TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

The book of virtues - کتاب: أنبیاء کرام علیہم السلام کے فضائل کا بیان - Book 45 of Sahih Muslim with Urdu and English Translation

Book 45 of Sahih Muslim, with 44 chapters and 231 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

231 Hadith · 44 Chapters
Chapter: His Compassion Towards Children And His Humbleness, And The Virtue Of That
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور حسن معاشرت:۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ، بْنِ مَالِكٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ أَىْ أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ‏ ‏ ‏.
Anas b. Malik reported that Umm Sulaim was with the wives of Allah's Apostle (ﷺ) and a camel-driver had been driving (the camels) oil which they were riding. Thereupon Allah's Apostle (ﷺ) said: Anjasha, drive slowly, for you are carrying (on the camels) vessels of glass.
انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم اپنی بیبیوں کے پاس آئے اور ایک ہانکنے والا ان کے اونٹوں کو ہانک رہا تھا جس کا نام انجشہ تھا آپ نے فرمایا خرابی ہو تیرے ہاتھ کی اے انجشہ آہستہ لے چل شیشوں کو ( یعنی عورتوں کو بوجہ نزاکت کے ان کو شیشہ فرمایا ) ابوقلابہ نے کہا رسول اﷲ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم نے ایسی بات فرمائی اگر تم میں سے کوئی وہ بات کہے تو تم کھیل سمجھو۔
6038
Sahih
Chapter: His Compassion Towards Children And His Humbleness, And The Virtue Of That
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور حسن معاشرت:۔
وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ، فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيْ أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ»
Anas b. Malik reported that Umm Sulaim was with the wives of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and a camel-driver had been driving (the camels) oil which they were riding. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Anjasha, drive slowly, for you are carrying (on the camels) vessels of glass.
سلیمان تیمی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ، کہا : حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے ساتھ تھیں اور ایک اونٹ ہانکنے والا ان کے اونٹ ہانک رہا تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انجشہ !شیشہ آلات ( خواتین ) کو آہستگی اور آ رام سے چلاؤ ۔ "
6039
Sahih
Chapter: His Compassion Towards Children And His Humbleness, And The Virtue Of That
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور حسن معاشرت:۔
وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، حَدَّثَنِي هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُوَيْدًا يَا أَنْجَشَةُ، لَا تَكْسِرِ الْقَوَارِيرَ» - يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ -
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had a camel-driver who had a very melodious voice. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Anjasha, drive slowly; do not break the vessels of glass, meaning the weak women.
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خوش آواز حدی خواں تھا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا؛ " انجشہ!آرام سے ( ہانکو ) شیشہ آلات کو مت توڑو ، " یعنی کمزور عورتوں کو ۔
6040
Sahih
Chapter: His Compassion Towards Children And His Humbleness, And The Virtue Of That
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور حسن معاشرت:۔
وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْكُرْ حَادٍ حَسَنُ الصَّوْتِ
Anas reported this hadith through another chain of transmitters, but he made no mention of a camel-driver having a melodious voice.
ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور اس میں خوش الحان حدی خواں کا ذکر نہیں کیا ۔
6041
Sahih
Chapter: His Great Modesty
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے قرب،ان کا آپ سے برکت حاصل کرنا اور ان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع:۔
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ يَعْنِي هَاشِمَ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ، فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا، فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ، فَيَغْمِسُ يَدَهُ فِيهَا»
Anas b. Malik reported that when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had completed his dawn prayer, the servants of Medina came to him with utensils containing water, and no utensil was brought in which he did not dip his hand; and sometime they came in the cold dawn (and he did not feel reluctant in acceding to their request even in the cold weather) and dipped his hand in them.
