TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شفعہ کے مسائل - شفعہ کے مسائل - Book 101 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 101 of Musnad Ahmad, with 3 chapters and 12 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

12 Hadith · 3 Chapters
شفعہ کے حکم کا بیان
۔ (۶۲۲۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّکُمْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَـلَا یَبِیْعُہَا حَتّٰییَعْرِضَہَا عَلٰی شَرِیْکِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۴۳)
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمینیا کھجوریں ہوں، تو وہ ان کو اس وقت تک فروخت نہ کرے، جب تک کہ اپنے شریک پر پیش نہ کر دے۔
Takhreej
(۶۲۲۰) تخریج: أخرجہ بنحوہ مسلم: ۱۶۰۸ (انظر: ۱۴۲۹۲)
6220
Sahih
شفعہ کے حکم کا بیان
۔ (۶۲۲۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیْہِ مُزَارَعَۃٌ فَأَرَادَ أَنْ یَبِیْعَہَا فَلْیَعْرِضْہَا عَلٰی صَاحِبِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا بِالثَّمَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۶۱)
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی اور اس کے بھائی کے مابین مزارعت میں شراکت ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہتا ہو تو وہ پہلے اسے اپنے شریک پر پیش کرے کیونکہ وہ اس کو قیمت کے ساتھ لینے کا زیادہ حق دار ہے۔
Takhreej
(۶۲۲۱) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
6221
Sahih
شفعہ کے حکم کا بیان
۔ (۶۲۲۲)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ شَرِیْکًا فِیْ رَبْعَۃٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَیْسَ لَہُ أَنْ یَبِیْعَ حَتّٰییُؤْذِنَ شَرِیْکَہَ فَاِنْ رَضِیَ أَخَذَ وَاِنْ کَرِہَ تَرَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۹۱)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی کسی کے گھر میںیا کھجور میں شریک ہو تو اس کے لئےیہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریک کو بتلائے بغیر اپنے حصے کو فروخت کر دے، (اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنے شریک کو بتائے)، اگر وہ پسند کرے تو لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔
Takhreej
(۶۲۲۲) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۰۸(انظر: ۱۴۳۳۹)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اگر شریک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس کو دوسرے ایکیا ایک سے زائد حصہ داروں پر پیش کرے، اگر وہ خریدنا چاہیں تو وہی سب سے زیادہ مستحق ہوں گے اور اگر وہ نہ لینا چاہیں تو پھر وہ اپنے حصے کو کسیکے ہاتھ پر فروخت کر سکتا ہے۔
6222
Sahih
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
۔ (۶۲۲۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الشُّفْعَۃُ فِیْ کُلِّ شِرْکٍ رَبْعَۃٍ أَوْ حَائِطٍ، لَا یَصْلُحُ لَہُ أَنْ یَبِیْعَ حَتّٰییُؤْذِنَ شَرِیْکَہُ، فَاِنْ بَاعَ فَہُوَ اَحَقُّ بِہٖحَتّٰییُؤْذِنَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۵۶)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر ساجھی چیز میں شفعہ ہے، وہ گھر ہو یا باغ، ایک شریک کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسی چیز کو فروخت کر دے، یہاں تک کہ وہ اپنے شریک کو اس سے آگاہ کرے، اگر وہ شریک کو بتلائے بغیر فروخت کر دیتا ہے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، یہاں تک کہ وہ اس کو خبر دے دے۔
Takhreej
(۶۲۲۳) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۰۸(انظر: )۱۴۴۰۳
Explanation
فوائد:… ایک روایت میں ہے: قَضَی النَّبِیُّV بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ شَیْئٍ۔ … نبی کریمa نے ہر چیز میں شفعہ کا فیصلہ فرمایا ہے۔ (ابوداود: ۳۵۱۳، ترمذی: ۱۳۷۰)
