TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of greetings - کتاب: سلامتی اور صحت کابیان - Book 41 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 41 of Sahih Muslim, with 41 chapters and 216 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

216 Hadith · 41 Chapters
Chapter: The Plague, Ill Omens, Soothsaying And The Like
طاعون ،بدفالی اور کہانت وغیرہ (کا حکم)
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ وَلَمْ يَقُلْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
This hadith has been transmitted on the authority of 'Abdullah b. Harith with a slight variation of wording.
یونس نے اسی سند کے ساتھ ابن شہاب سے خبر دی ، مگر انھوں نے کہا : بلاشبہ عبداللہ بن حارث نے انھیں حدیث سنائی اور " عبداللہ بن عبداللہ " نہیں کہا ۔
5786
Sahih
Chapter: The Plague, Ill Omens, Soothsaying And The Like
طاعون ،بدفالی اور کہانت وغیرہ (کا حکم)
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ إِلَى الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانَ بِسَرْغَ لَقِيَهُ أَهْلُ الْأَجْنَادِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَأَصْحَابُهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ عُمَرُ ادْعُ لِي الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَدَعَوْتُهُمْ فَاسْتَشَارَهُمْ وَأَخْبَرَهُمْ أَنَّ الْوَبَاءَ قَدْ وَقَعَ بِالشَّامِ فَاخْتَلَفُوا فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ خَرَجْتَ لِأَمْرٍ وَلَا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ عَنْهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَكَ بَقِيَّةُ النَّاسِ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَى أَنْ تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُمْ لَهُ فَاسْتَشَارَهُمْ فَسَلَكُوا سَبِيلَ الْمُهَاجِرِينَ وَاخْتَلَفُوا كَاخْتِلَافِهِمْ فَقَالَ ارْتَفِعُوا عَنِّي ثُمَّ قَالَ ادْعُ لِي مَنْ كَانَ هَاهُنَا مِنْ مَشْيَخَةِ قُرَيْشٍ مِنْ مُهَاجِرَةِ الْفَتْحِ فَدَعَوْتُهُمْ فَلَمْ يَخْتَلِفْ عَلَيْهِ رَجُلَانِ فَقَالُوا نَرَى أَنْ تَرْجِعَ بِالنَّاسِ وَلَا تُقْدِمَهُمْ عَلَى هَذَا الْوَبَاءِ فَنَادَى عُمَرُ فِي النَّاسِ إِنِّي مُصْبِحٌ عَلَى ظَهْرٍ فَأَصْبِحُوا عَلَيْهِ فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ أَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللَّهِ فَقَالَ عُمَرُ لَوْ غَيْرُكَ قَالَهَا يَا أَبَا عُبَيْدَةَ وَكَانَ عُمَرُ يَكْرَهُ خِلَافَهُ نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَتْ لَكَ إِبِلٌ فَهَبَطَتْ وَادِيًا لَهُ عُدْوَتَانِ إِحْدَاهُمَا خَصْبَةٌ وَالْأُخْرَى جَدْبَةٌ أَلَيْسَ إِنْ رَعَيْتَ الْخَصْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ وَإِنْ رَعَيْتَ الْجَدْبَةَ رَعَيْتَهَا بِقَدَرِ اللَّهِ قَالَ فَجَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَكَانَ مُتَغَيِّبًا فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي مِنْ هَذَا عِلْمًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلَا تَقْدَمُوا عَلَيْهِ وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ قَالَ فَحَمِدَ اللَّهَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثُمَّ انْصَرَفَ و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مَالِكٍ وَزَادَ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ قَالَ وَقَالَ لَهُ أَيْضًا أَرَأَيْتَ أَنَّهُ لَوْ رَعَى الْجَدْبَةَ وَتَرَكَ الْخَصْبَةَ أَكُنْتَ مُعَجِّزَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَسِرْ إِذًا قَالَ فَسَارَ حَتَّى أَتَى الْمَدِينَةَ فَقَالَ هَذَا الْمَحِلُّ أَوْ قَالَ هَذَا الْمَنْزِلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَهُ وَلَمْ يَقُلْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
Amir b. Rabi'ah reported: 'Umar went to Syria and as he came to Sargh, information was given to him that an epidemic had broken out in Syria. 'Abd al-Rahman b. 'Auf narrated to him that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said: When you hear of its presence in a land, don't move towards it, and when it breaks out in a land and you are therein, then don't run away from it. So 'Umar b. Khattab came back from Sargh. Salim b. 'Abdullah reported that 'Umar went back, along with people on hearing the hadith reported on the authority of 'Abd al-Rahman b. 'Auf.
