ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شراب ان درختوں کھجور اور انگور سے تیار ہوتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر خطبہ دیا تو فرمایا : شراب کی حرمت نازل ہو چکی ، اور وہ پانچ اشیاء : انگور ، کھجور ، گندم ، جو اور شہد سے تیار ہوتی ہے ، اور شراب وہ ہے جو عقل پر پردہ ڈال دے ۔ رواہ البخاری ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب شراب حرام کی گئی ، ہم انگوروں کی شراب کم پاتے تھے ، اور ہماری زیادہ تر شراب خشک اور تازہ کھجور سے تیار ہوتی تھی ۔ رواہ البخاری ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے شہد کی نبیذ کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نشہ آور مشروب حرام ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور وہ اسی پر دوام کرتے ہوئے توبہ کیے بغیر فوت ہو جائے تو وہ اسے آخرت میں نہیں پیئے گا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ یمن سے ایک آدمی آیا تو اس نے نبی ﷺ سے ، اپنے ملک میں جوار سے تیار ہونے والی مزر نامی پی جانے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وہ نشہ آور ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔ بے شک یہ بات اللہ کے ذمہ ہے کہ جو شخص نشہ آور چیز پیئے گا تو اللہ اسے ((طینۃ الخبال)) پلائے گا ۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ((طینۃ الخبال)) کیا چیز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جہنمیوں کا پسینہ یا جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والا خون اور پیپ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے تازہ کھجور اور خشک کھجور کو ملانے ، منقی اور تازہ کھجور کو ملانے اور کچی کھجور اور تازہ کھجور ملانے سے منع فرمایا ، اور فرمایا :’’ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ تیار کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے شراب سے سرکہ بنانے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وائل حضرمی سے روایت ہے کہ طارق بن سوید نے نبی ﷺ سے شراب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے انہیں منع فرما دیا ، انہوں نے عرض کیا : میں اسے دوائی کے لیے بناتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ دوائی نہیں ، وہ تو بیماری ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص شراب پیتا ہے تو اللہ چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اگر وہ دوبارہ پی لے تو اللہ چالیس روز تک اس کی نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اگر وہ سہ بارہ پی لے تو اللہ اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ، اگر وہ چوتھی مرتبہ پی لے تو اللہ اس کی چالیس روز تک نماز قبول نہیں کرتا ، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا ، اور وہ اسے جہنمیوں کے پیپ کی نہر سے پلائے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
وَرَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ عَنْ عَبْدِ الله بن عَمْرو
امام نسائی ، ابن ماجہ اور امام دارمی نے اسے عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس چیز کی کثیر مقدار نشہ آور ہو تو اس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جب ’’ فرق ‘‘ (سورطل) نشہ آور ہو تو اس کا چلو بھر پینا بھی حرام ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گندم سے شراب ہوتی ہے ، جو سے شراب ہوتی ہے ۔ کھجور سے شراب ہوتی ہے ، انگور سے بھی اور شہد سے بھی شراب ہوتی ہے ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہمارے پاس ایک یتیم بچے کی شراب تھی ، جب سورۂ مائدہ نازل ہوئی تو میں نے اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اور میں نے عرض کیا ، وہ یتیم کی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے بہا دو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
انس ؓ ، ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! میں نے اپنے زیر پرورش یتیم بچوں کے لیے شراب خریدی ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ شراب بہا دو اور (اس کے) برتن توڑ دو ۔‘‘ ترمذی ۔ اور انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے یتیم بچوں کے ورثہ میں آنے والی شراب کے متعلق دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے بہا دو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : کیا میں اسے سرکہ نہ بنا لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہر نشہ آور اور قُویٰ میں سستی پیدا کرنے والی ہر چیز سے منع فرمایا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
دیلم حمیری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم سرد علاقے میں رہتے ہیں اور وہاں مشقت والا کام کرتے ہیں ، ہم اس گندم سے شراب تیار کرتے ہیں جس کے ذریعے ہم اپنے کام اور اپنے علاقے کی سردی کے مقابلے میں قوت حاصل کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا وہ نشہ آور ہے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے اجتناب کرو ۔‘‘ میں نے عرض کیا : لوگ اسے ترک کرنے والے نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر وہ اسے نہ چھوڑیں تو ان سے لڑائی کرو ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے شراب جوئے ، نرد / چھوٹے طبلے اور غبیراء (شراب کی ایک قسم) سے منع فرمایا ، اور فرمایا :’’ ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ والدین کا نافرمان ، قمار ، احسان جتلانے والا اور ہمیشہ شراب پینے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ دارمی ۔ اور انہی کی ایک روایت میں قمار کے بجائے ولد زنا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