۔ سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے یا کسی آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے، یا پھر بھیڑیے کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گم شدہ اونٹ کے بارے میںآپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے تیرا کیا تعلق ہے، اس کا پینا اور جوتا اس کے پاس ہے اور وہ درختوں سے چرتا رہے گا (یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا)۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے گم شدہ چاندی مل جائے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی، بندھن اور اس کی تعداد کی معلوم کر لے اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو گی،یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وگرنہ تو اس سے فائدہ اٹھا۔
۔ (دوسری سند) سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک دیہاتی گری پڑی ایک چیز لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔
۔ (تیسری سند) سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار سرخ ہوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس کے ساتھ ہی اس کا جوتا اور پینا موجود ہے، وہ پانی پر وارد ہوتا رہے گا اور درختوں سے چرتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ صرف تیرے لیے ہو گی،یا تیرے بھائی کے لیے،یا بھیڑیئے کے لیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی دوسری گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لے، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر مالک کا پتہ چل جائے تو ٹھیک، وگرنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کا حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چونکہ اس کا جوتا اور مشکیزہ اس کے پاس موجود ہے، پس وہ درختوں سے چرتا رہے گا اور پانی پیتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا، اس لیے تو اس کو چھوڑ دے۔ اس نے کہا: گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے ہے یا پھر بھیڑیئے کے لیے، اس لیے اس کو اپنے پاس رکھ لے، یہاں تک کہ اس کا تلاش کرنے والا آ جائے۔ اس نے کہا: اس بکری کا کیا حکم ہے، جس کو چراگاہ سے چرا لیا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنا قیمت لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ سزا بھی دی جائے گی اور جو چیز اونٹوں کے باڑے سے چرا لی جائے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھل کے متعلق کیا حکم ہے، نیز جو پھل شگوفوں سے ہی کھا لیا جائے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وہیں (باغ میں) کھا لیا اور کپڑے میں اٹھا کر نہ لے گیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، لیکن جو آدمی پھل اٹھا کر لے گیا، اس نے اس کی دو گنا قیمت ادا کرنا ہو گی اور اس کو سزا بھی دی جائے گی، لیکن جو چیز (کھلیانوں جیسے) محفوظ مقامات سے اٹھا لی جائے گی اور وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو گی تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، ۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شارع عام میں گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر اس کو تلاش کرنے والا مالک مل جائے تو اس کو دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو جائے گی۔ اس نے کہا:جو چیز ویران ہو جانے والے قدیم مقام سے ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔
فوائد:… ’’اونٹ کے پاس اس کا جوتا اور مشکیزہ موجود ہے۔‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دور دور تک چل سکتا ہے اور کئی دنوں تک پانی پئے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔
’’ویران ہو جانے والا قدیم مقام ‘‘ اس سے مراد وہ جگہ ہے، جو کبھی آباد ہوا کرتی تھی، لیکن اب وہ ویران ہو گئی ہے اور وہاں سے ملنے والی چیز کے مالک کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔
ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ گری پڑی چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا، اگر مالک مل گیا تو ٹھیک، بصورت ِ دیگر وہ بندہ استعمال کر لے گا، لیکن اصل مالک کا حق برقرار رہے گا، جس دن اس سے ملاقات ہو گئی، وہ چیز اس کو واپس کرنا پڑے گی۔ اگلے باب میں تین برسوں کا ذکر ہے، جمع و تطبیق کے لیے اگلا باب ملاحظہ کریں۔ آخری حدیث میں مذکورہ دوسرے احکام کی تفصیل ان کے مقام پر بیان کی گئی ہے۔