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ سے ، روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ شام کی طرف روانہ ہو ئے ، جب سرغ پہنچے تو ان کو یہ اطلا ع ملی کہ شام میں وبا نمودار ہو گئی ہے ۔ تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : "" جب تم کسی علاقے میں اس ( وبا ) کی خبر سنو تو وہاں نہ جا ؤ اور جب تم کسی علاقے میں ہواور وہاں وبا نمودار ہو جا ئے تو اس وبا سے بھا گنے کے لیے وہاں سے نہ نکلو ۔ "" اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرغ سے لوٹ آئے ۔ اور ابن شہاب سے روایت ہے ، انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی وجہ سے لوگوں کو لے کر لوٹ آئے ۔
5787
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لِأَبِي الطَّاهِرِ - قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، قَالَ: ابْنُ شِهَابٍ: فَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، حِينَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ» فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ، فَيَجِيءُ الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيَدْخُلُ فِيهَا فَيُجْرِبُهَا كُلَّهَا؟ قَالَ: «فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ؟»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no infection, no safar, no hama. A desert Arab said: Allah's Messenger, how is it that when the camel is in the sand it is like a deer-then a camel afflicted with scab mixes with it and it is affected by sub? He (the Holy Prophet) said: Who infected the first one?
یونس نے کہا : ابن شہاب نے کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مرض کا کسی دوسرے کو چمٹنا ماہ صفر کی نحوست اور مقتول کی کھوپڑی سے الوکا نکلنا سب بے اصل ہیں تو ایک اعرا بی ( بدو ) نے کہا : تو پھر اونٹوں کا یہ حال کیوں ہو تا ہے کہ وہ صحرامیں ایسے پھر رہے ہوتے ہیں جیسے ہرن ( صحت مند چاق چوبند ) ، پھر ایک خارش زدہ اونٹ آتا ہے ، ان میں شامل ہو تا ہے ، اور ان سب کو خارش لگا دیتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگا ئی تھی ۔ ؟
5788
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَغَيْرُهُ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ» فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no evil omen, no safar, no hama. A desert Arab said: Allah's, Messenger.... The rest of the hadith is the same.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن وغیرہ نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا ، نہ بد فالی کی کو ئی حقیقت ہے نہ صفر کی نحوست کی اور نہ کھوپڑی سے الونکلنے کی ۔ " تو ایک اعرابی کہنے لگا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( آگے ) یو نس کی حدیث کی مانند ( ہے ۔ )
5789
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى» فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ، وَصَالِحٍ، وَعَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no trahsitive disease. Thereupon a desert Arab stood up. The rest of the hadith is the same and in the hadith transmitted on the authority of Zuhri' the Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) is reported to have said: There is no transitive disease, no safar, no hama.
شعیب نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سنان بن ابی سنان دؤلی نے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : کو ئی مرض کسی دوسرے کو خود بخود نہیں چمٹتا ۔ " تو ایک اعرابی کھڑا ہو گیا ، پھر یونس اور صالح کی حدیث کی مانند بیان کیا اور شعیب سے روایت ہے ، انھوں نے زہری سے روایت کی ، کہا : مجھے سائب بن یزید بن اخت نمر نے حدیث سنا ئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " نہ کسی سے خود بخود مرض چمٹتا ہے نہ صفر کی نحوست کو ئی چیز ہے اور نہ کھوپڑی سے الو نکلنا ۔ "
5790
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ - وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ - قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى» وَيُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ» قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُهُمَا كِلْتَيْهِمَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَمَتَ أَبُو هُرَيْرَةَ بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَوْلِهِ «لَا عَدْوَى» وَأَقَامَ عَلَى أَنْ «لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ» قَالَ: فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي ذُبَابٍ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ أَبِي هُرَيْرَةَ: قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُكَ، يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تُحَدِّثُنَا مَعَ هَذَا الْحَدِيثِ حَدِيثًا آخَرَ، قَدْ سَكَتَّ عَنْهُ، كُنْتَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى» فَأَبَى أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْ يَعْرِفَ ذَلِكَ، وَقَالَ: «لَا يُورِدُ مُمْرِضٌ عَلَى مُصِحٍّ» فَمَا رَآهُ الْحَارِثُ فِي ذَلِكَ حَتَّى غَضِبَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَرَطَنَ بِالْحَبَشِيَّةِ، فَقَالَ لِلْحَارِثِ: أَتَدْرِي مَاذَا قُلْتُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ أَبَيْتُ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُنَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى» فَلَا أَدْرِي أَنَسِيَ أَبُو هُرَيْرَةَ، أَوْ نَسَخَ أَحَدُ الْقَوْلَيْنِ الْآخَرَ؟
