مشکوۃ

Mishkat

جہاد کا بیان

جہاد میں قتال (کے اجر و ثواب) کا بیان

بَاب الْقِتَال فِي الْجِهَاد

عَن جَابر قَالَ: قَالَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ: «فِي الْجنَّة» فَألْقى ثَمَرَات فِي يَده ثمَّ قَاتل حَتَّى قتل

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے نبی ﷺ سے غزوہ احد کے روز عرض کیا : مجھے بتائیں کہ اگر میں قتل کر دیا جاؤں تو کہاں ہوں گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت میں ۔‘‘ اس نے وہ کھجوریں ، جو کہ اس کے ہاتھ میں تھیں ، پھینک دیں ، پھر قتال کیا حتی کہ شہید کر دیا گیا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن كَعْب بن مالكٍ قَالَ: لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ يَعْنِي غَزْوَةَ تَبُوكَ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ کا ارادہ فرماتے تو آپ اس کے علاوہ کسی اور کا توریہ فرمایا کرتے تھے لیکن جب یہ غزوہ یعنی غزوہ تبوک ہوا جسے رسول اللہ ﷺ نے سخت گرمی میں لڑا ، اس میں آپ کو دور دراز کا سفر ، بے آب و گیاہ راستوں اور بہت زیادہ دشمنوں کا سامنا تھا لہذا آپ ﷺ نے مسلمانوں کے لیے ان کے معاملے کو واضح کر دیا تاکہ وہ اپنے غزوہ کے لیے خوب تیاری کر لیں ، آپ ﷺ نے جس سمت جانا تھا وہ انہیں بتا دی ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الْحَرْب خدعة»

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لڑائی ایک دھوکہ ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا يَسْقِينَ الْمَاءَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَى. رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ جہاد کے لیے جاتے تو ام سلیم ؓ اور انصار کی کچھ عورتیں آپ ﷺ کے ساتھ جہاد کے لیے جاتیں وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کا علاج کرتی تھیں ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَن أُمِّ عطيَّةَ قَالَتْ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ فَأَصْنَعُ لَهُمُ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَى وَأَقُومُ عَلَى المرضى. رَوَاهُ مُسلم

ام عطیہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شرکت کی ، میں اِن کے سامان کے پاس رہا کرتی تھی ، اِن کے لیے کھانا تیار کرتی ، زخمیوں کا علاج کرتی اور مریضوں کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ

عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن الصَّعبِ بنِ جِثَّامةَ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ أهلِ الدَّارِ يَبِيتُونَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَيُصَابَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ قَالَ: «هُمْ مِنْهُمْ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «هُمْ مِنْ آبائِهم»

صعب بن جثامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ سے محلوں میں رہنے والے مشرکین کے بارے میں دریافت کیا گیا جن پر شب خون مارا جائے جس میں ان کی عورتیں اور ان کے بچے ہلاک ہو جائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ بھی انہیں کے حکم میں ہیں ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ وہ اپنے آباء کے تابع ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بني النَّضيرِ وحرَّقَ وَلها يقولُ حسَّانٌ: وَهَانَ عَلَى سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُستَطيرُ وَفِي ذَلِكَ نَزَلَتْ (مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ)

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت کاٹے اور جلائے ، حسان ؓ نے اس کے متعلق شعر کہا :’’ بنولؤی کے سرداروں کے لیے بویرہ پر (کھجوروں کے درختوں کو) جلانا آسان ہوا جو کہ پھیلا ہوا تھا ۔‘‘ اور اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی :’’ تم نے کھجور کے جو درخت کاٹ ڈالے یا انہیں ان کے تنوں پر قائم رہنے دیا وہ (سب) اللہ کے حکم سے تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ: أَنَّ نَافِعًا كَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ عمر أخبرهُ أَن ابْن عمر أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَغَارَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ غَارِّينِ فِي نَعَمِهِمْ بِالْمُرَيْسِيعِ فَقتل الْمُقَاتلَة وسبى الذُّرِّيَّة

عبداللہ بن عون ؓ سے روایت ہے کہ (ابن عمر ؓ کے آزاد کردہ غلام) نافع ؒ نے انہیں خط لکھا جس میں انہوں نے انہیں (یعنی مجھے) یہ بتایا کہ ابن عمر ؓ نے انہیں (یعنی نافع کو) خبر دی کہ نبی ﷺ نے بنو مصطلق پر اس وقت حملہ کیا جب وہ مریسیع کے مقام پر اپنے مویشیوں میں غافل تھے ، آپ ﷺ نے جنگجوؤں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا ۔ متفق علیہ ۔

وَعَن أبي أَسِيدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا يَوْمَ بَدْرٍ حِينَ صَفَفَنَا لِقُرَيْشٍ وَصَفُّوا لَنَا: «إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَعَلَيْكُمْ بِالنَّبْلِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: «إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَحَدِيث سعد: «هُوَ تُنْصَرُونَ» سَنَذْكُرُهُ فِي بَابِ «فَضْلِ الْفُقَرَاءِ» . وَحَدِيثُ الْبَرَاءِ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا فِي بَابِ «الْمُعْجِزَاتِ» إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى