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز سے فارغ ہوتے تو مدینہ کے خادم ( غلام ) اپنے برتن لے آتے جن میں پانی ہوتا ، جو بھی برتن آپ کے سامنے لایاجاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا دست مبارک اس میں ڈبو تے ، بسا اوقات سخت ٹھنڈی صبح میں برتن لائے جاتے تو آپ ( پھر بھی ) ان میں اپنا ہاتھ ڈبودیتے ۔
6042
Sahih
Chapter: His Great Modesty
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے قرب،ان کا آپ سے برکت حاصل کرنا اور ان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع:۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقَدْ «رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ، وَأَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ، فَمَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعْرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍ»
Anas reported: I saw when the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got his hair cut by the barber, his Companions came round him and they eagerly wanted that no hair should fall but in the hand of a person.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، بال مونڈنے والا آپ کےسرکےبال اتاررہاتھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ کے اردگرد تھے ، وہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ کاکوئی بھی بال ان میں سے کسی ایک کے ہاتھوں کےعلاوہ کہیں اورگرے ۔
6043
Sahih
Chapter: His Great Modesty
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے قرب،ان کا آپ سے برکت حاصل کرنا اور ان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع:۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ امْرَأَةً كَانَ فِي عَقْلِهَا شَيْءٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً، فَقَالَ: «يَا أُمَّ فُلَانٍ انْظُرِي أَيَّ السِّكَكِ شِئْتِ، حَتَّى أَقْضِيَ لَكِ حَاجَتَكِ» فَخَلَا مَعَهَا فِي بَعْضِ الطُّرُقِ، حَتَّى فَرَغَتْ مِنْ حَاجَتِهَا
Anas reported that a woman had a partial derangement in her mind, so she said. Allah's Messenger, I want something from you. He said: Mother of so and so, see on which side of the road you would like (to stand and talk) so that I may do the needful for you. He stood aside with her on the roadside until she got what she needed.
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک عورت کی عقل میں کچھ نقص تھا ( ایک دن ) وہ کہنے لگی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے آپ سے کام ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بہت شفقت واحترام سے ) فرمایا : " ام فلاں!دیکھو ، جس گلی میں تم چاہو ( کھڑی ہوجاؤ ) میں ( وہاں آکر ) تمھارا کام کردوں گا ۔ " آپ ایک راستے میں اس سے الگ ملے ، یہاں تک کہ اس نے اپنا کام کرلیا ۔
6044
Sahih
Chapter: His Smile And Easy Going Attitude
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا):۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: «مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ، وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ، إِلَّا أَنْ تُنْتَهَكَ حُرْمَةُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ»
A'isha, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), said that whenever he had to choose between two things he adopted the easier one, provided it was nor sin, but if it was any sin he was the one wio was the farthest from it of the people; and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) never took revenge from anyone because of his personal grievance, unless what Allah, the Exalted and Glorious, had made inviolable had been violated.
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عروہ بن زبیر سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو کاموں میں سے ( ایک کا ) انتخاب کرنا ہوتاتو آپ ان دونوں میں سے زیادہ آسان کو منتخب فرماتے ۔ بشرط یہ کہ وہ گناہ نہ ہوتا اگر وہ گناہ کا کام ہوتا تو آپ سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دور ہوتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خاطر کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا ، سوائے اس صورت کے کہ اللہ کی حد کو توڑا جاتا ۔
6045
Sahih
Chapter: His Smile And Easy Going Attitude
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا):۔
وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنْ جَرِيرٍ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ كِلَاهُمَا، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ فِي رِوَايَةِ فُضَيْلٍ ابْنُ شِهَابٍ، وَفِي رِوَايَةِ جَرِيرٍ، مُحَمَّدٌ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
The above hadith has been narrated through several other chains of transmitters.
منصور نے محمد سے ۔ فضیل کی روایت میں ہے : ابن شہاب سے ، جریر کی روایت میں ہے : محمد زہری سے ۔ انھوں نے عروہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( یہی ) روایت بیان کی ۔
6046
Sahih
Chapter: His Smile And Easy Going Attitude
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا):۔
وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ، حَدِيثِ مَالِكٍ
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shibab through another chain of transmitters.
یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ امام مالک کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
6047
Sahih
Chapter: His Smile And Easy Going Attitude
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا):۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَيْسَرُ مِنَ الْآخَرِ، إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا، فَإِنْ كَانَ إِثْمًا، كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ»
A'isha reported: Never did Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) make a choice between two things but adopting the easier one as compared to the difficult one, but his choice for the easier one was only in case it did not involve any sin, but if it involved sin he was the one who was the farthest from it amongst the people.
ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں انتخاب کرناہوتا ، ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت آسان ہوتا تو آپ ان میں سے آسان ترین کا انتخاب فرماتے ، الایہ کہ وہ گناہ ہو ۔ اگر وہ گناہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے بڑھ کر اس سے دورہوتے ۔
6048
Sahih
Chapter: His Smile And Easy Going Attitude
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا):۔
وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، إِلَى قَوْلِهِ: أَيْسَرَهُمَا، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
ابو کریب اور ابن نمیر دونوں نے عبداللہ بن نمیر سے ، انھوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ان کے قول " دونوں میں سے زیادہ آسان " تک روایت کی اور ان دونوں ( ابو کریب اور ابن نمیر ) نے اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔
6049
Sahih
Chapter: His Smile And Easy Going Attitude
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا):۔
حَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ بِيَدِهِ، وَلَا امْرَأَةً، وَلَا خَادِمًا، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَمَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ، فَيَنْتَقِمَ مِنْ صَاحِبِهِ، إِلَّا أَنْ يُنْتَهَكَ شَيْءٌ مِنْ مَحَارِمِ اللهِ، فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»
A'isha reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) never beat anyone with his hand, neither a woman nor a servant, but only, in the case when he had been fighting in the cause of Allah and he never took revenge for anything unless the things made inviolable by Allah were made violable; he then took revenge for Allah, the Exalted and Glorious.
ابو اسامہ نے ہشام ( بن عروہ ) سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا ، نہ کسی عورت کو ، نہ کسی غلام کو ، مگر یہ کہ آپ اللہ کے راستے میں جہاد کررہے ہوں ۔ اور جب بھی آپ کو نقصان پہنچایا گیا تو کبھی ( ایسا نہیں ہوا کہ ) آپ نے اس سے انتقام لیا ہومگر یہ کہ کوئی اللہ کی محرمات میں سے کسی کو خلاف ورزی کرتاتو آپ اللہ عزوجل کی خاطر انتقام لے لیتے ۔
6050
Sahih
Chapter: His Smile And Easy Going Attitude
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا):۔
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَابْنُ نُمَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، وَوَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ
This hadith has been narrated on the authority of Hisham through another chain of transmitters but with a slight variation of wording.
عبدہ ، وکیع ، اور ابو معاویہ ، سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ان میں سے کوئی راوی دوسرے سے کچھ زائد ( الفاظ ) بیان کر تا ہے ۔
6051
Sahih
Chapter: His Closeness To The People, Their Seeking Blessing From Him And His Humility Towards Them
آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسم مبارک) کی خوشبو،ہاتھ کی ملائمت اورآپ کے چھوانے کا تبرک:۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ وَهُوَ ابْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْأُولَى، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَهْلِهِ وَخَرَجْتُ مَعَهُ، فَاسْتَقْبَلَهُ وِلْدَانٌ، فَجَعَلَ يَمْسَحُ خَدَّيْ أَحَدِهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا، قَالَ: وَأَمَّا أَنَا فَمَسَحَ خَدِّي، قَالَ: فَوَجَدْتُ لِيَدِهِ بَرْدًا أَوْ رِيحًا كَأَنَّمَا أَخْرَجَهَا مِنْ جُؤْنَةِ عَطَّارٍ
Jabir b. Samura reported: I prayed along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the first prayer. He then went to his family and I also went along with him when he met some children (on the way). He began to pat the cheeks of each one of them. He also patted my cheek and I experienced a coolness or a fragrance of his hand as if it had been brought out from the scent bag of a perfumer.
سماک نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر جانے کو نکلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا ۔ سامنے کچھ بچے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک بچے کے رخسار پر ہاتھ پھیرا اور میرے رخسار پر بھی ہاتھ پھیرا ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں وہ ٹھنڈک اور وہ خوشبو دیکھی جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خوشبو ساز کے ڈبہ میں سے ہاتھ نکالا ہو ۔
6052
Sahih
Chapter: His Closeness To The People, Their Seeking Blessing From Him And His Humility Towards Them
آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسم مبارک) کی خوشبو،ہاتھ کی ملائمت اورآپ کے چھوانے کا تبرک:۔
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ أَنَسٌ: «مَا شَمَمْتُ عَنْبَرًا قَطُّ، وَلَا مِسْكًا، وَلَا شَيْئًا أَطْيَبَ مِنْ رِيحِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا مَسِسْتُ شَيْئًا قَطُّ دِيبَاجًا، وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مَسًّا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Anas reported: I never smelt ambergris or musk as fragrant as the fragrance of the body of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and I never touched brocade or silk and found it as soft as the body of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
جعفر بن سلیمان اور سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے کبھی کوئی عنبر ، کوئی کستوری اور کوئی بھی ایسی خوشبونہیں سونگھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے جسم اطہر ) کی خوشبو سے زیادہ اچھی اور پاکیزہ ہو اور میں نے کبھی کوئی ریشم یا دیباج نہیں چھوا جو چھونے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے ہاتھوں ) سے زیادہ نرم وملائم ہو ۔
6053
Sahih
Chapter: His Closeness To The People, Their Seeking Blessing From Him And His Humility Towards Them
آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسم مبارک) کی خوشبو،ہاتھ کی ملائمت اورآپ کے چھوانے کا تبرک:۔
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزْهَرَ اللَّوْنِ، كَأَنَّ عَرَقَهُ اللُّؤْلُؤُ، إِذَا مَشَى تَكَفَّأَ، وَلَا مَسِسْتُ دِيبَاجَةً، وَلَا حَرِيرَةً أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا شَمِمْتُ مِسْكَةً وَلَا عَنْبَرَةً أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
Anas reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had a very fair complexion and (the drops) of his perspiration shone like pearls, and when he walked he walked inclining forward, and I never touched brocade and silk (and found it) as soft as the softness of the palm of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and I never smelt musk or ambergris and found its fragrance as sweet as the fragrance of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).
