مشکوۃ

Mishkat

حدود کا بیان

شراب اور شراب نوش کی وعید کا بیان

بَابُ بَيَانِ الْخَمْرِ وَوَعِيدِ شَارِبِهَا

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْخَمْرُ مِنْ هَاتَيْنِ الشَّجرتينِ: النخلةِ والعِنَبَةِ . رَوَاهُ مُسلم

ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شراب ان درختوں کھجور اور انگور سے تیار ہوتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَقَدْ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ حِينَ حُرِّمَتْ وَمَا نَجِدُ خَمْرَ الْأَعْنَابِ إِلَّا قَلِيلًا وَعَامة خمرنا الْبُسْر وَالتَّمْر. رَوَاهُ البُخَارِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب شراب حرام کی گئی ، ہم انگوروں کی شراب کم پاتے تھے ، اور ہماری زیادہ تر شراب خشک اور تازہ کھجور سے تیار ہوتی تھی ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِتْعِ وَهُوَ نَبِيذُ الْعَسَلِ فَقَالَ: «كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ»

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے شہد کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نشہ آور مشروب حرام ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الدُّنْيَا فَمَاتَ وَهُوَ يُدْمِنُهَا لَمْ يَتُبْ لَمْ يَشْرَبْهَا فِي الْآخِرَةِ» . رَوَاهُ مُسلم

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسی پر دوام کرتے ہوئے توبہ کیے بغیر فوت ہو جائے تو وہ اسے آخرت میں نہیں پیئے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَدِمَ مِنَ الْيَمَنِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرَابٍ يَشْرَبُونَهُ بِأَرْضِهِمْ مِنَ الذُّرَةِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أوَ مُسْكِرٌ هُوَ؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ إِنَّ عَلَى اللَّهِ عَهْدًا لِمَنْ يَشْرَبُ الْمُسْكِرَ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ» . قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ: «عَرَقُ أَهْلِ النَّارِ أَوْ عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ سے روایت ہے کہ یمن سے ایک آدمی آیا تو اس نے نبی ﷺ سے ، اپنے ملک میں جوار سے تیار ہونے والی مزر نامی پی جانے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وہ نشہ آور ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ بے شک یہ بات اللہ کے ذمہ ہے کہ جو شخص نشہ آور چیز پیئے گا تو اللہ اسے ((طینۃ الخبال)) پلائے گا ۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ((طینۃ الخبال)) کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنمیوں کا پسینہ یا جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والا خون اور پیپ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ خَلِيطِ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ. وَقَالَ: «انْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَةٍ» . رَوَاهُ مُسلم

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے تازہ کھجور اور خشک کھجور کو ملانے ، منقی اور تازہ کھجور کو ملانے اور کچی کھجور اور تازہ کھجور ملانے سے منع فرمایا ، اور فرمایا :’’ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ تیار کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ يُتَّخَذُ خَلًّا؟ فَقَالَ: «لَا» . رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے شراب سے سرکہ بنانے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّ طَارِقَ بْنَ سُوَيْدٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَمْرِ فَنَهَاهُ. فَقَالَ: إِنَّمَا أَصْنَعُهَا لِلدَّوَاءِ فَقَالَ: «إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وائل حضرمی سے روایت ہے کہ طارق بن سوید نے نبی ﷺ سے شراب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے انہیں منع فرما دیا ، انہوں نے عرض کیا : میں اسے دوائی کے لیے بناتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ دوائی نہیں ، وہ تو بیماری ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم«مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَإِن عَاد لم يقبل الله لَهُ صَلَاة أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِن عَاد لم يقبل الله لَهُ صَلَاة أَرْبَعِينَ صَبَاحًا فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاة أَرْبَعِينَ صباحا فَإِن تَابَ لم يَتُبِ اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَقَاهُ مِنْ نَهْرِ الْخَبَالِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص شراب پیتا ہے تو اللہ چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اگر وہ دوبارہ پی لے تو اللہ چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اگر وہ سہ بارہ پی لے تو اللہ اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اگر وہ چوتھی مرتبہ پی لے تو اللہ اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا ، اور وہ اسے جہنمیوں کے پیپ کی نہر سے پلائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ عَبْدِ الله بن عَمْرو

