TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter: The prohibition of Khamr, which may be made from the juice of grapes, dried dates, unripe dates, raisins and other things that intoxicate شراب کی حرمت اور اس بات کا بیان کہ شراب انگور،خشک کھجور ،ادھ کچی اور کشمش وغیرہ کے رس سے بنتی ہے جو نشہ آور ہو تی ہے

Chapter 1 of The book of of drink in Sahih Muslim. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 35 · 13 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ أَصَبْتُ شَارِفًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَغْنَمٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَارِفًا أُخْرَى فَأَنَخْتُهُمَا يَوْمًا عِنْدَ بَابِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَحْمِلَ عَلَيْهِمَا إِذْخِرًا لِأَبِيعَهُ وَمَعِي صَائِغٌ مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ عَلَى وَلِيمَةِ فَاطِمَةَ وَحَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَشْرَبُ فِي ذَلِكَ الْبَيْتِ مَعَهُ قَيْنَةٌ تُغَنِّيهِ فَقَالَتْ أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَثَارَ إِلَيْهِمَا حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ وَمِنْ السَّنَامِ قَالَ قَدْ جَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا فَذَهَبَ بِهَا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ عَلِيٌّ فَنَظَرْتُ إِلَى مَنْظَرٍ أَفْظَعَنِي فَأَتَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَخَرَجَ وَمَعَهُ زَيْدٌ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَدَخَلَ عَلَى حَمْزَةَ فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ فَرَفَعَ حَمْزَةُ بَصَرَهُ فَقَالَ هَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِآبَائِي فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَهْقِرُ حَتَّى خَرَجَ عَنْهُمْ
Ali b. Abu Talib reported; There fell to my lot along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) an old she-camel from the spoils of Badr. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) granted me another camel. I made them kneel down one day at the door of an Ansari, and I wanted to carry on them Idhkhir (a kind of grass) in order to sell that. There was with me a goldsmith of the tribe of Qainuqa'. I saught to give a wedding feast (on the occasion of marriage with) Fatima with the help of that (the price accrued from the sale of this grass). And Hamza b. 'Abd al-Muttalib was busy in drinking in that house in the company of a singing girl who was singing to him. She said: Hamza, get up for slaughtering the fat she-camels. Hamza attacked them with the sword and cut off their humps and ripped their haunches, and then took out their livers. I said to Ibn Shihab: Did he take out anything from the hump? He said: He cut off the humps altogether. Ibn Shihab reported 'Ali having said: I saw this (horrible) sight and it shocked me, and I came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and there was Zaid b, Haritha with him and communicated to him this news. He came in the company of Zaid and I also went along with him and he went to Hamza and he expressed anger with him. Hamza raised his eyes and said: Are you (not) but the servants of my father? Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) turned back on his heels (on hearing this) until he went away from them.
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابن شہاب نے علی بن حسین بن علی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کے مال غنیمت میں سے ایک ( جوان اونٹنی حاصل ہو ئی ۔ ایک اور جوان اونٹنی ( خمس میں سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرما ئی ۔ ایک دن میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے پر بٹھا یا اور میں ان دو نوں پر بیچنے کے لیے اذخر ( کی خوشبو دار گھاس ) لا دکر لا نا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ بنو قینقاع کا سنار بھی میرے ساتھ تھا ۔ ۔ ۔ اور اس ( کی قیمت ) سے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( کے ساتھ اپنی شادی ) کے ولیمے میں مدد لینا چا ہتا تھا ۔ حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس گھر میں ( بیٹھے ) شراب پی رہے تھے ، ان کے قریب ایک گا نے والی عورت گا رہی تھی پھر وہ یہ اشعار گا نے لگی ۔ سنیں حمزہ ! ( اٹھ کر ) فربہ اونٹنیوں کی طرف بڑھیں ( دوسرا مصرع ہے ۔ وَهُنَّ مُعَقَّلَاتٌ بِالْفِنَاءِ "" اور گھر کے آگے کھلی جگہ میں بندھی ہو ئی ہیں ۔ ) "" حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار سمیت لپک کر ان کی طرف بڑھے ان کے کوہانوں کو جڑسے کاٹ لیا ان کے پہلو چیردیے پھر ان کے کلیجے نکا ل لیے ۔ میں نے ابن شہاب سے کہا : اور کو ہان بھی ؟ انھوں نے کہا : وہ ( حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان دونوں کے کو ہان جڑ سے کا ٹ کر لے گئے ۔ ابن شہاب نے کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے مجھے دہلا کر رکھ دیا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے پاس مو جو د تھے ۔ آپ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمرا ہ نکل پڑے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا ۔ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور غصے کا اظہار فر ما یا ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنکھ اٹھا ئی اور کہنے لگے : تم میرے آبا واجداد کے غلاموں سے برھ کر کیا ہو ! ( وہ دونوں جناب عبد المطلب کے پو تے تھے اور رشتے کے حوالے سے خدمت گزاری کے مقام پر تھے ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رشتے میں ان سے ایک پشت اوپر تھے ۔ انھوں نے شراب کی لہر میں اسی بات کو مبا لغہ آمیز فخر و مباہات کے رنگ میں کہہ دیا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس ہو ئے اور ان کی محفل سے نکل آئے ۔
5127
Sahih
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Juraij with the same chain of transmitters.
