مشکوۃ

Mishkat

لباس کا بیان

کنگھی کرنے کا بیان

بَاب التَّرَجُّل

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ يَصْفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالصُّفْرَةِ حَتَّى تَمْتَلِئَ ثِيَابُهُ مِنَ الصُّفْرَةِ فَقِيلَ لَهُ: لِمَ تُصْبِغُ بِالصُّفْرَةِ؟ قَالَ: أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهَا وَقد كَانَ يصْبغ ثِيَابَهُ كُلَّهَا حَتَّى عِمَامَتَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ اپنی داڑھی کو زرد رنگ دیا کرتے تھے حتی کہ زرد رنگ سے ان کے کپڑے بھر جاتے تھے ، ان سے پوچھا گیا ، آپ زرد رنگ کیوں لگاتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے ساتھ رنگتے ہوئے دیکھا ہے اور آپ کو یہ رنگ سب سے زیادہ پسند تھا ۔ آپ ﷺ اپنے تمام کپڑے حتی کہ اپنا عمامہ بھی اسی کے ساتھ رنگا کرتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمُخَنَّثٍ قَدْ خَضَبَ يَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ بِالْحِنَّاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا بَالُ هَذَا؟» قَالُوا: يَتَشَبَّهُ بِالنِّسَاءِ فَأَمَرَ بِهِ فَنُفِيَ إِلَى النَّقِيعِ. فَقيل: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَقْتُلُهُ؟ فَقَالَ: «إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مخنث (ہجڑا) لایا گیا جس نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں پر مہندی لگا رکھی تھی ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس کا کیا معاملہ ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، وہ عورتوں سے مشابہت کرتا ہے ، آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے نقیع کی طرف جلا وطن کر دیا گیا ، آپ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَن الوليدِ بن عقبةَ قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ جَعَلَ أَهْلُ مَكَّةَ يَأْتُونَهُ بصبيانهم فيدعو لَهُم بِالْبركَةِ وَيمْسَح رؤوسهم فَجِيءَ بِي إِلَيْهِ وَأَنَا مُخَلَّقٌ فَلَمْ يَمَسَّنِي من أجل الخَلوق. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ولید بن عقبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ فتح کر لیا تو اہل مکہ اپنے بچے آپ کے پاس لانے لگے ، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کے سروں پر ہاتھ پھیرتے ، مجھے بھی آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا جبکہ میں نے خلوق (زعفران کے ساتھ مخلوط خوشبو) لگائی ہوئی تھی ، لہذا آپ ﷺ نے خلوق کی وجہ سے مجھے ہاتھ نہ لگایا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جُمَّةً أَفَأُرَجِّلُهَا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ وَأَكْرِمْهَا» قَالَ: فَكَانَ أَبُو قَتَادَةَ رُبَّمَا دَهَنَهَا فِي الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ مِنْ أَجْلِ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ وَأَكْرمهَا» . رَوَاهُ مَالك

ابوقتادہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، میرے بال لمبے (کندھوں تک) ہیں ، کیا میں ان میں کنگھی کر لیا کروں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، اور انہیں سنوار کر رکھ ۔‘‘ راوی نے کہا ، اور ابوقتادہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے اس قول کی وجہ سے کہ ’’ بالوں کو سنوار کر رکھو ۔‘‘ دن میں دو مرتبہ بالوں کو تیل لگایا کرتے تھے ۔ ضعیف ، رواہ مالک ۔

وَعَن الحجاح بْنِ حَسَّانَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالك فَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي الْمُغِيرَةُ قَالَتْ: وَأَنْتَ يَوْمَئِذٍ غُلَامٌ وَلَكَ قَرْنَانِ أَوْ قُصَّتَانِ فَمَسَحَ رَأْسَكَ وَبَرَّكَ عَلَيْكَ وَقَالَ: «احْلِقُوا هَذَيْنِ أَوْ قُصُّوهُمَا فَإِنَّ هَذَا زِيُّ الْيَهُود» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