حماد نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ مبارک سفید ، چمکتا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ مبارک موتی کی طرح تھا اور جب چلتے تو اور میں نے دیباج اور حریر بھی اتنا نرم نہیں پایا جتنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی نرم تھی اور میں نے مشک اور عنبر میں بھی وہ خوشبو نہ پائی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں تھی ۔
6054
Sahih
Chapter: His Avoidance Of Sin, His Choosing The Easier Of Permissible Things, And His Vengeance For The Sake Of Allah If His Sacred Limits Were Transgressed
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو اور اس سے برکت کا حصول:۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا هَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا، فَعَرِقَ، وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ، فَجَعَلَتْ تَسْلِتُ الْعَرَقَ فِيهَا، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ؟» قَالَتْ: هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا، وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِ
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) used to come to our house and there was perspiration upon his body. My mother brought a bottle and began to pour the sweat in that. When Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) got up he said: Umm Sulaim, what is this that you are doing? Thereupon she said: That is your sweat which we mix in our perfume and it becomes the most fragrant perfume.
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟ وہ بولی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے ۔
6055
Sahih
Chapter: His Avoidance Of Sin, His Choosing The Easier Of Permissible Things, And His Vengeance For The Sake Of Allah If His Sacred Limits Were Transgressed
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو اور اس سے برکت کا حصول:۔
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا، وَلَيْسَتْ فِيهِ، قَالَ: فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا، فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا: هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَامَ فِي بَيْتِكِ، عَلَى فِرَاشِكِ، قَالَ فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ، وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ، عَلَى الْفِرَاشِ، فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا، فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا تَصْنَعِينَ؟ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ» فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا، قَالَ: «أَصَبْتِ»
Anas b. Malik reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) came to the house of Umm Sulaim and slept in her bed while she was away from her house. On the other day too he slept in her bed. She came and it was said to her: It is Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) who is having siesta in your house, lying in your bed. She came and found him sweating and his sweat falling on the leather cloth spread on her bed. She opened her scent-bag and began to fill the bottles with it. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) was startled and woke up and said: Umm Sulaim, what are you doing? She said: Allah's Messenger, we seek blessings for our children through it. Thereupon he said: You have done something right.
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم کے گھر میں جاتے اور ان کے بچھونے پر سو رہتے ، اور وہ گھر میں نہیں ہوتیں تھیں ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان کے بچھونے پر سو رہے ۔ لوگوں نے انہیں بلا کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے گھر میں تمہارے بچھونے پر سو رہے ہیں ، یہ سن کر وہ آئیں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ چمڑے کے بچھونے پر جمع ہو گیا ہے ۔ ام سلیم نے اپنا ڈبہ کھولا اور یہ پسینہ پونچھ پونچھ کر شیشوں میں بھرنے لگیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ اے ام سلیم! کیا کرتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا ۔
6056
Sahih
Chapter: His Avoidance Of Sin, His Choosing The Easier Of Permissible Things, And His Vengeance For The Sake Of Allah If His Sacred Limits Were Transgressed
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو اور اس سے برکت کا حصول:۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا فَيَقِيلُ عِنْدَهَا فَتَبْسُطُ لَهُ نِطْعًا فَيَقِيلُ عَلَيْهِ، وَكَانَ كَثِيرَ الْعَرَقِ، فَكَانَتْ تَجْمَعُ عَرَقَهُ فَتَجْعَلُهُ فِي الطِّيبِ وَالْقَوَارِيرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا؟» قَالَتْ: عَرَقُكَ أَدُوفُ بِهِ طِيبِي
Umm Sulaim reported that Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) visited her house and (took rest) and she spread a piece of cloth for him and he had had a siesta on it. And he sweated profusely and she collected his sweat and put it in a perfume and in bottles. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Umm Sulaim, what is this? She said: It is your sweat, which I put in my perfume. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sweated in cold weather when revelation descended upon him.