Abu Salama h. 'Abd al-Rahman b. 'Auf reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, but he is also reported to have said: A sick person should not be taken to one who is healthy. Abu Salama said that Abu Huraira used to narrate these two (different ahadith) from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), but afterwards Abu Huraira became silent on these words: There is no transitive disease, but he stuck to this that the sick person should not be taken to one who is healthy. Harith b. Abu Dhubab (and he was the first cousin of Abu Huraira) said: Abu Huraira, I used to hear from you that you narrated to us along with this hadith and the other one also (there is no transitive disease), but now you observe silence about it. You used to say that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: There is no transitive disease. Abu Huraira denied having any knowledge of that, but he said that the sick camel should not be taken to the healthy one. Harith, however, did not agree with him, which irritated Abu Huraira and he said to him some words in the Abyssinian language. He said to Harith: Do you know what I said to you? He said: No. Abu Huraira said: I simply denied having said it. Abu Salama sad: By my life, Abu Huraira in fact used to report Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) having said: There is no transitive disease. I do not know whether Abu Huraira has forgotten it or he deemed it an abrogated statement in the light of the other one.
یو نس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہ ابوسلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتااور وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے ( چرواہے ) کے پاس اونٹ نہ لے جا ئے ۔ "" ابو سلمہ نے کہا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دونوں حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے ، پھر ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ "" لاعدوي "" والی حدیث بیان کرنے سے رک گئے اور "" بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس ( اونٹ ) نہ لا ئے ۔ "" والی حدیث پر قائم رہے ۔ تو حارث بن ابی ذباب نے ۔ وہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چچا کے بیٹے تھے ۔ ۔ کہا : ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ !میں تم سے سنا کرتا تھا ، تم اس کے ساتھ ایک اور حدیث بیان کرتے تھے جسے بیان کرنے سے اب تم خاموش ہو گئے ۔ ہو ۔ تم کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کسی سے مرض خود بخود نہیں چمٹتا "" تو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث کو پہناننے سے انکا ر کر دیا اور یہ حدیث بیان کی ۔ "" بیمار اونٹوں والا صحت مند اونٹوں والے کے پاس ( اونٹ ) نہ لا ئے ۔ "" اس پر حارث نے اس معاملے میں ان کے ساتھ تکرار کی حتی کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ غصے میں آگئے اور حبشی زبان میں ان کو نہ سمجھ میں آنے والی کو ئی بات کہی ، پھر حارث سے کہا : تمھیں پتہ چلا ہے کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے؟ انھوں نے کہا : نہیں ۔ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا تھا : میں ( اس سے ) انکا ر کرتا ہوں ۔ ابو سلمہ نے کہا : مجھے اپنی زند گی کی قسم!ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں یہ حدیث سنایا کرتے تھے ۔ "" لاعدوي ( کسی سے خود بخود کو ئی بیماری نہیں لگتی ) مجھے معلوم نہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھول گئے ہیں یا ایک بات نے دوسری کو منسوخ کردیا ہے ۔
5791
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ عَبْدٌ: حَدَّثَنِي، وقَالَ الْآخَرَانِ - حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى» وَيُحَدِّثُ مَعَ ذَلِكَ «لَا يُورِدُ الْمُمْرِضُ عَلَى الْمُصِحِّ» بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease and he also reported along with it: The ill should not be taken to the healthy.
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا : انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی مرض خود بخود دوسرے کو نہیں لگ جا تا ۔ اور اس کے ساتھ یہ بیان کرتے " بیمار اونٹوں والا ( اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے کے پاس نہ لا ئے ۔ " یو نس کی حدیث کے مانند ۔
5792
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
حَدَّثَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
This hadith has been reported on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
5793
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى وَلَا هَامَةَ وَلَا نَوْءَ وَلَا صَفَرَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no huma, no star promising rain, no safar.
