TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Hadith 29 - ۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔ - Introduction - Sahih Muslim in Arabic with Urdu and English Translation

This Hadith in full - the Arabic text, its Urdu and English translation, its grading, its reference and the explanation recorded with it.

Hadith 4 of 67 in this chapter
۔ اسناد دین میں سے ہے، (حدیث کی) روایت صرف ثقہ راویوں سے ہو سکتی ہے۔ راویوں میں پائی جانے والی بعض کمزوریوں، کوتاہیوں کی وجہ سے ان پر جرح جائز ہی نہیں بلکہ واجب ہے، یہ غیبت میں شامل نہیں جو حرام ہے بلکہ یہ تو شریعت مکرمہ کا دفاع ہے۔
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى قَالَ: قُلْتُ لِطَاوُسٍ: إِنَّ فُلَانًا حَدَّثَنِي بِكَذَا وَكَذَا، قَالَ: «إِنْ كَانَ صَاحِبُكَ مَلِيًّا، فَخُذْ عَنْهُ»
Abd Allah bin Abd ir-Rahman ad-Dārimī narrated to us, Marwān, meaning Ibn Muhammad ad-Dimashqī informed us, Sa’īd bin Abd il-Azīz narrated to us, on authority of Sulaymān bin Mūsā, he said, I said to Tāwus: ‘So-and-so narrated to me like this-and-that’. He said: ‘If your companion is trustworthy, then take from him.’
سعید بن عبد العزیز نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے طاوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے عرض کی : فلاں نے ان ان الفاظ سے مجھے حدیث سنائی ۔ انہوں نے کہا : اگر تمہارے صاحب ثقاہت میں بھر پو ہیں تو ان سے اخذ کر لو ۔
29
Sahih
Bookmark
Status: Sahih
:حکم حدیث صحیح

Related Chapters

61
1
اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام کی نماز کا بیان اور سلیمان التیمی سے اس حدیث کی روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
2
وتر کے سلسلے میں سعید بن جبیر کی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے مروی حدیث میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
3
وتر کے سلسلے میں ابوایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں زہری سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
4
پانچ رکعت وتر کیسے پڑھی جائے ؟ اور وتر کی حدیث کے سلسلے میں حکم سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
5
اس حدیث میں شعبہ سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
6
اس حدیث میں مالک بن مغول سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
7
باب: اس حدیث میں عبیداللہ بن عمر سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
8
باب: ابوسلمہ کی حدیث میں یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کرنے میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
9
باب: اس حدیث میں ابوسلمہ سے روایت کرنے میں یحییٰ بن ابی کثیر اور محمد بن عمرو پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
10
Chapter: The Obligation of Transmitting on Authority of Trustworthy Narrators and Abandoning the Liars
ثقہ راویوں سے حدیث بیان کرنا، کذابوں کو ترک کرنا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ پر جھوٹ باندھنے سے احتراز کرنا واجب ہے۔
Sahih Muslim
11
ضعیف راویوں سے روایت کی ممانعت اور روایت کی (حفاظت اور بیان کی) ذمہ داری اٹھاتے ہوئے احتیاط
Sahih Muslim
12
نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
13
شب بیداری کے سلسلے میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت میں راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
14
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
15
وتر سے فراغت کے بعد «سبحان الملک القدوس» پڑھنے کا بیان اور اس کی روایت میں سفیان سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
16
جو فرض کے علاوہ دن رات میں بارہ رکعتیں پڑھے اس کے ثواب کا بیان اور اس سلسلے میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کی روایت کے ناقلین کے اختلاف کا ذکر، اور عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
17
باب: (اس حدیث) میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
18
باب: اس حدیث میں معمر پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
19
باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
20
باب: بادل ہونے پر شعبان کے تیس دن پورے کرنے کا بیان اور ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
21
باب: اس حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
22
باب: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث میں عمرو بن دینار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
23
باب: اس سلسلہ میں ربعی کی حدیث میں منصور پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
24
باب: مہینہ کتنے دنوں کا ہوتا ہے؟ نیز عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں زہری پر (راویوں کے) اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
25
باب: اس بارے میں سعد بن ابی وقاص (مالک) رضی الله عنہ کی روایت میں اسماعیل بن ابی خالد پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