عبد الرزاق نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
5128
Sahih
و حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ أَبُو عُثْمَانَ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنْ الْمَغْنَمِ يَوْمَ بَدْرٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَانِي شَارِفًا مِنْ الْخُمُسِ يَوْمَئِذٍ فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعَدْتُ رَجُلًا صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ يَرْتَحِلُ مَعِيَ فَنَأْتِي بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنْ الصَّوَّاغِينَ فَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرْسِي فَبَيْنَا أَنَا أَجْمَعُ لِشَارِفَيَّ مَتَاعًا مِنْ الْأَقْتَابِ وَالْغَرَائِرِ وَالْحِبَالِ وَشَارِفَايَ مُنَاخَانِ إِلَى جَنْبِ حُجْرَةِ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَمَعْتُ حِينَ جَمَعْتُ مَا جَمَعْتُ فَإِذَا شَارِفَايَ قَدْ اجْتُبَّتْ أَسْنِمَتُهُمَا وَبُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا فَلَمْ أَمْلِكْ عَيْنَيَّ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ الْمَنْظَرَ مِنْهُمَا قُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالُوا فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِنْ الْأَنْصَارِ غَنَّتْهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابَهُ فَقَالَتْ فِي غِنَائِهَا أَلَا يَا حَمْزُ لِلشُّرُفِ النِّوَاءِ فَقَامَ حَمْزَةُ بِالسَّيْفِ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا فَأَخَذَ مِنْ أَكْبَادِهِمَا فَقَالَ عَلِيٌّ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ قَالَ فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِيَ الَّذِي لَقِيتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى نَاقَتَيَّ فَاجْتَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ مَعَهُ شَرْبٌ قَالَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَاهُ ثُمَّ انْطَلَقَ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ حَتَّى جَاءَ الْبَابَ الَّذِي فِيهِ حَمْزَةُ فَاسْتَأْذَنَ فَأَذِنُوا لَهُ فَإِذَا هُمْ شَرْبٌ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ فِيمَا فَعَلَ فَإِذَا حَمْزَةُ مُحْمَرَّةٌ عَيْنَاهُ فَنَظَرَ حَمْزَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى سُرَّتِهِ ثُمَّ صَعَّدَ النَّظَرَ فَنَظَرَ إِلَى وَجْهِهِ فَقَالَ حَمْزَةُ وَهَلْ أَنْتُمْ إِلَّا عَبِيدٌ لِأَبِي فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ثَمِلٌ فَنَكَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَقِبَيْهِ الْقَهْقَرَى وَخَرَجَ وَخَرَجْنَا مَعَهُ
Husain b. 'Ali reported 'Ali having said: There fell to my lot a she-camel out of the spoils of war on the Day of Badr, and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave me (another) she-camel on that day out of the Khums (one-fifth reserved for Allah and His Messenger). When I made up my mind to consummate my marriage with Fatima, the daughter of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), I prevailed upon a goldsmith of the tribe of Qainuqa' to go along with me so that we might bring Idhkhir wishing to sell that to the goldsmiths and thus I should be able to arrange my wedding feast. While I was arranging the equipments. i. e. litters, sacks and ropes, my two she-camels were sitting down at the side of the apartment of a person of the Ansar. I collected (the different articles of equipment) and found to my surprise that their humps had been chopped off and their haunches had been cut off and their livers had been taken out. I could not help weeping when I saw that plight of theirs. I said: Who has done that? They said: Hamza b. 'Abd al-Muttalib has done this. and he is in this house dead drunk in the company of some of the Ansair with asinging girl singing before him and his companions. She said in her song: O Hamza. get up and attack these falty she-camels. Thereupon Hamza stood up with a sword (in his hand) and cut off their humps and ripped their haunches and tore out their livers. 'Ali said: I went away until I came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and there was with him Zaid b. Haritha. