عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ اپنی داڑھی کو طول و عرض سے تراشتے تھے ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
یعلی بن مرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اس پر خوشبو کا اثر دیکھا تو فرمایا :’’ کیا تمہاری بیوی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اسے دھو ڈال ، پھر اسے دھو ڈال ، پھر اسے دھو ڈال ، پھر دوبارہ نہ کرنا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اس شخص کی ، جس کے جسم پر خلوق (خوشبو کی ایک قسم) کا اثر ہو ، نماز قبول نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عمار بن یاسر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں سفر سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آیا تو میرے ہاتھ پھٹ گئے تھے ، انہوں (اہل خانہ) نے میرے زعفران کی خوشبو لگا دی ، میں صبح کے وقت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا ، آپ ﷺ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا اور فرمایا :’’ جاؤ اور اسے اپنے (بدن) سے دھو ڈالو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو ہو مگر رنگ نہ ہو جبکہ خواتین کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ہو مگر اس کی مہک نہ ہو ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و النسائی ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مرکب قسم کی خوشبو تھی جس سے آپ خوشبو لگایا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر بہت زیادہ تیل لگایا کرتے تھے ، اپنی داڑھی میں خوب کنگھی کیا کرتے تھے ، اور سر کو اچھی طرح ڈھانپ کر رکھا کرتے تھے ، گویا آپ کا کپڑا ایسے تھا جیسے تیلی کا کپڑا ہو ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ام ہانی ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس مکہ میں تشریف لائے تو آپ کے چار گیسو تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب میں رسول اللہ ﷺ کے سر کے بالوں کی مانگ نکالتی تو میں آپ کے تالو سے بالوں کو الگ کرتی اور آپ کی پیشانی کے بالوں کو آپ کی آنکھوں کے درمیان لٹکا دیتی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے روزانہ بلا ناغہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
عبداللہ بن بریدہ ؒ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے فضالہ بن عبید سے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کے بال بکھرے ہوئے دیکھتا ہوں ؟ انہوں نے کہا ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ زیادہ ناز و نعمت سے ہمیں منع کیا کرتے تھے ، اس شخص نے کہا : کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو ننگے پاؤں دیکھتا ہوں ؟ انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم فرمایا کرتے تھے کہ ہم کبھی کبھار ننگے پاؤں چلا کریں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص کے بال ہوں وہ انہیں سنوار کر رکھے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سفید بالوں (بڑھاپے) کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عباس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو اس سیاہی سے کبوتروں کے سینوں کی طرح خضاب کریں گے ، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سبتی جوتے (جن پر بال نہیں ہوتے تھے) پہنا کرتے تھے ، اور ورس (یمن کے علاقے کی ایک بوٹی) اور زعفران سے اپنی داڑھی کو زرد کیا کرتے تھے ، اور ابن عمر ؓ بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی ، نبی ﷺ کے پاس سے گزرا جس نے مہندی لگائی ہوئی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا خوب ہے یہ !‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر دوسرا آدمی گزرا جس نے مہندی اور وسمہ لگایا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اس سے بھی بہتر ہے ۔‘‘ پھر ایک اور شخص گزرا جس نے زرد رنگ کیا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ ان سب سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بڑھاپے (سفید بالوں) کو بدل ڈالو اور یہود سے مشابہت نہ کرو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
وَرَوَاهُ النَّسَائِيّ عَن ابْن عمر وَالزُّبَيْر
اور امام نسائی نے اسے ابن عمر اور ابن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ النسائی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ النسائی ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اوروہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سفید بال ختم نہ کرو کیونکہ وہ مسلمان کا نور ہے ، جس کا حالتِ اسلام میں بال سفید ہوتا ہے تو اس کے بدلے میں اللہ اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہے ، اس کے بدلہ میں اس کی ایک غلطی ختم کر دیتا ہے اور اس کے بدلہ میں اس کا ایک درجہ بلند کر دیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