ابو قلابہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں تشریف لائے اور آرام فرمایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پسینہ آیا ، میری ماں ایک شیشی لائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ پونچھ پونچھ کر اس میں ڈالنے لگی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے ام سلیم یہ کیا کر رہی ہو؟ وہ بولی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسینہ ہے جس کو ہم اپنی خوشبو میں شامل کرتے ہیں اور وہ سب سے بڑھ کر خود خوشبو ہے ۔
6057
Sahih

Chapters

44
01
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کی فضیلت اور بعثت سے پہلے آپ کو پتھر کا سلام کرنا:۔
2 Hadith
02
Chapter: The Prohibition Of Playing Nardashir
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام مخلوقات پر فضیلت:۔
1 Hadith
03
Chapter: The Superiority Of The Prophet's Lineage, And The Stone That Greeted Him Before His Prophethood
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات:۔
9 Hadith
04
Chapter: The Superiority Of Our Prophet (SAW) Over All Of Creation
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ پر توکل اور اللہ کی طرف سے تمام لوگوں سے آپ کا تحفظ:۔
3 Hadith
05
Chapter: The Miracles Of The Prophet (SAW)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس ہدایت اور علم کے سا تھ مبعوث کیا گیا اس کی مثال کا بیان:۔
1 Hadith
06
Chapter: He Put His Trust In Allah And Allah Protected Him From The People
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شفقت اور جو چیز ان کے لئے نقصان دہ ہے انھیں ا س سے دور رکھنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سرتوڑ کوشش:۔
5 Hadith
07
Chapter: The Likeness Of The Guidance And Knowledge With Which The Prophet (SAW) Was Sent
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا:۔
6 Hadith
08
Chapter: His Compassion Towards His Ummah, And His Intense Concern To Warn Them Against That Which May Harm Them
جب اللہ تعالیٰ کسی امت پررحمت کاارادہ فرماتا ہے تواس(امت) کے نبی کو ان سے پہلے اٹھا لیتاہے:۔
1 Hadith
09
Chapter: He (SAW) Was The Seal Of The Prophets
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حوض اور اس کی خصوصیات:۔
38 Hadith
10
Chapter: When Allah Wants To Show Mercy To A Nation, He takes Their Prophet Before Them
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اعزاز کہ فرشتوں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں جنگ کی۔
2 Hadith
11
Chapter: The Cistern Of Our Prophet (SAW) And Its Attributes
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت :۔
3 Hadith
12
Chapter: The Angels Fought Alongside Him (SAW)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت
2 Hadith
13
Chapter: His Courage
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن اخلا ق:۔
14 Hadith
14
Chapter: His Generosity
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بچوں اور عیال پر شفقت ،آپ کی تواضع اور اس کی فضیلت:۔
7 Hadith
15
Chapter: His Good Manners
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدت حیا:۔
3 Hadith
16
Chapter: His Compassion Towards Children And His Humbleness, And The Virtue Of That
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تبسم اور حسن معاشرت:۔
7 Hadith
17
Chapter: His Great Modesty
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوگوں سے قرب،ان کا آپ سے برکت حاصل کرنا اور ان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تواضع:۔
3 Hadith
18
Chapter: His Smile And Easy Going Attitude
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گناہوں سے دور رہنا،جائز کاموں میں آسان ترین کام کا انتخاب فرمانا اور محرمات کی خلاف ورزی پر اللہ کی خاطر انتقام لینا(حدود نافذ کرنا):۔
7 Hadith
19
Chapter: His Closeness To The People, Their Seeking Blessing From Him And His Humility Towards Them
آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے جسم مبارک) کی خوشبو،ہاتھ کی ملائمت اورآپ کے چھوانے کا تبرک:۔
3 Hadith
20
Chapter: His Avoidance Of Sin, His Choosing The Easier Of Permissible Things, And His Vengeance For The Sake Of Allah If His Sacred Limits Were Transgressed
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پسینے کی خوشبو اور اس سے برکت کا حصول:۔
3 Hadith
21