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recognised from my face what I had experienced, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: What has happened to you? I said: Messenger of Allah, by Allah, I have never seen (such an unfortunate day) as this day. Hamza has committed aggression to my she-camels, and has cut off their humps. and ripped their haunches, and he is in a house in the company of some drunkards. (Hearing this) Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent for his mantle and, putting it on him, he proceeded, and I and Zaid b. Haritha followed him, until he came to the door (of the house) in which there was Hamza. He (the Holy Prophet) sought permission which they granted him. and they were all drunk. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) began to reprimand Hamza for what he had done. Hamza's eyes were red. He cast a glance at Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and then looked towards his knees. and then lifted his eyes and cast a glance at his waist and then lifted his eyes and saw his face. And then Hamza said: Are you anything but the slaves of my father? Alah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to know that he was intoxicated, and he thus turned upon his heels, and came out, and we also came out along with him.
۔ عبد اللہ بن وہب نے کہا : مجھے یو نس بن یزید نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے علی بن حسین بن علی نے بتا یا کہ حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن مال غنیمت میں ایک اونٹنی ملی اور اسی دن ایک اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس میں سے اور دی ۔ پھر جب میں نے چاہا کہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی کروں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر لائیں اور سناروں کے ہاتھ بیچیں اور اس سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں ۔ میں اپنی دونوں اونٹنیوں کا سامان پالان ، رکابیں اور رسیاں وغیرہ اکٹھا کر رہا تھا اور وہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کی کوٹھری کے بازو میں بیٹھی تھیں ۔ جس وقت میں یہ سامان جو اکٹھا کر رہا تھا اکٹھا کر کے لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں ، ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور ان کے جگر نکال لئے گئے ۔ مجھ سے یہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور میری آنکھیں تھم نہ سکیں ( یعنی میں رونے لگا یہ رونا دنیا کے طمع سے نہ تھا بلکہ سیدہ فاطمۃالزہراء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں جو تقصیر ہوئی ، اس خیال سے تھا ) میں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے اور وہ اس گھر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ ہیں جو شراب پی رہے ہیں ، ان کے سامنے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے ایک گانے والی نے گانا گایا تو گانے میں یہ کہا کہ اے حمزہ اٹھ ان موٹی اونٹنیوں کو اسی وقت لے ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اٹھے اور ان کے کوہان کاٹ لئے اور کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر ( کلیجہ ) نکال لیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، وہاں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے سے رنج و مصیبت کو پہچان لیا اور فرمایا کہ تجھ کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! آج کا سا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کیا ، ان کے کوہان کاٹ لئے ، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور وہ اس گھر میں چند شرابیوں کے ساتھ ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوا کر اوڑھی اور پھر پیدل چلے ، میں اور زید بن حارثہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے پر آئے جہاں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ لوگوں نے اجازت دی ۔ دیکھا تو وہ شراب پئے ہوئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر ملامت شروع کی اور سیدنا حمزہ کی آنکھیں ( نشے کی وجہ سے ) سرخ تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، پھر آپ رضی اللہ عنہ کے گھٹنوں کو دیکھا ، پھر نگاہ بلند کی تو ناف کو دیکھا ۔ پھر نگاہ بلند کی تو منہ کو دیکھا اور ( نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے ) کہا کہ تم تو میرے باپ دادوں کے غلام ہو ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچانا کہ وہ نشہ میں مست ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں پھرے اور باہر نکلے ۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔
5129
Sahih
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
The above hadith has been narrated likewise through another chain of transmitters.