حجاج بن حسان ؒ بیان کرتے ہیں ، ہم انس بن مالک ؓ کے پاس گئے ، میری بہن مغیرہ نے مجھے بتایا کہ تم ان دنوں چھوٹے بچے تھے اور تمہاری دو مینڈھیاں تھیں ، انہوں نے تمہارے سر پر ہاتھ پھیرا ، برکت کی دعا کی اور فرمایا : ان دونوں کو مونڈ دو یا انہیں کتر دو کیونکہ یہ یہود کی زینت و عادت ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا. رَوَاهُ النَّسَائِيُّ

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے خواتین کو اپنے سر کے بال مونڈنے سے منع فرمایا ۔ حسن ، رواہ النسائی ۔

وَعَن عطاءِ بن يسارٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ رَجُلٌ ثَائِرُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَأْمُرُهُ بِإِصْلَاحِ شَعْرِهِ وَلِحْيَتِهِ فَفَعَلَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَيْسَ هَذَا خَيْرًا مِنْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ ثَائِرُ الرَّأْسِ كَأَنَّهُ شَيْطَان» . رَوَاهُ مَالك

عطا بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا جس کے سر اور داڑھی کے بال پراگندہ تھے ، رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس کی طرف اشارہ فرمایا ، گویا آپ اسے اپنے بال اور داڑھی سنوارنے کا حکم فرما رہے ہیں ، اس نے ویسے ہی کر لیا اور پھر وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ اس سے بہتر ہے کہ تم میں سے کوئی اس حال میں آئے کہ اس کے سر کے بال پراگندہ ہوں گویا وہ شیطان ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ املک ۔

وَعَن ابنِ الْمسيب سُمِعَ يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ يُحِبُّ الطِّيبَ نَظِيفٌ يُحِبُّ النَّظَافَةَ كَرِيمٌ يُحِبُّ الْكَرَمَ جَوَادٌ يُحِبُّ الْجُودَ فَنَظِّفُوا أُرَاهُ قَالَ: أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تشبَّهوا باليهود قَالَ: فذكرتُ ذَلِك لمهاجرين مِسْمَارٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «نَظِّفُوا أَفْنِيتَكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابن مسیّب سے روایت ہے ، انہیں کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’ اللہ پاک ہے وہ (اپنے بندوں سے) صفائی و خوشبو پسند کرتا ہے ، وہ نظیف ہے نظافت کو پسند کرتا ہے ، وہ کریم ہے کرم کو پسند کرتا ہے ، وہ سخی داتا ہے سخاوت کرنے کو پسند کرتا ہے ، میرا خیال ہے آپ نے فرمایا : تم اپنے صحنوں کو صاف ستھرا رکھو ، اور یہود کی نقل مت اتارو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے مہاجرین مسمار سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : عامر بن سعد نے اسے اپنے والد کے واسطے سے نبی ﷺ سے اسی طرح بیان کیا مگر انہوں نے کہا :’’ اپنے صحن صاف رکھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: كَانَ إِبْرَاهِيمُ خَلِيلُ الرَّحْمَنِ أوَّلَ النَّاس ضيَّف الضَّيْف وَأَوَّلَ النَّاسِ اخْتَتَنَ وَأَوَّلَ النَّاسِ قَصَّ شَارِبَهُ وَأَوَّلَ النَّاسِ رَأَى الشَّيْبَ فَقَالَ: يَا رَبِّ: مَا هَذَا؟ قَالَ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: وَقَارٌ يَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: رَبِّ زِدْنِي وَقَارًا. رَوَاهُ مَالك

یحیی بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیّب کو بیان کرتے ہوئے سنا ، ابراہیم خلیل الرحمن سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے مہمان نوازی کی ، انہوں نے سب سے پہلے ختنہ کیا ، سب سے پہلے اپنی مونچھیں کتریں ، سب سے پہلے بڑھاپا دیکھا تو عرض کیا ، اے میرے رب ! یہ کیا ہے ؟ رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : ابراہیم ! وقار ہے ۔ عرض کیا ، اے میرے رب ! میرے وقار میں اضافہ فرما ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