Chapter: His Good Fragrance And Soft Touch, And Seeking Blessing From His Touch
ٹھنڈمیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وحی آتی اس وقت آپ کو پسینہ آتا:۔
4 Hadith
22
Chapter: The Fragrance Of His Sweat, And Seeking Blessing Therefrom
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال،آپ کی صفات حسنہ اور آپ کا حلیہ مبارک:۔
2 Hadith
23
Chapter: The Prophet (SAW) Sweated When It Was Cold, And When The Revelation Came To Him
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات مبارکہ اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور تمام انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھا:۔
3 Hadith
24
Chapter: Description Of His Hair, Attributes And Appearance
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی ہیت:۔
3 Hadith
25
Chapter: Description Of The Prophet (SAW); He Was The Most Handsome Of People
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دہن مبارک ،دونوں آنکھیں اورایڑیاں:۔
1 Hadith
26
Chapter: Description Of His Hair
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ سفید تھا،چہرے پر ملاحت تھی:۔
2 Hadith
27
Chapter: The Mouth, Eyes And Heels Of The Prophet (SAW)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال سفید تھے:۔
11 Hadith
28
Chapter: The Prophet (SAW) Was White With An Elegant Face
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت،اس کی ہیت اور جس اطہر پر اس کا مقام:۔
5 Hadith
29
Chapter: His Grey Hairs
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک اور مکہ اورمدینہ میں آپ کا قیام:۔
2 Hadith
30
Chapter: The Seal Of Prophethood, Its Attributes And Its Location On The Body Of The Prophet (SAW)
وفات کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کیا تھی؟
3 Hadith
31
Chapter: How Long He (SAW) Lived, And How Long He Stayed In Makkah And Al-Madinah
مکہ اور مدینہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کتنا عرصہ رہے؟
11 Hadith
32
Chapter: The Age Of The Prophet (SAW) When He Died
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمائے مبارکہ:۔
4 Hadith
33
Chapter: How Long Did The Prophet ft Stay In Makkah And Al-Madinah?
اللہ تعالیٰ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اورشدید خشیت رکھنا:۔
3 Hadith
34
Chapter: His Names
آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کے حکم) کا اتباع واجب ہے:۔
1 Hadith
35
Chapter: His Knowledge Of Allah And His Great Fear Of Him
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ سے ایسے امور کے بارے میں بکثرت سوال کرنا جن کی ضرورت نہ ہو یا شریعت نے مکلف نہیں کیا اور پیش نہیں آئے اور اس طرح (کے بے مقصد سوالا ت )کو ترک کردینا
13 Hadith
36
Chapter: The Obligation To Follow Him (SAW)
شریعت کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فر ما یا اس پر عمل واجب ہے جہاں آپ نے دنیوی امور کے بارے میں محض اپنی را ئے کا اظہار فرما یا ہے(اس پر عمل واجب نہیں )
3 Hadith
37
Chapter: Respecting Him And Not Asking Him Unnecessary Questions
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے اور اس کی تمنا کرنے کی فضیلت
1 Hadith
38
Chapter: The Obligation To Obey What He Says With Regard To Matters Of Religion, But Not What He Says With Regard To Worldly Matters
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے فضائل
8 Hadith
39
Chapter: The Virtue Of Looking At Him And Longing To See Him
حضرت ابرا ہیم خلیل صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل
8 Hadith
40
Chapter: The Virtues Of Eisa, Peace Be Upon Him
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فضائل
13 Hadith
41
Chapter: The Virtues Of Ibrahim, Peace Be Upon Him
حضرت یونس علیہ السلام کا ذکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرما ن : کسی بندے کے لیے لائق نہیں کہ وہ کہے : میں یو نس بن متیٰ سے بہتر ہوں
2 Hadith
42
Chapter: The Virtues Of Musa, Peace Be Upon Him
حضرت یوسف علیہ السلام کے چند فضائل
1 Hadith
43
Chapter: Yunus, Peace Be Upon Him, And The Words Of The Prophet (SAW): No One Should Say: I Am Better Than Yunus Bin Matta.
حضرت زکریا علیہ السلام کے بعض فضائل
1 Hadith
44
Chapter: The Virtues Of Yusuf, Peace Be Upon Him
حضرت خضر علیہ السلام کے بعض فضائل
6 Hadith
No chapter matched that.