6223
Sahih
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
۔ (۶۲۲۴)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالشُّفْعَۃِ بَیْنَ الشُّرَکَائِ فِی الْأَرْضِیْنَ وَالدُّوْرِ۔ (مسند احمد:۲۳۱۵۹)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زمینوں اور گھروں میں شرکاء کے درمیان حق شفعہ کا فیصلہ دیا ہے۔
Takhreej
(۶۲۲۴) تخریج: صحیح بالشواھد (انظر: ۲۲۷۷۸)
6224
Sahih
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
۔ (۶۲۲۵)۔ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۳۴۸)
۔ سیدنا سمرہ بن جناب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھر کا ہمسایہ دوسروں کی بہ نسبت گھر خریدنے کا زیادہ حقدار ہے۔
Takhreej
(۶۲۲۵) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۱۷، والترمذی: ۱۳۶۸(انظر: ۲۰۰۸۸)
6225
Sahih
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
۔ (۶۲۲۶)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْجَارُ اَحَقُّ بِشُفْعَۃِ جَارِہِ یُنْتَظَرُ بِہَا وَإِنْ کَانَ غَائِبًا، إِنْ کَانَ طَرِیْقُہُمَا وَاحِداً۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۰۳)
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہمسایہ اپنے ہمسائے کے شفعہ (فروخت کیے جانے والے حصہ) کازیادہ حقدار ہے، اگر وہ غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا، لیکنیہ زیادہ حق اس وقت ہو گا، جب ان کا راستہ ایک ہو گا۔
Takhreej
(۶۲۲۶) قال الالبانی: صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۳۵۱۸، وابن ماجہ: ۲۴۹۴، والترمذی: ۱۳۶۹(انظر: ۱۴۲۵۳)
6226
Sahih
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
۔ (۶۲۲۷)۔ عَنِ الشُّرَیْدِ بْنِ سُوَیْدِ نِ الثَّقَفِیِّ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ مِنْ غَیْرِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۶۸۸)
۔ سیدنا شرید بن سوید ثقفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: گھر کا پڑوسی دوسروں کے بہ نسبت اس گھر کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۲۷) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۹۶، والنسائی: ۷/ ۳۲۰ (انظر: ۱۹۴۵۹)
6227
Sahih
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
۔ (۶۲۲۸)۔ عَنِ الْحَکَمِ عَمَّنْ سَمِعَ عَلِیًّا وَابْنَ مَسْعُوْدٍ یَقُوْلَانِ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْجِوَارِ۔ (مسند احمد: ۹۲۳)
۔ سیدنا علی اور عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پڑوس کے حق کی بنا پر فیصلہ کیا ہے۔
Takhreej
(۶۲۲۸) تخریج: حسن لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۷/ ۱۶۳(انظر: ۹۲۳)
6228
Sahih
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
۔ (۶۲۲۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ عَنْ اَبِیْہِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضٌ لَیْسَ لِأَحَدٍ فِیْہَا شِرْکٌ وَلَا قَسْمٌ اِلَّا الْجِوَارَ، قَالَ: ((الْجَارُ اَحَقُّ بِسَقَبِہِ مَاکَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۰۶)
۔ سیدنا شرید بن سوید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اے اللہ کے رسول! ایک زمین ہے، اس میں نہ تو کسی کی شراکت ہے اور نہ کسی کا کوئی حصہ ہے، البتہ صرف ہمسائی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پڑوسی قریب ہونے کی وجہ سے زیادہ حق رکھتا ہے، وہ چیز جو بھی ہو۔
Takhreej
(۶۲۲۹) تخریج: حدیث صحیح۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۴۹۶، والنسائی: ۷/ ۳۲۰ (انظر: ۱۹۴۷۷)
6229
Sahih
اس چیز کا بیان کہ کس چیز میں اور کس کے لیے شفعہ کا حق ہے
