TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 3214 مشکوۃ

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 5 of 19 in this chapter
بَاب الْوَلِيمَة
ولیمہ کا بیان
وَعَنْهُ قَالَ: أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَن أمربالأنطاع فَبُسِطَتْ فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے خیبر و مدینہ کے درمیان تین راتیں قیام فرمایا ، آپ نے صفیہ ؓ کے ساتھ تعلق زن و شو قائم کیا تو میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی دعوت دی ، اس میں روٹی تھی نہ گوشت ، بس آپ ﷺ نے چمڑے کی ایک چٹائی منگائی ، اسے بچھا دیا گیا اور اس (دسترخوان) پر کھجور ، پنیر اور گھی چُن دیا گیا ۔ رواہ البخاری ۔
3214
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح
Reference
حوالہ حکم
(صَحِيح)
Conclusion
تخریج
رواہ البخاری (۴۲۱۳) ۔

Related Chapters

16
1
Chapter: What Has Been Related About (Al-Walimah) The Banquet
باب: ولیمہ کا بیان
Jam e Tirmazi
2
Chapter: What Has Been Related About One Who Comes To A Banquet Without An Invitation
باب: بغیر دعوت کے ولیمہ میں جانے کا حکم
Jam e Tirmazi
3
ولیمہ کے حکم، بکرییا اس سے زائد چیز کے ساتھ اس کے مستحب ہونے اور اس سے کم کسی چیز کے ولیمہ کے جائز ہونے کا بیان
Musnad Ahmad
4
ولیمہ کی دعوت دینے والی کی دعوت قبول کرنے کا بیان
Musnad Ahmad
5
ولیمہ میں کھجوروں وغیرہ کو بکھیرنے اور پھر ان کو لوٹنے کا بیان
Musnad Ahmad
6
(49) CHAPTER. Beating the tambourine during the Nikah (marriage ceremony) and the Walima (wedding banquet).
نکاح اور ولیمہ کی دعوت میں دف بجانا ۔
Sahih Bukhari
7
(68) CHAPTER. The Walima (wedding banquet) is obligatory.
ولیمہ کی دعوت دولہا کو کرنا لازم ہے ۔
Sahih Bukhari
8
(69) CHAPTER. Al-Walima (the wedding banquet) is recommended to be given even if one sheep is presented therein.
ولیمہ میں ایک بکری بھی کافی ہے ۔
Sahih Bukhari
9
(70) CHAPTER. Whoeever gave a bigger Walima (wedding banquet) on marrying some wives than on marrying the other wives of his.
کسی بیوی کے ولیمہ میں کھانا زیادہ تیار کرنا کسی کے ولیمہ میں کم ، جائز درست ہے ۔
Sahih Bukhari
10
(71) CHAPTER. Whoever gave a Walima (wedding banquet) of less than one sheep.
ایک بکری سے کم کا ولیمہ کرنا ۔
Sahih Bukhari
11
(72) CHAPTER. It is obligatory to accept the invitation to a Walima (wedding banquet) and other invitations.
ولیمہ کی دعوت اور ہر ایک دعوت کو قبول کرناحق ہے ۔
Sahih Bukhari
12
CHAPTER: Regarding A Fasting Person Who Is Invited To A Walimah (Wedding Feast).
باب: روزہ دار کو ولیمہ کھانے کی دعوت دی جائے تو کیا کرے ؟
Sunnan Abu Dawood
13
CHAPTER: Regarding the recommendation for holding a wedding feast.
باب: نکاح ہونے پر ولیمہ کی دعوت کرنا مستحب ہے ۔
Sunnan Abu Dawood
14
CHAPTER: How long should the wedding feast last.
باب: دعوت ولیمہ کتنے روز تک مستحب ہے ؟
Sunnan Abu Dawood
15
ولیمہ کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
16
(ولیمہ کی) دعوت قبول کرنے کا بیان
Sunnan Ibn e Maja
No related chapter matched that.

Related Hadith

28
Sahih Bukhari
4213
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ ، أَنَّهُ , سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ يُبْنَى عَلَيْهِ بِصَفِيَّةَ ، فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ وَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ ، وَمَا كَانَ فِيهَا إِلَّا أَنْ أَمَرَ بِلَالًا بِالْأَنْطَاعِ ، فَبُسِطَتْ ، فَأَلْقَى عَلَيْهَا التَّمْرَ وَالْأَقِطَ وَالسَّمْنَ ، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ : إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَوْ مَا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، قَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ وَمَدَّ الْحِجَابَ .
