مشکوۃ

Mishkat

لباس کا بیان

کنگھی کرنے کا بیان

بَاب التَّرَجُّل

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أُرَجِّلُ رَأْسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا حَائِض

عائشہ بیان کرتی ہیں ، میں حالت حیض میں بھی رسول اللہ ﷺ کے سر میں کنگھی کیا کرتی تھی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْفِطْرَةُ خَمْسٌ: الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ ونتفُ الإِبطِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ پانچ چیزیں فطرت سے ہیں ، ختنہ کرنا ، زیر ناف بال صاف کرنا ، مونچھیں کترنا ، ناخن تراشنا اور بغلوں کے بال اکھاڑنا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ: أَوْفِرُوا اللِّحَى وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ . وَفِي رِوَايَةٍ: «أنهكوا الشَّوَارِب وأعفوا اللحى»

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مشرکوں کی مخالفت کرو ، داڑھیاں بڑھاؤ اور مونچھیں کتراؤ ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ مونچھیں خوب کتراؤ اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن أَنس قَالَ: وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَنَتْفِ الْإِبِطِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَنْ لَا تُتْرَكَ أَكثر من أَرْبَعِينَ لَيْلَة. رَوَاهُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، مونچھیں کترانے ، ناخن تراشنے ، بغلوں کے بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے متعلق ہمارے لیے وقت مقرر کیا گیا کہ ہم (انہیں) چالیس روز سے زیادہ نہ چھوڑیں ۔ رواہ مسلم ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصبِغون فخالفوهم»

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ یہود و نصاریٰ خضاب نہیں لگاتے ، تم ان کی مخالف کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

وَعَن جَابر قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثُّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّواد» . رَوَاهُ مُسلم

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، فتح مکہ کے روز ابو قحافہ (ابوبکر ؓ کے والد عثمان بن عامر) کو بلایا گیا تو ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ (سفید گھاس) کی طرح سفید تھی ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس کی سفیدی کو کسی دوسرے رنگ میں تبدیل کرو اور سیاہ رنگ سے اجتناب کرو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ مُوَافَقَةَ أَهْلِ الْكِتَابِ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدُلُونَ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرِقُونَ رؤوسهم فَسَدَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ ثمَّ فرق بعدُ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، جس معاملے میں نبی ﷺ کہ حکم نہ ملتا تو آپ اس میں اہل کتاب سے موافقت کرنا پسند فرماتے تھے ۔ اہل کتاب اپنے بال سیدھے چھوڑتے تھے جبکہ مشرکین اپنے بالوں کی مانگ نکالا کرتے تھے ، نبی ﷺ نے اپنی پیشانی کے بال سیدھے چھوڑے ، پھر بعد میں مانگ نکالی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنِ الْقَزَعِ. قِيلَ لِنَافِعٍ: مَا الْقَزَعُ؟ قَالَ: يُحْلَقُ بعضُ رَأس الصبيِّ وَيتْرك البعضُ وَألْحق بَعضهم التَّفْسِير بِالْحَدِيثِ

نافع ، ابن عمر ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے نبی ﷺ کو ’’ قزع ‘‘ سے منع فرماتے ہوئے سنا ، نافع سے پوچھا گیا :’’ قزع ‘‘ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : بچے کے سر کے کچھ حصے کو مونڈ دیا جائے اور کچھ کو چھوڑ دیا جائے ۔ بخاری ، مسلم ۔ اور بعض محدثین نے اس تفسیر کو حدیث کے ساتھ ملا دیا ہے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا قَدْ حُلِقَ بَعْضُ رَأْسِهِ وَتُرِكَ بَعْضُهُ فَنَهَاهُمْ عَنْ ذَلِكَ وَقَالَ: «احْلِقُوا كُلَّهُ أَوِ اتْرُكُوا كُلَّهُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک بچہ دیکھا جس کے سر کا کچھ حصہ مونڈ دیا گیا تھا اور کچھ چھوڑ دیا گیا تھا ، آپ ﷺ نے انہیں اس سے منع کر دیا اور فرمایا :’’ سارا (سر) مونڈو یا سارا چھوڑ دو ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

