Chapter 0 of طب اور جھاڑ پھونک کا بیان in Mishkat. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں کچھ فرق نہیں سمجھتا کہ میں تریاق پیوں یا تعویذ لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۸۶۹) * عبد الرحمن بن رافع التنوخی : ضعیف ۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے داغ لگوایا یا دم کرایا تو وہ توکل سے لاتعلق ہو گیا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
حسن ، رواہ احمد (۴ / ۳۴۹) و الترمذی (۲۰۵۵) و ابن ماجہ (۳۴۸۹) ۔
عیسیٰ بن حمزہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں عبداللہ بن عکیم ؓ کے پاس گیا تو انہیں سرخ بادہ کا مرض تھا ، میں نے کہا : آپ تعویذ کیوں نہیں لیتے ؟ انہوں نے کہا : ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے تو اسے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (لم اجدہ) [و الترمذی (۲۰۷۹) و احمد (۴ / ۳۱۰ ۔ ۳۱۱)] * محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی ضعیف و للحدیث شاھد ضعیف عند النسائی (۷ / ۱۱۲ ح ۴۰۸۴) ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ نظر لگ جانے یا کسی چیز کے ڈس لینے یا نکسیر جاری ہونے پر دم کرنا درست ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۳۸۸۹) * شریک القاضی مدلس و عنعن و للحدیث شاھد ضعیف عند ابن ابی شیبۃ (۷ / ۳۹۳) ۔
اسماء بن عمیس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جعفر ؓ کی اولاد کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے ، کیا میں انہیں دم کراؤں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ اگر تقدیر پر کوئی چیز غالب ہوتی تو اس پر نظر غالب آتی ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ احمد (۶ / ۴۳۸) و الترمذی (۲۰۵۹ وقال : حسن صحیح) و ابن ماجہ (۳۵۱۰) ۔
وَعَن الشَّفاءِ بنت عبد الله قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عِنْدَ حَفْصَةَ فَقَالَ: «أَلَا تُعَلِّمِينَ هَذِهِ رُقْيَةَ النَّمْلَةِ كَمَا عَلَّمْتِيهَا الْكِتَابَةَ؟» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
شفاء بنت عبداللہ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ تشریف لائے تو میں حفصہ ؓ کے پاس تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اس (حفصہ ؓ) کو نملہ (پھنسیاں جو پسلی پر نکلتی ہیں) کا دم نہیں سکھا دیتی جس طرح تم نے اسے لکھنا سکھایا ہے ؟‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوامامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں ، عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو غسل کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا ، اللہ کی قسم ! میں نے جس قدر سفید و ملائم جلد آج دیکھی ہے ایسی کبھی نہیں دیکھی ، راوی بیان کرتے ہیں ، (اسی بات پر) سہل بے ہوش ہو کر گر گئے ، انہیں رسول اللہ ﷺ کے پاس لایا گیا اور آپ ﷺ سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ کو سہل بن حنیف کے بارے میں کچھ خبر ہے ؟ اللہ کی قسم ! وہ تو اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم اس کے متعلق کسی کے بارے میں گمان کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم عامر بن ربیعہ کے بارے میں گمان کرتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے عامر کو بلایا اور اس سے سخت لہجے میں بات کی اور فرمایا :’’ تم اپنے بھائی کو قتل کرتے ہو ، تم نے اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہ کی ، اس کے لیے غسل کرو ۔‘‘ عامر نے اس کے لیے ایک برتن میں اپنا چہرہ ، اپنے ہاتھ ، اپنی کہنیاں ، اپنے گھٹنے ، پاؤں کے اطراف اور ازار کے ساتھ کے اعضاء دھوئے ، پھر وہ پانی اس پر ڈالا گیا تو وہ (اٹھ کر) لوگوں کے ساتھ چل پڑا اور اسے کوئی تکلیف نہیں تھی ۔
اور امام مالک نے اسے روایت کیا ہے ، اور ان کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ بے شک نظر (کی تاثیر) ثابت ہے ، اس کے لیے وضو کر ۔‘‘ اس نے اس کے لیے وضو کیا ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ و مالک ۔
Takhreej
صحیح ، رواہ البغوی فی شرح السنۃ (۱۲ / ۱۶۴ ح ۳۲۴۵) و مالک (۲ / ۹۳۹ ح ۱۸۱۱) [و ابن ماجہ (۳۵۰۹) و صححہ ابن حبان (الموارد : ۱۴۲۴)] ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ (اذکار کے ذریعے) جنوں اور انسان کی نظر سے پناہ طلب کیا کرتے تھے حتی کہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نازل ہوئیں ، جب وہ نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور جو ان دونوں کے علاوہ تھا اسے ترک کر دیا ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۳۰۵۸) و ابن ماجہ (۳۵۱۱) [و النسائی (۵۴۹۶)] * سعید الجریری اختلط ولم اجد راویا عنہ فی ھذا الحدیث قبل اختلاطہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ کیا تم میں ’’مغربون‘‘ دیکھے گئے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ’’مغربون‘‘ کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ لوگ (جو اللہ کا ذکر نہیں کرتے) ان میں جن (شیطان) شریک ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۵۱۰۷) * ابن جریج مدلس : عنعن و ابوہ لین و ام حمید : لایعرف حالھا ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ معدہ بدن کا حوض ہے ، جبکہ رگیں (ہر طرف سے) اس کی طرف آتی ہیں ، جب معدہ درست ہو گا تو رگیں تندرستی لے کر واپس آتی ہیں ، اور جب معدہ بیمار ہوتا ہے ، تو رگیں بیماری لے کر واپس آتی ہیں ۔ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۵۷۹۶ ، نسخۃ محققۃ : ۵۴۱۴) [و ابن الجوزی فی الموضوعات (۲ / ۲۸۴)] * فیہ ابراھیم بن جریج الرھاوی متھم و یحیی بن عبداللہ البابلتی : ضعیف ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تو بچھو نے آپ کو ڈس لیا ، رسول اللہ ﷺ نے اپنا جوتا مار کر اسے مار دیا ۔ جب آپ ﷺ فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ اللہ بچھو پر لعنت فرمائے وہ کسی نمازی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو ۔‘‘ یا فرمایا :’’ کسی نبی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو ۔‘‘ پھر آپ نے نمک اور پانی منگایا اور انہیں ایک برتن میں جمع کر دیا ۔ پھر آپ اس انگلی پر جہاں اس نے ڈسا تھا ڈالنے لگے ، اسے ملنے لگے اور معوذتین کے ذریعے اس سے پناہ طلب کرنے لگے ۔ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں ذکر کی ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۲۵۷۵ ، نسخہ محققۃ : ۲۳۴۰ و سندہ حسن) [و ابن ابی شیبۃ فی المصنف (۷ / ۳۹۸ ، ۱۰ / ۴۱۸ ۔ ۴۱۹)] و حسنہ الھیشمی وغیرہ ۔
عثمان بن عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں ، میرے اہل خانہ نے پانی کا پیالہ دے کر مجھے ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجا ، اور یہ دستور تھا کہ جب کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ پانی کا برتن ام سلمہ ؓ کی طرف بھیج دیا کرتے ، وہ رسول اللہ ﷺ کے بال ، جو کہ انہوں نے چاندی کی گھنٹی میں رکھے ہوئے تھے ، نکالتیں اور انہیں اس شخص کے لیے (پانی میں) ہلاتیں اور بیمار آدمی وہ پانی پی لیتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے اس ڈبیا میں جھانک کر دیکھا تو میں نے سرخ بال دیکھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا ، کھنبی زمین کی چیچک ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کھنبی ، من (من و سلوی) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعث شفا ہے ، اور عجوہ (کھجور) جنت سے ہے اور وہ زہر کا تریاق ہے ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے تین یا پانچ یا سات کھنبیاں لیں ، انہیں نچوڑ کر ان کے پانی کو ایک شیشی میں رکھ لیا ، اور میں نے اپنی اس لونڈی کی آنکھوں میں وہ پانی ڈالا جس کی آنکھوں سے پانی بہتا رہتا تھا ، تو وہ اس سے صحت یاب ہو گئی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ہر ماہ تین روز شہد چاٹتا ہے تو اسے کوئی بڑی بیماری لاحق نہیں ہوتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۳۴۵۰) و البیھقی فی شعب الایمان (۵۹۳۸) * الزبیر بن سعید : لین الحدیث و عبد الحمید : مجھول ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ شفا دینے والی دو چیزوں کو لازم پکڑو (یعنی) شہد اور قرآن ۔‘‘ امام ابن ماجہ نے دونوں رواتیں نقل کی ہیں ، اور امام بیہقی نے انہیں شعب الایمان میں نقل کیا اور فرمایا : صحیح بات یہ ہے کہ آخری (دوسری) حدیث ابن مسعود ؓ پر موقوف ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۳۴۵۲) و البیھقی فی شعب الایمان (۳۵۸۱) * ابو اسحاق مدلس و عنعن و اخرج الخطیب باسناد ضعیف منکر عن زید بن حباب عن شعبۃ عن ابی اسحاق بہ ۔
ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زہر والی بکری (کھانے) کی وجہ سے اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے ۔
معمر بیان کرتے ہیں ، میں نے بھی زہر کے اثر کے بغیر ہی اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے تو میرا حافظہ جاتا رہا حتی کہ دورانِ نماز مجھے سورۂ فاتحہ کا لقمہ دیا جاتا تھا ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
Takhreej
لم اجدہ ، رواہ رزین (لم اجدہ) [ولم اجدہ فی مصنف عبد الرزاق] ۔
نافع بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے فرمایا : نافع ! میرا فشارِ خون بڑھ رہا ہے کسی پچھنے لگانے والے نوجوان کو میرے پاس لاؤ ، دیکھنا وہ بوڑھا یا بچہ نہ ہو ، راوی بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ خالی پیٹ پچھنے لگوانا زیادہ بہتر ہے ، وہ عقل و فہم اور حافظہ میں اضافہ کرتا ہے ، جس شخص نے پچھنے لگوانے ہوں تو وہ جمعرات کے روز اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پچھنے لگوائے ، جمعہ ہفتہ اور اتوار کو پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو ۔ پیر اور منگل کو پچھنے لگواؤ اور بدھ کے روز پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو ، کیونکہ یہ وہ دن ہے جس روز ایوب ؑ آزمائش کا شکار ہوئے ، جذام اور برص بدھ کے روز یا بدھ کی رات ہی ظاہر ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
Takhreej
اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۳۴۸۷) * فیہ الحسن بن ابی جعفر و عثمان بن مطر : ضعیفان و للحدیث شواھد ضعیفۃ ۔