Narrated Anas: The Prophet stayed for three rights between Khaibar and Medina and was married to Safiya. I invited the Muslim to h s marriage banquet and there wa neither meat nor bread in that banquet but the Prophet ordered Bilal to spread the leather mats on which dates, dried yogurt and butter were put. The Muslims said amongst themselves, Will she (i.e. Safiya) be one of the mothers of the believers, (i.e. one of the wives of the Prophet ) or just (a lady captive) of what his right-hand possesses Some of them said, If the Prophet makes her observe the veil, then she will be one of the mothers of the believers (i.e. one of the Prophet's wives), and if he does not make her observe the veil, then she will be his lady slave. So when he departed, he made a place for her behind him (on his and made her observe the veil.
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان ( مقام سد الصہباء میں ) تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ کے ولیمہ میں نہ روٹی تھی ‘ نہ گوشت تھا صرف اتنا ہوا کہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھر اس پر کھجور ‘ پنیر اور گھی ( کا ملیدہ ) رکھ دیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا امہات المؤمنین میں سے ہیں یا باندی ہیں؟ کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پردے میں رکھا تو وہ امہات المؤمنین میں سے ہوں گی اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہیں رکھا تو پھر یہ اس کی علامت ہو گی کہ وہ باندی ہیں۔ آخر جب کوچ کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھنے کی جگہ بنائی اور ان کے لیے پردہ کیا۔
Sunnan Nisai
3384
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏يَبْنِي بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَوْتُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ وَلَا لَحْمٍ أَمَرَ بِالْأَنْطَاعِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَلْقَى عَلَيْهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ:‏‏‏‏ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ ؟ فَقَالُوا:‏‏‏‏ إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ مِنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّأَ لَهَا خَلْفَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ .
It was narrated that Anas said: The Prophet stayed between Khaibar and Al-Madinah for three days when he consummated his marriage to Safiyyah bint Huyayy, and I invited the Muslims to his Walimah, in which there was no bread or meat. He commanded that a leather cloth (be spread) and dates, cottage cheese and ghee were placed on it, and that was his Walimah. The Muslims said: '(Will she be) one of the Mothers of the Believers, or a female slave whom his right hand possesses?' They said: 'If he has a Hijab for her, then she will be one of the Mothers of the Believers and if she does not have a Hijab then she will be a female slave whom his right hand possesses.' When he rode on, he set aside a plate for her behind him and extended a Hijab between her and the people.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر اور مدینہ طیبہ کے درمیان صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کے ساتھ تین ( عروسی ) دن گزارے، میں نے لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمے کے لیے بلایا، اس ولیمے میں روٹی گوشت نہیں تھا، آپ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور اس ( چمڑے کے ) دستر خوان پر کھجوریں، پنیر اور گھی ڈالے گئے ( اور انہیں ملا کر پیش کر دیا گیا ) یہی آپ کا ولیمہ تھا۔ لوگوں نے کہا: صفیہ امہات المؤمنین میں سے ایک ہو گئیں یا ابھی آپ کی لونڈی ہی رہیں؟ پھر لوگ کہنے لگے: اگر آپ نے انہیں پردے میں رکھا تو سمجھو کہ یہ امہات المؤمنین میں سے ہیں اور اگر آپ نے انہیں پردے میں نہ بٹھایا تو سمجھو کہ یہ آپ کی باندی ہیں۔ پھر جب آپ نے کوچ فرمایا تو ان کے لیے کجاوے پر آپ کے پیچھے بچھونا بچھایا گیا اور ان کے اور لوگوں کے درمیان پردہ تان دیا گیا ( کہ دوسرے لوگ انہیں نہ دیکھ سکیں ) ۔
Silsila Sahih