26
باب: اس حدیث میں عبدالملک بن ابی سلیمان پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
27
باب: سحری دیر سے کھانے کا بیان اور اس حدیث میں زر بن حبیش پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
28
باب: سحری میں تاخیر سے متعلق عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث میں سلیمان بن مہران اعمش پر راویوں اور ان کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
29
باب: اس حدیث میں محمد بن ابراہیم پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
30
باب: اس حدیث میں خالد بن معدان پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
31
باب: رمضان میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (رات کو) قیام کرنے یعنی صلاۃ تراویح پڑھنے اور (دن کو) روزہ رکھنے والے کے ثواب کا بیان اور اس سلسلہ کی حدیث میں زہری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
32
باب: روزے کی فضیلت اور اس سلسلے میں علی رضی الله عنہ کی حدیث کے بارے میں ابواسحاق سبیعی پر راویوں کے اختلاف کا بیان۔
Sunnan Nisai
33
باب: اس حدیث میں ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
34
باب: روزہ دار کی فضیلت کے سلسلے میں ابوامامہ رضی الله عنہ والی حدیث میں محمد بن ابی یعقوب پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
35
باب: اللہ کی راہ میں ایک دن کے روزہ رکھنے کا ثواب، اور اس سلسلہ کی روایت میں سہیل بن ابوصالح پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
36
باب: اس حدیث میں سفیان ثوری پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
37
باب: حدیث میں محمد بن عبدالرحمٰن پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
38
باب: مسافر کے روزہ نہ رکھنے کا بیان اور عمرو بن امیہ رضی الله عنہ کی حدیث میں اوزاعی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
39
باب: اس حدیث میں حمزہ بن عمرو کی حدیث میں سلیمان بن یسار پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
40
باب: حمزہ بن عمرو رضی الله عنہ کی حدیث میں عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
41
باب: اس حدیث میں ہشام بن عروہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
42
باب: اس حدیث میں ابونضرہ منذر بن مالک بن قطعہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
43
باب: روزہ میں نیت کا بیان اور اس باب میں عائشہ رضی الله عنہا والی حدیث میں طلحہ بن یحییٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
44
باب: اس حدیث میں عطا پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
45
باب: صیام الدھر (ہمیشہ روزہ رکھنے) کی ممانعت، اور اس سلسلہ کی حدیث میں مطرف بن عبداللہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
46
باب: ہر مہینے تین دن روزہ رکھنے کے سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث میں ابوعثمان نہدی پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
47
باب: ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
48
باب: باپ بیٹے کو دے کر واپس لے لے اس کا بیان اور اس حدیث کے راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
49
باب: طاؤس کی روایت «الرَّاجِعِ فِي هِبَتِهِ‘» میں راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
50
باب: جماعت سے الگ ہونے والے شخص کو قتل کرنے کا بیان اور زیاد بن علاقہ کی عرفجہ سے روایت پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
Sunnan Nisai
No related chapter matched that.

Related Hadith

83
Sahih Muslim
188
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ: «الْإِيمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ»
The same hadith has been narrated by Zuhri with the same chain of authorities with the addition: The belief is among the Yemenites, the sagacity is that of the Yemenites.
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت کی اور ( آخرمیں یہ ) اضافہ کیا : ’’ ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے
Sahih Muslim
1071
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ قَزْعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ ‏ ‏ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَىْءٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَكُلُّنَا لَكَ عَبْدٌ اللَّهُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلاَ مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ ‏ ‏ ‏.‏
Abu Sa'id al-Khudri reported: When the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) raised his head after bowing, he said: O Allah! our Lord, to Thee be the praise that would fill all the heavens and the earth, and all that it pleases Thee besides (them). O, thou art worthy of praise and glory, most worthy of what a servant says, and we all are Thy servants, no one can withhold what Thou givest or give what Thou withholdest, and riches cannot avail a wealthy person against Thee.
حضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو فرماتے : ’’اے ہمارے رب! تیرے ہی لیے تعریف ہے آسمان بھر ، زمین بھر اور ان کے سوا جو چیز تو چاہے اس کی وسعت بھر ۔ ثنا اورعظمت کے حق دار! ( یہی ) صحیح ترین بات ہے جو بندہ کہہ سکتا ہے اور ہم سب تیری ہی بندے ہیں ۔ اے اللہ! جو کچھ تو عنایت فرمانا چاہے ، اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سےتو محروم کر دے ، وہ کوئی دے نہیں سکتا اور نہ ہی کسی مرتبہ والے کو تیرے سامنے اس کا مرتبہ نفع دے سکتا ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
1276
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ مَنْصُورٌ: «فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ لِلصَّوَابِ» حَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: «فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ»
This hadith is reported by Mansur with the same chain of transmitters, but with these words: He should aim at correct (prayer) and it is advisable.
وہیب بن خالد نے کہا : ہمیں منصور نے اسی سند کےس اتھ حدیث بیان کی ۔ منصور نے کہا : ’’وہ غور کرے کہ اس میں صحت کے قریب تر کیا ہے ۔ ‘ ‘
Sahih Muslim
4489
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدِّمَشْقِيَّ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِ اللَّيْثِيُّ، بِهَذَا الْحَدِيثِ مِثْلَ رِوَايَةِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا
This hadith has been transmitted on the authority of Usama b. al-Had al-Laithi.
لیث بن سعد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد لیث نے ( اپنی ) دونوں سندوں سے یہی حدیث عبدالعزیز بن محمد کی روایت کے مانند بیان کی
Sahih Muslim
4833
وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّ اللهَ لَنْ يَتِرَكَ مِنْ عَمَلِكَ شَيْئًا»، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ: «فَهَلْ تَحْلُبُهَا يَوْمَ وِرْدِهَا؟» قَالَ: نَعَمْ
This tradition has been handed down through a different chain of transmitter with the addition of the following words at the end: Do you milk them on the day they arrive at the water? He replied: Yes.
محمد بن یوسف نے اوزاعی سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی مگر انہوں نے کہا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے عمل میں سے کسی چیز کو ضائع نہیں کرے گا " اور یہ اضافہ کیا ، آپ نے فرمایا : " جس دن اونٹنیاں پانی پینے کے لیے ( گھاٹ یا چشمے پر ) آتی ہیں تو کیا تم ( ضرورت مندوں ، مسکینوں ، مسافروں کو پلانے کے لیے ) ان کا دودھ دوہتے ہو؟ " اس نے کہا : ہاں ۔
Sahih Muslim
4785
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ التَّمِيمِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى، - وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ - حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، - يَعْنِي ابْنَ سَلاَّمٍ - حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلاَّمٍ، عَنْ أَبِي سَلاَّمٍ، قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا بِشَرٍّ فَجَاءَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَنَحْنُ فِيهِ فَهَلْ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قُلْتُ هَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الشَّرِّ خَيْرٌ قَالَ ‏ ‏ نَعَمْ ‏ ‏ ‏.‏ قُلْتُ فَهَلْ وَرَاءَ ذَلِكَ الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ ‏ ‏ نَعَمْ ‏ ‏ ‏.‏ قُلْتُ كَيْفَ قَالَ ‏ ‏ يَكُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لاَ يَهْتَدُونَ بِهُدَاىَ وَلاَ يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ قَالَ ‏ ‏ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلأَمِيرِ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ ‏ ‏ ‏.‏
It his been narrated through a different chain of transmitters, on the authority of Hudhaifa b. al-Yaman who said: Messenger of Allah, no doubt, we had an evil time (i. e. the days of Jahiliyya or ignorance) and God brought us a good time (i. e. Islamic period) through which we are now living Will there be a bad time after this good time? He (the Holy Prophet) said: Yes. I said: Will there be a good time after this bad time? He said: Yes. I said: Will there be a bad time after good time? He said: Yes. I said: How? Whereupon he said: There will be leaders who will not be led by my guidance and who will not adopt my ways? There will be among them men who will have the hearts of devils in the bodies of human beings. I said: What should I do. Messenger of Allah, if I (happen) to live in that time? He replied: You will listen to the Amir and carry out his orders; even if your back is flogged and your wealth is snatched, you should listen and obey.