عبد اللہ بن مبارک نے یو نس سے انھوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
5130
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ فِي بَيْتِ أَبِي طَلْحَةَ وَمَا شَرَابُهُمْ إِلَّا الْفَضِيخُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي فَقَالَ اخْرُجْ فَانْظُرْ فَخَرَجْتُ فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَاهْرِقْهَا فَهَرَقْتُهَا فَقَالُوا أَوْ قَالَ بَعْضُهُمْ قُتِلَ فُلَانٌ قُتِلَ فُلَانٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ قَالَ فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ
Anas b. Malik reported: I was the cup-bearer of some people in the house of Abu Talha on the day when liquor was forbidden. Their liquor had been prepared from dry dates or fresh dates when the announcer made the announcement. He (Abu Talha) said to me: Go out and find out (what the announcement is). I got out (and found) an announcer making this announcement: Behold, liquor has been declared unlawful. He said: The liquor (was spilt and) flawed in the lanes of Medina. Abu Talha said to me: Go out and Spill it, and I spilt it. They said or some of them said: Such and such were killed, such and such were killed for (the wine) had been in their stomachs. He (the narrator) said. I do not know whether it is the narration transmitted by Anas, (or by someone else). Then Allah, the Exalted and Majestic, revealed: There shall be no sin (imputed) unto those who have believed and done good works for what they may have eaten as long as they fear (Allah) and believe and do good works (v. 93).
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جس دن شرا ب حرام کی گئی ، میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر ( لو گوں کو ) شراب پلا رہا تھا ۔ ان کی شرا ب ادھ پکی اور خشک کھجوروں سے تیار شدہ شرا ب کے سوا اور کو ئی نہ تھی ، اتنے میں ایک اعلا ن کرنے والا پکا رنے لگا ۔ انھوں نے کہا : میں جاؤں اور دیکھوں تو ( دیکھا کہ وہاں ) ایک منا دی اعلا ن کر رہا تھا : ( لوگو ) سنو! شراب حرام کر دی گئی ۔ کہا : پھر مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی ۔ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : نکلو اور اسے بہا دو! میں نے وہ ( سب ) بہادی ۔ تو لو گوں نے کہا ۔ ۔ ۔ یا ان میں سے کچھ نے کہا ۔ ۔ ۔ فلا ں شہید ہوا تھا اور فلا ں شہید ہوا تھا تو یہ ( شراب ) ان کے پیٹ میں مو جو د تھی ۔ ۔ ۔ ( ایک راوی نے ) کہا : مجھے معلوم نہیں یہ ( بھی ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں سے ہے ( یا نہیں ) ۔ ۔ ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے ( لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوٓا إِذَا مَا ٱتَّقَوا وَّءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ ) نازل فرمائی : " جو لو گ ایمان لا ئے اور نیک کا م کیے جب انھوں نے تقوی اختیار کیا ایمان لا ئے اور نیک عمل کیے ( تو ) ان پر اس چیز کے سبب کوئی گناہ نہیں جس کو انھوں نے ( حرمت سے پہلے ) کھا یا پیا ( تھا ۔ )
5131
Sahih
و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ قَالَ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ الْفَضِيخِ فَقَالَ مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ هَلْ بَلَغَكُمْ الْخَبَرُ قُلْنَا لَا قَالَ فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَقَالَ يَا أَنَسُ أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ قَالَ فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ
Abd al-Aziz b. Suhaib reported: They (some persons) asked Anas b. Malik, about Fadikh (that is, a wine prepared from fresh dates), whereupon he said: There was no liquor with us except this Fadikih of yours. It was only this Fadikh that I had been serving to Abu Talha and Abu Ayyub and some persons from amongst the Companions of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in our house. When a person came and said: Has the news reached you? We said, No. He said: Verily liquor has been declared forbidden. Thereupon, Abd Talha said: Anas, spill these large pitchers. He (the narrator) said: They then never reverted to it, nor even asked about this after the announcement by that person.
