TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Chapter: His Courage - آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلا ق:۔ - The book of virtues - Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Chapter 13 of The book of virtues in Sahih Muslim. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 13 of 44 · 14 Hadith
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ، وَاللهِ مَا قَالَ لِي: أُفًّا قَطُّ، وَلَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا؟ وَهَلَّا فَعَلْتَ كَذَا؟ زَادَ أَبُو الرَّبِيعِ: لَيْسَ مِمَّا يَصْنَعُهُ الْخَادِمُ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَهُ: وَاللهِ
Anas b. Malik reported: I served the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for ten years, and, by Allah, he never said to me any harsh word, and he never said to me about a thing as to why I had done that and as to why I had not done that. Abu Rabi' has made this addition (in this narration): The work which a servant should do. There is no mention of his words By Allah .
سعید بن منصور اور ابو ربیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے ثابت بنانی سے حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ( تقریباً ) دس سال تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ، اللہ کی قسم! آپ مجھ سے کبھی اُف تک نہیں کہا اور نہ کبھی کسی چیز لے لیے مجھ سے یہ کہا کہ تم نے فلا ں کا م کیوں کیا؟ یا فلا ں کا م کیوں نہ کیا ۔ ؟ابو ربیع نے اضافہ کیا : ( نہ آپ نے کبھی یہ فرما یا ) " خادم ایسا نہیں کرتا ۔ " انھوں نے ان ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی بات " اللہ کی قسم! " کا ذکر نہیں کیا ۔
6011
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسٍ بِمِثْلِهِ
This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.
سلام بن مسکین نے کہا : ہمیں ثابت بنا نی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی ۔
6012
Sahih
وَحَدَّثَنَاهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيلَ، - وَاللَّفْظُ لِأَحْمَدَ - قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ، قَالَ: فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ، وَاللهِ مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا؟ وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ: لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا؟
Anas reported: When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to Medina, Abla Talha took hold of my hand and brought me to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, Anas is a prudent young boy, and he will serve you. He (Anas) said: I served him in journey and at home, but, by Allah, he never asked me about a thing which I did as to why I did so, nor about a thing which I did not do as to why I had not done that.
ہمیں عبد العزیز نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنائی کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لا ئے تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انس ایک سمجھدار لڑکا ہے ، اس لیے یہ آپ کی خدمت کرے گا ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر میں سفر اور حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا اللہ کی قسم! میں نے کو ئی کا م کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرما یا : تم نے یہ کا م اس طرح کیوں کیا؟اور میں نے کو ئی کام نہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فر ما یا : تم نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا ؟
6013
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَدَمْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ، فَمَا أَعْلَمُهُ قَالَ لِي قَطُّ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ وَلَا عَابَ عَلَيَّ شَيْئًا قَطُّ
Anas reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I served the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) for nine years, and I do not know (of any instance) when he said to me: Why you have done this and that, and he never found fault with me in anything.
سعید بن ابی بردہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نو سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی ، مجھے علم نہیں کہ آپ نے کبھی مجھ سے یوں فرما یا : ہو تم نے اس اس طرح کیوں کیا؟ اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز میں کبھی مجھ پر نکتہ چینی کی ۔
6014
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: قَالَ إِسْحَاقُ: قَالَ أَنَسٌ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ خُلُقًا»، فَأَرْسَلَنِي يَوْمًا لِحَاجَةٍ، فَقُلْتُ: وَاللهِ لَا أَذْهَبُ، وَفِي نَفْسِي أَنْ أَذْهَبَ لِمَا أَمَرَنِي بِهِ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى صِبْيَانٍ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي السُّوقِ، فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَبَضَ بِقَفَايَ مِنْ وَرَائِي، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَضْحَكُ، فَقَالَ: «يَا أُنَيْسُ أَذَهَبْتَ حَيْثُ أَمَرْتُكَ؟» قَالَ قُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا أَذْهَبُ، يَا رَسُولَ اللهِ
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had the best disposition amongst people. He sent me on an errand one day, and I said: By Allah, I would not go. I had, however, this idea in my mind that I would do as Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had commanded me to do. I went out until I happened to come across children who had been playing in the street. In the meanwhile, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came there and he caught me by the back of my neck from behind me. As I looked towards him I found him smiling and he said: Unais, did you go where I commanded you to go? I said: Allah's Messenger, yes, I am going.