وَعَن ابْن عَبَّاس قَالَ: لعن الله الْمُخَنَّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَقَالَ: «أخرجوهم من بُيُوتكُمْ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے عورتوں کے ساتھ مشابہت کرنے والے مردوں اور مردوں کے ساتھ مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ۔ اور فرمایا :’’ انہیں اپنے گھروں سے نکال دو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَشَبِّهِينَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ والمتشبِّهات من النِّسَاء بِالرِّجَالِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے عورتوں سے مشابہت کرنے والے مردوں اور مردوں سے مشابہت کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ والواشمة والمستوشمة»

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بالوں میں بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر اور بدن گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ لَعَنْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ فَقَالَ: مَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ هُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتْ: لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ فَمَا وجدت فِيهِ مَا نقُول قَالَ: لَئِنْ كُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ أَمَا قَرَأت: (مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا) ؟ قَالَت: بلَى قَالَ: فإِنه قد نهى عَنهُ

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے بدن گودنے والیوں اور بدن گدوانے والیوں پر ، (چہرے اور پلکوں وغیرہ کے) بال نوچنے والیوں اور حسن کی خاطر دانتوں کو باریک و تیز کرنے والیوں پر ، اللہ کی تخلیق کو بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ۔ ابن مسعود ؓ کے پاس ایک عورت آئی تو اس نے کہا : مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ نے ایسی ایسی عورتوں پر لعنت کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے کیا ہے کہ جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہو اور میں اس پر لعنت نہ کروں ؟ جبکہ وہ اللہ کی کتاب میں ہے ۔ اس عورت نے کہا : میں نے پورا قرآن پڑھا ہے لیکن جو آپ کہتے ہیں ، میں نے وہ بات اس میں نہیں پائی ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم نے اسے پڑھا ہوتا تو تم یہ بات اس میں پا لیتی ، کیا تم نے یہ نہیں پڑھا :’’ اللہ کے رسول جو تمہیں دیں اسے لے لو اور جس سے تمہیں منع کریں اس سے رک جاؤ ۔‘‘ اس نے کہا : کیوں نہیں ، میں نے اسے پڑھا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْعَيْنُ حَقٌّ» وَنَهَى عَن الوشم. رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نظر کا لگ جانا ثابت ہے ، اور آپ نے بدن گودنے سے منع فرمایا ہے ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا درآنحالیکہ آپ نے سر کے بالوں کو چپکایا ہوا تھا ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَزَعْفَرَ الرَّجُلُ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے آدمی کے لیے زعفران کا استعمال ممنوع قرار دیا ہے ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا نَجِدُ حَتَّى أَجِدَ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ ولحيته

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ہمیں جو بہترین خوشبو میسر ہوتی ، وہ میں نبی ﷺ کو لگایا کرتی تھی حتی کہ میں خوشبو کی چمک آپ کے سر اور آپ کی داڑھی میں پاتی تھی ۔ متفق علیہ ۔

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا اسْتَجْمَرَ اسْتَجْمَرَ بِأَلُوَّةٍ غَيْرِ مُطَرَّاةٍ وَبِكَافُورٍ يَطْرَحُهُ مَعَ الْأَلُوَّةِ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ يَسْتَجْمِرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسلم

نافع بیان کرتے ہیں ، جب ابن عمر ؓ بخور (کی دھونی) لیتے تو آپ (کبھی) کافور ملائے بغیر بخور والی لکڑی کی دھونی لیتے تھے اور (کبھی) وہ دھونی والی لکڑی پر کافور بھی ڈال لیا کرتے تھے ، پھر فرمایا : رسول اللہ ﷺ اسی طرح دھونی لیا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُصُّ أَوْ يَأْخُذُ مِنْ شَارِبِهِ وَكَانَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ صَلَوَاتُ الرَّحْمَنِ عَلَيْهِ يَفْعَله. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ اپنی مونچھیں کتراتے تھے اور ابراہیم خلیل الرحمن صلوات الرحمن علیہ بھی مونچھیں کتراتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ لَمْ يَأْخُذ شَارِبِهِ فَلَيْسَ مِنَّا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ

زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص اپنی مونچھیں نہیں کتراتا وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ صحیح رواہ احمد و الترمذی و النسائی ۔