu Bakr bin Muhammad that Khalidah bint Anas, the mother of Banu Hazm As-Sa’idiyyah, came to the Prophet (ﷺ) and recited a Ruqyah to him, and he told her to use it.
ابوبکر بن محمد سے روایت ہے کہ خالدہ بنت انس ام بنی حزم ساعدیہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور آپ کے سامنے کچھ منتر پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔
Takhreej
«تفرد بہ ابن ماجہ،(تحفة الأشراف:۱۵۸۲۳، ومصباح الزجاجة:۱۲۲۶)
It was narrated that Jabir said:
“There was a family among the Ansar, called Al ‘Amr bin Hazm, who used to recite Ruqyah for the scorpion sting, but the Messenger of Allah (ﷺ) forbade Ruqyah. They came to him and said: ‘O Messenger of Allah! You have forbidden Ruqyah, but we recite Ruqyah against the scorpion’s sting.’ He said to them: ‘Recite it to me.’ So they recited it to him, and he said: ‘There is nothing wrong with this, this is confirmed.’”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انصار کا آل عمرو بن حزم نامی گھرانہ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کیا کرتا تھا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھاڑ پھونک کرنے سے منع فرمایا تھا، چنانچہ ان لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ نے دم کرنے سے روک دیا ہے حالانکہ ہم لوگ زہریلے ڈنک پر جھاڑ پھونک کرتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جھاڑ پھونک ( منتر ) مجھے سناؤ ، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھ کر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی مضائقہ نہیں، یہ تو «اقرارات ہیں» ( یعنی ثابت شدہ ہیں ) ۔
Takhreej
«صحیح مسلم/السلام ۲۱ (۲۱۹۹)،(تحفة الأشراف:۲۳۰۷)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۳۰۲،۳۱۵)