TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے - اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے - شفعہ کے مسائل - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of شفعہ کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 3 · 8 Hadith
۔ (۶۲۲۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشُّفْعَۃُ فِیْ کُلِّ شِرْکٍ رَبْعَۃٍ أَوْ حَائِطٍ، لَا یَصْلُحُ لَہُ أَنْ یَبِیْعَ حَتّٰییُؤْذِنَ شَرِیْکَہُ، فَاِنْ بَاعَ فَہُوَ اَحَقُّ بِہٖحَتّٰییُؤْذِنَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ساجھی چیز میں شفعہ ہے، وہ گھر ہو یا باغ، ایک شریک کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسی چیز کو فروخت کر دے، یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اس سے آگاہ کرے، اگر وہ شریک کو بتلائے بغیر فروخت کر دیتا ہے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس کو خبر دے دے۔
Takhreej
(۶۲۲۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۰۸(انظر: )۱۴۴۰۳
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں ہے: قَضَی النَّبِیُّV بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ۔ … نبی کریمa نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (ابوداود: ۳۵۱۳، ترمذی: ۱۳۷۰)
6223
Sahih
۔ (۶۲۲۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالشُّفْعَۃِ بَیْنَ الشُّرَکَائِ فِی الْأَرْضِیْنَ وَالدُّوْرِ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمینوں اور گھروں میں شرکاء کے درمیان حق شفعہ کا فیصلہ دیا ہے۔
Takhreej
(۶۲۲۴) تخریج: صحیح بالشواھد (انظر: ۲۲۷۷۸)
6224
Sahih
۔ (۶۲۲۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۴۸)
۔ سیدنا سمرہ بن جناب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھر کا ہمسایہ دوسروں کی بہ نسبت گھر خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔
Takhreej
(۶۲۲۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۱۷، والترمذی: ۱۳۶۸(انظر: ۲۰۰۸۸)
6225
Sahih
۔ (۶۲۲۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْجَارُ اَحَقُّ بِشُفْعَۃِ جَارِہِ یُنْتَظَرُ بِہَا وَإِنْ کَانَ غَائِبًا، إِنْ کَانَ طَرِیْقُہُمَا وَاحِداً۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۰۳)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمسایہ اپنے ہمسائے کے شفعہ (فروخت کیے جانے والے حصہ) کازیادہ حقدار ہے، اگر وہ غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا، لیکنیہ زیادہ حق اس وقت ہو گا، جب ان کا راستہ ایک ہو گا۔
Takhreej
(۶۲۲۶) قال الالبانی: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۱۸، وابن ماجہ: ۲۴۹۴، والترمذی: ۱۳۶۹(انظر: ۱۴۲۵۳)
6226
Sahih
۔ (۶۲۲۷)۔ عَنِ الشُّرَیْدِ بْنِ سُوَیْدِ نِ الثَّقَفِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۸۸)
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی دوسروں کے بہ نسبت اس گھر کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۲۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۹۶، والنسائی: ۷/ ۳۲۰ (انظر: ۱۹۴۵۹)
6227
Sahih
۔ (۶۲۲۸)۔ عَنِ الْحَکَمِ عَمَّنْ سَمِعَ عَلِیًّا وَابْنَ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلَانِ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْجِوَارِ۔ (مسند احمد: ۹۲۳)
۔ سیدنا علی اور عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑوس کے حق کی بنا پر فیصلہ کیا ہے۔
Takhreej
(۶۲۲۸) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۷/ ۱۶۳(انظر: ۹۲۳)
6228
Sahih
۔ (۶۲۲۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ عَنْ اَبِیْہِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضٌ لَیْسَ لِأَحَدٍ فِیْہَا شِرْکٌ وَلَا قَسْمٌ اِلَّا الْجِوَارَ، قَالَ: ((الْجَارُ اَحَقُّ بِسَقَبِہِ مَاکَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۰۶)
۔ سیدنا شرید بن سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ایک زمین ہے، اس میں نہ تو کسی کی شراکت ہے اور نہ کسی کا کوئی حصہ ہے، البتہ صرف ہمسائی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پڑوسی قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے، وہ چیز جو بھی ہو۔
Takhreej
(۶۲۲۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۹۶، والنسائی: ۷/ ۳۲۰ (انظر: ۱۹۴۷۷)
6229
Sahih
۔ (۶۲۲۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ عَنْ اَبِیْہِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضٌ لَیْسَ لِأَحَدٍ فِیْہَا شِرْکٌ وَلَا قَسْمٌ اِلَّا الْجِوَارَ، قَالَ: ((الْجَارُ اَحَقُّ بِسَقَبِہِ مَاکَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۰۶)
۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے چیز خریدنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۷۷ (انظر: ۲۷۱۸۰)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ ہر مشترک چیز میں حصہ دار کو شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، درج بالا احادیث میں اس چیز کا بھی ذکر ہے کہ پڑوسی کو بھی شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، اس امر کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ان شاء اللہ
6230
Sahih