2199
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَضَى رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بن حُصَيْنٍ الْغِفَارِيَّ، وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ، فَصَامَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِـ(الْكَدِيدِ) مَا بَيْنَ (عُسْفَانَ) وَ(أَمَجَ) أَفْطَرَ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ (مَرَّ الظَّهْرَانِ) فِي عَشَرَةِ آلافٍ مِّنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ مُزَيْنَةَ وَسُلَيْمٍ، وَفِي كُلِّ الْقَبَائِلِ عَدَدٌ وَإِسْلامٌ، وَأَوْعَبَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُ، فَلَمْ يَتَخَلَّفْ مِنْهُمْ أَحَدٌ، فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِـ(مَرِّ الظَّهْرَانِ)، وَقَدْ عَمِيَتِ الأَخْبَارُ عَنْ قُرَيْشٍ، فَلَمْ يَأْتِهِمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌خَبَرٌ، وَلا يَدْرُونَ مَا هُوَ فَاعِلٌ؟ خَرَجَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ أَبُو سُفْيَان بن حَرْبٍ، وَحَكِيمُ بن حِزَامٍ، وَبُدَيْلُ بن وَرْقَاءَ يَتَحَسَّسُونَ وَيَنْتَظِرُونَ هَلْ يَجِدُونَ خَبَرًا، أَوْ يَسْمَعُونَ بِهِ؟ وَقَدْ كَانَ الْعَبَّاسُ بن عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَتَى رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِبَعْضِ الطَّرِيقِ، وَقَدْ كَانَ أَبُو سُفْيَانَ بن الْحَارِثِ بن عَبْدِالْمُطَّلِبِ، وَعَبْدُ اللهِ بن أَبِي أُمَيَّةَ بن الْمُغِيرَةِ، قَدْ لَقِيَا رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌[-أَيْضاً-] فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَالْتَمَسَا الدُّخُولَ عَلَيْهِ، فَكَلَّمَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فِيهِمَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ! ابْنُ عَمِّكَ وَابْنُ عَمَّتِكَ وَصِهْرُكَ، قَالَ: لا حَاجَةَ لِي بِهِمَا، أَمَّا ابْنُ عَمِّي فَهَتَكَ عِرْضِي، وَأَمَّا ابْنُ عَمَّتِي وَصِهْرِي، فَهُوَ الَّذِي قَالَ لِي بِمَكَّةَ مَا قَالَ ، فَلَمَّا أُخْرجَ إِلَيْهِمَا بِذَلِكَ، وَمَعَ أَبِي سُفْيَانَ بنيٌّ لَهُ، فَقَالَ: وَاللهِ لَيَأْذَنَنَّ لِي أَوْ لآخُذَنَّ بِيَدِ ابْنِيْ هَذَا، ثُمَّ لَنَذْهَبَنَّ فِي الأَرْضِ حَتَّى نَمُوتَ عَطَشًا وَجُوعًا، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌رَقَّ لَهُمَا، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمْا فَدَخَلا وَأَسْلَمَا، فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌بِـ(مَرِّ الظَّهْرَانِ)، قَالَ الْعَبَّاسُ: وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ! وَاللهِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مَكَّةَ عُنْوَةً قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْمِنُوهُ، إِنَّهُ لَهَلاكُ قُرَيْشٍ إِلَى آخِرِ الدَّهْرِ، قَالَ: فَجَلَسْتُ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌الْبَيْضَاءِ، فَخَرَجْتُ عَلَيْهَا حَتَّى جِئْتُ (الأَرَاكَ) فَقُلْتُ: لَعَلِّي أَلْقَى بَعْضَ الْحَطَّابَةِ، أَوْ صَاحِبَ لَبِنٍ، أَوْ ذَا حَاجَةٍ يَأْتِي مَكَّةَ لِيُخْبِرَهُمْ بِمَكَانِ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌لِيَخْرُجُوا إِلَيْهِ، فَيَسْتَأْمِنُوهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا عَلَيْهِمْ عُنْوَةً، قَالَ: فَوَاللهِ، إِنِّي لأَسِيرُ عَلَيْهَا، وأَلْتَمِسُ مَا خَرَجْتُ لَهُ إِذْ سَمِعْتُ كَلامَ أَبِي سُفْيَانَ، وَبُدَيْلِ بن وَرْقَاءَ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ، وَأَبُو سُفْيَانَ يَقُولُ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ نِيرَانًا وَلا عَسْكَرًا، قَالَ: يَقُولُ بُدَيْلٌ: هَذِهِ وَاللهِ نِيرَانُ خُزَاعَةَ حَمَشَتْهَا الْحَرْبُ، قَالَ: يَقُولُ أَبُو سُفْيَانَ: خُزَاعَةُ، وَاللهِ أَذَلُّ وأَلأَمُ مِنْ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ نِيرَانُهَا وَعَسْكَرُهَا، قَالَ: فَعَرَفْتُ صَوْتَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَنْظَلَةَ!