مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان

بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذا دخل الْمَسْجِد قَالَ: «أَعُوذُ بِاللَّهِ الْعَظِيمِ وَبِوَجْهِهِ الْكَرِيمِ وَسُلْطَانِهِ الْقَدِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ» قَالَ: «فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ قَالَ الشَّيْطَان حفظ مني سَائِر الْيَوْم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا کیا کرتے :’’ میں شیطان مردود سے اللہ عظیم ، اس کی ذات کریم اور اس کی قدیم بادشاہت و قدرت کے ذریعے پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ پس جب کوئی شخص یہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے ، یہ اب سارا دن مجھ سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ صحیح ، ابوداؤد ۔

وَعَن عَطاء بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «اللَّهُمَّ لَا تجْعَل قَبْرِي وثنا يعبد اشْتَدَّ غَضَبُ اللَّهِ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائهمْ مَسَاجِد» . رَوَاهُ مَالك مُرْسلا

عطا بن یسار ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے ، اللہ ان لوگوں پر سخت ناراض ہو جنہوں نے انبیا علیہم السلام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔‘‘ امام مالک نے اسے مرسل روایت کیا ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔

(وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ فِي الْحِيطَانِ. قَالَ بَعْضُ رُوَاتِهِ يَعْنِي الْبَسَاتِينَ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بن أبي جَعْفَر وَقد ضعفه يحيى ابْن سعيد وَغَيره

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ باغات میں (نفل) نماز پڑھنا پسند فرمایا کرتے تھے ۔‘‘ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ، ہم اسے صرف حسن بن ابی جعفر کے واسطہ سے جانتے ہیں ، جبکہ یحیی بن سعید وغیرہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ بِصَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِ الْقَبَائِلِ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي يجمع فِيهِ بخسمائة صَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ وَصَلَاتُهُ فِي مَسْجِدِي بِخَمْسِينَ أَلْفِ صَلَاةٍ وَصلَاته فِي الْمَسْجِد الْحَرَام بِمِائَة ألف صَلَاة» . رَوَاهُ ابْن مَاجَه

انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آدمی کی اپنے گھر میں پڑھی ہوئی نماز (ثواب کے لحاظ سے) ایک نماز ہے ، اس کی اس مسجد میں نماز ، جس میں مختلف قبیلے نماز پڑھتے ہیں ، پچیس نمازوں کی طرح ہے ، اور جس مسجد میں جمعہ ہوتا ہو ، اس میں اس کی نماز پانچ سو نمازوں کی طرح ہے ، مسجد اقصیٰ میں اس کی نماز پچاس ہزار نمازوں کی طرح ہے ، اس کی میری مسجد میں پڑھی گئی نماز پچاس ہزار نمازوں کی طرح ہے اور مسجد حرام میں اس کی نماز ایک لاکھ نمازوں کی طرح ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ: «الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيْ؟ قَالَ: «ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى» . قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: «أَرْبَعُونَ عَامًا ثُمَّ الْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ فَحَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فصل»

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد تعمیر کی گئی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسجد حرام ۔‘‘ راوی کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، پھر کون سی مسجد ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسجد اقصیٰ ۔‘‘ میں نے عرض کیا : ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا وقفہ ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ چالیس سال ، پھر ساری زمین تیرے لیے مسجد ہے ، جہاں نماز کا وقت ہو جائے نماز پڑھ لو ۔‘‘ متفق علیہ ۔