Chapter 0 of طب اور جھاڑ پھونک کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اسعد بن زرارہ ؓ کو شوکہ (یہ سرخ بادہ ہے جو غلبہ خون سے پیدا ہوتا ہے) کی بیماری میں داغ دیا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا ، تم جلاب کے لیے کونسی دوا استعمال کرتی ہو ؟ میں نے عرض کیا : شبرم (چنے کی طرح ایک دانہ ہے جو کہ بہت گرم ہے ، اس کا پانی دوا کے طور پر پیتے ہیں) آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ تو انتہائی گرم ہے ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، پھر میں سنا کے ساتھ جلاب لیتی ۔ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اگر کسی چیز میں موت کی شفا ہوتی تو وہ سنا میں ہوتی ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۰۸۱) و ابن ماجہ (۳۴۶۱) * فی سماع عتبۃ من اسماء نظر و للحدیث طریق آخر عند ابن ماجہ (۳۴۶۱) و سندہ ضعیف ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے بیماری اتاری ہے تو اس نے دوائی بھی اتاری ہے اور اس نے ہر بیماری کے لیے دوائی بنائی ہے ، تم علاج معالجہ کرو اور حرام چیز کے ساتھ علاج معالجہ مت کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۸۷۴) * ثعلبۃ بن مسلم : مستور و معنی الحدیث صحیح ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے حرام چیز کو بطور دوا استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۲ / ۳۰۵) و ابوداؤد (۳۸۷۰) و الترمذی (۲۰۴۵) و ابن ماجہ (۳۴۵۹) ۔
نبی ﷺ کی خادمہ سلمی ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : جس شخص نے بھی رسول اللہ ﷺ سے درد سر کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ ’’ پچھنے لگاؤ ۔‘‘ اور جس نے اپنے پاؤں میں تکلیف کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے اسے فرمایا :’’ مہندی لگاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۸۵۸) * عبیداللہ بن علی : لین الحدیث و للحدیث شواھد ضعیفۃ عند احمد (۶ / ۴۶۲ ح ۲۸۱۶۹ ۔ ۲۸۱۷۰) وغیرہ ۔
نبی ﷺ کی خادمہ سلمی ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ کو تلوار وغیرہ یا کسی اور طرح کوئی بھی زخم آ جاتا تو آپ ﷺ مجھے اس پر مہندی لگانے کا حکم فرماتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۰۵۴ وقال : غریب) * عبید اللہ بن علی لین الحدیث ، انظر الحدیث السابق (۴۵۴۰) ۔
ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے سر اور اپنے کندھوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے تھے اور آپ ﷺ فرماتے تھے :’’ جو شخص اس خون میں سے کچھ خون نکلواتا ہے تو اگر وہ کسی مرض کا کسی دوائی کے ذریعے علاج نہ بھی کرے تو اس کے لیے کچھ مضر نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۸۵۹) وابن ماجہ (۳۴۸۴) * الولید بن مسلم کان یدلس تدلیس التسویۃ ولم یصرح بالسماع المسلسل و اخطا من براہ من التدلیس ۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے شب معراج کے متعلق حدیث بیان فرمائی کہ وہ فرشتوں کی جس بھی جماعت کے پاس سے گزرے تو وہ یہی کہتے کہ ’’ اپنی امت کو پچھنے لگوانے کا حکم فرمائیں ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۰۵۲) و ابن ماجہ (۳۴۷۹ بسند آخر عن انس رضی اللہ عنہ ، فیہ جبارۃ و کثیر بن سلیم مجروحان) * عبد الرحمن بن اسحاق الکوفی الواسطی ضعیف و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔
عبد الرحمن بن عثمان ؓ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے نبی ﷺ سے مینڈک کو دوائی میں ڈالنے کے متعلق دریافت کیا تو نبی ﷺ نے اسے اس کے قتل کرنے سے منع فرما دیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ گردن کی دونوں رگوں اور کندھوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : آپ ﷺ (چاند کی) سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوایا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۸۶۰) و الترمذی (۲۰۵۱ وقال : حسن غریب) و ابن ماجہ (۳۴۸۳) * قتادۃ عنعن ۔
ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص (چاند کی) سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوائے وہ ہر بیماری سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
کبشہ بنت ابی بکرہ سے روایت ہے کہ اس کے والد منگل کے روز پچھنے لگوانے سے اپنے اہل خانہ کو منع کیا کرتے تھے ، اور وہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ منگل کا دن (غلبہ) خون کا دن ہے اور اس میں ایک گھڑی ہے کہ اس میں خون تھمتا نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
زہری ؒ ، رسول اللہ ﷺ سے مرسل روایت کرتے ہیں ،’’ جو شخص بدھ یا ہفتہ کے روز پچھنے لگوائے اور وہ برص کا شکار ہو جائے تو وہ اس صورت میں خود کو ہی ملامت کرے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، اور ابوداؤد ؒ نے کہا : یہ مشہور ہے کہ یہ روایت مسند ہے ، لیکن یہ صحیح نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد فی المراسیل (۴۵۱ ، نسخۃ أخری : ۴۴۵) * السند ضعیف لا رسالہ و الروایۃ المسندۃ عند الحاکم (۴ / ۴۰۹ ۔ ۴۱۰) و البیھقی (۹ / ۳۴۰) من طریق سلیمان بن ارقم (ضعیف جدًا) عن الزھری عن سعید بن المسیب عن ابی ھریرۃ الخ بہ ۔
امام زہری ؒ سے مرسل روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہفتے یا بدھ کے روز پچھنے لگوائے یا کوئی دوائی لیپ کرے تو وہ برص کا شکار ہونے کی صورت میں صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۲ / ۱۵۱ ۔ ۱۵۲ بعد ح ۳۲۳۵ بدون سند) * السند مرسل ، ان صح الی الزھری رحمہ اللہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ نے میری گردن میں ایک دھاگہ دیکھا تو پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : میرے لیے دم کیا ہوا دھاگہ ہے ، انہوں نے اسے پکڑ کر کاٹ دیا ، پھر فرمایا : تم آل عبداللہ شرک سے بے نیاز ہو ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک دم ، تعویذ اور جادو شرک ہے ۔‘‘ میں نے کہا : آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں ؟ میری آنکھ میں شدید درد تھا میں فلاں یہودی کے پاس جاتی تھی ، جب وہ دم کرتا تو درد رک جاتا تھا ، (یہ سن کر) عبداللہ نے فرمایا : یہ محض شیطان کا عمل ہے ، وہ اپنا ہاتھ آنکھ پر مارتا ہے ۔ جب دم کیا جاتا ہے تو وہ ہاتھ مارنا چھوڑ دیتا ہے ، تمہارے لیے اتنا کہنا ہی کافی تھا جیسے رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے :’’ لوگوں کے رب ! بیماری لے جا ، اور شفا عطا فرما ، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے ، شفا صرف تیری ہی ہے ، ایسی شفا عطا کر کہ وہ کوئی بیماری نہ چھوڑے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۸۸۳) [و ابن ماجہ (۳۵۳۰)] * سلیمان الاعمش مدلس و عنعن و للحدیث شواھد ضعیفۃ و اخرج الحاکم (۴ / ۲۱۷ ح ۷۵۰۵ ، اتحاف المھرۃ ۱۰ / ۴۵۳ ح ۱۳۱۶۳) عن قیس بن السکن الاسدی قال :’’ دخل عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ علی امراۃ فرأی علیھا حرزا من الحمرۃ فقطعہ قطعًا عنیفًا ثم قال : ان آل عبداللہ عن الشرک اغنیاء و قال : کان مما حفظنا عن النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان الرقی و التمائم و التولۃ من الشرک ‘‘ و صححہ و وافقہ الذھبی ، ابن موسی ھو عبیداللہ و السند صحیح ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے جادو ، منتر (سفلی عمل کو سفلی علم سے دور کرنے) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ شیطانی عمل ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