It was narrated that 'Umar bin Khattab said:
I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever builds a mosque in which the Name of Allah is mentioned, Allah will build a house for him in Paradise.'
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۶۰۴، ومصباح الزجاجة: ۲۷۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۰، ۵۳)
It was narrated that 'Uthman bin 'Affan said:
I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever builds a mosque for the sake of Allah, Allah will build something similar for him in Paradise.'
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و رضا جوئی کے لیے مسجد بنوائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ویسا ہی گھر بنائے گا ۱؎۔
Takhreej
صحیح مسلم/المساجد ۴ (۵۳۳)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۲۰ (۳۱۸)، (تحفةالأشراف: ۹۸۳۷)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ۶۵ (۴۵۰)، مسند احمد (۱/۶۱، ۷۰)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۱۳ (۱۴۳۲)
Explanation
اس کا مطلب یہ ہے کہ جیسے مسجد کو دنیا کے گھروں پر فضیلت ہوتی ہے، ویسے ہی اس گھر کو جنت کے دوسرے گھروں پر فضیلت ہو گی، مقصد یہ نہیں ہے کہ مسجد کے برابر ہی جنت میں گھر بنے، «اللهم ارزقنا جنة الفردوس» آمين.
It was narrated that 'Ali bin Abu Talib said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever builds a mosque for the sake of Allah (from his own wealth), Allah will build a house for him in Paradise.'
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے خالص اپنے مال سے مسجد بنوائی، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۲۴۲، ومصباح الزجاجة: ۲۷۵)
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that:
The Messenger of Allah said: Whoever builds a mosque for the sake of Allah, like a sparrow's nest for Allah or even smaller, Allah will build for him a house in Paradise.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے پرندے کے گھونسلے کے برابر یا اس سے بھی چھوٹی مسجد اللہ کے لیے بنوائی، تو اللہ اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۲۴۲۱، ومصباح الزجاجة: ۲۷۶)
Explanation
حدیث میں «قطاۃ» کا لفظ ہے، وہ ایک چڑیا ہے، جو دور دراز جنگل میں جا کر گھونسلا بناتی ہے، اور اس کا گھونسلا نہایت چھوٹا ہوتا ہے، اور یہ مبالغہ ہے مسجد کے چھوٹے ہونے میں، ورنہ گھونسلے کے برابر تو کوئی مسجد بنانے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ کم سے کم مسجد میں تین آدمیوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہوتی ہے، غرض یہ ہے کہ چھوٹی بڑی مسجد پر منحصر نہیں خالص نیت سے اگر کوئی نہایت مختصر مسجد بھی بنا دے گا، تب بھی اللہ تعالیٰ اس کو اجر دے گا، اور جنت میں اس کے لئے مکان بنایا جائے گا۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
The Messenger of Allah said: 'The Hour will not begin until the people compete in (building) mosques.'
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت قائم ہو گی، جب لوگ مسجدوں کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں گے ۱؎۔
مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں لوگ کہیں گے کہ ہماری مسجد فلاں کی مسجد سے زیادہ عمدہ، بلند اور پرشکوہ ہے، نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسجدوں پر فخر کرنا قیامت کی نشانی ہے، لیکن مسجدوں کو آراستہ اور بلند کرنے کی ممانعت نہیں نکلتی، دوسری حدیثوں سے اس امر کی کراہت ثابت ہے، لیکن علماء نے کہا ہے کہ اس زمانہ میں مصلحتاً مساجد کی بلندی پر سکوت کرنا چاہئے کیونکہ یہود اور نصاری نے اپنے گرجاؤں کو بہت بلند اور عمدہ بنانا شروع کیا ہوا ہے
It was narrated that Ibn 'Abbas said:
The Messenger of Allah said: I see you building your mosque high after I am gone, just as the Jews built their synagogues high and the Christians built their churches high.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم لوگ میرے بعد مسجدوں کو ویسے ہی بلند اور عالی شان بناؤ گے جس طرح یہود نے اپنے گرجا گھروں کو، اور نصاریٰ نے اپنے کلیساؤں کو بنایا ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۶۲۰۸)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة ۱۲ (۴۴۸)
It was narrated that 'Umar bin Khattab said:
The Messenger of Allah said: No people's deeds ever became evil deeds but they started to adorn their places of worship.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی قوم کے اعمال خراب ہوئے تو اس نے اپنی مسجدوں کو سنوارا سجایا ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۰۶۲۰، ومصباح الزجاجة: ۲۷۸)
