ان چیزوں کا بیان جن سے استنجا کرنا جائز ہے اور جن سے ناجائز ہے
Chapter 3 of پتھروں سے استنجا کرنے اور اس کے آداب کا بیان in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.
سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے لیے نکلے اور فرمایا: میرے لیے تین پتھر تلاش کر کے لاؤ۔ پس میں دو پتھر اور ایک لید لے کر آیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پتھر لے لیے اور لید پھینک دی اور فرمایا: یہ گندی ہے۔
Takhreej
(۵۲۶) تخریج: أخرجہ البخاری: ۱۵۶(انظر: ۳۹۶۶)
Explanation
فوائد:…اس حدیث سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو پتھروں کے ساتھ استنجا کیا تھا، کیونکہ مسند احمد کی ایک روایت میں یہ زیادتی ہے: ((اِئْتِنِیْ بِحَجَرٍ۔)) … ایک پتھر اور لے آ۔
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے کوئی ایسی چیز لے آؤ، جس سے میں استنجا کروں اور کسی بوسیدہ ہڈی اور لید کو میرے قریب نہ کرو۔
سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنوں والی رات کو ان کے پاس آئے، جبکہ ان کے پاس بوسیدہ ہو جانے والی ہڈی، اونٹ کی مینگنی اور کوئلے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو قضائے حاجت کے لیے جائے تو ان میں سے کسی چیز سے استنجا نہیں کرنا۔
سیدنا جابر بن عبداللہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اونٹ کی مینگنی یا ہڈی کے ساتھ استنجا کرے۔
علقمہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کہا: کیا جنّوں والی رات کو تم میں سے کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا؟ انھوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نہیں تھا، ہوا یوں کہ ہم نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گم پایا، ہم نے کہا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخفی انداز میں قتل کر دیا گیا ہے؟ کیاآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہیں لے جایا گیا ہے؟ آخر ہوا کیا ہے؟ ہم نے انتہائی بدترین رات گزاری، جب صبح سے پہلے کا یا سحری کا وقت تھا تو ہم نے اچانک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غارِ حراء کی طرف سے آتے ہوئے دیکھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!، پھر ہم نے ساری بات بتلائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنّوں کا داعی میرے پاس آیا، اس لیے میں ان کے پاس چلا گیا اور ان پرقرآن مجید کی تلاوت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں لے کر گئے اور ان کے اور ان کی آگ کے نشانات دکھائے۔ وہ جزیرۂ عرب کے جنّوں میں سے تھے اور انھوں نے اس رات کو اپنے زاد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ہڈی جس پر اللہ تعالی کا نام لیا گیا ہو، تمہارے ہاتھ ایسی حالت میں لگے گی کہ اس پر بہت زیادہ گوشت ہو گا، (وہ تمہارا زاد ہے) اور ہر مینگنی اور لید تمہارے چوپائیوں کا چارہ ہے، پس تم لوگ ان دو چیزوں سے استنجا نہ کیا کرو، کیونکہ یہ چیزیں تمہارے جن بھائیوں کا زاد ہیں۔
Takhreej
(۵۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۴۵۰ (انظر: ۴۱۴۹)
Explanation
فوائد:…معلوم ہوا کہ ان چیزوں سے استنجا کرنا منع ہے: ہڈی، مینگنی، لید، گوبر، کوئلہ ۔ ہر خوب گوشت دار ہڈی، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر اس ہڈی پر گوشت پیدا کر دیتا ہے، جو جنات کھاتے ہیں، باقی مینگنی اور لید کو مطلق طور پر جنوں کے چوپائیوں کی خوراک قرار دیا گیا۔صحیح بخاری میں سیدناابوہریرہؓ سے مروی روایت میں ہے ، وہ کہتے ہیں: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: ہڈی اور لید سے استنجا نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُمَا مِنْ طَعَامِ الْجِنِّ وَاَنَّہٗ قَدْ اَتَانِیْ وَفْدُ جِنِّ نَصِیْبِیْن، وَنِعْمَ الْجِنُّ، فَسَاَلُوْنِیَ الزَّادَ، فَدَعَوْتُ اللّٰہَ لَھُمْ اَنْ لَّا یَمُرُّوْا بِعَظْمٍ وَلَا بِرَوْثَۃٍ اِلَّا وَجَدُوْا عَلَیْھَا طَعَامًا۔)) … یہ دو چیزیں جنوں کے کھانے سے ہیں، میرے پاس نصیبین کے جنوں کا وفد آیا تھا، یہ بہترین جن تھے، اور انھوں نے مجھ سے زاد کے بارے میں سوال کیا، پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ جس ہڈی اور لید کے پاس سے گزریں، اس پر کھانا پائیں۔
ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہڈی، لید اور مینگنی، یہ چیزیں جنوں اور ان کے چوپائیوں کی خوراک نہیں ہیں، بلکہ ان کے اوپر ان کی خوراک پڑی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس خوراک کی کیا شکل ہوتی ہے اور وہ اِن چیزوں سے کیسے مستفید ہوتے ہیں، ایک عالم کہا کرتے تھے کہ جن لطیف مخلوق ہیں، وہ ان چیزوں کو سونگ کر ان سے خوراک حاصل کرتے ہیں۔ واللہ اعلم
سیدنا ابو قتادہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ آدمی برتن میں سانس لے یا دائیں ہاتھ سے عضو ِ تناسل کو چھوئے یا دائیں ہاتھ سے استنجا کرے۔
فوائد:…اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ حتی الوسع ہر صورت میں دائیں ہاتھ کو شرمگاہ پر لگنے سے بچایا جائے، کیونکہ قضائے حاجت اور استنجا کے دوران دائیں ہاتھ کی ضرورت پڑ سکتی تھی، لیکن اس کے باوجود ایسا کرنے سے منع کر دیا گیا۔
سیدہ عائشہؓ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بایاں ہاتھ استنجا اور دوسری مکروہ چیزوں کے لیے تھا اور دایاں ہاتھ وضو کے لیے اور کھانا کھانے کے لیے تھا۔
سیدنا عمران بن حصینؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جب سے دائیں ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، اس وقت سے اس کو اپنی شرم گاہ پر نہیں لگایا۔
Takhreej
(۵۳۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم ۔ أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۸/ ۱۹۲، والحاکم: ۳/ ۴۷۲ (انظر: ۱۹۹۴۳)
سیدنا انس بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو میں اور میری طرح کا ایک لڑکا پانی کا برتن اور برچھی اٹھاتے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پانی سے استنجا کرتے تھے۔
سیدنا انسؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب قضائے حاجت کے لیے جاتے تھے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی لاتا تھا، اس کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم استنجا کرتے تھے۔
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت الخلاء میں میں داخل ہوئے تو میں ایک برتن لایا، اس میں پانی تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے استنجا کیا، اس کے بعد اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑا اور پھر دھو دیا، پھر میں ایک اور برتن لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے وضو کیا۔
Takhreej
(۵۳۶) تخریج: اسنادہ ضعیف ، شریک بن عبد اللہ النخعی سییء الحفظ۔أخرجہ ابوداود: ۴۵، وابن ماجہ: ۳۵۸، والنسائی: ۱/ ۴۵ (انظر: ۸۱۰۴)
Explanation
فوائد:…تَوْر: یہ تانبے یا پتھر سے بنا ہوا برتن ہوتا ہے، اس کو کھانے پینے اور وضو کے لیے بنایا جاتا ہے۔
سیدنا ابو ہریرہؓ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے تو پانی طلب کرتے اور اس کے ساتھ استنجا کرتے، پھر اپنے ہاتھ کو زمین پر رگڑتے اور پھر وضو کرتے تھے۔