فَعَرَفَ صَوْتِي، فَقَالَ أَبُو الْفَضْلِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَالَكَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ فَقُلْتُ: وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ! هَذَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي النَّاسِ وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ وَاللهِ! قَالَ: فَمَا الْحِيلَةُ؟ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ: قُلْتُ: وَاللهِ لَئِنْ ظَفَرَ بِكَ لَيَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ، فَارْكَبْ مَعِي هَذِهِ الْبَغْلَةَ حَتَّى آتِيَ بِكَ رَسُولَ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَسْتَأْمِنَهُ لَكَ، قَالَ: فَرَكِبَ خَلْفِي وَرَجَعَ صَاحِبَاهُ، فَحَرَّكْتُ بِهِ كُلَّمَا مَرَرْتُ بنارٍ مِنْ نِيرَانِ الْمُسْلِمِينَ، قَالُوا: مَنْ هَذَا؟ فَإِذَا رَأَوْا بَغْلَةَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالُوا: عَمُّ رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌عَلَى بَغْلَتِهِ حَتَّى مَرَرْتُ بنارِ عُمَرَ بن الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ وَقَامَ إِلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى أَبَا سُفْيَانَ عَلَى عَجُزِ النَّاقَة، قَالَ: أَبُو سُفْيَانَ؟ عَدُوُّ اللهِ؟ الْحَمْدُ لِله الَّذِي أَمْكَنَ مِنْكَ بِغَيْرِ عَقْدٍ وَلا عَهْدٍ، ثُمَّ خَرَجَ يَشْتَدُّ نَحْوَ رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَرَكَضتُ الْبَغْلَةُ،فَسَبَقَتْهُ بِمَا تَسْبِقُ الدَّابَّةُ الْبَطِيئَة الرَّجُلَ الْبَطِيءَ، فَاقْتَحَمْتُ عَنِ الْبَغْلَةِ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، وَدَخَلَ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! هَذَا أَبُو سُفْيَانَ قَدْ أَمْكَنَ اللهُ مِنْهُ بِغَيْرِ عَقْدٍ وَلا عَهْدٍ، فَدَعْنِي فَلأَضْرِبَ عُنُقَهُ. قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي [قَدْ] أَجَرْتُهُ، ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ، فَقُلْتُ: لا وَاللهِ، لا يُنَاجِيهِ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ دُونِي، فَلَمَّا أَكْثَرَ عُمَرُ فِي شَأْنِهِ، قُلْتُ: مَهْلاً يَا عُمَرُ! أَمَا وَاللهِ لَوْ كَانَ مِنْ رِجَالِ بني عَدِيِّ بن كَعْبٍ مَا قُلْتَ هَذَا، وَلَكِنَّكَ عَرَفْتَ أَنَّهُ رَجُلٌ مِنْ رِجَالِ بني عَبْدِ مَنَافٍ فَقَالَ: مَهْلا يَا عَبَّاسُ! فَوَاللهِ لإِسِلامُكَ يَوْمَ أَسْلَمْتَ كَانَ أَحَبَّ إِلَىَّ مِنْ إِسْلامِ الْخَطَّابِ لَوْ أَسْلَمَ، وَمَا بِي إِلا أَنِّي قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ إِسْلامَكَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌مِنْ إِسْلامِ الْخَطَّابِ [لَوْ أَسْلَم]، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : اذْهَبْ بِهِ إِلَى رَحْلِكَ يَا عَبَّاسُ! فَإِذَا أَصْبَحَ فَأْتِنِي بِهِ ، فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَحْلِي فَبَاتَ عِنْدِي، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَوْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم ، قَالَ: وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ! أَلَمْ يَأْنِ لَكَ أَنْ تَعْلَمَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللهُ؟ قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا أَكْرَمَكَ [وَأَحْلَمَكَ] وَأَوْصَلَكَ! وَاللهِ لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنْ لَوْ كَانَ مَعَ اللهِ غَيْرُهُ لَقَدْ أَغْنَى عَنِّي شَيْئًا[بعدُ]، قَالَ: وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ! أَلَمْ يَأْنِ لَكَ أَنْ تَعْلَمَ أَنِّي رَسُولُ اللهِ؟! قَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا أحْلَمَكَ وَأَكْرَمَكَ وَأَوْصَلَكَ! هَذِهِ، وَاللهِ كَانَ فِي نَفْسِي مِنْهَا شَيْءُ حَتَّى الآنَ، قَالَ الْعَبَّاسُ: وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ! أَسْلِمْ، وَاشْهَدْ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ قَبْلَ أَنْ يًضْرَبَ عُنُقُكَ، قَالَ: فَشَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ وَأَسْلَمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ! إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ هَذَا الْفَخْرَ، فَاجْعَلْ لَهُ شَيْئًا، قَالَ: نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ . فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَنْصَرِفَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صلی اللہ علیہ وسلم : يَا عَبَّاسُ! احْبِسْهُ بِمَضِيقِ الْوَادِي عِنْدَ خَطْمِ الْجَبَلِ، حَتَّى تَمُرَّ بِهِ جُنُودُ اللهِ فَيَرَاهَا ، قَالَ: فَخَرَجْتُ بِهِ حَتَّى حَبَسْتُهُ حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌أَنْ أَحْبِسَهُ قَالَ: وَمَرَّتْ بِهِ الْقَبَائِلُ عَلَى رَايَاتِهَا، كُلَّمَا مَرَّتْ قَبِيلَةٌ، قَالَ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَأَقُولُ: (سُلَيْمٌ)، فَيَقُولُ: مَالِي وَلِـ(سُلَيْمٍ)؟ قَالَ: ثُمَّ تَمُرُّ الْقَبِيلَةُ، قَالَ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَأَقُولُ: (مُزَيْنَةُ)، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلِـ(مُزَيْن‍َةَ)؟ حَتَّى نَفَذَتِ الْقَبَائِلُ لا تَمُرُّ قَبِيلَةٌ إِلا، قَالَ: مَنْ هَؤُلاءِ؟ فَأَقُولُ: بنو فُلانٍ، فَيَقُولُ: مَالِي وَلِبَنِي فُلانٍ؟ حَتَّى مَرَّ رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي الْخَضْرَاءِ كَتِيبَةٌ فِيهَا الْمُهَاجِرُونَ وَالأَنْصَارُلا يُرَى مِنْهُمْ إِلا الْحَدَقَ، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ! مَنْ هَؤُلاءِ يَا عَبَّاسُ؟! قُلْتُ: هَذَا رَسُولُ اللهِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ، قَالَ: مَا لأَحَدٍ بِهَؤُلاءِ قِبَلٌ وَلا طَاقَةٌ، وَاللهِ يَا أَبَا الْفَضْلِ! لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ الْغَدَاةَ عَظِيمًا، قُلْتُ: يَا أَبَا سُفْيَانَ! إِنَّهَا النُّبُوَّةُ، قَالَ: فَنَعَمْ إِذًا، قُلْتُ: النَّجَاءُ إِلَى قَوْمِكَ، قَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَهُمْ صَرَخَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! هَذَا مُحَمَّدٌ قَدْ جَاءَكُمْ بِمَا لا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ، فَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ امْرَأَتُهُ هِنْدُ بنتُ عُتْبَةَ، فَأَخَذَتْ بِشَارِبِهِ، فَقَالَتْ: اقْتُلُوا الدَّسَمَ الأَحْمَسَ، فَبِئْسَ مِنْ طَلِيعَةِ قَوْمٍ! قَالَ: وَيْحَكُمْ، لا تَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ مِنْ أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَ مَا لا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ، فَهُوَ آمِنٌ، قَالُوا: وَيْلَكَ وَمَا تُغْنِي دَارُكَ؟! قَالَ: وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ إِلَى دُورِهِمْ، وَإِلَى الْمَسْجِدِ . ( )
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مکے کی طرف )چلے تو مدینے پر ابو رہم کلثوم بن حسین غفاری رضی اللہ عنہ کو نگران مقرر کیا۔ دس رمضان کو سفر پر نکلے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے روزہ رکھا ہوا تھا۔ جب (کدید )میں پہنچے جو عسفان اور( امج) کے درمیان ہے۔تو آپ نےافطار کر لیا، پھر چل پڑے جب دس ہزار کے لشکر کے ساتھ جس میں مزینہ سلیم اور ہر قبیلے سے مسلمانوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی۔ (مرالظہران) میں پڑاؤ ڈالا، مہاجرین و انصار سب کے سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، کوئی بھی شخص آپ سے پیچھے نہیں رہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرالظہران) میں پڑاؤ ڈالا، قریش سے خبروں کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا، اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ نہ یہ جانتے تھے کہ آپ کیا کرنے والے ہیں؟ اس رات ابو سفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء یہ دیکھنے کے لئےباہر نکلے کہ کیا انہیں کوئی خبر یا کوئی سن گن ملتی ہے؟ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے راستے میں آملے تھے۔ اور ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اور عبداللہ بن امیہ بن مغیرہ بھی مکہ اور مدینہ کے درمیان آئے اور آپ سے ملنے کی خواہش کی۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان دونوں کے بارے میں بات چیت کی ۔کہنے لگیں: اے اللہ کے رسول! آپ کے چچا کا بیٹا اور پھوپھی کا بیٹا اور داماد۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ان دونوں سے کوئی غرض نہیں۔ میرے چچا کے بیٹے نے میری عزت خراب کی ہے، اور میری پھوپھی کےاس بیٹے نے مکے میں کیا کچھ نہیں کہا۔ جب ان کی طرف یہ پیغام پہنچا تو ابو سفیان کے ساتھ اس کا چھوٹا بیٹا بھی تھا، کہنے لگا:واللہ یا توآپ مجھے اجازت دے دیں یا میں اپنے اس بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر بیابان میں نکل جاؤں گا۔ یہاں تک کہ ہم بھوک اور پیاس سے مر جائیں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ کا دل نرم ہوگیا۔ پھر ان دونوں کو اجازت دے دی، وہ دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کر لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرالظہران میں پڑاؤ ڈالا تو عباس رضی اللہ عنہ کہنے لگے قریش کی صبح بری حالت ہوگی۔ واللہ! اگر رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌قریش کے امان طلب کرنے سے پہلے جنگ کرتے ہوئے مکے میں داخل ہوگئے تو یہ ہمیشہ کے لئے قریش کی ہلاکت ہے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر بیٹھا اور اس پر بیٹھ کر اراک تک آگیا۔ میں نےسوچا: شاید میں کسی لکڑہارے، دودھ والے یا کسی ضرورتمند سے ملوں تاکہ وہ مکہ والوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑاؤ کی خبر دے اور مکے والے مکے میں جنگی حالت میں داخل ہونے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر آپ سے امان طلب کریں ۔ واللہ! میں اس پر سوار کسی شخص کو تلاش کرتا رہا کہ میں نے ابو سفیان اور بدیل بن ورقاء کی بات سنی وہ دونوں آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ابو سفیان کہہ رہا تھا: آج کے دن جیسی آگ اور لشکر میں نے نہیں دیکھا۔ بدیل کہہ رہا تھا: یہ واللہ خزاعہ کی آگ ہے جنہیں جنگ نے برانگیختہ کردیا ہے۔ ابو سفیان کہہ رہا تھا: خزاعہ کی واللہ اتنی حیثیت کہاں کہ وہ اتنی آگ جلائے اور اتنا بڑا لشکر لائے۔ میں نے اس کی آواز پہچان لی۔ میں نے کہا: ابو حنظلہ؟ انہوں نے میری آواز پہچان لی اور کہنے لگے: ابو الفضل ہو؟ میں نے کہا: ہاں، کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کو کیا ہوا؟ میں نے کہا: ابو سفیان! افسوس یہ رسول اللہ ‌صلی اللہ علیہ وسلم ‌لوگوں کے ساتھ ہیں اور قریش کی باری آگئی واللہ۔ کہنے لگے: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! اس سے بچنے کا کیا طریقہ ہے؟ میں نے کہا: واللہ اگر وہ تم پر حاوی ہوگئے تو تمہاری گردن اڑادیں گے۔ میرے ساتھ اس خچر پر سوار ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہارے لئے امان طلب کروں۔ وہ میرے پیچھے سوار ہوگئے، اور ان کے دونوں ساتھی واپس لوٹ گئے۔ میں نے سواری چلائی، میں جب بھی مسلمانوں کی کسی آگ کے پاس سے گزرتا تو کہتے: یہ کون ہے؟ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خچر دیکھتے تو کہتے:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا آپ کے خچر پر سوار ہیں۔ جب میں عمر بن خطاب‌رضی اللہ عنہ کی آگ کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا: یہ کون ہے؟ اور میری طرف آنے لگے: جب انہوں نے ابو سفیان کو خچر کے پیچھے دیکھا تو کہنے لگے: ابو سفیان! اللہ کا دشمن؟ الحمدللہ! جس نے بغیر کسی عہدو پیماں کے تم پر غالب کر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑنے لگے۔ میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی تو میں ان سے پہلے پہنچ گیا جیسا کہ سست جانور بھی سست آدمی سے سبقت لے جاتا ہے۔ میں نے خچر سے چھلانگ لگا دی۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو اوپر سے عمر‌رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! یہ ابو سفیان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی عہدو پیمان کے اس پر غلبہ دے دیا ہے۔مجھے اجازت دیجئے میں اس کی گردن اڑاؤں، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! میں نے اسے پناہ دی ہے۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور آپ کا سر پکڑ لیا میں نے کہا: نہیں واللہ! آج کی رات میرے علاوہ کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات نہیں کریگا ۔ جب عمر‌رضی اللہ عنہ نے ان کے بارے میں زیادہ کہا تو میں نے کہا: عمر! بس کرو، واللہ اگر یہ بنی عدی بن کعب کا آدمی ہوتا تو تم اس کے بارے میں اتنا نہ کہتے، لیکن تمہیں معلوم ہے کہ یہ بنی عبد مناف کا ایک شخص ہے۔ عمر‌رضی اللہ عنہ کہنے لگے: عباس چھوڑو، واللہ جس دن تم اسلام لائے تمہارا اسلام لانا مجھے (میرے باپ) خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب ہے اگر وہ یہ اس لئے کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کا اسلام لانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو (میرے باپ) خطاب کے اسلام لانے سے زیادہ محبوب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عباس اسے خیمے میں لے جاؤ، جب صبح ہوجائے تو اسے میرے پاس لے آنا۔ میں ابو سفیان کو اپنے خیمے میں لے گیا۔ انہوں نے رات میرے خیمے میں گزاری، جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو فرمایا: ابو سفیان! افسوس ہے، کیا تمہیں ابھی بھی معلوم نہیں ہوا کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کتنے معزز(بردبار) اور تعلق داری والے ہیں، واللہ اگر اللہ کے ساتھ کوئی اور ہوتا (اس صورتحال کے بعد )ضرور میری مدد کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابو سفیان !افسوس! کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ تمہیں معلوم ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابو سفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ کتنے :بردبار معزز اور تعلق داری والے ہیں، اس بارے میں میرے دل میں ابھی کچھ شک شبہہ ہے۔ عباس‌رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو سفیان افسوس! اس سے پہلے کہ تمہاری گردن ماردی جائےاسلام لے آؤ اور لا اله الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دو۔ تب ابو سفیان نے حق کی گواہی دی اور مسلمان ہوگئے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ابو سفیان ایسا شخص ہے جو فخر کو پسند کرتا ہے، اس کے لئے کوئی خاص بات فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا وہ امن میں ہے۔ جس شخص نے اپنا دروازہ بند کر لیا، وہ امن میں ہے اور جو مسجد میں داخل ہو گیا وہ امن میں ہے۔جب وہ جانے کے لئے مڑے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عباس !پہاڑ کے سرے کے پاس تنگ گھاٹی میں اسے روک لو، تاکہ اللہ کے لشکر گزریں تو یہ دیکھ سکے۔ کہا: میں ابو سفیان کو لے کر باہر نکلا اور جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابو سفیان کو روکنے کا حکم دیا تھا میں نے اسے روک لیا۔ قبائل اپنے جھنڈوں کے ساتھ گزرنے لگے۔ جب کبھی کوئی قبیلہ گزرتا تو ابو سفیان کہتے: یہ کون ہیں؟ میں کہتا (سلیم) وہ کہتے مجھے( سلیم) سے کیا واسطہ؟ پھر ایک قبیلہ گزرا تو انہوں نے کہا: یہ کون ہیں؟ میں نے : (مزینہ) وہ کہنے گلے:(مزینہ) سے میرا کیا تعلق۔ حتی کہ کئی قبائل گزر گئے، جب کوئی قبیلہ گزرتا تو کہتے یہ کون ہیں؟ میں کہتا: فلاں وہ کہتے: مجھے فلاں سے کیا واسطہ؟ حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑے لشکر کے ساتھ گزرے جس میں مہاجرین اور انصار تھے ۔جن پر لوہے کی زر ہیں تھی اور صرف ان کی آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔ ابو سفیان نے کہا: سبحان اللہ !عباس! یہ کون لوگ ہیں؟ میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا: ان کے مقابلے میں تو کسی کی قوت و طاقت نہیں۔ ابو الفضل! واللہ! تمہارے بھتیجے کی بادشاہت عظیم ہوگئی۔ میں نے کہا: ابو سفیان یہ نبوت ہے(بادشاہت نہیں) ابو سفیان نے کہا: تب تو یہ بہت اچھی ہے۔ میں نے کہا: اپنی قوم کی نجات کا اعلان کرو۔ وہ وہاں سے چل کر اپنی قوم کے پاس آئے اور بلند آوازسے کہنے لگے: اے قریش کی جماعت! یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، تمہارے پاس ایسا لشکر لائےہیں جس کا کوئی مدمقابل نہیں، جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوا وہ امن میں ہے۔ اس کی بیوی ہند بنت عتبہ اس کے پاس آئی اور اس کی مونچھوں سے پکڑ کر کہا: اسع چربی سے بھرے ہوئے پتلی پنڈلیوں والے کو قتل کردو، یہ قوم کا بری خبر کا اطلاع دہندہ ہے۔ ابو سفیان کہنے لگے: تم پر افسوس! یہ عورت تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا لشکر لائے ہیں جس کا کوئی مقابل نہیں، جو شخص ابو سفیان کے گھر میں داخل ہوگیا وہ امن میں ہے ۔لوگ کہنے لگے: تو برباد ہو، تیرا گھر کتنے لوگوں کو کافی ہوگا؟ ابو سفیان نے کہا: جس شخص نے اپنا دروازہ بند کر لیا وہ امن میں ہے۔ جو مسجد میں داخل ہو گیا وہ امن میں ہے۔ تب لوگ اپنے گھروں اور مسجد کی طرف چلے گئے۔
Jam e Tirmazi
777
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ فِيمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَهُوَ مُحْرِمٌ صَائِمٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرَوْا بِالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ بَأْسًا، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالشَّافِعِيِّ.