علاء کے والد ( عبد الرحمٰن ) نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : کسی سے خود بخود مرض کا لگ جانا کھوپڑی سے الوکانکلنا ، ستارے کے غائب ہو نے اور طلوع ہو نے سے بارش برسنا اور صفر ( کی نحوست ) کی کو ئی حقیقت نہیں ۔ "
5794
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَلَا غُولَ»
Jabir reported Allal's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no ill omen, no ghoul.
ابو خیثمہ ( زہیر ) نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی سے کو ئی مرض لا زمی طور پر نہیں چمٹ جا تا ۔ نہ بد شگونی کو ئی چیز ہے ، نہ چھلا وے ( غول بیا بانی ) کی کو ئی حقیقت ہے ۔ "
5795
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمِ بْنِ حَيَّانَ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا غُولَ، وَلَا صَفَرَ»
Jabir reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no ghoul, no safar.
یزید تستری نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں چمٹتا ، نہ چھلا وا کوئی چیز ہے ، نہ صفر کی ( نحوست ) کو ئی حقیقت ہے ۔ "
5796
Sahih
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ، وَلَا غُولَ» وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ، أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ: «وَلَا صَفَرَ»، فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: الصَّفَرُ: الْبَطْنُ، فَقِيلَ لِجَابِرٍ: كَيْفَ؟ قَالَ: كَانَ يُقَالُ دَوَابُّ الْبَطْنِ، قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: هَذِهِ الْغُولُ: الَّتِي تَغَوَّلُ
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no safar, no ghoul. He (the narrator) said: I heard Abu Zubair say: Jabir explained for them the word safar. Abu Zubair said: safar means belly. It was said to Jabir: Why is it so? He said that it was held that safar implied the worms of the belly, but he gave no explanation of ghoul. Abu Zubair said: Ghoul is that which kills the travellers.
ابن جریج نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں لگ جا تا ، نہ صفر ( کی نحوست ) اور چھلاوا کو ئی چیز ہے ۔ ( ابن جریج نے کہا : ) میں نے ابو زبیر کو یہ ذکر کرتے ہو ئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان " ( وَلَا صَفَر ) کی وضاحت کی ، ابو زبیر نے کہا : صفر پیٹ ( کی بیماری ) ہے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا : کیسے ؟انھوں نے کہا : کہا جا تا تھا کہ اس سے پیٹ کے اندربننے والے جانور مراد ہیں ۔ کہا : انھوں نے غول کی تشریح نہیں کی ، البتہ ابو زبیر نے کہا : یہ غول ( وہی ہے جس کے بارے میں کہا جا تا ہے ) جو رنگ بدلتا ہے ( اور مسافروں کو راستے سے بھٹکا کر مارڈالتا ہے ۔ )
5797
Sahih
Chapter: (Evil) Omens And Al-Fa'l, And That Which May Be Regarded As Inauspicious
بد شگونی،(نیک )فال اور ان چیزوں کا بیان جن میں نحوست ہے
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا طِيَرَةَ وَخَيْرُهَا الْفَأْلُ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ يَسْمَعُهَا أَحَدُكُمْ»
Abu Huraira reported: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no divination but the best type is the good omen. It was said to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): What is good omen? Thereupon he said: A good word which one of you hears.
معمر نے زہری سے ، انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہو ئے سنا : " بد شگونی کی کو ئی حقیقت نہیں اور شگون میں سے اچھی نیک فال ہے ۔ " عرض کی گئی ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فال کیا ہے ؟ ( وہ شگون سے کس طرح مختلف ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ( فال ) نیک کلمہ ہے تو تم میں سے کوئی شخص سنتا ہےَ ۔ "
5798
Sahih
Chapter: (Evil) Omens And Al-Fa'l, And That Which May Be Regarded As Inauspicious
بد شگونی،(نیک )فال اور ان چیزوں کا بیان جن میں نحوست ہے
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، ح وحَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، كِلَاهُمَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ. وَفِي حَدِيثِ عُقَيْلٍ: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقُلْ: سَمِعْتُ وَفِي حَدِيثِ شُعَيْبٍ: قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا قَالَ: مَعْمَرٌ
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
عقیل بن خالد اور شعیب دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔ عقیل کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ، انھوں نے " میں نے سنا " کے الفا ظ نہیں کہے اور شعیب کی حدیث میں ہے ۔ انھوں نے کہا : " میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ " جس طرح معمر نے کہا ۔
5799
Sahih
Chapter: (Evil) Omens And Al-Fa'l, And That Which May Be Regarded As Inauspicious
بد شگونی،(نیک )فال اور ان چیزوں کا بیان جن میں نحوست ہے
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ: الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ، الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ
Anas reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no divination, but good omen pleases me, i. e. the good word or a good word.