اسحٰق نے کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں اخلا ق کے سب سے اچھے تھے ، آپ نے ایک دن مجھے کسی کام سے بھیجا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں نہیں جا ؤں گا ۔ حالانکہ میرے دل میں یہ تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جس کام کا حکم دیا ہے میں اس کے لیے ضرورجا ؤں گا ۔ تومیں چلا گیا حتیٰ کہ میں چند لڑکوں کے پاس سے گزرا ، وہ بازار میں کھیل رہے تھے ، پھر اچانک ( میں نے دیکھا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میری گدی سے مجھے پکڑ لیا ، میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ ہنس رہے تھے ۔ آپ نے فرمایا : " اے چھوٹے انس! کیا تم وہاں گئے تھے جہاں ( جانے کو ) میں نے کہا تھا ؟ " میں نے کہا جی! ہاں ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جا رہا ہوں ۔
6015
Sahih
قَالَ أَنَسٌ: وَاللهِ لَقَدْ خَدَمْتُهُ تِسْعَ سِنِينَ، مَا عَلِمْتُهُ قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ: لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا؟ أَوْ لِشَيْءٍ تَرَكْتُهُ: هَلَّا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا
Anas further said: I served him for nine years but I know not that he ever said to me about a thing which I had done why I did that, or about a thing I had left as to why I had not done that.
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسمً میں نے نوسال آپ کی خدمت کی ، میں نے آپ کو کبھی نہ دیکھا کہ کسی کام کے بارے میں جو میں نے کیا ، یہ کہا ہو تم نے فلاں فلا ں کام کیوں کیا؟ اور کو ئی چیز جو میں نے چھوڑدی ہو ( اس کے بارےمیں کہا ہو : ) تم نے فلاں فلاں کا م کیوں نہ کیا؟
6016
Sahih
وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا»
Anas b. Malik reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was the best amongst people in disposition and behaviour.
ابو تیاح نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں میں سب سے بڑھ کر خوش اخلا ق تھے ۔
6017
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ فَقَالَ لَا»
Jabir b. 'Abdullah reported: It never happened that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was asked for anything and he said: No.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن منکدر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : ایسا کبھی نہیں ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی چیز مانگی گئی ہو اور آپ نے فرما یا ہو ۔ نہیں ،
6018
Sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ، ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ، مِثْلَهُ سَوَاءً
This hadith has been narrated on the authority of Jabir b. 'Abdullah through another chain of transmitters.
اشجعی اور عبد الرحمٰن بن مہدی دونوں نے سفیان سے انھوں نے محمد بن منکدر سے روایت کی ، انھوں نے کہا : سمیں نے حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، بالکل اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔
6019
Sahih
وَحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَا سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَأَعْطَاهُ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَرَجَعَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: يَا قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَإِنَّ مُحَمَّدًا يُعْطِي عَطَاءً لَا يَخْشَى الْفَاقَةَ
Musa b. Anas reported on the authority of his father: It never happened that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was asked anything for the sake of Islam and he did not give that. There came to him a person and he gave him a large flock (of sheep and goats) and he went back to his people and said: My people, embrace Islam, for Muhammad gives so much charity as if he has no fear of want.
موسیٰ بن انس نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام ( لا نے ) پر جوبھی چیز طلب کی جا تی آپ وہ عطا فر ما دیتے ، کہا : ایک شخص آپ کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں اسے دے دیں ، وہ شخص اپنی قوم کی طرف واپس گیا اور کہنے لگا : میری قوم !مسلمان ہو جاؤ بلا شبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا عطا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ تک نہیں رکھتے ۔
6020
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ، فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، فَأَتَى قَوْمَهُ فَقَالَ: «أَيْ قَوْمِ أَسْلِمُوا، فَوَاللهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطَاءً مَا يَخَافُ الْفَقْرَ» فَقَالَ أَنَسٌ: «إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا الدُّنْيَا، فَمَا يُسْلِمُ حَتَّى يَكُونَ الْإِسْلَامُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا»
