۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی نے ایک درخت کے نیچے پڑاؤ ڈالا اور ایک چیونٹی نے اس کو کاٹ لیا، پاس اس وجہ سے اس نے حکم دیا کہ اس کا سامان اس درخت کے نیچے سے ہٹا لیا جائے، پھر ان چیونٹیوں کو جلانے کا حکم دیا، اُدھر اللہ تعالی نے اس نبی کییہ وحی کر دی کہ صرف ایک چیونٹی کو کیوں نہیں جلایا۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جگہ اترے اور قضائے حاجت کے لئے کہیں تشریف لے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واپس آئے تو دیکھا کہ ایک آدمی زمینیا درخت پر موجود چیونٹیوں کے گھر جلا رہا تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے یہ کام کس نے کیاہے؟ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ کام کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے بجھائو بجھائو۔
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ہم چیونٹیوں کی بلوں کے پاس سے گزرے اور دیکھا کہ انہیں جلا دیا گیا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی بشر کے لیے لائق نہیں ہے کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی مانند عذاب دے۔