ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کے اچھے برے تمام اعمال مجھ پر پیش کیے گئے ، میں نے ، راستے سے تکلیف دہ چیز کو دور کر دینا ، اس کے محاسن اعمال میں پایا ، اور وہ تھوک جو مسجد میں ہو اور اسے صاف نہ کیا جائے تو میں نے اسے اس کے برے اعمال میں پایا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوکے ، کیونکہ وہ جب تک نماز میں ہوتا ہے اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ، اور وہ اپنی دائیں طرف بھی نہ تھوکے کیونکہ اس کے دائیں جانب فرشتہ ہے ، اور (اگر ضرورت ہو تو ) اپنی بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے تھوکے اور اسے دفن کر دے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَفِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: «تَحْتَ قدمه الْيُسْرَى»
اور ابوسعید ؓ کی روایت میں ہے :’’ اپنے بائیں پاؤں کے نیچے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اس مرض کے دوران ، جس سے آپ ﷺ صحت یاب نہ ہو سکے ، فرمایا :’’ اللہ یہودو نصاریٰ پر لعنت فرمائے ، انہوں نے اپنے انبیا علیم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سن لو ! تم سے پہلے لوگ اپنے انبیا علیہم السلام اور اپنے صالح افراد کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا کرتے تھے ، خبردار ! تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا ، بے شک میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنی (نفل) نماز اپنے گھروں میں پڑھا کرو ، انہیں قبرستان نہ بناؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قبلہ مشرق و مغرب کے مابین ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
طلق بن علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم وفد کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش ہوئے تو ہم نے آپ کی بیعت کی ، آپ کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ کو بتایا ہمارے ملک میں ہمارا ایک گرجا ہے ، آپ ہمیں اپنے وضو سے بچا ہوا پانی عنایت فرما دیں ، چنانچہ آپ ﷺ نے پانی منگایا ، وضو کیا اور کلی کی ، پھر اسے ہمارے لیے ایک برتن میں ڈال دیا ، اور ہمیں جانے کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا :’’ جب تم اپنی سر زمین پر پہنچو تو اپنے گرجے کو توڑ دو ، اس جگہ پر یہ پانی چھڑکو اور وہاں مسجد بناؤ ۔‘‘ ہم نے عرض کیا : ہمارا ملک دور ہے جبکہ گرمی شدید ہے ، اس لیے یہ پانی تو خشک ہو جائے گا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس میں اور پانی ملا لینا کیونکہ اس سے اس کی برکت مزید بڑھ جائے گی ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے اور انہیں پاک صاف رکھنے کا حکم فرمایا ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے مساجد کو چونا گچ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔‘‘ ابن عباس ؓ نے فرمایا : تم انہیں اس طرح مزین کرو گے جیسے یہودو نصاریٰ نے مزین کیا ۔ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ علامات قیامت میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ لوگ مساجد کے بارے میں باہم فخر کریں گے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کے اعمال کا ثواب مجھ پر پیش کیا گیا ، حتیٰ کہ وہ تنکا بھی جسے آدمی مسجد سے اٹھا کر باہر پھینک دیتا ہے (اس کا ثواب بھی لکھا ہوا تھا) ، اور میری امت کے گناہ بھی مجھ پر پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑا کوئی گناہ نہیں دیکھا کہ کسی آدمی کو قرآن کی کوئی سورت یا کوئی آیت عطا کی گئی اور اس نے (یاد کرنے کے بعد) اسے بھلا دیا ۔‘‘ ضعیف ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اندھیرے میں چل کر مسجد کی طرف آنے والوں کو روز قیامت مکمل نور کی خوشخبری سنا دو ۔‘‘ صحیح ۔
وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَأنس
امام ابن ماجہ نے سہل بن سعد ؓ اور انس ؓ سے اسے روایت کیا ہے ۔ حسن ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس آدمی کو مسجد کی آبادی کے لیے کوشاں دیکھو تو اس کے ایمان کی گواہی دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :’’ اللہ کی مسجدوں کو صرف وہی لوگ آباد کر سکتے ہیں جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہوں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عثمان بن مظعون ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمیں خصی ہونے کی اجازت عطا فرمائیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے کسی کو خصی کیا یا اپنے آپ کو خصی کیا تو وہ ہم میں سے نہیں ، کیونکہ میری امت کا خصی ہونا ، روزہ رکھنا ہے ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہمیں سیاحت کی اجازت مرحمت فرمائیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میری امت کی سیاحت ، جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہمیں رہبانیت اختیار کرنے کی اجازت دے دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نماز کے انتظار میں مساجد میں بیٹھنا میری امت کی رہبانیت ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
عبدالرحمن بن عائش ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے (خواب میں) اپنے رب عزوجل کو بہترین صورت میں دیکھا ، اس نے فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : تو بہتر جانتا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا تو میں نے اس کی ٹھنڈک اپنے قلب و صدر میں محسوس کی ، اور میں نے زمین و آسمان کی ہر چیز جان لی ۔‘‘ اور پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اور اسی طرح ہم نے ابراہیم کو آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہت دکھائی تاکہ وہ یقین رکھنے والوں میں سے ہو جائیں ۔‘‘ دارمی نے مرسل روایت کیا ، اور ترمذی میں بھی انہیں سے اسی کی مثل ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الدارمی و الترمذی ۔
ابن عباس ؓ اور معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے ۔ اور امام ترمذی ؒ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے :’’ اللہ نے فرمایا : محمد ﷺ ! کیا آپ جانتے ہیں کہ مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، جی ہاں گناہ ختم کرنے والے اعمال کے بارے میں (بحث کر رہے ہیں) اور گناہ ختم کرنے والے اعمال یہ ہیں : نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھے رہنا ، با جماعت نماز پڑھنے کے لیے پیدل چل کر جانا ، اور ناگواری کے باوجود خوب اچھی طرح وضو کرنا ، پس جو یہ کرے گا وہ بہتر زندگی بسر کرے گا اور اس کی موت بھی اچھی ہو گی ، اور وہ گناہوں سے ایسے پاک ہو جائے گا جیسے اس کی ماں نے اسے آج جنم دیا ہو ، اور فرمایا : محمد ! جب آپ نماز سے فارغ ہو جائیں تو یہ دعا کیا کرو : اے اللہ ! میں تجھ سے نیک کام بجا لانے ، برے کام چھوڑ دینے اور مساکین سے محبت کرنے کی درخواست کرتا ہوں اور جب تو اپنے بندوں کو کسی آزمائش و فتنے سے دوچار کرنے کا ارادہ فرمائے تو مجھے اس سے دو چار کیے بغیر اپنی طرف اٹھا لینا ۔‘‘ اور آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلندی درجات والے اعمال یہ ہیں : سلام عام کرنا ، کھانا کھلانا اور جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز تہجد پڑھنا ۔‘‘ اور اس حدیث کے الفاظ جیسا کہ مصابیح میں ہیں ، میں نے عبدالرحمن کی سند سے شرح السنہ میں پائے ہیں ۔ حسن ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تین آدمیوں کی مکمل حفاظت کرنا اللہ کے ذمہ ہے ، وہ آدمی جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے روانہ ہو تو وہ اللہ کی حفاظت میں ہے حتیٰ کہ اللہ اسے فوت کر کے جنت میں داخل فرما دے ، یا اسے حاصل ہونے والے اجر یا مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹا دے ۔ وہ آدمی جو مسجد کی طرف جائے تو وہ بھی اللہ کی حفاظت میں ہے اور وہ آدمی جو اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرتا ہے وہ بھی اللہ کی حفاظت میں ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص با وضو ہو کر فرض نماز کے لیے اپنے گھر سے روانہ ہوتا ہے تو اس کا اجر احرام باندھ کر حج کے لیے روانہ ہونے والے کے اجر کی طرح ہے ، اور جو شخص صرف نماز چاشت کے لیے روانہ ہوتا ہے اس کے لیے عمرہ کرنے والے کی مثل اجر ہے ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز اس طرح پڑھنا کہ ان کے درمیان کوئی لغو بات نہ ہو اس کا عمل علیین میں لکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