Anas 'b. Malik reported that a person requested Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to give him a very large flock and he gave that to him. He came to his tribe and said: O people, embrace Islam. By Allah, Muhammad donates so much as if he did not fear want. Anas said that the person embraced Islam for the sake of the world but later he became Muslim until Islam became dearer to him than the world and what it contains.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دوپہاڑوں کے درمیان ( چرنے والی ) بکریاں مانگیں ، آپ نے وہ بکریاں اس کو عطا کر دیں پھر وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میری قوم اسلام لے آؤ ، کیونکہ اللہ کی قسم!بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کرتے ہیں کہ فقر وفاقہ کا اندیشہ بھی نہیں رکھتے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : بے شک کو ئی آدمی صرف دنیا کی طلب میں بھی مسلمان ہو جا تا تھا ، پھر جو نہی وہ اسلام لا تا تھا تو اسلام اسے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا تھا ۔
6021
Sahih
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: «غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَتْحِ مَكَّةَ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَاقْتَتَلُوا بِحُنَيْنٍ، فَنَصَرَ اللهُ دِينَهُ وَالْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ مِائَةً مِنَ النَّعَمِ ثُمَّ مِائَةً ثُمَّ مِائَةً» قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ صَفْوَانَ قَالَ: «وَاللهِ لَقَدْ أَعْطَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَعْطَانِي، وَإِنَّهُ لَأَبْغَضُ النَّاسِ إِلَيَّ، فَمَا بَرِحَ يُعْطِينِي حَتَّى إِنَّهُ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ»
Ibn Shihab reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) went on the expedition of Victory, i. e. the Victory of Mecca, and then he went out along with the Muslims and they fought at Hunain, and Allah granted victory to his religion and to the Muslims, and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave one hundred camels to Safwan b. Umayya. He again gave him one hundred camels, and then again gave him one hundred camels. Sa'id b. Musayyib said that Safwan told him: (By Allah) Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) gave me what he gave me (and my state of mind at that time was) that he was the most detested person amongst people in my eyes. But he continued giving to me until now he is the dearest of people to me.
یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ فتح یعنی فتح مکہ کے لیے جہاد کیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان مسلمانوں کے ساتھ جو آپ کے ہمراہ تھے نکلے اور حنین میں خونریز جنگ کی ، اللہ نے اپنے دین کو اور مسلمانوں کو فتح عطا فرما ئی ، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سو اونٹ عطا فرمائے ، پھر سواونٹ پھر سواونٹ ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے یہ بیان کیا کہ صفوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جو عطا فر ما یا ، مجھے تمام انسانوں میں سب سے زیادہ بغض آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تھا ۔ پھر آپ مجھے مسلسل عطا فرما تے رہے یہاں تک کہ آپ مجھے تمام انسانوں کی نسبت زیادہ محبوب ہو گئے ۔
6022
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، وَعَنْ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرٍ، أَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى الْآخَرِ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، قَالَ سُفْيَانُ: وَسَمِعْتُ أَيْضًا عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، - وَزَادَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَقَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» وَقَالَ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا، فَقُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَجِيءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ بَعْدَهُ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: مَنْ كَانَتْ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ أَوْ دَيْنٌ فَلْيَأْتِ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا» فَحَثَى أَبُو بَكْرٍ مَرَّةً، ثُمَّ قَالَ لِي: عُدَّهَا، فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُمِائَةٍ، فَقَالَ: خُذْ مِثْلَيْهَا
Jabir b. 'Abdullah reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: In case we get wealth from Bahrain, I would give you so much and so much; he made an indication of it with both his hands. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) died before wealth from Bahrain came, and it fell to the lot of Abu Bakr after him. He commanded the announcer to make announcement to the effect that he to whom Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had held out promise or owed any debt should come (to him). I came and said: Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said to me: In case there comes to us the wealth of Bahrain I shall give you so much, and so much. Abu Bakr took a handful (of the coins) and gave that to me once and asked me to count them I counted them as five hundred dinars and he said: Here is double of this for you.