امام نسائی ، ابن ماجہ اور امام دارمی نے اسے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أسكرَ مِنْهُ الفرْقُ فَمِلْءُ الْكَفِّ مِنْهُ حَرَامٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد

عائشہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ’’ فرق ‘‘ (سورطل) نشہ آور ہو تو اس کا چلو بھر پینا بھی حرام ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گندم سے شراب ہوتی ہے ، جو سے شراب ہوتی ہے ۔ کھجور سے شراب ہوتی ہے ، انگور سے بھی اور شہد سے بھی شراب ہوتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔

وَعَن أبي سعيدٍ الخدريِّ قَالَ: كانَ عندَنا خَمْرٌ لِيَتِيمٍ فَلَمَّا نَزَلَتِ (الْمَائِدَةُ) سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ وَقُلْتُ: إِنَّه ليَتيمٍ فَقَالَ: «أهْريقوهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمارے پاس ایک یتیم بچے کی شراب تھی ، جب سورۂ مائدہ نازل ہوئی تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اور میں نے عرض کیا ، وہ یتیم کی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے بہا دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ أَنَسٍ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ: أَنَّهُ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي اشْتَرَيْتُ خَمْرًا لِأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي قَالَ: «أَهْرِقِ الْخَمْرَ وَاكْسِرِ الدِّنَانَ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَضَعَّفَهُ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ: أَنه سَأَلَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ وَرِثُوا خَمْرًا قَالَ: «أَهْرِقْهَا» . قَالَ: أَفَلَا أَجْعَلُهَا خلاًّ؟ قَالَ: «لَا»

انس ؓ ، ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں نے اپنے زیر پرورش یتیم بچوں کے لیے شراب خریدی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شراب بہا دو اور (اس کے) برتن توڑ دو ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے یتیم بچوں کے ورثہ میں آنے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے بہا دو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیا میں اسے سرکہ نہ بنا لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ ومقتر. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہر نشہ آور اور قُویٰ میں سستی پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ دَيْلَمٍ الْحِمْيَرِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ بَارِدَةٍ وَنُعَالِجُ فِيهَا عَمَلًا شَدِيدًا وَإِنَّا نَتَّخِذُ شَرَابًا مِنْ هَذَا الْقَمْحِ نَتَقَوَّى بِهِ عَلَى أَعْمَالِنَا وَعَلَى بَرْدِ بِلَادِنَا قَالَ: «هَلْ يُسْكِرُ؟» قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: «فَاجْتَنِبُوهُ» قُلْتُ: إِنَّ النَّاسَ غَيْرُ تَارِكِيهِ قَالَ: «إِنْ لَمْ يَتْرُكُوهُ فقاتلوهم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

دیلم حمیری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم سرد علاقے میں رہتے ہیں اور وہاں مشقت والا کام کرتے ہیں ، ہم اس گندم سے شراب تیار کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم اپنے کام اور اپنے علاقے کی سردی کے مقابلے میں قوت حاصل کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وہ نشہ آور ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے اجتناب کرو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : لوگ اسے ترک کرنے والے نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو ان سے لڑائی کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ وَقَالَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شراب جوئے ، نرد / چھوٹے طبلے اور غبیراء (شراب کی ایک قسم) سے منع فرمایا ، اور فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا قَمَّارٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: «وَلَا وَلَدَ زِنْيَةٍ» بَدَلَ «قمار»

عبداللہ بن عمرو ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ والدین کا نافرمان ، قمار ، احسان جتلانے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ دارمی ۔ اور انہی کی ایک روایت میں قمار کے بجائے ولد زنا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