عبد العز یز بن صہیب نے کہا : لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فضیخ ( ملی جلی کچی اور پکی ہو ئی کھجوروں کا رس جس میں خمیراٹھ جا ئے ) کے متعلق سوال کیا ۔ انھوں نے کہا : تمھا رے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کو ئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو ، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابو طلحہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا : تمھیں خبر پہنچی ؟ ہم نے کہا : نہیں ۔ اس نے کہا : شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ تو ( ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : انس ! ( شراب کے ) یہ سارے مٹکے بہا دو ۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں ( کبھی ) کچھ پوچھا ۔
5132
Sahih
و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَقَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ عَلَى عُمُومَتِي أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ فَقَالُوا اكْفِئْهَا يَا أَنَسُ فَكَفَأْتُهَا قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ مَا هُوَ قَالَ بُسْرٌ وَرُطَبٌ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ قَالَ سُلَيْمَانُ وَحَدَّثَنِي رَجُلٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ أَيْضًا
Anas b. Malik reported: I was standing amongst the uncles of my tribe serving them Fadikh while I was the youngest of them, when a person came and said: Verily the use of liqour has been prohibited. They said: Anas, spill it away. So I spilt it. He (one of the narrators. Sulaiman Taimi) said that he asked Anas what that was (the Fadikh). He said: It had been prepared from unripe and ripe dates. Abu Bakr b. Anas said: It was their liquor in those days. Sulaiman said: A person narrated it to me from Anas b. Malik that he had said so.
ابن علیہ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے بتا یا کہا : ہمیں حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں اپنے قبیلے والوں اپنے چچاؤں کو ان کی ( شراب ) فضیخ پلا رہا تھا اور میں ہی ان میں سب سے کم سن تھا ، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا : "" شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ تو ( ان ) لوگوں نے کہا : انس ! اس کو بہا دو ۔ میں نے وہ سب بہا دی ۔ ( سلیمان تیمی نے ) کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : وہ کیا تھا ( جس سے شراب بنا ئی گئی تھی ؟ ) انھوں نے کہا : وہ کچی اور پکی کھجور یں تھیں ( تیمی نے ) کہا : ابو بکر بن انس نے کہا : ان دنوں یہی ان کی شراب تھی ۔ سلیمان نے کہا : مجھے ایک شخص نے حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی کہ خود انھوں نے ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بھی یہی کہا تھا ۔
5133
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَنَسٌ كُنْتُ قَائِمًا عَلَى الْحَيِّ أَسْقِيهِمْ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَأَنَسٌ شَاهِدٌ فَلَمْ يُنْكِرْ أَنَسٌ ذَاكَ و قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ قَالَ حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ كَانَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسًا يَقُولُ كَانَ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ
Anas reported: I was standing amongst the members of my (tribe) and serving them liquor. The rest of the hadith is the same, but with this variation that Abu Bakr b. Anas said: It was their liquor in those days (prepared from dates), and Anas was present there and he did not deny this (fact) Mu'tamir reported on the authority of his father: A person who was with me told me that he had heard Anas saying that that was their liquor in those days.
محمد بن عبد الاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر ( بن سلیمان تیمی ) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں کھڑا ہوا قبیلے ( کے لوگوں ) کو شراب پلا رہا تھا ، ابن علیہ کی روایت کے مانند البتہ انھوں نے ( معتمر ) نے کہا : ابو بکر بن انس نے بتا یا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی اور اس وقت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( خود بھی ) مو جو د تھے اور انھوں نے اس کا انکا ر نہیں کیا ۔ ( سلیمان نے کہا : ) اور جو لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا : اس نے ( خود ) انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی ۔
5134
Sahih
و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ وَأَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا دُجَانَةَ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فِي رَهْطٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا دَاخِلٌ فَقَالَ حَدَثَ خَبَرٌ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ فَأَكْفَأْنَاهَا يَوْمَئِذٍ وَإِنَّهَا لَخَلِيطُ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ قَالَ قَتَادَةُ وَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَقَدْ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ وَكَانَتْ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَئِذٍ خَلِيطَ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ
Anas b. Malik reported I was serving wine to Abu Talha, and Abu Dujana. and Mu'adh b. jabal admidst a group of Ansar when a visitor came to us and said There is a fresh news; the (verses) concerning the prohibition of liquor have been revealed. So we spilt it on that day; and it was a mixture of dry dates and fresh dates. Anas b. Malik said: Whil Khamr was declared unlawful, the common liquor of theirs was then a mixture of dry dates and fresh dates.