سفیان بن عیینہ نے محمد بن منکدر سے روایت کی کہ انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، ( اسی طرح ) سفیان نے ابن منکدر سے انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز عمرو سے روایت ہے ، انھوں نے محمد بن علی سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، اسی طرح ابن ابی عمر نے ہمیں حدیث بیان کی ، الفاظ انھی کے ہیں ۔ کہا : سفیان نے کہا : میں نے محمد بن منکدر سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت جابر بن اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، سفیان نے یہ بھی کہا : میں نے عمرو بن دینار سے سنا ، وہ محمد بن علی سے حدیث بیان کررہے تھے ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ۔ ان دونوں میں سے ( بھی ) ایک نے دوسرے کی نسبت کچھ زائد بیان کیا ، ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر ہمارے پاس بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا ، اتنا اور اتنا دوں گا اور دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا ( یعنی تین لپ بھر کر ) ۔ پھر بحرین کا مال آنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ۔ وہ مال سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آیا تو انہوں نے ایک منادی کو یہ آواز کرنے کے لئے حکم دیا کہ جس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وعدہ کیا ہو ، یا اس کا قرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا ہو وہ آئے ۔ یہ سن کر میں کھڑا ہوا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اگر بحرین کا مال آئے گا تو تجھ کو اتنا ، اتنا اور اتنا دیں گے ۔ یہ سن کر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لپ بھرا پھر مجھ سے کہا کہ اس کو گن ۔ میں نے گنا تو وہ پانچ سو نکلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کا دوگنا اور لے لے ( تو تین لپ ہو گئے ) ۔
6023
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ أَبَا بَكْرٍ مَالٌ مِنْ قِبَلِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَيْنٌ، أَوْ كَانَتْ لَهُ قِبَلَهُ عِدَةٌ، فَلْيَأْتِنَا بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ
Jabir b. 'Abdullah reported: When Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) died, there came to Abfi Bakr wealth from al-'Ala' b. al-Hadrami. Abu Bakr said: He to whom Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) owed any debt or held out any promise should come to us; the rest of the hadith is the same.
ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے محمد بن علی سے خبر دی ، انھو ں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز کہا : مجھے محمد بن منکدر نے ( بھی ) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی تھی ، انھوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو ئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ( بحرین کے گورنر ) حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے مال آیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جس شخص کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کو ئی قرض ہو یا آپ کی طرف سے کسی کے ساتھ وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے ۔ ( آگے ) ابن عیینہ کی حدیث کی مانند ۔
6024
Sahih

Chapters

44
01
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی فضیلت اور بعثت سے پہلے آپ کو پتھر کا سلام کرنا:۔
2 Hadith
02
Chapter: The Prohibition Of Playing Nardashir
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوقات پر فضیلت:۔
1 Hadith
03
Chapter: The Superiority Of The Prophet's Lineage, And The Stone That Greeted Him Before His Prophethood
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات:۔
9 Hadith
04
Chapter: The Superiority Of Our Prophet (SAW) Over All Of Creation
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ پر توکل اور اللہ کی طرف سے تمام لوگوں سے آپ کا تحفظ:۔
3 Hadith
05
Chapter: The Miracles Of The Prophet (SAW)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس ہدایت اور علم کے سا تھ مبعوث کیا گیا اس کی مثال کا بیان:۔
1 Hadith
06
Chapter: He Put His Trust In Allah And Allah Protected Him From The People
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شفقت اور جو چیز ان کے لئے نقصان دہ ہے انھیں ا س سے دور رکھنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرتوڑ کوشش:۔
5 Hadith
07
Chapter: The Likeness Of The Guidance And Knowledge With Which The Prophet (SAW) Was Sent
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا:۔
6 Hadith
08
Chapter: His Compassion Towards His Ummah, And His Intense Concern To Warn Them Against That Which May Harm Them
جب اللہ تعالیٰ کسی امت پررحمت کاارادہ فرماتا ہے تواس(امت) کے نبی کو ان سے پہلے اٹھا لیتاہے:۔
1 Hadith
09
Chapter: He (SAW) Was The Seal Of The Prophets
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض اور اس کی خصوصیات:۔
38 Hadith
10
Chapter: When Allah Wants To Show Mercy To A Nation, He takes Their Prophet Before Them
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعزاز کہ فرشتوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ کی۔
2 Hadith
11
Chapter: The Cistern Of Our Prophet (SAW) And Its Attributes
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت :۔
3 Hadith
12
Chapter: The Angels Fought Alongside Him (SAW)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت
2 Hadith
13
Chapter: His Courage
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلا ق:۔
14 Hadith
14
