۔ (۶۲۲۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((الشُّفْعَۃُ فِیْ کُلِّ شِرْکٍ رَبْعَۃٍ أَوْ حَائِطٍ، لَا یَصْلُحُ لَہُ أَنْ یَبِیْعَ حَتّٰییُؤْذِنَ شَرِیْکَہُ، فَاِنْ بَاعَ فَہُوَ اَحَقُّ بِہٖحَتّٰییُؤْذِنَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ساجھی چیز میں شفعہ ہے، وہ گھر ہو یا باغ، ایک شریک کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسی چیز کو فروخت کر دے، یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اس سے آگاہ کرے، اگر وہ شریک کو بتلائے بغیر فروخت کر دیتا ہے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس کو خبر دے دے۔
Takhreej
(۶۲۲۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۰۸(انظر: )۱۴۴۰۳
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں ہے: قَضَی النَّبِیُّV بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ۔ … نبی کریمa نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (ابوداود: ۳۵۱۳، ترمذی: ۱۳۷۰)
6223
Sahih