۔ سویدین بن غفلہ کہتے ہیں: میں نے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کی معیت میں غزوہ کیا، میں نے راستے میں ایک کوڑا پایا اور اس کو اٹھا لیا، لیکن انہوں نے مجھے کہا: یہ کوڑا پھینک دے، میں نے کہا: میں اسے نہیں پھینکوں گا، بلکہ اس کا اعلان کروں گا، اگر اس کو پہچان لینے والے مالک کو پا لیا تو اسے دے دوں گا،وگرنہ خود استعمال کر لوں گا، ان دونوں نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور میں نے بھی ان سے اتفاق نہ کیا، جب ہم غزوہ سے واپس آئے اورمیں حج کے لئے گیا تو میں مدینہ منورہ گیا اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو اُن دونوں کی اور اپنی بات بتلائی، انھوں نے آگے سے کہا: عہد ِ نبوی کی بات ہے، مجھے سو دیناروں پر مشتمل ایک تھیلی ملی تھی، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اس کے بارے میں ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا، لیکن ایسا کوئی شخص نہ ملا جو اس تھیلی کو پہچانتا ہو، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ کوئی ایسا نہیں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ تین دفعہ ایسے ہی ہوا، راوی کہتا ہے: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک سال میں (اعلان کرنے کا) کہا تھا یا تین برسوں میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ مجھے فرمایا: ان دیناروں کی تعداد اور اس تھیلی کے تسمے کو ذہن نشین کرلے اور اگر اس بعد اس کو پہچاننے والے کو پا لے تو اسے دے دینا، وگرنہ اس سے خود فائدہ اٹھا لینا۔ یہ الفاظ یحییٰ بن سعید کی حدیث کے ہیں، محمد بن جعفر نے اپنی بیان کردہ حدیث میں کہاہے کہ سیدنا شعبہ کہتے ہیں میں اس کے بعد سلمہ بن کہیل کو مکہ میں ملا اوران سے پوچھا تو انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تین سال مراد ہیںیا ایک سال میں تین دفعہ اعلان کرنا مراد ہے۔
۔ (دوسری سند) حماد بن سلمہ سے مروی ہے کہ سلمہ بن کہیل نے اپنی روایت کو اس طرح بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’دو یا تین سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر فرمایا: وگرنہ اس چیز کی تعداد،تھیلی اور تسمے کو ذہن نشین کر لو اور اس سے فائدہ اٹھائو، اگر بعد میں اس کامالک آگیا اور اس کی تعداد اورتسمے کو پہنچان لیا تو اس کو دے دینا۔
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں میں نے سو دینار اٹھا لیے (جوکہ کسی کے گم ہوئے تھے) اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کی کہ میں نے ایک سال اس کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ پس میں نے مزید ایک سال اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ میں نے مزید ایک سال تک اعلان کر دیا ہے، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم ان کی تعداد شمار کر لو اور اس کا تسمہ پہچان لو اور ان سے فائدہ حاصل کرو۔
Takhreej
(۶۲۳۸) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۲۳(انظر: ۲۱۱۶۹)
Explanation
فوائد:… مسند احمد کی ایک روایت میں تین سال اعلان کرنے کا ذکر ہے۔ پچھلے باب کی احادیث میں ایک سال کا اور اِن احادیث میں تین سال کا ذکر ہے، جمع و تطبیق کی صورتیںیہ ہیں:
(۱) ایک سال تک اعلان کرنا ضروری ہے اور تین سالوں تک مستحبّ ہے، یعنی ایک سال کے بعد چیز کو استعمال تو کیا جا سکتا ہے، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ مزید دو سالوں تک اعلان کیا جائے۔
(۲) عام چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا اور قیمتی چیز کا تین سالوں تک۔
(۳) جو آدمی چیز کا استعمال کر لینے کے بعد مالک کے آ جانے کی صورت میں آسانی سے اس چیز کا اہتمام کر سکتا ہو، وہ ایک سال تک اعلان کرے اور جس کو یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے اس چیز کواستعمال کر لیا تو اس کا از سرِ نو اہتمام کرنا مشکل ہو جائے گا تو وہ تین برسوں تک اعلان کر لے، عام طور پر اتنے عرصے کے بعد اصل مالک کا آنا مشکل ہو جاتا ہے۔