Explanation
سبحان اللہ! آپ کا ارشاد گرامی کتنا درست اور صحیح ہے، اور سچی بات ہے کہ جب سے مسلمانوں نے بلا ضرورت مسجدوں کی زیب و زینت اور آراستگی میں مبالغہ شروع کیا اس وقت سے ان کے اعمال خراب ہو گئے، علم دین کی تعلیم کم ہو گئی، دینی مدرسے سے لوگوں کی دلچسپی کم ہو گئی، دینی طالب علموں کے تعلیمی اخراجات کے بارے میں لوگ غفلت کا شکار ہیں، جہالت کا بازار گرم ہے، بدعات و خرافات اور مشرکانہ افعال و اعمال کا رواج ہو گیا ہے، لیکن مسجدوں کی آرائش روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، مساجد کی بڑی آرائش اور زینت تو یہی ہے کہ وہاں اول وقت اذان دی جائے، امام دیندار اور عالم ہو، نماز سنت کے موافق، شرائط اور آداب کے ساتھ ادا کی جائے، روشنی بقدر ضرورت کی جائے کہ نمازیوں کو اندھیرے کی تکلیف نہ ہو، اس سے زیادہ جو روپیہ بچے وہ علم دین کی ترقی میں صرف کیا جائے، دینی کتابیں چھاپی جائیں، دینی واعظوں کو تنخواہ دی جائے کہ وہ مسلمانوں کو دین کی تعلیم دیں اور کفار و مشرکین کو اسلام کی دعوت دیں، طالب علموں کی خبر گیری کی جائے، مدرسین رکھے جائیں، مدرسے کھلوائے جائیں، اگر یہ جانتے ہوئے بھی کوئی شخص اپنا روپیہ پیسہ ان کاموں میں صرف نہ کرے، اور مسجد کے نقش و نگار اور آراستگی اور روشنی اور فرش میں فضول خرچی کرے تو وہ گناہ گار ہوگا، اور آخرت میں اس سے باز پرس ہوگی کیونکہ اس نے ظاہر کو آراستہ کیا اور باطن کو خراب کیا۔
It was narrated that Anas bin Malik said:
The location where the Prophet's Mosque was built belonged to Banu Najjar. In it there were date-palm trees and graves of the idolaters. The Prophet said to them: 'Name its price.' They said: 'We will never take any money for it.' The Prophet built it and they were assisting him, and the Prophet was saying: 'The real life is the life of the Hereafter so forgive the Ansar and the Muhajirah.' Before the mosque was built, the Prophet would perform prayer wherever he was when the time for prayer came.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی زمین قبیلہ بنو نجار کی ملکیت تھی، جس میں کھجور کے درخت اور مشرکین کی قبریں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: تم مجھ سے اس کی قیمت لے لو ، ان لوگوں نے کہا: ہم ہرگز اس کی قیمت نہ لیں گے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد بنا رہے تھے اور صحابہ آپ کو ( سامان دے رہے تھے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: سنو! زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ! تو مہاجرین اور انصار کو بخش دے ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مسجد کی تعمیر سے پہلے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں نماز پڑھ لیتے تھے ۱؎۔
جس جگہ مسجد نبوی بنائی گئی وہ ویران اور غیر آباد جگہ تھی، اسی میں بعض مشرکین کی قبریں تھیں، جن کو رسول اکرم ﷺ نے اکھاڑنے کا حکم دیا، تو قبریں اکھاڑ دیں گئیں، تب آپ نے مسجد کی بنیاد رکھی، تفصیل بخاری، مسلم، ابوداود وغیرہ کی روایات میں دیکھئے، نیز کوئی خاص جگہ متعین نہ تھی، نبی اکرم ﷺ نے جو فرمایا: زندگی تو دراصل آخرت کی زندگی ہے اگر سچ پوچھیں تو دنیا میں عیش ہی نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی فکر نہ ہو جب بھی مرنے کی اور بیماری کی فکر لگی رہتی ہے، عیش تو اسی وقت سے شروع ہو گا جب کسی کو جنت میں جانے کا حکم ہو جائے گا، اے اللہ تعالیٰ ہم سب کو جنت نصیب فرمائے آمین۔
It was narrated from 'Uthman bin Abul-'As that:
The Messenger of Allah commanded him to build the mosque of Ta'if in the place where the Taghuts used to be
عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ طائف میں مسجد وہیں پہ تعمیر کریں جہاں پہ طائف والوں کا بت تھا
It was narrated that Ibn 'Umar was asked about gardens in which excrement was thrown.:
He said: If it has been watered several times, then perform prayer there, and he attributed that to the Prophet.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے ان باغات میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا جن میں پاخانہ ڈالا جاتا ہے، انہوں نے کہا: جب ان باغات کو کئی بار پانی سے سینچا گیا ہو تو ان میں نماز پڑھ لو۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کرتے ہیں۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۸۴۱۹، ومصباح الزجاجة: ۲۷۹)
It was narrated that Ibn 'Umar said:
Allah's Messenger prohibited prayer from being performed in seven places: The garbage dump, the slaughtering area, the graveyard, the commonly used road, the bathroom, in the area that camels rest at, and above the Ka'bah.
ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات مقامات پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے: کوڑا خانہ، مذبح ( ذبیحہ گھر ) ، قبرستان، عام راستہ، غسل خانہ، اونٹ کے باڑے اور خانہ کعبہ کی چھت پر ۔
It was narrated from 'Umar bin Khattab that:
The Messenger of Allah said: There are seven places where it is not permissible to perform the prayer: The top of the House of Allah; graveyards; garbage dumps; slaughterhouses; bathrooms; the area that camels rest, and the main road.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات مقامات پر نماز جائز نہیں ہے: خانہ کعبہ کی چھت پر، قبرستان، کوڑا خانہ، مذبح، اونٹوں کے باندھے جانے کی جگہوں اور عام راستوں پر ۔
It was narrated from Ibn 'Umar that:
The Messenger of Allah said: There are things which are not befitting for the mosque: it should not be taken as a thoroughfare; weapons should not be unsheathed in it; bows should not be drawn nor arrows shot in it; no one should pass through it carrying raw meat; no prescribed punishment or retaliatory punishment should be carried out in it; and it should not be used as a marketplace.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چند اعمال ایسے ہیں جو مسجد میں نامناسب ہیں، اس کو عام گزرگاہ نہ بنایا جائے، اس میں ہتھیار ننگا نہ کیا جائے، تیر اندازی کے لیے کمان نہ پکڑی جائے، اس میں تیروں کو نہ پھیلایا جائے، کچا گوشت لے کر نہ گزرا جائے، اس میں حد نہ قائم کی جائے، کسی سے قصاص نہ لیا جائے، اور اس کو بازار نہ بنایا جائے ۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۷۶۶۱، ومصباح الزجاجة: ۲۸۰)
Explanation
(اس سند میں زید بن جبیرہ ضعیف ہیں، لیکن «لا يتخذ طريقا» کا جملہ صحیح ہے، اس لئے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً طبرانی کبیر (۱۲/۳۱۴) سند حسن سے مروی ہے:«لا تتخذ المساجد طريقاً إلا لذكر الله أو صلاة» نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: ۱۴۹۷، وسلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ۱۰۰۱)
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib from his father that his grandfather said:
The Messenger of Allah forbade buying and selling in the mosque, and reciting poetry in the mosque.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت اور ( غیر دینی ) اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
It was narrated from Wathilah bin Asqa' that:
The Prophet said: Keep your infants, your insane and your evil ones away from your mosques. Avoid engaging in transactions and disputes, raising your voices, carrying out your prescribed punishments and unsheathing your swords therein. Make places for purification at their gates, and perfume them with incense on Fridays. (Maudu')
واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنی مسجدوں کو بچوں، دیوانوں ( پاگلوں ) ، خرید و فروخت کرنے والوں، اور اپنے جھگڑوں ( اختلافی مسائل ) ، زور زور بولنے، حدود قائم کرنے اور تلواریں کھینچنے سے محفوظ رکھو، اور مسجدوں کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ، اور جمعہ کے روز مسجدوں میں خوشبو جلایا کرو ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۱۱۷۵۱، ومصباح الزجاجة: ۲۷۲)
It was narrated that Ibn 'Umar said:
We used to sleep in the mosque at the time of the Messenger of Allah.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سوتے تھے ۱؎۔
Takhreej
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ۸۰۱۲)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة ۵۸ (۴۴۰)، سنن الترمذی/الصلاة ۱۲۲ (۳۲۱)، سنن النسائی/المساجد ۲۹ (۷۲۳)، مسند احمد (۲/۱۲)، سنن الدارمی/الصلاة ۱۱۷ (۱۴۴۰)
Explanation
مسجد میں سونا جائز ہے، خصوصاً مسافر کے واسطے مگر جن لوگوں کا گھر بار موجود ہو ان کے لئے ہمیشہ مسجد میں سونے کی عادت کو بعض علماء نے مکروہ کہا ہے، اور جو لوگ نماز کے لئے مسجد میں آئیں وہ اگر وہاں سو جائیں تو درست ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا ہے۔
Ya'ish bin Qais bin Tikhfah narrated that his father, who was one of the people of Suffah, said:
The Messenger of Allah said to us: 'Come with me.' So we went to the house of 'Aishah, where we ate and drank. Then the Messenger of Allah said to us: 'If you want, you can sleep here, or if you want you can go out to the mosque.' We said: 'We will go out to the mosque.'