ابواسید ؓ سے روایت ہے کہ جب غزوہ بدر کے موقع پر ہم اور قریش ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہوئے تو نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جب وہ تمہارے قریب آ جائیں تو تم ان پر تیر برساؤ ، اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب وہ تمہارے قریب آ جائیں تو تم ان پر تیر برساؤ اور کچھ تیر اپنے پاس محفوظ رکھو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔ اور سعد ؓ سے مروی حدیث :’’ تمہاری مدد نہیں کی جاتی ...... ‘‘ ہم عنقریب باب فضل الفقراء میں ذکر کریں گے ، اور براء ؓ سے مروی حدیث ’’رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا .....‘‘ باب المعجزات میں ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے ۔

عَن عبدِ الرَّحمنِ بن عَوفٍ قَالَ: عَبَّأَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ببدر لَيْلًا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عبدالرحمن بن عوف ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے بدر کے مقام پر ہمیں رات کے وقت ہی تیار کر دیا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن الْمُهلب أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنْ بَيَّتَكُمُ الْعَدُوُّ فَلْيَكُنْ شِعَارُكُمْ: حم لَا ينْصرُونَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

مہلّب ؒ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر دشمن تم پر شب خون مارے تمہارا شعار (کوڈ ورڈ) یہ ہونا چاہیے : حٰمٓ لَا یُنْصَرُوْنَ ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَن سَمُرةَ بن جُندبٍ قَالَ: كَانَ شِعَارُ الْمُهَاجِرِينَ: عَبْدَ اللَّهِ وَشِعَارُ الْأَنْصَار: عبدُ الرَّحمنِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، مہاجرین کا شعار (کوڈ ورڈ) ’’عبداللہ‘‘ اور انصار کا شعار ’’ عبد الرحمن‘‘ تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ أبي بكر زمن النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فبيَّتْناهُم نَقْتُلُهُمْ وَكَانَ شِعَارُنَا تِلْكَ اللَّيْلَةَ: أَمِتْ أَمِتْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے نبی ﷺ کے دور میں ابوبکر ؓ کی معیت میں جہاد کیا ، ہم نے ان پر شب خون مارا ، ہم انہیں قتل کرتے ، اور اس رات ہمارا شعار تھا : أَمِتْ ، أَمِتْ یعنی مارو ، مارو ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن قيسِ بنِ عُبادٍ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُونَ الصَّوْتَ عِنْدَ الْقِتَالِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

قیس بن عبادہ ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ قتال کے وقت (اللہ کے ذکر کے علاوہ) شور و شغب کو ناپسند کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن سَمُرَة بن جُنْدُبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اقْتُلُوا شُيُوخَ الْمُشْرِكِينَ وَاسْتَحْيُوا شَرْخَهُمْ» أَيْ صِبْيَانَهُمْ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

سمرہ بن جندب ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مشرکین کے بوڑھوں کو قتل کرو اور ان کے بچوں کو زندہ رکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

وَعَن عُروَةَ قَالَ: حدَّثني أسامةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْهِ قَالَ: «أَغِرْ عَلَى أُبْنَى صباحا وَحرق» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عروہ ؒ بیان کرتے ہیں ، اسامہ ؓ نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے وصیت کرتے ہوئے فرمایا :’’ اُبنٰی پر صبح کے وقت حملہ کر اور (ان کی کھیتیاں اور درخت) جلا دے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: «إِذَا أَكْثَبُوكُمْ فَارْمُوهُمْ وَلَا تَسُلُّوا السُّيُوفَ حَتَّى يَغْشَوْكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

ابواُسید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے غزوہ بدر کے موقع پر فرمایا :’’ جب وہ تمہارے قریب آ جائیں تو پھر ان پر تیر چلاؤ اور جب تک وہ تمہارے بہت قریب نہ آ جائیں تلواریں نہ سونتو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن رَبَاح بن الرَّبيعِ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غزوةٍ فَرَأى الناسَ مجتمعينَ عَلَى شَيْءٍ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: «انْظُرُوا عَلَى من اجْتمع هَؤُلَاءِ؟» فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ فَقَالَ: «مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ» وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: قُلْ لِخَالِدٍ: لَا تَقْتُلِ امْرَأَة وَلَا عسيفا . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

رباح بن ربیع ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، آپ نے لوگوں کو کسی چیز کے گرد جمع دیکھا تو آپ ﷺ نے ایک آدمی بھیجا اور فرمایا : دیکھ وہ لوگ کس لیے جمع ہیں ؟‘‘ وہ آیا تو اس نے عرض کیا : ایک مقتولہ عورت کے گرد جمع ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو جنگجو نہ تھی ۔‘‘ ہر اول دستے پر خالد بن ولید ؓ تھے ، آپ ﷺ نے ایک آدمی بھیجا اور اسے فرمایا :’’ خالد سے کہو : کسی عورت کو قتل کرو نہ کسی اجیر (اجرتی) کو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللَّهِ وَبِاللَّهِ وعَلى ملِّة رسولِ الله لَا تقْتُلوا شَيْخًا فَانِيًا وَلَا طِفْلًا صَغِيرًا وَلَا امْرَأَةً وَلَا تَغُلُّوا وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا فَإِنَّ اللَّهَ يحبُّ المحسنينَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ کے نام کے ساتھ ، اللہ کی توفیق سے اور رسول اللہ ﷺ کی ملت پر چلو ، کسی بہت بوڑھے شخص کو قتل کرو نہ کسی چھوٹے بچے کو اور نہ ہی کسی عورت کو ، اور نہ خیانت کرو ، اپنا مال غنیمت اکٹھا کرو ، (اپنے امور کی) اصلاح کرو اور احسان کرو کیونکہ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