ہمام بن یحییٰ نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں لگتا برے شگون کی کو ئی حقیقت نہیں اور ( اس کے بالمقابل ) نیک فال یعنی حوصلہ افزائی کا اچھا کلمہ پاکیزہ بات مجھے اچھی لگتی ہے ۔ "
5800
Sahih
Chapter: (Evil) Omens And Al-Fa'l, And That Which May Be Regarded As Inauspicious
بد شگونی،(نیک )فال اور ان چیزوں کا بیان جن میں نحوست ہے
وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ» قَالَ قِيلَ: وَمَا الْفَأْلُ؟ قَالَ: «الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ»
Anas b. Malik reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no divination, but good omen pleases me. It was said: What is good omen? He said: Sacred words.
شعبہ نے کہا : میں قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث روایت کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی سے کو ئی مرض خود بخود نہیں لگتا براشگون کی کو ئی چیز نہیں اور مجھے نیک فال اچھی لگتی ہے ۔ " کہا آپ سے عرض کی گئی : نیک فال کیا ہے ؟فر ما یا : " پاکیزہ کلمہ ( دعایا حوصلہ افزائی یا دا نا ئی پر مبنی کو ئی جملہ ۔ )
5801
Sahih
Chapter: (Evil) Omens And Al-Fa'l, And That Which May Be Regarded As Inauspicious
بد شگونی،(نیک )فال اور ان چیزوں کا بیان جن میں نحوست ہے
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، حَدَّثَنِي مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَتِيقٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no divination, but I like good words.
یحییٰ بن عتیق نے کہا : ہمیں محمد بن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی پر لازمی طور پر بیمار ی لگ جا نے کی کو ئی حقیقت نہیں بد شگونی کو ئی شے نہیں اور میں اچھی فال کو پسند کرتا ہوں ۔ "
5802
Sahih
Chapter: (Evil) Omens And Al-Fa'l, And That Which May Be Regarded As Inauspicious
بد شگونی،(نیک )فال اور ان چیزوں کا بیان جن میں نحوست ہے
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا عَدْوَى، وَلَا هَامَةَ، وَلَا طِيَرَةَ، وَأُحِبُّ الْفَأْلَ الصَّالِحَ»
Abu Huraira reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There is no transitive disease, no hama, no divination, but I like good omen.
ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " لا زمی طور پر خود بخود کسی سے بیمار ی لگ جا نے کی کو ئی حقیقت نہیں ، کھوپڑی سے الونکلنا کو ئی چیز نہیں ، بد شگونی کچھ نہیں اور میں نیک فا ل کو پسند کرتا ہوں ۔
5803
Sahih
Chapter: (Evil) Omens And Al-Fa'l, And That Which May Be Regarded As Inauspicious
بد شگونی،(نیک )فال اور ان چیزوں کا بیان جن میں نحوست ہے
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الشُّؤْمُ فِي الدَّارِ، وَالْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ»
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: If there be bad luck, it is in the house, and the wife, and the horse.
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو بیٹوں حمزہ اور سالم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : عدم موافقت ( ناسزاداری ) گھری ، عورت اور گھوڑے میں ہو سکتی ہے ۔
5804
Sahih
Chapter: (Evil) Omens And Al-Fa'l, And That Which May Be Regarded As Inauspicious
بد شگونی،(نیک )فال اور ان چیزوں کا بیان جن میں نحوست ہے
وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حَمْزَةَ، وَسَالِمٍ، ابْنَيْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَإِنَّمَا الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَةٍ: الْمَرْأَةِ، وَالْفَرَسِ، وَالدَّارِ
Abdullah b. 'Umar reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying. There is no transitive disease, no ill omen, and bad luck is lound in the house, or wife or horse.
یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دوبیٹوں حمزہ اور سالم سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی سے خود بخود مرض کا لگ جا نا اور بد شگونی کی کو ئی حقیقت نہیں ۔ ناموافقت تین چیزوں میں ہو تی ہے ۔ عورت گھوڑے اور گھر میں ۔ "
5805
Sahih

Chapters

41
01
Chapter: The One Who Is Riding Should Greet The One Who Is Walking, And The Smaller Group Should Greet The Larger Group
سوار پیدل کو اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں
1 Hadith
02
Chapter: One Of The Duties Of Sitting In The Street Is To Return Salam
راستے میں بیٹھنے کا ایک حق سلام کا جواب دینا ہے
3 Hadith
03
Chapter: One Of The Rights Of One Muslim Over Another Is (The Greeting Of) Salam
سلام کا جواب دینا ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر حق ہے
2 Hadith
04
Chapter: The Prohibition Of Initiating The Greeting With The People Of The Book, And How To Respond To Them
اہل کتاب کو سلام کرنے میں ابتدا کی ممانعت اور ان کے سلام کا جواب کیسے دیا جا ئے
11 Hadith
05
Chapter: It Is Recommended To Greet Children With Salam
بچوں کو سلام کرنا مستحب ہے
3 Hadith
06
Chapter: It Is Permissible To Give Permission To Enter By Raising The Curtain Or Giving Some Other Sign
(دروازے کا) پردہ اٹھا نے یا اس طرح کی کسی اور علامت کو اجازت کے مترادف قرار دینا جا ئز ہے
2 Hadith
07
Chapter: The Permissibility Of Women Going Out To Relieve Themselves
انسانی ضرورت کے لیے عورتوں کا باہر نکلنا جا ئز ہے
5 Hadith
08
Chapter: The Prohibition Of Being Alone With A Non-Mahram Woman Or Entering Upon Her
تنہائی میں اجنبی عورت کے پاس رہنے اور اس کے ہاں جانے کی ممانعت
5 Hadith
09
Chapter: It Is Recommended For The One Who Is Seen Alone With A Woman Who Is His Wife Or Mahram, To Say; This Is So-And-So,' To Ward off Suspicion
جو شخص اپنی بیوی یا کسی محرم خاتون کے ساتھ اکیلا ہوتو وہ بدگمانی سے بچنے کے لئے (دیکھنے والوں کو) بتادے کہ یہ فلاں ہے
3 Hadith
10
Chapter: If A Man Comes To A Gathering And Finds A Space. Let Him Sit There, Otherwise Let Him Sit Behind Them
جو شخص کسی مجلس میں آئے اور درمیان میں کوئی خالی جگہ دیکھے تو وہاں بیٹھ جائے ورنہ لوگوں سے پیچھے بیٹھے
2 Hadith
11
Chapter: The Prohibition Of Making A Man Get Up From A Place That He Reached First
جو شخص اپنی جائز جگہ پر پہلے سے بیٹھا ہوا ہے اسے اس کی جگہ سے اٹھا نا حرام ہے
6 Hadith
12
Chapter: If A Man Gets Up From His Spot Then Comes Back To It, He Has More Right To It
جب کو ئی شخص اپنی جگہ سے اٹھ جا ئے اور پھر واپس آئے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حق دارہے
1 Hadith
13
Chapter: Forbidding A Hermaphrodite From Entering Upon Non-Mahram Women
مخنث کو (اس کی رشتہ دار) اجنبی عورتوں کے پاس جا نے سے روکنا
2 Hadith
14
Chapter: It Is Permissible To Seat A Non-Mahram Woman Behind One (On A Mount) If She Is Exhausted On The Road
راستے میں سخت تھک جا نے والی اجنبی عورت کو اپنے ساتھ سواری پر بٹھا نے کا جواز
2 Hadith
15
Chapter: The Prohibition Of Two People Conversing Privately To The Exclusion Of A Third Without His Consent
تیسرے آدمی کو چھوڑ کراس کی رضا مندی کے بغیر دوآدمیوں کی باہمی سرگوشی حرام ہے
5 Hadith
16
Chapter: Medicine, Sickness And Ruqyah
طب،بیماری اور دم کرنا
4 Hadith
17
Chapter: Witchcraft
جادو کا بیان
2 Hadith
18