۔ (۶۲۲۹)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِیْدِ عَنْ اَبِیْہِ الشَّرِیْدِ بْنِ سُوَیْدٍ قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! أَرْضٌ لَیْسَ لِأَحَدٍ فِیْہَا شِرْکٌ وَلَا قَسْمٌ اِلَّا الْجِوَارَ، قَالَ: ((الْجَارُ اَحَقُّ بِسَقَبِہِ مَاکَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۰۶)
۔ سیدنا ابو رافع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پڑوسی اپنے قرب کی وجہ سے چیز خریدنے کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۳۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۹۷۷ (انظر: ۲۷۱۸۰)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ ہر مشترک چیز میں حصہ دار کو شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، درج بالا احادیث میں اس چیز کا بھی ذکر ہے کہ پڑوسی کو بھی شفعہ کرنے کا حق حاصل ہے، اس امر کی وضاحت اگلے باب میں ہو گی۔ ان شاء اللہ
6230
Sahih
اس چیز کا بیان کہ شفعہ کا حق کب ختم ہوتا ہے
۔ (۶۲۳۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالشُّفْعَۃِ فِیْ کُلِّ مَا لَمْ یُقْسَمْ فَاِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ فَـلَا شُفْعَۃَ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۶۳)
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس چیز میں شفعہ کے حق کا فیصلہ دیا ہے جس کو تقسیم نہ کیا گیا ہو، جب کسی چیز کی حد بندی ہو جاتی ہے اور راستے الگ الگ کر لیے جاتے ہیں تو شفعہ کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔
Takhreej
(۶۲۳۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۲۲۱۴، ۲۲۵۷، ۲۴۹۶ (انظر: ۱۵۲۸۹)
Explanation
فوائد:… سیدنا ابو ہریرہbسے مروی ہے کہ رسول اللہa نے فرمایا: ((اِذَا قُسِمَتِ الدَّارُ وَ حُدَّتْ فَـلَا شُفْعَۃَ فِیْھَا۔)) (ابوداود: ۳۵۱۵) جب گھر تقسیم کر دیا جائے اور اس کی حدبندی کر دی جائے تو اس میں کوئی حق شفعہ نہیں۔‘‘ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ صرف اس چیز میں شفعہ کرنے کا حق ہے، جو مختلف حصہ داروں کے مابین مشترک ہو۔ درج بالا دو ابواب میں مذکورہ احادیث درج ذیل تین مختلف امور پر مشتمل ہیں: (۱)پڑوسی کو شفعہ کرنے کا حق ہے۔ (۲)پڑوسی کو شفعہ کرنے کا حق اس وقت ہے، جب ان کا راستہ ایک ہو۔ (۳)صرف حصہ دار کو شفعہ کا حق حاصل ہے۔ جمع و تطبیق کی صورتیں درج ذیل ہیں: (۱) جیسے ’’جَار‘‘ لفظ کا اطلاق پڑوسی اور ہمسائے پر ہوتا ہے، اسی طرح اس کا اطلاق شریک پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ عربی لغت قاموس میں ہے، مولانا وحید الزمان قاسمی دیوبندی نے عربی اردو لغت پر مشتمل اپنی کتاب ’’القاموس الوحید‘‘ میں لفظ ’’جَار‘‘ کے نو (۹) معانی بیان کیے ہیں، ان میں سے پہلے دو معانییہ ہیں: پڑوسی، شریک کار جائداد یا تجارت میں ساجھی۔ اگر پچھلے ابواب کی احادیث ِ مبارکہ میں مذکورہ لفظ ’’جَار‘‘ کا معنی ساجھی اور شریک کے کیے جائیں تو سرے سے اس مسئلے میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں رہتی کہ شفعہ کا حق صرف حصہ دار کو ہے۔ اس باب میں مذکورہ احادیث کو دیکھا جائے تو یہی معنی اقرب الی الصواب معلوم ہوتا ہے۔ (۲) اگر ’’جَار‘‘ کے معانی پڑوسی اور ہمسائے کے ہی کیے جائیں تو اس سے مراد ہمسائے کے ساتھ خیر و بھلائی، اعانت و معاونت، ہمدردی و خیرخواہی اور ایثار و قربانی والا معاملہ ہوگا، کیونکہ ان احادیث میں شفعہ کے حق کی وضاحت تو نہیں کی گئی، صرف اتنا کہا گیا ہے کہ وہ پڑوسی اپنے پڑوس کی وجہ سے زیادہ حق دار ہے۔ احادیث میںیہ الفاظ پہلے ذکر ہوئے ہیں ’’الجاء احق بشفعۃ جارہ‘‘، ’’الجار احق بالدار‘‘ پڑوسی اپنے پڑوسی کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے۔ اس جگہ یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ آپa نے ’’اَحَقُّ‘‘ فرمایا ہے یعنی زیادہ حقدار ہے، اس کی خیر خواہی ہونی چاہیے۔ ہاں ہر لحاظ سے اس کا ضروری حق نہیں ہے۔ (عبداللہ رفیق)
6231
Sahih