TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

گری پڑی چیز پر گواہ بنانے اور کم مقدار اور زیادہ مقدار کی چیز کی مدتِ اعلان کا بیان

Chapter 4 of گری پڑی چیز کی کتاب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 5 · 2 Hadith
۔ (۶۲۴۵)۔ عَنْ عِیَاضِ بْنِ حِمَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ وَجَدَ لُقَطَۃً فَلْیُشْہِدْ ذَوَیْ عَدْلٍ وَلْیَحْفَظْ عِفَاصَہَا وَوِکَائَ ھَا، فَاِنْ جَائَ صَاحِبُہَا فَلَایَکْتُمْ وَھُوَ أَحَقُّ بِہَا، وَاِنْ لَمْ یَجِیئْ صَاحِبُہَا فَاِنَّہُ مَالُ اللّٰہِ یُوْتِیْہِ مَنْ یَشَائُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۲۰)
۔ سیدنا عیاض بن حمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص گری پڑی چیز پاتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ انصاف والے دو آدمیوں کو گواہ بنالے اور اس کی تھیلی اور تسمے کی شناخت کر لے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس سے نہ چھپائے، کیونکہیہ اسی کا حق ہے اور اگر مالک نہ ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، ادا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۴۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۰۹(انظر: ۱۲۷۲)
Explanation
فوائد:… گمشدہ چیز اٹھانے والے کو چاہئے کہ وہ عادل گواہ بنا لے، اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں: (۱) بعد میں شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے نفس میں خیانت کرنے کا خیال پیدا ہو سکتا ہے۔ (۲) گمشدہ چیز کو پانے والے شخص کی موت کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گواہ بنائے بغیر مر جائے اور اس کے ورثاء اِس چیز کو اس کا ترکہ سمجھ کر تقسیم کر لیں۔ (۳) یہ بھی ممکن ہے کہ اصل مالک کے شبہات کو دور کرنا مقصود ہو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کی گم ہونے والی مختلف اشیاء ہوں یا زیادہ مقدار والی چیز ہو، جبکہ اس شخص کو ایک چیز ملی ہو یا کم مقدار ہو، ایسے میں وہ اِس پر خیانت کا الزام لگا سکتا ہے۔ شریعت کے اس حکم پر عمل کر لینے کی وجہ سے ان تمام شکوک و شبہات سے بچا جا سکتا ہے۔
6245
Sahih
۔ (۶۲۴۶)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنِ الْتَقَطَ لُقْطَۃًیَسِیْرَۃً دِرْھَمًا أَوْ حَبْلًا أَوْ شِبْہَ ذٰلِکَ فَلْیُعَرِّفْہُ ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ فَاِنْ کَانَ فَوْقَ ذٰلِکَ فَلْیُعَرِّفْہُ سَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۱۷۷۰۹)
۔ سیدنایعلی بن مرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو معمولی سی چیز گری پا لے، مثلا درہم، رسییا اس طرح کی کوئی اور چیز، تو وہ تین دنوں تک اس کا اعلان کرے، اور اگر اس سے قیمتی چیز پا لے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرے۔
Takhreej
(۶۲۴۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عمر بن عبد اللہ، وجدتہ حکیمۃ لا تعرف۔ أخرجہ البیھقی: ۶/ ۱۹۵، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۷۰۰ (انظر: ۱۷۵۶۶)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث چونکہ ضعیف ہے اس لئے حجت نہیں ہے، اعلان ایک سال تک ہی کیا جائے گا، البتہ معمولی چیز کے اعلان کی ضرورت نہیں ہے،مثلا کھجور کا دانہ، ایک دو روپے، وغیرہ۔
6246
Zaeef