سیدنا محمد بن عبد اللہ بن سلام ؓ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم اہل قبا کے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے معاملے میں تم لوگوں کی تعریف کی ہے، کیا تم مجھے بتلاؤ گے نہیں (کہ تم کون سا عمل کرتے ہو)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان تھا: اس میں ایسے لوگ ہیں، جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تورات میں پانی کے ساتھ استنجا کرنے کا ذکر پاتے ہیں (اور پھر اسی طرح عمل کرتے ہیں)۔
سیدنا عویم بن ساعدہ انصاری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن لوگوںکے پاس مسجد ِ قباء میں تشریف لے گئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہاری مسجد کا ذکر کر کے طہارت کے معاملے میں تمہاری اچھی تعریف کی ہے، تو یہ کون سی پاکیزگی ہے، جو تم اختیار کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! اس معاملے میں کوئی چیز ہمارے علم میں تو نہیں ہے، البتہ یہ بات ضرور ہے کہ یہودی لوگ ہمارے پڑوسی تھے اور وہ پائخانہ کر کے اپنی پچھلی طرف کو دھوتے تھے، پس ہم نے بھی ان کی طرح اس حصے کو دھونا شروع کر دیا۔
فوائد:… سیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا انس بن مالک سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ} نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((یَا مَعْشَرَ الْاَنْصَارِ! اِنَّ اللّٰہَ قَدْ اَثْنٰی عَلَیْکُمْ فِیْ الطُّھُوْرِ، فَمَا طُھُوْرُکُمْ؟)) قَالُوْا: نَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاۃِ وَنَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَۃِ وَنَسْتَنْجِیْ بِالْمَائِ، قَالَ: ((فَھُوَ ذَاکَ فَعَلَیْکُمُوْہُ۔)) … اے انصاریوں کی جماعت! بیشک اللہ تعالیٰ نے طہارت کے سلسلے میں تمہاری تعریف کی ہے، پس تمہاری طہارت کیا ہے؟ انھوں نے کہا: ہم نماز کے لیے وضو کرتے ہیں، جنابت سے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس وہ یہی (مؤخر الذکر) چیز ہے، تم اس کو لازم پکڑو۔ (ابن ماجہ: ۳۵۵)
سیدنا ابو ہریرہ ؓسے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((نَزَلَتْ فِیْ اَھْلِ قُبَائَ {فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ أَنْ یَّتَطَہَّرُوْا وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَّہِّرِیْنَ})) … اہل قبا کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: (اس میں ایسے لوگ ہیں، جو پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ رہنے والوں سے محبت کرتا ہے)۔ دراصل وہ لوگ پانی سے استنجا کرتے تھے، پس ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ (ابن ماجہ:۳۵۷، ترمذی: ۳۱۰۰)
سلیم الفطرت لوگ جانتے ہیں کہ پانی اور پتھروں سے استنجاکرنے میں کیا فرق ہے، بہرحال دونوں طریقے مسنون ہیں اور پانی سے استنجا کرنا افضل ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ سہولت عام کر دی ہے، لوگوں کو علم ہونا چاہیے کہ وہ افضل طریقہ استعمال کر رہے ہیں۔
سیدنا عائشہؓ سے مروی ہے کہ اہل بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس آئیں، سیدہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ خود بھی پانی کے ساتھ استنجا کیا کریں اور اپنے خاوندوں کو بھی ایسا کرنے کا حکم دیں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح استنجا کرتے تھے اور یہ بواسیر سے شفا بھی ہے۔ یہ آخری جملہ سیدہ عائشہ ؓ نے از خود کہا یا ابو عمار نے۔
Takhreej
(۵۴۰) حدیث صحیح دون قولہ: وھو شفاء من الباسور ان کان من قول عائشۃ، وھذا اسناد ضعیف لانقطاعہ، شداد ابو عمار لم یدرک عائشۃ ؓ۔ أخرجہ الترمذی: ۱۹، والنسائی: ۱/ ۴۲(انظر: ۲۴۶۲۳)
Explanation
فوائد:… سنن بیہقی کی روایت میں یہ وضاحت ہے کہ بواسیر سے شفا بھی ہے والا جملہ سیدہ عائشہؓ نے کہا تھا۔
۔ ۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے کوئی ایسی چیز لے آؤ، جس سے میں استنجا کروں اور کسی بوسیدہ ہڈی اور لید کو میرے قریب نہ کرو۔