مشکوۃ

Mishkat

نماز کا بیان

مساجد اور نماز پڑھنے کے مقامات کا بیان

بَاب الْمَسَاجِد ومواضع الصَّلَاة

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «الْمَسَاجِدُ» . قُلْتُ: وَمَا الرَّتْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: «سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَالله أكبر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم جنت کے باغوں کے پاس سے گزرو تو کچھ کھا پی لیا کرو ۔‘‘ عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! جنت کے باغات کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا :’’ مساجد ۔‘‘ پوچھا گیا اللہ کے رسول ! خوردو نوش سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ((سبحان اللہ ، و الحمدللہ ، ولا الہ الا اللہ ، و اللہ اکبر))’’ اللہ پاک ہے ، ہر قسم کی تعریف اللہ کے لیے ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور اللہ سب سے بڑا ہے ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص جس چیز کے لیے مسجد میں جاتا ہے وہی اس کا نصیب ہو گی ، (جو اسے آخرت میں ملے گی) ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ عَنْ جَدَّتِهَا فَاطِمَةَ الْكُبْرَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ: «رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ» وَإِذَا خَرَجَ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ وَقَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَفِي رِوَايَتِهِمَا قَالَتْ: إِذَا دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَكَذَا إِذَا خَرَجَ قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ» بَدَلَ: صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَسَلَّمَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ وَفَاطِمَةُ بِنْتُ الْحُسَيْنِ لَمْ تدْرك فَاطِمَة الْكُبْرَى

فاطمہ بنت حسین ؒ اپنی دادی فاطمہ کبریٰ ؓ سے روایت کرتی ہیں ، انہوں نے فرمایا : جب نبی ﷺ مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے : محمد ﷺ پر صلاۃ و سلام ہو ، اور فرماتے : میرے رب ! میرے گناہ بخش دے اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب آپ مسجد سے باہر نکلتے تو فرماتے : محمد ﷺ پر صلاۃ و سلام ہو ۔ اور فرماتے :’’ میرے رب ! میرے گناہ بخش دے ، اور میرے لیے فضل کے دروازے کھول دے ۔ ترمذی ، احمد ، ابن ماجہ اور ان دونوں کی روایت میں ہے ، انہوں نے فرمایا : جب آپ ﷺ مسجد میں داخل ہوتے اور اسی طرح جب آپ باہر تشریف لاتے تو ’’ محمد پر صلاۃ وسلام ہو ‘‘ کے بجائے :’’ اللہ کے نام سے ، اور رسول اللہ پر سلام ہو ۔‘‘ کے الفاظ پڑھتے تھے ۔ امام ترمذی نے فرمایا : اس کی سند متصل نہیں ، فاطمہ بنت حسین ؒ کی فاطمہ کبریٰ ؓ سے ملاقات ثابت نہیں ۔ ضعیف ۔

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تَنَاشُدِ الْأَشْعَارِ فِي الْمَسْجِدِ وَعَنِ الْبَيْعِ وَالِاشْتِرَاءِ فِيهِ وَأَنْ يَتَحَلَّقَ النَّاسُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمَسْجِدِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں شعر گوئی ، خرید و فروخت اور جمعہ کے روز نماز سے پہلے مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا: لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ. وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ ضَالَّةً فَقُولُوا: لَا رَدَّ اللَّهُ عَلَيْكَ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو : اللہ تیری تجارت کو نفع مند نہ بنائے ، اور جب تم کسی شخص کو اس میں گم شدہ جانور کا اعلان کرتے ہوئے دیکھو تو تم کہو : اللہ کرے وہ چیز تمہیں نہ ملے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی ۔

وَفِي المصابيح عَن جَابر

مصابیح میں جابر ؓ سے مروی ہے ۔ ضعیف ۔

وَعَن مُعَاوِيَة بن قُرَّة عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ هَاتَيْنِ الشَّجَرَتَيْنِ يَعْنِي الْبَصَلَ وَالثُّومَ وَقَالَ: «مَنْ أَكَلَهُمَا فَلَا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدنَا» . وَقَالَ: «إِن كُنْتُم لابد آكليهما فأميتوهما طبخا» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