قیس بن طخفة (جو اصحاب صفہ میں سے تھے) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم سب چلو ، چنانچہ ہم سب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئے، وہاں ہم نے کھایا پیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: اگر تم لوگ چاہو تو یہیں سو جاؤ، اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ ، ہم نے کہا کہ ہم مسجد ہی جائیں گے ۱؎۔
Takhreej
سنن ابی داود/الأدب ۱۰۳ (۵۰۴۰)، (تحفة الأشراف: ۴۹۹۱)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۳/۴۲۹، ۴۳۰، ۵/۴۲۶، ۴۲۷)
Explanation
اصحاب صفہ وہ لوگ تھے جو مسجد نبوی کے صفہ یعنی سائباں میں رہتے تھے، گھر بار مال و اسباب ان کے پاس کچھ نہ تھا، وہ مسکین تھے، کوئی کھلا دیتا تو کھا لیتے، ان کے حالات کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی حیات پر مشتمل کتابوں کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔
It was narrated that Abu Dharr Al-Ghifari said:
I said: 'O Messenger of Allah! Which mosque was built first?' He said: 'Al-Masjid Al-Haram (in Makkah).' I said: 'Then which?' He said: 'then Al-Masjid Al-Aqsa (in Jerusalem).' I said: 'How many years between them?' He said: 'Forty years, but the whole earth is a mosque for you, so pray wherever you are when the time for prayer comes.'
ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد الحرام ، میں نے پوچھا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر مسجد الاقصیٰ ، میں نے پوچھا: ان دونوں کی مدت تعمیر میں کتنا فاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس سال کا، پھر ساری زمین تمہارے لیے نماز کی جگہ ہے، جہاں پر نماز کا وقت ہو جائے وہیں ادا کر لو ۱؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ۱۱ (۳۳۶۶)، ۴۰ (۳۴۲۵)، صحیح مسلم/المساجد ۱ (۵۲۰)، سنن النسائی/المساجد ۳ (۶۹۱)، (تحفة الأشراف: ۱۱۹۹۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۵/۱۵۰، ۱۵۶، ۱۶۰، ۱۶۷)
Explanation
ظاہراً اس میں اشکال ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس میں چالیس برس کا فاصلہ ہے، کیونکہ کعبہ کو ابراہیم علیہ السلام نے بنایا، اور بیت المقدس کو سلیمان علیہ السلام نے اور ان دونوں میں ہزار برس سے زیادہ فاصلہ تھا، اس کا جواب یہ ہے کہ کعبہ اور بیت المقدس دونوں کو آدم علیہ السلام نے بنایا تھا، اور ممکن ہے کہ ان دونوں کی بنا میں چالیس برس کا فاصلہ ہو، پھر ابراہیم اور سلیمان علیہما السلام نے اپنے اپنے وقتوں میں ان بنیادوں کو جو مٹ گئی تھیں دوبارہ بنایا، اور ابن ہشام نے سیرت میں بھی ایسا ہی ذکر کیا ہے کہ پہلے آدم علیہ السلام نے کعبہ کو بنایا، پھر اللہ تعالیٰ ان کو ملک شام لے گیا وہاں انہوں نے بیت المقدس کو بنایا، بہر حال جو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، وہ صحیح ہے، اگرچہ تاریخ والے اس کے خلاف یا اس کے موافق لکھیں، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام ہی نے خانہ کعبہ اور بیت المقدس کی تعمیر کی ہو جس میں چالیس سال کا وقفہ ہو، بعض روایات میں بیت المقدس کی تأسیس کے حوالے اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام کا نام بھی آیا ہے، جس کا معنی یہ ہوا کہ ابراہیم علیہ السلام کے تعمیر کعبہ سے چالیس برس بعد ان کے بیٹے اسحاق علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی تھی اور سلیمان بن داود علیہما السلام نے بیت المقدس کی تجدید و توسیع کروائی تھی، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام نے آدم علیہ السلام کی بنیادوں پر ہی کعبۃ اللہ کی تعمیر تجدید کی تھی، «واللہ اعلم بالصواب»۔