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں انصاری کی ایک جمیعت میں حضرت ابو طلحہ ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شراب پلا رہاتھا ، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا : شراب کی حُرمت نازل ہوگئی ہے ، ( یہ سنتے ہی ) ہم نے اسی دن اسے ( شراب کو ) بہادیا ، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب تھی ۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : شراب حرام کردی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی ، نیم پختہ اور خشک کھجور کی ( بنی ہوئی ) ہوتی تھی ۔
5135
Sahih
و حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنِّي لَأَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا دُجَانَةَ وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ مِنْ مَزَادَةٍ فِيهَا خَلِيطُ بُسْرٍ وَتَمْرٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ سَعِيدٍ
Anas b. Malik said: I was serving wine to Abu Talha, Abu Dujana, and Suhail b. Baida' from a waterskin which contained the mixture of unripe dates and fresh dates. The rest of the hadith is the same.
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابو طلحہ ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ایک مشکیزے سے شراب پلارہاتھا ، ملی جلی نیم پختہ اورخشک کھجوروں کی شراب تھی ، جس طرح سعید ( بن ابی عروبہ ) کی حدیث ہے ۔
5136
Sahih
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ وَالزَّهْوُ ثُمَّ يُشْرَبَ وَإِنَّ ذَلِكَ كَانَ عَامَّةَ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ
Anas b. Malik is reported to have said that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had forbidden to mixture fresh dates and unripe dates and then drinking (the wine prepared out of it), and that was their common intoxicant when liquor was prohibited.
عمرو بن حارث نے کہا کہ قتادہ بن دعامہ نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کچی اور نیم پختہ کھجوروں کا خلیط ( پانی ملارس ) بنایاجائے ، پھر ( اس میں خمیر اٹھنے کے بعد ) اسے پیا جائے اور جس دن شراب حرام ہوئی اس زمانے میں ان کی عام شراب یہی ہوا کرتی تھی ۔
5137
Sahih
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأَبَا طَلْحَةَ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَتَمْرٍ فَأَتَاهُمْ آتٍ فَقَالَ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا أَنَسُ قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجَرَّةِ فَاكْسِرْهَا فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى تَكَسَّرَتْ
Anas b. Malik reported: I was serving drink to Abu 'Ubaida b. jarrah, Abu Talha and Ubayy b. Ka'b prepared from unripe dates and fresh dates when a visitor came and he said: Verily liquor has been prohibited. Thereupon, Abu Talha said: Anas, stand up and break this pitcher. I stool up and (took hold) of a pointed stone and struck the pitcher with its lower part until it broke into pieces.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح ، حضرت ابو طلحہ اورحضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب پلارہاتھا ، اس وقت ان کے پاس آنے والا ایک شخص آیا اور کہا : شراب حرام کردی گئی ہے ۔ حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : انس!جاکر اس گھڑے کو توڑدو ، میں نے اپنا پیسنے والا پتھر ( ہاون دستہ ) اٹھایا اور اس کے نچلے حصے کو اس گھڑے پر مارا حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا ۔
5138
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ لَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ فِيهَا الْخَمْرَ وَمَا بِالْمَدِينَةِ شَرَابٌ يُشْرَبُ إِلَّا مِنْ تَمْرٍ
Anas b. Malik reported: Allah revealed the verse in which Allah prohibited the use of liquor. In those days no other liquor was drunk but that prepared from dates.