معاویہ بن قرہ ؒ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان دو پودوں یعنی پیاز اور لہسن سے منع کیا اور فرمایا :’’ جو انہیں کھائے وہ ہماری مسجد میں نہ آئے ۔‘‘ اور فرمایا :’’ اگر تم نے انہیں ضروری کھانا ہے تو پھر پکا کر ان کی بو زائل کر دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْأَرْضُ كُلُّهَا مَسْجِدٌ إِلَّا الْمَقْبَرَةَ وَالْحَمَّامَ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ والدارمي

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ قبرستان اور حمام کے علاوہ ساری زمین مسجد ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و الدارمی ۔

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

وَعَن أبي أُمَامَة قَالَ: إِنَّ حَبْرًا مِنَ الْيَهُودِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ فَسَكَتَ عَنْهُ وَقَالَ: «أَسْكُتُ حَتَّى يَجِيءَ جِبْرِيلُ» فَسَكَتَ وَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَسَأَلَ فَقَالَ: مَا المسؤول عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلَكِنْ أَسْأَلُ رَبِّيَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى. ثُمَّ قَالَ جِبْرِيلُ: يَا مُحَمَّدُ إِنِّي دَنَوْتُ مِنَ اللَّهِ دُنُوًّا مَا دَنَوْتُ مِنْهُ قطّ. قَالَ: وَكَيف كَانَ ياجبريل؟ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُورٍ. فَقَالَ: شَرُّ الْبِقَاعِ أَسْوَاقُهَا وَخَيْرُ الْبِقَاع مساجدها

ابوامامہ ؓ بیان کرتے ہیں ، کسی یہودی عالم نے نبی ﷺ سے سوال کیا : کون سا قطعہ زمین بہتر ہے ؟ آپ خاموش ہو گئے اور فرمایا :’’ میں جبریل ؑ کے آنے تک خاموش رہوں گا ۔‘‘ آپ خاموش رہے اور جبریل ؑ آئے تو آپ ﷺ نے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : اس بارے میں مسٔول ، سائل سے زیادہ نہیں جانتا ، لیکن میں اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے دریافت کروں گا ، پھر جبریل ؑ نے فرمایا : محمد ﷺ ! میں اللہ کے اتنا قریب ہوا کہ میں اس سے پہلے کبھی اتنا قریب نہیں ہوا ، آپ ﷺ نے پوچھا :’’ جبریل ! وہ (قریب ہونا) کیسے تھا ؟‘‘ انہوں نے فرمایا : میرے اور اس کے مابین نور کے ستر ہزار پردے تھے ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بدترین مقامات بازار اور بہترین مقامات مساجد ہیں ۔‘‘ لا اصل لہ بھذا اللفظ ، لم اجدہ عن ابی امامہ ؓ ۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ جَاءَ مَسْجِدي هَذَا لم يَأْته إِلَّا لِخَيْرٍ يَتَعَلَّمُهُ أَوْ يُعَلِّمُهُ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَنْ جَاءَ لِغَيْرِ ذَلِكَ فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الرَّجُلِ يَنْظُرُ إِلَى مَتَاعِ غَيْرِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص میری اس مسجد میں محض کوئی خیرو بھلائی سیکھنے یا سکھانے کی غرض سے آئے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مقام و مرتبہ پر ہے ، اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور غرض سے آئے تو وہ اس آدمی کی طرح ہے جو کسی کے مال پر نظر رکھتا ہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔

وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ حَدِيثُهُمْ فِي مَسَاجِدِهِمْ فِي أَمْرِ دُنْيَاهُمْ. فَلَا تُجَالِسُوهُمْ فَلَيْسَ لِلَّهِ فِيهِمْ حَاجَةٌ» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

حسن بصری ؒ سے مرسل روایت ہے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا کہ ان کی مساجد میں ان کی گفتگو کا موضوع ان کے دنیوی امور ہوں گے ۔ پس تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو ، اللہ کو ان کی کوئی حاجت نہیں ۔‘‘ ضعیف ۔

