ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم جنت کے باغوں کے پاس سے گزرو تو کچھ کھا پی لیا کرو ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! جنت کے باغات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’ مساجد ۔‘‘ پوچھا گیا اللہ کے رسول ! خوردو نوش سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ((سبحان اللہ ، و الحمدللہ ، ولا الہ الا اللہ ، و اللہ اکبر))’’ اللہ پاک ہے ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص جس چیز کے لیے مسجد میں جاتا ہے وہی اس کا نصیب ہو گی ، (جو اسے آخرت میں ملے گی) ۔‘‘ ضعیف ۔
فاطمہ بنت حسین ؒ اپنی دادی فاطمہ کبریٰ ؓ سے روایت کرتی ہیں ، انہوں نے فرمایا : جب نبی ﷺ مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : محمد ﷺ پر صلاۃ و سلام ہو ، اور فرماتے : میرے رب ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب آپ مسجد سے باہر نکلتے تو فرماتے : محمد ﷺ پر صلاۃ و سلام ہو ۔ اور فرماتے :’’ میرے رب ! میرے گناہ بخش دے ، اور میرے لیے فضل کے دروازے کھول دے ۔ ترمذی ، احمد ، ابن ماجہ اور ان دونوں کی روایت میں ہے ، انہوں نے فرمایا : جب آپ ﷺ مسجد میں داخل ہوتے اور اسی طرح جب آپ باہر تشریف لاتے تو ’’ محمد پر صلاۃ وسلام ہو ‘‘ کے بجائے :’’ اللہ کے نام سے ، اور رسول اللہ پر سلام ہو ۔‘‘ کے الفاظ پڑھتے تھے ۔ امام ترمذی نے فرمایا : اس کی سند متصل نہیں ، فاطمہ بنت حسین ؒ کی فاطمہ کبریٰ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ ضعیف ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں شعر گوئی ، خرید و فروخت اور جمعہ کے روز نماز سے پہلے مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو : اللہ تیری تجارت کو نفع مند نہ بنائے ، اور جب تم کسی شخص کو اس میں گم شدہ جانور کا اعلان کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو : اللہ کرے وہ چیز تمہیں نہ ملے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔
حکیم بن حزام ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں قصاص کا مطالبہ کرنے ، اشعار پڑھنے اور حدود قائم کرنے سے منع فرمایا ۔ ضعیف ۔
مصابیح میں جابر ؓ سے مروی ہے ۔ ضعیف ۔
معاویہ بن قرہ ؒ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دو پودوں یعنی پیاز اور لہسن سے منع کیا اور فرمایا :’’ جو انہیں کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ اگر تم نے انہیں ضروری کھانا ہے تو پھر پکا کر ان کی بو زائل کر دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قبرستان اور حمام کے علاوہ ساری زمین مسجد ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و الدارمی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے سات جگہوں ، کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ، ذبح خانہ ، قبرستان ، شارع عام ، حمام ، اونٹوں کے باڑے اور بیت اللہ کی چھت پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ۔ ضعیف ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبروں کو سجدہ گاہ بنانے والوں اور ان پر چراغاں کرنے والوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ ضعیف ۔
ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی یہودی عالم نے نبی ﷺ سے سوال کیا : کون سا قطعہ زمین بہتر ہے ؟ آپ خاموش ہو گئے اور فرمایا :’’ میں جبریل ؑ کے آنے تک خاموش رہوں گا ۔‘‘ آپ خاموش رہے اور جبریل ؑ آئے تو آپ ﷺ نے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : اس بارے میں مسٔول ، سائل سے زیادہ نہیں جانتا ، لیکن میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے دریافت کروں گا ، پھر جبریل ؑ نے فرمایا : محمد ﷺ ! میں اللہ کے اتنا قریب ہوا کہ میں اس سے پہلے کبھی اتنا قریب نہیں ہوا ، آپ ﷺ نے پوچھا :’’ جبریل ! وہ (قریب ہونا) کیسے تھا ؟‘‘ انہوں نے فرمایا : میرے اور اس کے مابین نور کے ستر ہزار پردے تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بدترین مقامات بازار اور بہترین مقامات مساجد ہیں ۔‘‘ لا اصل لہ بھذا اللفظ ، لم اجدہ عن ابی امامہ ؓ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص میری اس مسجد میں محض کوئی خیرو بھلائی سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے آئے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مقام و مرتبہ پر ہے ، اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور غرض سے آئے تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کسی کے مال پر نظر رکھتا ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
حسن بصری ؒ سے مرسل روایت ہے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ ان کی مساجد میں ان کی گفتگو کا موضوع ان کے دنیوی امور ہوں گے ۔ پس تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو ، اللہ کو ان کی کوئی حاجت نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔
سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد میں سویا ہوا تھا تو کسی آدمی نے مجھے کنکری ماری ، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب ؓ تھے ۔ انہوں نے فرمایا : جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ ، میں انہیں ان کے پاس لے آیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم کس قبیلے سے ہو اور کہاں سے ہو ؟ انہوں نے کہا : اہل طائف سے ، عمر ؓ نے فرمایا : اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا ، تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو ۔ رواہ البخاری ۔
امام مالک ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے مسجد کے کونے میں بطیحاء نامی ایک صحن تیار کیا اور فرمایا : جو شخص فضول باتیں کرنا چاہے ، یا شعر پڑھنا چاہے یا اپنی آواز بلند کرنا چاہے تو وہ اس صحن کی طرف چلا جائے ۔ ضعیف ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے قبلہ (کی طرف دیوار ) میں تھوک دیکھا تو یہ آپ پر اس قدر شاق گزرا کہ اس کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں ہو گئے ۔ پس آپ کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اسے صاف کیا ، پھر فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ، کیونکہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے مابین ہوتا ہے ، پس تم میں سے کوئی اپنے قبلہ کی طرف نہ تھوکے ، بلکہ اپنے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا پھر اس میں تھوکا اور اس (کپڑے) کو ایک دوسرے کے ساتھ مل دیا اور فرمایا :’’ یا پھر وہ اس طرح کر لے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
سائب بن خلاد ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : کسی آدمی نے کچھ لوگوں کی امامت کرائی تو اس نے قبلہ رخ تھوک دیا ، جبکہ رسول اللہ ﷺ اسے دیکھ رہے تھے ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی قوم سے فرمایا :’’ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے ۔‘‘ پھر اس کے بعد اس نے نماز پڑھانا چاہی تو انہوں نے اسے روک دیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے آگاہ کیا اس شخص نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں (میں نے روکا ہے) ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز فجر پڑھانے کے لیے تشریف نہ لائے ، قریب تھا کہ ہم سورج طلوع ہونے کا مشاہدہ کر لیتے ، پھر آپ بہت تیزی سے تشریف لائے چنانچہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی ، رسول اللہ ﷺ نے اختصار کے ساتھ نماز پڑھائی ، پس جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو با آواز بلند فرمایا :’’ اپنی جگہوں پر ایسے ہی بیٹھے رہو ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا :’’ میں ابھی تمہیں بتاتا ہوں کہ میں تمہیں نماز پڑھانے کے لیے کیوں نہیں آیا ، میں رات کو بیدار ہوا ، وضو کیا اور جس قدر مقدر میں تھا میں نے نماز پڑھی ، مجھے نماز میں اونگھ آنے لگی حتیٰ کہ وہ مجھ پر غالب آ گئی ، تب میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو بہترین صورت میں دیکھا چنانچہ اس نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا : میرے رب ! حاضر ہوں ، فرمایا : فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا حتیٰ کہ میں نے اس کی انگلیوں کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے قلب و صدر میں محسوس کی ، اور میرے سامنے ہر چیز واضح ہو گئی اور میں نے پہچان لی ، پھر رب تعالیٰ نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا ، میرے رب ! میں حاضر ہوں ، فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، گناہ مٹا دینے والے اعمال کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : با جماعت نماز پڑھنے لے لیے چل کر جانا ، نماز کے بعد مساجد میں بیٹھے رہنا ، ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا ، فرمایا : پھر وہ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : درجات کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : کھانا کھلانا ، نرمی سے بات کرنا اور جب لوگ سو رہے ہوں نماز (تہجد) پڑھنا ۔ فرمایا : کچھ مانگ لیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے عرض کیا : اے اللہ ! تجھ سے نیک اعمال بجا لانے ، برے کام چھوڑ دینے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں ، اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ، اور جب تو کسی قوم کو فتنے سے دوچار کرنا چاہے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا ، میں تجھ سے ، تیری محبت ، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (خواب) حق ہے ، پس اسے یاد کرو اور پھر اسے دوسروں کو بتاؤ ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاریؒ) سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