حذیفہ بن الیمان رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! ہم برائی میں تھے پھر اﷲ تعالیٰ نے بھلائی دی اب اس کے بعد بھی کچھ برائی ہے؟ آپ نے فرمایا۔ میں نے کہا پھر اس کے بعد بھلائی ہے آپ نے فرمایا ہاں میں نے کہا پھر اس کے بعد برائی؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ میں نے کہا کیسے؟ آپ نے فرمایا میرے بعد وہ لوگ حاکم ہوں گے جو میری راہ پر نہ چلیں گے، میری سنت پر عمل نہیں کریں گے او ران میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل شیطان کے سے او ربدن آدمیوں کے سے ہوں گے۔ میں نے عرض کیا یارسول اﷲؐ! اس وقت میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اگر تو ایسے زمانہ میں ہو تو سن اور مان حاکم کی بات کو اگرچہ وہ تیرے پیٹھ پھوڑے اور تیرا مال لے لے پر اس اس کی بات سنے جا اور اس کا حکم مانتا رہ۔
Sahih Muslim
5056
وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، كُلُّ هَؤُلَاءِ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَمَعْنَى حَدِيثِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Khalid al-Hadhdha' through different chains o transmitters.
ہشیم ، عبدالوہاب ثقفی ، شعبہ ، سفیان اور منصور ، سب نے خالد حذا ء سے ابن علیہ کی سند سے اور اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔
Sahih Muslim
5806
وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، وَحَمْزَةَ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ وَحَمْزَةَ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الشُّؤْمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ لَا يَذْكُرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ الْعَدْوَى وَالطِّيَرَةَ، غَيْرُ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with other chains of transmitters but with slight variations of wording.
سفیان ، صالح ، عقیل ، بن خا لد ، عبد الرحمٰن بن اسحٰق اور شعیب ، ان سب نے زہری سے ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( ابن معر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے انھوں نے ناموافقت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند بیان کیا ، یو نس بن یزید کے علاوہ ان میں سے کسی نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں "" کسی بیماری کے خو د بخود کسی دوسرے کو لگ جا نے اور بد شگونی "" کا ذکر نہیں کیا ۔ حدیث نمبر 5807 ۔ محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عمر بن محمد بن یزید سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اگر کسی چیز میں کسی ناموافقت کا ہو نا بر حق ہو سکتا ہے تو وہ گھوڑے عورت اور مکان میں ہے ۔ ""
Sahih Muslim
5931
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا أَعْبُرْهَا لَهُ» قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُ ظُلَّةً. بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
Ibn `Abbas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to say to his Companions: He who amongst you sees a vision should narrate it and I would interpret it for him, and a person came and said: Allah's Messenger, I saw a canopy. The rest of the hadith is the same.
سلمان بن کثیر نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے یہ فرمایا کرتے تھے : " تم میں سے جس شخص نے خواب دیکھا ہے ، وہ بیان کرے ، میں اس کی تعبیر بتاؤں گا ۔ " کہا : تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے ایک بادل کو سایہ فگن دیکھا ۔ جس طرح ان سب ( بیان کرنے والوں ) کی حدیث ہے ۔