عبدالحمید بن جعفر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل فرمائی جس میں اس نے شراب کو حرام کیا تو اس وقت مدینہ میں کھجور کے علاوہ اور ( کسی چیز کی بنی ہوئی ) شراب نہیں پی جاتی تھی ۔
5139
Sahih

Chapters

35
01
Chapter: The prohibition of Khamr, which may be made from the juice of grapes, dried dates, unripe dates, raisins and other things that intoxicate
شراب کی حرمت اور اس بات کا بیان کہ شراب انگور،خشک کھجور ،ادھ کچی اور کشمش وغیرہ کے رس سے بنتی ہے جو نشہ آور ہو تی ہے
13 Hadith
02
Chapter: The prohibition of making vinegar from wine
شراب کو سرکہ بنانے کی ممانعت
1 Hadith
03
Chapter: The prohibition of using Khamr as a remedy; It is not a remedy
شراب سے علاج کرنے کی حرمت
1 Hadith
04
Chapter: Everything that is taken from the date palm or grape vine and steeped is called Khamr
(پہلے مرحلے میں) جو بھی نبیذ بنائی جاتی ہے،کھجور سے ہو یا انگور سے(خمیر اٹھنے کے بعد) اسی کا نام شراب ہے
3 Hadith
05
Chapter: It is disliked to make Nabidh by mixing dried dates and raisins
کھجوروں اورکشمش کو ملا کر رس بنانا مکروہ ہے:
21 Hadith
06
Chapter: The prohibition of making Nabidh in Al-Muzaffat, Ad-Dubba' (Gourds), Al-Hantam and An-Naqir; This has been abrogated and now it is permitted, so long as it does not become intoxicating
روغن زفت ملے ہوئے اور کدو سے بنےہوئے،مٹی کے سبز اور کھوکھلی لکڑی کے بنے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے کی ممانعت(کی گئی تھی)،آج یہ حلال ہے بشرط یہ کہ وہ نشہ آور نہ ہوجائے
45 Hadith
07
Chapter: Every intoxicant is Khamr and all Khamr is Haram
ہر نشہ آور چیز خمرے ہے اور ہر خمرحرا م ہے
11 Hadith
08
Chapter: The punishment of one who drinks Khamr if he does not repent from it: he will be denied it in the hereafter
جس نے شراب پی اور اس (کے پینے) سے توبہ نہیں کی اس کی سزا یہ ہو گی کہ آخرت میں وہ اس سے روک دی جا ئے گی۔
4 Hadith
09
Chapter: The permissibility of Nabidh so long as it has not become strong and has not become intoxicating
جو نبیذ تیز اور نشہ آور نہ ہو گئی ہو۔جائز ہے
12 Hadith
10
Chapter: The permissibility of drinking milk
دودھ پینے کا جواز
4 Hadith
11
Chapter: Drinking Nabidh and covering vessels
نبیذ پینا اور برتنوں کوڈھک کررکھنا
4 Hadith
12
Chapter: It is recommended to cover vessels, tie up waterskins, close doors and mention the name of Allah over them, extinguish lamps and fires when going to sleep, and keep children and animals in after maghrib
مغرب کے بعد برتن کو ڈھانک دینا،مشکیزے کا منہ باندھ دینا،(گھر کے) دروازے بند کردینا،ان پر اللہ کا نام پڑھنا،نیند کے وقت چراغ اور آگ بجھا دینا اور بچوں اور جانوروں کو اندر روک لینا مستحب ہے
13 Hadith
13
Chapter: The etiquette of eating and drinking, and rulings thereon
کھانے پینے کے آداب اور احکام
15 Hadith
14
Chapter: Drinking while standing
کھڑے ہوکرپانی پینا
6 Hadith
15
Chapter: Drinking zamzam water while standing
کھڑے ہوکر زمزم(کاپانی) پینا
5 Hadith
16
Chapter: It is disliked to breathe into the vessel, and it is recommended to take three breaths, outside the vessel
پانی کے برتن کے اندر سانس لینامکروہ ہے اور برتن سے باہر تین مرتبہ سانس لینا مستحب ہے
4 Hadith
17
Chapter: It is recommended to pass water and milk etc., to the right of the one who drinks first
دودھ،پانی یاکوئی اورمشروب تقسیم کرتے ہوئے ابتداء کرنے والے کی دائیں طرف سے شروع کرنا مستحب ہے
5 Hadith
18
Chapter: It is recommended to lick one's fingers and wipe the bowl, and to eat a piece of food that is dropped after removing any dirt on it. It is disliked to wipe one's hand before licking it, because of the possibility that the blessing of the food may be in that remaining part. The Sunnah is to eat with three fingers
