۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمینیا کھجوریں ہوں، تو وہ ان کو اس وقت تک فروخت نہ کرے، جب تک کہ اپنے شریک پر پیش نہ کر دے۔
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی اور اس کے بھائی کے مابین مزارعت میں شراکت ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہتا ہو تو وہ پہلے اسے اپنے شریک پر پیش کرے کیونکہ وہ اس کو قیمت کے ساتھ لینے کا زیادہ حق دار ہے۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی کسی کے گھر میںیا کھجور میں شریک ہو تو اس کے لئےیہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریک کو بتلائے بغیر اپنے حصے کو فروخت کر دے، (اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنے شریک کو بتائے)، اگر وہ پسند کرے تو لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔
Takhreej
(۶۲۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۰۸(انظر: ۱۴۳۳۹)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر شریک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس کو دوسرے ایکیا ایک سے زائد حصہ داروں پر پیش کرے، اگر وہ خریدنا چاہیں تو وہی سب سے زیادہ مستحق ہوں گے اور اگر وہ نہ لینا چاہیں تو پھر وہ اپنے حصے کو کسیکے ہاتھ پر فروخت کر سکتا ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر ساجھی چیز میں شفعہ ہے، وہ گھر ہو یا باغ، ایک شریک کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسی چیز کو فروخت کر دے، یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اس سے آگاہ کرے، اگر وہ شریک کو بتلائے بغیر فروخت کر دیتا ہے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس کو خبر دے دے۔
Takhreej
(۶۲۲۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۰۸(انظر: )۱۴۴۰۳
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں ہے: قَضَی النَّبِیُّV بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ۔ … نبی کریمa نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (ابوداود: ۳۵۱۳، ترمذی: ۱۳۷۰)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمینوں اور گھروں میں شرکاء کے درمیان حق شفعہ کا فیصلہ دیا ہے۔
۔ سیدنا سمرہ بن جناب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر کا ہمسایہ دوسروں کی بہ نسبت گھر خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمسایہ اپنے ہمسائے کے شفعہ (فروخت کیے جانے والے حصہ) کازیادہ حقدار ہے، اگر وہ غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا، لیکنیہ زیادہ حق اس وقت ہو گا، جب ان کا راستہ ایک ہو گا۔
Takhreej
(۶۲۲۶) قال الالبانی: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۱۸، وابن ماجہ: ۲۴۹۴، والترمذی: ۱۳۶۹(انظر: ۱۴۲۵۳)
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی دوسروں کے بہ نسبت اس گھر کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
۔ سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ایک زمین ہے، اس میں نہ تو کسی کی شراکت ہے اور نہ کسی کا کوئی حصہ ہے، البتہ صرف ہمسائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے، وہ چیز جو بھی ہو۔
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے چیز خریدنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۷۷ (انظر: ۲۷۱۸۰)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ ہر مشترک چیز میں حصہ دار کو شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، درج بالا احادیث میں اس چیز کا بھی ذکر ہے کہ پڑوسی کو بھی شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، اس امر کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ان شاء اللہ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز میں شفعہ کے حق کا فیصلہ دیا ہے جس کو تقسیم نہ کیا گیا ہو، جب کسی چیز کی حد بندی ہو جاتی ہے اور راستے الگ الگ کر لیے جاتے ہیں تو شفعہ کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔
فوائد:… سیدنا ابو ہریرہbسے مروی ہے کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((اِذَا قُسِمَتِ الدَّارُ وَ حُدَّتْ فَـلَا شُفْعَۃَ فِیْھَا۔)) (ابوداود: ۳۵۱۵) جب گھر تقسیم کر دیا جائے اور اس کی حدبندی کر دی جائے تو اس میں کوئی حق شفعہ نہیں۔‘‘ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صرف اس چیز میں شفعہ کرنے کا حق ہے، جو مختلف حصہ داروں کے مابین مشترک ہو۔ درج بالا دو ابواب میں مذکورہ احادیث درج ذیل تین مختلف امور پر مشتمل ہیں: (۱)پڑوسی کو شفعہ کرنے کا حق ہے۔ (۲)پڑوسی کو شفعہ کرنے کا حق اس وقت ہے، جب ان کا راستہ ایک ہو۔ (۳)صرف حصہ دار کو شفعہ کا حق حاصل ہے۔
جمع و تطبیق کی صورتیں درج ذیل ہیں:
(۱) جیسے ’’جَار‘‘ لفظ کا اطلاق پڑوسی اور ہمسائے پر ہوتا ہے، اسی طرح اس کا اطلاق شریک پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ عربی لغت قاموس میں ہے، مولانا وحید الزمان قاسمی دیوبندی نے عربی اردو لغت پر مشتمل اپنی کتاب ’’القاموس الوحید‘‘ میں لفظ ’’جَار‘‘ کے نو (۹) معانی بیان کیے ہیں، ان میں سے پہلے دو معانییہ ہیں: پڑوسی، شریک کار جائداد یا تجارت میں ساجھی۔
اگر پچھلے ابواب کی احادیث ِ مبارکہ میں مذکورہ لفظ ’’جَار‘‘ کا معنی ساجھی اور شریک کے کیے جائیں تو سرے سے اس مسئلے میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ شفعہ کا حق صرف حصہ دار کو ہے۔ اس باب میں مذکورہ احادیث کو دیکھا جائے تو یہی معنی اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔
(۲) اگر ’’جَار‘‘ کے معانی پڑوسی اور ہمسائے کے ہی کیے جائیں تو اس سے مراد ہمسائے کے ساتھ خیر و بھلائی، اعانت و معاونت، ہمدردی و خیرخواہی اور ایثار و قربانی والا معاملہ ہوگا، کیونکہ ان احادیث میں شفعہ کے حق کی وضاحت تو نہیں کی گئی، صرف اتنا کہا گیا ہے کہ وہ پڑوسی اپنے پڑوس کی وجہ سے زیادہ حق دار ہے۔
احادیث میںیہ الفاظ پہلے ذکر ہوئے ہیں ’’الجاء احق بشفعۃ جارہ‘‘، ’’الجار احق بالدار‘‘ پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے۔ اس جگہ یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ آپa نے ’’اَحَقُّ‘‘ فرمایا ہے یعنی زیادہ حقدار ہے، اس کی خیر خواہی ہونی چاہیے۔ ہاں ہر لحاظ سے اس کا ضروری حق نہیں ہے۔ (عبداللہ رفیق)