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گم شدہ چیز اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے اور اس کا اعلان نہیں کرتا، وہ گمراہ ہے۔
۔ عبد اللہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بوازیج مقام پر اپنے باپ سیدنا ابو جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اتنے میں ایک گائے چراگاہ کی طرف نکل آئی، جب انھوں نے یہ گائے دیکھی اور اس کی شناخت نہ کی تو کہا: یہ گائے کہاں سے آ گئی ہے؟ میں نے کہا: یہ ہماری گائیوں کے ساتھ مل گئی ہے، لیکن انھوں نے حکم دیا کہ اس کو دھتکار دیا جائے، پس ایسے ہی کیا گیا،یہاں تک کہ وہ چھپ گئی ، پھر انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی آدمی گم شدہ جانور کو اپنے گھر میں جگہ دیتا ہے، جو گمراہ ہوتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۴۰) تخریج: اسنادہ ضعیف، الضحاک، قال علی بن المدینی: لا یعرفونہ، ثم انّ ابا حیان اضطرب فیہ۔ أخرجہ ابوداود: ۱۷۲۰، وابن ماجہ: ۲۵۰۳، والنسائی: ۲/ ۴۳۲ (انظر: ۱۹۲۰۹)
۔ سیدنا جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، سواریوں کی قلت تھی، لوگ سواریوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کر رہے تھے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہے کہ ہمیں سواریاں میسر آسکتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: (مدینہ منورہ کی) پانی کی بہاؤ والی جگہ میں اونٹ موجود ہیں، ہم ان پر سواری کرنے کا فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ،مسلمان کا گم شدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گری پڑی چیز کے بارے میں ارشاد فرمایا: جب تو گم شدہ چیز پائے تو ضرور ضرور اس کا اعلان کر اور چھپا کے نہ رکھ اور نہ اس کو غائب کر، اگر وہ پہچان لیا جائے تو متعلقہ بندے کو ادا کر دے، وگرنہ وہ اللہ تعالی کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کر دیتا ہے۔
۔ سیدناجارود رضی اللہ عنہ سے اس انداز سے بھی روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ جانوروں کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے۔
۔ مطرف انپے باپ سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!: ہم گم شدہ اونٹوں کو پا لیتے ہیں، ان کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا گم شدہ جانور آگ کا شعلہ ہے۔
Takhreej
(۶۲۴۳) تخریج: اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۵۰۲(انظر: ۱۶۳۱۴)
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک نیزہ تھا،جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جاتے تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے جاتے اور اسے گاڑھ دیتے اور قصداً چھوڑآتے، لوگ اس کے پاس سے گزرتے اور اسے اٹھا لاتے۔ میں نے کہا: میں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میں اس کاروائی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے (قصداً) ایسا کرنا شروع کر دیا تو گم شدہ چیز کو نہیں اٹھایا جائے گا۔
Takhreej
(۶۲۴۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۰۹(انظر: ۱۲۷۲)
Explanation
فوائد:… ان احادیث میں بیان کی گئی وعید اس آدمی کے بارے میں ہے جو مومن کی گمشدہ چیز اس نیت سے اٹھاتا ہے کہ وہ اس پر قبضہ کر لے اور کسی کو نہ بتائے۔
۔ سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گری پڑی چیز پاتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ انصاف والے دو آدمیوں کو گواہ بنالے اور اس کی تھیلی اور تسمے کی شناخت کر لے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس سے نہ چھپائے، کیونکہیہ اسی کا حق ہے اور اگر مالک نہ ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، ادا کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۶۲۴۴) تخریج: اسنادہ حسن۔ أخرجہ ابن ماجہ: ۲۸۰۹(انظر: ۱۲۷۲)
Explanation
فوائد:… گمشدہ چیز اٹھانے والے کو چاہئے کہ وہ عادل گواہ بنا لے، اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں:
(۱) بعد میں شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے نفس میں خیانت کرنے کا خیال پیدا ہو سکتا ہے۔
(۲) گمشدہ چیز کو پانے والے شخص کی موت کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گواہ بنائے بغیر مر جائے اور اس کے ورثاء اِس چیز کو اس کا ترکہ سمجھ کر تقسیم کر لیں۔