انگلیاں اور کھانے کا برتن چاٹنے اور نیچے گرجانے والے لقمے کو جو ناپسند چیز لگی ہے،اسے صاف کرکے کھالینے کااستحباب اور اس کو چاٹنے سے پہلے ،کہ برکت اسی میں ہوسکتی ہے،ہاتھ پونچھنا مکروہ ہے اور سنت تین انگلیوں سے کھانا ہے
15 Hadith
19
Chapter: What the guest should do if he is accompanied by someone who was not invited by the host; it is recommended for the host to give permission to the one who has accompanied the guest
اگر مہمان کے ساتھ جس کو بلایا گیا،اس کے علاوہ کوئی اور بھی پیچھے چل پڑے تو وہ کیا کرے؟کھلانے والے کی طرف سے،ساتھ آنے والے کے لیے اجازت د ینا مستحب ہے
4 Hadith
20
Chapter: It is permissible to take someone else to the house of one who you are certain will approve of that and will not mind. It is recommended to gather to eat
اگر میزبان کی رضا مندی پر اعتماد ہو اس بات کا پورا یقین ہو تو کسی اور کو اپنے ساتھ اس (بلانے والے)کے گھر لے جاناجائز ہے ،اور کھانے پر اکھٹا ہونامستحب ہے
12 Hadith
21
Chapter: It is permissible to eat soup, and it is recommended to eat squash, And for the people eating together to show preference to one another even if they are guests, so long as the host does not object to that
شوربہ کھانا جا ئز ہے کدو کھا نا مستحب ہے دسترخوان پر بیٹھےلو گ چاہےمہمان ہوں ایک دوسرے کے لیے ایثار کریں بشرطیکہ کھا نے (پر بلانے ) والااسے ناپسند نہ کرے
3 Hadith
22
Chapter: It is recommended to take the stones out of dates, and it is recommended for the guest to pray for the host and to ask a righteous guest to supplicate, and he should respond to that request
کھجور کھا تے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مہمان کا کھانا کھلا نے والوں کے لیے دعا کرنا نیک مہمان سے دعا کی درخواست کرنا اور اس (مہمان) کی طرف سے اس درخواست کو قبول کرنا مستحب ہے
2 Hadith
23
Chapter: Eating cucumbers with fresh dates
تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھانا
1 Hadith
24
Chapter: It is recommended to be humble when eating, and how to sit
کھانے والے کا تواضع اختیار کرنا مستحب ہے اور اس کے بیٹھنے کا طریقہ
2 Hadith
25
Chapter: The prohibition of eating two dates etc., at a time when eating with a group, except with the permission of one's companions
کھانے میں شریک ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ایک لقمے میں دویازیادہ کھجوریں ملا (کر کھانے )کی ممانعت
3 Hadith
26
Chapter: Storing dates and other provisions for one's children
کھجوروں اور دوسری غذائی اشیاء کو اپنے اہل و عیال کے لیے ذخیرہ کرنا
2 Hadith
27
Chapter: The virtue of the dates of Al-Madinah
مدینہ منورہ کی کھجوروں کی فضیلت
4 Hadith
28
Chapter: The virtue of truffles, and treating the eyes with them
کھمبی کی فضیلت اور اس کے ذریعے سے آنکھ کا علا ج
7 Hadith
29
Chapter: The virtue of the black fruit from the Arak tree
پیلو کے سیا ہ پھل کی فضیلت
1 Hadith
30
Chapter: The virtue of vinegar and using it as a condiment
سر کے کی فضیلت اور اس کو سالن کے طور پر استعمال کرنا
6 Hadith
31
Chapter: It is permissible to eat garlic, but the one who is going to address prominent people should refrain from eating it, and the same applies to other, similar foods
لہسن کھانے کا جواز اور جو بڑوں سے بات کرنا چاہے وہ یہ اور اس جیسی (بو والی )چیز نہ کھا ئے ۔
3 Hadith
32
Chapter: Honoring guests and the virtue of showing preference to one's guest
مہمان کی عزت افزائی اور اسے اپنی ذات پر ترجیح دینا
8 Hadith
33
Chapter: The virtue of sharing a small amount of food, and the food of two is sufficient for three, and so on.
کم کھانے میں بھی مہمان نوازی کرنا،دو آدمیوں کا کھانا تین کو کافی ہوجاتاہے۔اور اسی طرح (تین کا چار کو اور آگے)
5 Hadith
34
Chapter: The believer eats in one intestine and the disbeliever eats in seven intestines.
مومن ایک آنت میں کھا تا ہے جبکہ کا فر سات آنتوں میں کھا تا ہے۔
8 Hadith
35
Chapter: Do not criticize food
کھانے میں عیب نہیں نکالنا چا ہیے
5 Hadith
No chapter matched that.