Mahmud bin Rabi' Al-Ansari, who remembered that the Messenger of Allah spat a mouthful of water from a bucket into a well that belonged to them, narrated that :
'Itban bin Malik As-Salimi who was the chief of his people Banu Salim and had participated in (the battle of) Badr with the Messenger of Allah said: I came to the Messenger of Allah and said: 'O Messenger of Allah, my sight is failing and the flood comes and prevents me from reaching the mosque of my people, and it is too hard for me to cross the water. Do you think you could come and perform prayer in my house in a place which I can then take as a place of prayer?' He said: 'I will do that.' The following day, the Messenger of Allah and Abu Bakr came, when the heat of the day had grown intense. He asked permission to enter, and I gave him permission. He did not sit down until he said: 'Where would you like me to perform prayer for you in your house?' I showed him the place where I wanted him to pray, so the Messenger of Allah stood and we lined up behind him, and he led us in praying two Rak'ah (units). Then I asked him to stay and eat some Khazirah that had been prepared for them.'
محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اور ان کو وہ کلی یاد تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈول سے لے کر ان کے کنویں میں کر دی تھی، انہوں نے عتبان بن مالک سالمی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( جو اپنی قوم بنی سالم کے امام تھے اور غزوہ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے تھے ) وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میری نظر کمزور ہو گئی ہے، جب سیلاب آتا ہے تو وہ میرے اور میری قوم کی مسجد کے درمیان حائل ہو جاتا ہے، اسے پار کرنا میرے لیے دشوار ہوتا ہے، اگر آپ مناسب سمجھیں تو میرے گھر تشریف لائیں اور گھر کے کسی حصے میں نماز پڑھ دیں، تاکہ میں اس کو اپنے لیے مصلیٰ ( نماز کی جگہ ) بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، میں ایسا کروں گا ، اگلے روز جب دن خوب چڑھ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے، اور اندر آنے کی اجازت طلب کی، میں نے اجازت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بیٹھے بھی نہ تھے کہ فرمایا: تم اپنے گھر کے کس حصہ کو پسند کرتے ہو کہ میں تمہارے لیے وہاں نماز پڑھ دوں؟ ، میں جہاں نماز پڑھنا چاہتا تھا ادھر میں نے اشارہ کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی، پھر میں نے آپ کو خزیرہ ( حلیم ) ۱؎ تناول کرنے کے لیے روک لیا جو ان لوگوں کے لیے تیار کیا جا رہا تھا ۲؎۔
Takhreej
صحیح البخاری/الصلاة ۴۵ (۲۲۴)، ۴۶ (۲۲۵)، الأذان ۴۰ (۶۶۷)، ۵۰ (۶۸۶)، ۱۵۴ (۸۳۹)، التہجد ۳۶ (۱۱۸۵)، الأطعمة ۱۵ (۵۲۰۱)، صحیح مسلم/المساجد ۴۷ (۳۳)، سنن النسائی/الإمامة ۱۰ (۷۸۹)، ۴۶ (۸۴۵)، السھو ۷۳ (۱۳۲۸)، (تحفة الأشراف: ۹۷۵۰، ۱۱۲۳۵)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/ قصر الصلاة ۲۴ (۸۶)، مسند احمد (۴/۴۴، ۵/۴۴۹)
Explanation
خزیرہ: یہ ایک قسم کا کھانا ہے جو گوشت کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کاٹ کر آٹا ڈال کر پکایا جاتا ہے، موجودہ دور میں یہ حلیم کے نام سے مشہور ہے۔۲؎: اس حدیث سے بہت سی باتیں نکلتی ہیں، گھر میں مسجد بنانا، چاشت کی نماز جماعت ادا کرنا، نابینا کے لئے جماعت سے معافی، غیر کے گھر میں جانے سے پہلے اجازت لینا، نفل نماز جماعت سے جائز ہونا وغیرہ وغیرہ۔