Chapter: Poison
(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو) زہردینے کا واقعہ
2 Hadith
19
Chapter: It Is Recommended To Recite Ruqyah For One Who Is Sick
مریض پر دم کرنا مستحب ہے
7 Hadith
20
Chapter: Reciting Al-Mu'awwidhat As Ruqyah For The Sick, And Blowing Over Them
پناہ دلوانے والے کلمات پڑھ کر اور پھونک مار کر مریض کو دم کرنا
6 Hadith
21
Chapter: It Is Recommended To Recite Ruqyah For The Evil Eye, Pustules, And Stings
نظر بد پہلو کی جلد پر نکلنے والے دانوں اور زہریلے ڈنگ سے( شفا کے لیے)دم کرنا مستحب ہے
12 Hadith
22
Chapter: There Is Nothing Wrong With Ruqyah That Does Not Involve Shirk
دم جھا ڑ میں کو ئی حرج نہیں ،جب تک اس میں شرک نہ ہو
1 Hadith
23
Chapter: The Permissibility Of Accepting A Reward For Reciting Ruqyah With Qur'an And Supplications
قرآن مجید اور اذکار(مسنونہ )سے دم کرنے اور اس پر اجرت لینے کا جواز
4 Hadith
24
Chapter: It Is Recommended To Put Ones Hand On The Site Of The Pain When Supplicating
دعا کے ساتھ ساتھ اپنا ہاتھ درد کی جگہ رکھنا مستحب ہے
1 Hadith
25
Chapter: Seeking Refuge With Allah From The Devil Who Whispers During Prayer
نماز میں وسوسے والے شیطان سے پناہ مانگنا
3 Hadith
26
Chapter: For Every Disease There Is A Remedy, And It Is Recommended To Treat Disease
ہر بیماری کی دوا ہے اور علاج مستحب ہے
20 Hadith
27
Chapter: It Is Disliked To Administer Medicine In The Side Of The Mouth Forcibly
زبردستی دوائی پلانا مکروہ ہے
1 Hadith
28
Chapter: Treatment With Indian Aloeswood, Which Is Costmary
عودہندی یعنی کُست
4 Hadith
29
Chapter: Healing Sickness With The Black Seed
شونیز (زیر سیاہ)سے علاج
3 Hadith
30
Chapter: Talbinah Gives Comfort To The Sick Person
آٹےوغیرہ سے بنا یا ہوا نرم حریرہ مریض کے دل کو راحت پہنچانے والا ہے
1 Hadith
31
Chapter: Treating Sickness With A Drink Of Honey
شہد پلا نے سے علا ج
2 Hadith
32
Chapter: The Plague, Ill Omens, Soothsaying And The Like
طاعون ،بدفالی اور کہانت وغیرہ (کا حکم)
16 Hadith
33
Chapter: There Is No 'Adwa, No Tiyarah (Evil Omens), No Hamah. No Safar, No Nawa', And No Ghoul, And No Sick Camel Should Be Brought To A Healthy Camel
کسی سے خود بخود مرض کا چمٹ جا نا ،بد فالی ،مقتول کی کھوپڑی سے الونکلنا ماہ صفر (کی نحوست )ستاروں کی منزلوں کا بارش برسانا اور چھلاوہ ،ان کی کو ئی حقیقت نہیں اور بیمار (اونٹوں )والا ،(اپنے اونٹ ) صحت مند اونٹوں والے (چرواہے ) کے پاس نہ لا ئے۔
10 Hadith
34
Chapter: (Evil) Omens And Al-Fa'l, And That Which May Be Regarded As Inauspicious
بد شگونی،(نیک )فال اور ان چیزوں کا بیان جن میں نحوست ہے
15 Hadith
35
Chapter: The Prohibition Of Soothsaying And Going To Soothsayers
کہانت کرنا اور کا ہنوں کے پاس جا نا حرا م ہے -
9 Hadith
36
Chapter: Avoiding Lepers Etc.
کوڑھ وغیرہ کے مریض سے اجتناب :۔
1 Hadith
37
Chapter: Killing Snakes Etc.
سانپ اور دیگر حشرات الارض کو مارنا :۔
19 Hadith
38
Chapter: It Is Recommended To Kill Geckos
چھپکلی کو قتل کرنا مستحب ہے
7 Hadith
39
Chapter: The Prohibition Of Killing Ants
چیونٹی کو مارنے کی ممانعت :۔
3 Hadith
40
Chapter: The Prohibition Of Killing Cats
بلی کو مارنے کی ممانعت
7 Hadith
41
Chapter: The Virtue Of Giving Food And Water To Animals Which Are Unlawful To Eat
جن جانوروں کو مارا نہیں جا تا ،انھیں کھلا نے اور پلا نے کی فضیلت
3 Hadith
No chapter matched that.