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِد فحصبني رجل فَنَظَرت فَإِذا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَذَيْنِ فَجِئْتُهُ بِهِمَا فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتُمَا أَوْ مِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا قَالَا: مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ. قَالَ: لَوْ كُنْتُمَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَأَوْجَعْتُكُمَا تَرْفَعَانِ أَصْوَاتَكُمَا فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مسجد میں سویا ہوا تھا تو کسی آدمی نے مجھے کنکری ماری ، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب ؓ تھے ۔ انہوں نے فرمایا : جاؤ اور ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ ، میں انہیں ان کے پاس لے آیا ، تو انہوں نے فرمایا : تم کس قبیلے سے ہو اور کہاں سے ہو ؟ انہوں نے کہا : اہل طائف سے ، عمر ؓ نے فرمایا : اگر تم اہل مدینہ سے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا ، تم رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو ۔ رواہ البخاری ۔

وَعَن مَالك قَالَ: بَنَى عُمَرُ رَحَبَةً فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّى الْبُطَيْحَاءَ وَقَالَ مَنْ كَانَ يُرِيدُ أَنَّ يَلْغَطَ أَوْ يُنْشِدَ شِعْرًا أَوْ يَرْفَعَ صَوْتَهُ فَلْيَخْرُجْ إِلَى هَذِهِ الرَّحَبَةِ. رَوَاهُ فِي الْمُوَطَّأِ

امام مالک ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے مسجد کے کونے میں بطیحاء نامی ایک صحن تیار کیا اور فرمایا : جو شخص فضول باتیں کرنا چاہے ، یا شعر پڑھنا چاہے یا اپنی آواز بلند کرنا چاہے تو وہ اس صحن کی طرف چلا جائے ۔ ضعیف ۔

وَعَن أنس: رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي الْقِبْلَةِ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ حَتَّى رُئِيَ فِي وَجهه فَقَامَ فحكه بِيَدِهِ فَقَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ فِي صلَاته فَإِنَّمَا يُنَاجِي ربه أَو إِن رَبَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَلَا يَبْزُقَنَّ أَحَدُكُمْ قِبَلَ قِبْلَتِهِ وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ» ثُمَّ أَخَذَ طَرَفَ رِدَائِهِ فَبَصَقَ فِيهِ ثُمَّ رَدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ فَقَالَ: «أَوْ يفعل هَكَذَا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے قبلہ (کی طرف دیوار ) میں تھوک دیکھا تو یہ آپ پر اس قدر شاق گزرا کہ اس کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں ہو گئے ۔ پس آپ کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اسے صاف کیا ، پھر فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے ، کیونکہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے مابین ہوتا ہے ، پس تم میں سے کوئی اپنے قبلہ کی طرف نہ تھوکے ، بلکہ اپنے بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے اپنی چادر کا کنارہ پکڑا پھر اس میں تھوکا اور اس (کپڑے) کو ایک دوسرے کے ساتھ مل دیا اور فرمایا :’’ یا پھر وہ اس طرح کر لے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

وَعَن السَّائِب بن خَلاد - وَهُوَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: «لَا يُصَلِّي لَكُمْ» . فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِك أَن يُصَلِّي لَهُم فمنعوه وَأَخْبرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: نَعَمْ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّكَ آذيت الله وَرَسُوله» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