Ibn Abbas narrated: The Prophet was cupped somewhere between Makkah and Al-Madinah and he was fasting and in Ihram.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے وقت میں پچھنا لگوایا جس میں آپ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، آپ احرام باندھے ہوئے تھے اور روزے کی حالت میں تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری، جابر اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، وہ صائم کے پچھنا لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ سفیان ثوری، مالک بن انس، اور شافعی کا بھی یہی قول ہے۔
Jam e Tirmazi
2577
حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ،‏‏‏‏ وَالْمَدِينَةِ ،‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
Abu Hurairah narrated that the Prophet (s.a.w) said: Indeed a disbeliever's skin will be forty-two forearm lengths thick, his molar teeth will be like Uhud (mountain), and his sitting place in Hell will be like what is between Makkah and Al-Madinah.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کافر کے چمڑے کی موٹائی بیالیس گز ہو گی، اس کی ڈاڑھ احد پہاڑ جیسی ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جتنا مکہ اور مدینہ کے درمیان کا فاصلہ“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اعمش کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Mishkat
488
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِي بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ تَرِدُهَا السبَاع وَالْكلاب والحمر وَعَن الطُّهْرِ مِنْهَا فَقَالَ: لَهَا مَا حَمَلَتْ فِي بُطُونِهَا وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه
ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ان تالابوں سے طہارت حاصل کرنے میں مسئلہ دریافت کیا گیا جہاں سے درندے ، کتے اور گدھے پانی پیتے ہیں ، تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہوں نے جو پی لیا وہ ان کا اور جو بچ گیا وہ ہمارے لیے پاک ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
Mishkat
5456
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ هَارِبًا إِلى مكةَ فيأتيه الناسُ من أهل مَكَّة فيخرجوه وَهُوَ كَارِه فيبايعونه بَين الرُّكْن وَالْمقَام يبْعَث إِلَيْهِ بَعْثٌ مِنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَإِذَا رَأَى النَّاسُ ذَلِكَ أَتَاهُ أَبْدَالُ الشَّامِ وَعَصَائِبُ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُونَهُ ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ وَذَلِكَ بَعَثُ كلب وَيعْمل النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِمْ وَيُلْقِي الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ فِي الْأَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّي عَلَيْهِ الْمُسلمُونَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
ام سلمہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتی ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بادشاہ کی موت کے وقت اختلاف ہو جائے گا ، اہل مدینہ سے ایک آدمی نکل کر مکہ کی طرف بھاگ کھڑا ہو گا ، اہل مکہ سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے تو وہ اسے (اس کے گھر سے) باہر لائیں گے ، وہ ناپسند کرتا ہو گا ، لیکن وہ رکن (حجرِ اسود) اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی بیعت کریں گے ، شام کی طرف سے (اس سے لڑنے کے لیے) اس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جائے گا ، لیکن اس لشکر کو مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام بیداء پر دھنسا دیا جائے گا ، جب لوگ یہ صورتِ حال دیکھیں گے تو شام کے ابدال (عبادت گزار) اور اعراق کے بہترین اشخاص اس کے پاس آئیں گے تو وہ اس کی بیعت کر لیں گے ، پھر قریش سے ایک آدمی ظاہر ہو گا جس کے ننہال کلب قبیلے سے ہوں گے ، وہ (کلبی) ان (بیعت کرنے والوں) کی طرف ایک لشکر بھیجیں گے تو وہ (بیعت کرنے والے) ان پر غالب آ جائیں گے ، اور یہ کلب کا لشکر ہو گا ، اور وہ (مہدی) ان میں نبی ﷺ کی سنت کے مطابق عمل کریں گے ، اسلام زمین پر ثابت و قائم ہو جائے گا ، وہ سات سال رہیں گے ، پھر وفات پا جائیں گے ، اور مسلمان ان کی نمازِ جنازہ پڑھیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Mishkat
5675
وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ غِلَظَ جِلْدِ الْكَافِرِ اثْنَانِ وَأَرْبَعُونَ ذِرَاعًا وَإِنَّ ضِرْسَهُ مِثْلُ أُحُدٍ وَإِنَّ مَجْلِسَهُ مِنْ جَهَنَّمَ مَا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کافر کی جلد کی موٹائی بیالیس ہاتھ ہو گی ، اس کی داڑھ احد پہاڑ کی مثل ہو گی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ اتنی ہو گی جس طرح مکہ اور مدینہ کے درمیان فاصلہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Mishkat
5717
وَعَن ابنِ عبَّاسٍ قَالَ: سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَمَرَرْنَا بِوَادٍ فَقَالَ: «أَيُّ وَادٍ هَذَا؟» . فَقَالُوا: وَادِي الْأَزْرَقِ. قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى» فَذَكَرَ مِنْ لَوْنِهِ وَشَعْرِهِ شَيْئًا وَاضِعًا أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ لَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي . قَالَ: ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ثَنِيَّةٍ. فَقَالَ: «أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟» قَالُوا: هَرْشَى - أَوْ لِفْتُ -. فَقَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ عَلَيْهِ جُبَّةُ صُوفٍ خِطَامُ نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ مَارًّا بِهَذَا الْوَادِي مُلَبِّيًا» رَوَاهُ مُسلم
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکے اور مدینے کے درمیان سفر کیا ، ہم ایک وادی سے گزرے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کون سی وادی ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، وادی ازرق ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ گویا میں موسی ؑ کو دیکھ رہا ہوں ۔‘‘ آپ نے ان کے رنگ اور ان کے بالوں کے متعلق کچھ بتایا ، اور بتایا کہ ’’ وہ اپنی دونوں انگلیاں اپنے کانوں میں رکھے ہوئے تھے ، وہ تلبیہ کے ذریعے اللہ سے تضرع کرتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر ہم نے سفر کیا اور ہم گھاٹی پر پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ کون سی گھاٹی ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہرشی یا لفت ۔ فرمایا :’’ گویا میں یونس ؑ کو سرخ اونٹنی پر سوار دیکھ رہا ہوں ، انہوں نے اونی جبہ پہنا ہوا ہے ، اور ان کی اونٹنی کی مہار کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی ہے ، اور وہ بھی تلبیہ کہتے ہوئے اس وادی سے گزر رہے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