Chapter: His Generosity
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں اور عیال پر شفقت ،آپ کی تواضع اور اس کی فضیلت:۔
7 Hadith
15
Chapter: His Good Manners
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت حیا:۔
3 Hadith
16
Chapter: His Compassion Towards Children And His Humbleness, And The Virtue Of That
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور حسن معاشرت:۔
7 Hadith
17
Chapter: His Great Modesty
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے قرب،ان کا آپ سے برکت حاصل کرنا اور ان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع:۔
3 Hadith
18
Chapter: His Smile And Easy Going Attitude
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا):۔
7 Hadith
19
Chapter: His Closeness To The People, Their Seeking Blessing From Him And His Humility Towards Them
آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسم مبارک) کی خوشبو،ہاتھ کی ملائمت اورآپ کے چھوانے کا تبرک:۔
3 Hadith
20
Chapter: His Avoidance Of Sin, His Choosing The Easier Of Permissible Things, And His Vengeance For The Sake Of Allah If His Sacred Limits Were Transgressed
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو اور اس سے برکت کا حصول:۔
3 Hadith
21
Chapter: His Good Fragrance And Soft Touch, And Seeking Blessing From His Touch
ٹھنڈمیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی اس وقت آپ کو پسینہ آتا:۔
4 Hadith
22
Chapter: The Fragrance Of His Sweat, And Seeking Blessing Therefrom
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال،آپ کی صفات حسنہ اور آپ کا حلیہ مبارک:۔
2 Hadith
23
Chapter: The Prophet (SAW) Sweated When It Was Cold, And When The Revelation Came To Him
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مبارکہ اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھا:۔
3 Hadith
24
Chapter: Description Of His Hair, Attributes And Appearance
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی ہیت:۔
3 Hadith
25
Chapter: Description Of The Prophet (SAW); He Was The Most Handsome Of People
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن مبارک ،دونوں آنکھیں اورایڑیاں:۔
1 Hadith
26
Chapter: Description Of His Hair
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید تھا،چہرے پر ملاحت تھی:۔
2 Hadith
27
Chapter: The Mouth, Eyes And Heels Of The Prophet (SAW)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال سفید تھے:۔
11 Hadith
28
Chapter: The Prophet (SAW) Was White With An Elegant Face
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت،اس کی ہیت اور جس اطہر پر اس کا مقام:۔
5 Hadith
29
Chapter: His Grey Hairs
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اور مکہ اورمدینہ میں آپ کا قیام:۔
2 Hadith
30
Chapter: The Seal Of Prophethood, Its Attributes And Its Location On The Body Of The Prophet (SAW)
وفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کیا تھی؟
3 Hadith
31
Chapter: How Long He (SAW) Lived, And How Long He Stayed In Makkah And Al-Madinah
مکہ اور مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کتنا عرصہ رہے؟
11 Hadith
32
Chapter: The Age Of The Prophet (SAW) When He Died
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے مبارکہ:۔
4 Hadith
33
Chapter: How Long Did The Prophet ft Stay In Makkah And Al-Madinah?
اللہ تعالیٰ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اورشدید خشیت رکھنا:۔
3 Hadith
34
Chapter: His Names
آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے حکم) کا اتباع واجب ہے:۔
1 Hadith
35
Chapter: His Knowledge Of Allah And His Great Fear Of Him
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے ایسے امور کے بارے میں بکثرت سوال کرنا جن کی ضرورت نہ ہو یا شریعت نے مکلف نہیں کیا اور پیش نہیں آئے اور اس طرح (کے بے مقصد سوالا ت )کو ترک کردینا
13 Hadith
36
Chapter: The Obligation To Follow Him (SAW)
شریعت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فر ما یا اس پر عمل واجب ہے جہاں آپ نے دنیوی امور کے بارے میں محض اپنی را ئے کا اظہار فرما یا ہے(اس پر عمل واجب نہیں )
3 Hadith
37
Chapter: Respecting Him And Not Asking Him Unnecessary Questions
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے اور اس کی تمنا کرنے کی فضیلت
1 Hadith
38
Chapter: The Obligation To Obey What He Says With Regard To Matters Of Religion, But Not What He Says With Regard To Worldly Matters
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فضائل
8 Hadith
39
Chapter: The Virtue Of Looking At Him And Longing To See Him
حضرت ابرا ہیم خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل
8 Hadith
40
Chapter: The Virtues Of Eisa, Peace Be Upon Him
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فضائل
13 Hadith
41
Chapter: The Virtues Of Ibrahim, Peace Be Upon Him
حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن : کسی بندے کے لیے لائق نہیں کہ وہ کہے : میں یو نس بن متیٰ سے بہتر ہوں
2 Hadith
42
Chapter: The Virtues Of Musa, Peace Be Upon Him
حضرت یوسف علیہ السلام کے چند فضائل
1 Hadith
43
Chapter: Yunus, Peace Be Upon Him, And The Words Of The Prophet (SAW): No One Should Say: I Am Better Than Yunus Bin Matta.
حضرت زکریا علیہ السلام کے بعض فضائل
1 Hadith
44
Chapter: The Virtues Of Yusuf, Peace Be Upon Him
حضرت خضر علیہ السلام کے بعض فضائل
6 Hadith
No chapter matched that.