(۳) یہ بھی ممکن ہے کہ اصل مالک کے شبہات کو دور کرنا مقصود ہو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کی گم ہونے والی مختلف اشیاء ہوں یا زیادہ مقدار والی چیز ہو، جبکہ اس شخص کو ایک چیز ملی ہو یا کم مقدار ہو، ایسے میں وہ اِس پر خیانت کا الزام لگا سکتا ہے۔ شریعت کے اس حکم پر عمل کر لینے کی وجہ سے ان تمام شکوک و شبہات سے بچا جا سکتا ہے۔
۔ سیدنایعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو معمولی سی چیز گری پا لے، مثلا درہم، رسییا اس طرح کی کوئی اور چیز، تو وہ تین دنوں تک اس کا اعلان کرے، اور اگر اس سے قیمتی چیز پا لے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرے۔
Takhreej
(۶۲۴۶) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف عمر بن عبد اللہ، وجدتہ حکیمۃ لا تعرف۔ أخرجہ البیھقی: ۶/ ۱۹۵، والطبرانی فی ’’الکبیر‘‘: ۲۲/ ۷۰۰ (انظر: ۱۷۵۶۶)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث چونکہ ضعیف ہے اس لئے حجت نہیں ہے، اعلان ایک سال تک ہی کیا جائے گا، البتہ معمولی چیز کے اعلان کی ضرورت نہیں ہے،مثلا کھجور کا دانہ، ایک دو روپے، وغیرہ۔
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح مکہ والے دن مکہ کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اس کے درخت نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو نہ بھگایا جائے اور اس کی گری پڑی چیز کسی کے لیے حلال نہیں ہے، مگر اعلان کرنے والے کے لیے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے فضائل مکہ کے موضوع پر روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شہر حرمت والا ہے۔ پھر راوی نے ساری حدیث بیان کی ہے، اس میںیہ الفاظ بھی تھے: اس کے شکار کو بے قرار نہ کیا جائے اور نہ اس کی گری پڑی چیز اٹھائی جائے، البتہ اعلان کرنے والے کے لیے جائز ہے۔
فوائد:… مکہ مکرمہ کا معاملہ دوسروں علاقوں سے مختلف ہے، اس شہر میں آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے، حج و عمرہ یا زیارت کے ارادے سے آنے والے لوگوں میں سے کوئی کم عرصہ کے لیے ٹھہرتا ہے اور کوئی کافی ایام کے لیے قیام کرتا ہے اور قیام کرنے کا انداز بھی بڑا عجیب ہوتا ہے کہ کوئی کہیں دو دن ٹھہر رہا ہے، کوئی کہیں چار دن قیام کر رہا ہے اور کوئی تو چل پھر کر ہی دن گزار دیتا ہے، نیز کوئی بہت دور سے آیا ہوتا ہے اور کوئی قریب سے۔
جب صورتحال ایسی ہو تو اگر گری پڑی چیز کو اس کے محل پر ہی رہنے دیا جائے تو بہتر ہو گا، کیونکہ ممکن ہے کہ جب اس کے مالک کو پتہ چلے تو وہ اپنے مقامات کی طرف لوٹے یا وہ اس مقام میں اس چیز کو تلاش کرنے کے لیے کسی کو پیغام بھیج دے، ایسے فوراً بھی کیا جا سکتا ہے اور کچھ دنوں کے بعد بھی، اس لیے اس شہر کی گری پڑی چیز کو وہیں پڑے رہنے دیا جائے، جو اعلان کرنے کی ذمہ داری اٹھائے گا، تو وہ اعلان کرتا رہے گا اور اس کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہو گی، جیسا کہ دوسرے علاقوں میں ایکیا تین برسوںکی حد مقرر ہے۔
امام نووی نے کہا: اس حدیث کا معنییہ ہے کہ مکہ مکرمہ میں گری پڑی چیز اس آدمی کے لیے حلال نہیں ہے، جو ایک سال تک اعلان کر کے اس کا مالک بننے کا ارادہ رکھتا ہو، جیسا کہ دوسرے علاقوں کا حکم ہے، بلکہ یہ چیز حلال نہیں ہو گی، مگر اس آدمی کے لیے جو ہمیشہ کے لیے اعلان کرتا رہے گا اور اس کا مالک نہیں بنے گا۔
۔ سیدنا عبد الرحمن بن عثمان تیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاجیوں کی گری ہوئی چیز اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔
Takhreej
(۶۲۴۹) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۷۲۴ (انظر: ۱۶۰۷۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں مطلق حاجیوں کا ذکر ہے، حرم یا مکہ مکرمہ کی قید نہیں لگائی گئی ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا سابقہ احادیث کی روشنی میں اس حدیث کو مقید کیا جائے یا عام رہنے دیا، الفاظ کا تقاضا یہی ہے کہ یہ حکم عام ہے اور اس کو عام ہی رہنے دیا جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ چیز کے قیمتی ہونے کی صورت میں مالک واپس پلٹے یا حج و عمرہ سے واپسی پر اپنی چیز کو تلاش کرنے کی کوشش کرے۔