سائب بن خلاد ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے فرمایا : کسی آدمی نے کچھ لوگوں کی امامت کرائی تو اس نے قبلہ رخ تھوک دیا ، جبکہ رسول اللہ ﷺ اسے دیکھ رہے تھے ، جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی قوم سے فرمایا :’’ یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے ۔‘‘ پھر اس کے بعد اس نے نماز پڑھانا چاہی تو انہوں نے اسے روک دیا اور اسے رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے آگاہ کیا اس شخص نے آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں (میں نے روکا ہے) ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: احْتَبَسَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاة عَن صَلَاة الصُّبْح حَتَّى كدنا نتراءى عين الشَّمْس فَخرج سَرِيعا فثوب بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصَوْتِهِ فَقَالَ لَنَا عَلَى مَصَافِّكُمْ كَمَا أَنْتُمْ ثُمَّ انْفَتَلَ إِلَيْنَا ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنِّي سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِي عَنْكُمُ الْغَدَاةَ إِنِّي قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي فَنَعَسْتُ فِي صَلَاتِي حَتَّى اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيمَ يخْتَصم الْمَلأ الْأَعْلَى قلت لَا أَدْرِي رب قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَتَجَلَّى لِي كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلأ الْأَعْلَى قلت فِي الْكَفَّارَات قَالَ مَا هُنَّ قُلْتُ مَشْيُ الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسَاجِد بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَإِسْبَاغُ الْوَضُوءِ حِينَ الْكَرِيهَاتِ قَالَ ثُمَّ فِيمَ؟ قُلْتُ: فِي الدَّرَجَاتِ. قَالَ: وَمَا هن؟ إطْعَام الطَّعَام ولين الْكَلَام وَالصَّلَاة وَالنَّاس نيام. ثمَّ قَالَ: سل قل اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً قوم فتوفني غير مفتون أَسأَلك حَبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَحْبُكُ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حبك . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا ثُمَّ تَعَلَّمُوهَا» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَسَأَلْتُ مُحَمَّد ابْن إِسْمَاعِيل عَن هَذَا الحَدِيث فَقَالَ: هَذَا حَدِيث صَحِيح

معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز فجر پڑھانے کے لیے تشریف نہ لائے ، قریب تھا کہ ہم سورج طلوع ہونے کا مشاہدہ کر لیتے ، پھر آپ بہت تیزی سے تشریف لائے چنانچہ نماز کے لیے اقامت کہی گئی ، رسول اللہ ﷺ نے اختصار کے ساتھ نماز پڑھائی ، پس جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو با آواز بلند فرمایا :’’ اپنی جگہوں پر ایسے ہی بیٹھے رہو ۔‘‘ پھر آپ ﷺ نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا :’’ میں ابھی تمہیں بتاتا ہوں کہ میں تمہیں نماز پڑھانے کے لیے کیوں نہیں آیا ، میں رات کو بیدار ہوا ، وضو کیا اور جس قدر مقدر میں تھا میں نے نماز پڑھی ، مجھے نماز میں اونگھ آنے لگی حتیٰ کہ وہ مجھ پر غالب آ گئی ، تب میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو بہترین صورت میں دیکھا چنانچہ اس نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا : میرے رب ! حاضر ہوں ، فرمایا : فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : میں نہیں جانتا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے اسے دیکھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا حتیٰ کہ میں نے اس کی انگلیوں کے پوروں کی ٹھنڈک اپنے قلب و صدر میں محسوس کی ، اور میرے سامنے ہر چیز واضح ہو گئی اور میں نے پہچان لی ، پھر رب تعالیٰ نے فرمایا : محمد ! میں نے عرض کیا ، میرے رب ! میں حاضر ہوں ، فرمایا : مقرب فرشتے کس چیز کے بارے میں بحث و مباحثہ کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا ، گناہ مٹا دینے والے اعمال کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : با جماعت نماز پڑھنے لے لیے چل کر جانا ، نماز کے بعد مساجد میں بیٹھے رہنا ، ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا ، فرمایا : پھر وہ کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا : درجات کے بارے میں ، فرمایا : وہ کیا ہیں ؟ میں نے عرض کیا : کھانا کھلانا ، نرمی سے بات کرنا اور جب لوگ سو رہے ہوں نماز (تہجد) پڑھنا ۔ فرمایا : کچھ مانگ لیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے عرض کیا : اے اللہ ! تجھ سے نیک اعمال بجا لانے ، برے کام چھوڑ دینے اور مساکین سے محبت کرنے کی توفیق مانگتا ہوں ، اور یہ کہ تو مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما ، اور جب تو کسی قوم کو فتنے سے دوچار کرنا چاہے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا ، میں تجھ سے ، تیری محبت ، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت اور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے ۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ (خواب) حق ہے ، پس اسے یاد کرو اور پھر اسے دوسروں کو بتاؤ ۔‘‘ احمد ، ترمذی ۔ امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ، اور میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاریؒ) سے اس حدیث کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد و الترمذی ۔