۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تحریر کروایا کہ قبیلہ کی ہر شاخ پر دیت ادا کرنا واجب ہے، نیز آپ نے یہ بھی لکھوایا کہ کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت کے کسی کا سر پرست بنے، روح راوی کے الفاظ یہ ہیں: یہ حلال نہیں ہے کہ ایکمسلمان آدمی کا (آزاد کردہ) غلام اس کی اجازت کے بغیر کسی اور کو سرپرست بنا لے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ عورت کی طرف سے اس کے عصبہ دیت ادا کریں گے، وہ جو بھی ہوں۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں لڑ پڑیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر مارا، وہ اس کے پیٹ پر لگا اور وہ خاتون بھی قتل ہو گئی اور اس نے اپنا جنین بھی گرا دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ کیا اس کی دیت اس کے عاقلہ نے ادا کرنا ہو گی اور جنین کی دیت ایک غلام یا ایک لونڈی ہو گی، ایک آدمی نے کہا: جس بچے نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ چیخا، اس طرح قتل باطل اور رائیگاں ہو جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کاہنوں اور نجومیوں کا بھائی لگتا ہے۔
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو سوکنیں آپس میں لڑ پڑیں ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی لکڑی دے ماری اور اسے قتل کر دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاتلہ کے خاندان کو دیت ادا کرنے کا حکم فرمایا: اور جو مقتولہ کے پیٹ کا بچہ فوت ہوا تھا اس کے عوض لونڈییا غلام کا فیصلہ دیا۔ ایک دیہاتی نے کہا : کیا آپ مجھے اس بچے کی چٹی ڈال رہے ہیں جس نے نہ کچھ کھایا اور نہ پیا اور نہ آواز نکالی اور نہ ہی چیخا۔ اس طرح کا بچہ تو بغیر کسی تاوان ہونا چاہئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بدئووں کی طرح یہ قافیہ بندی کی جا رہی ہے، (کوئی جو مرضی کہے مگر) اس عورت کے پیٹ میں قتل ہونے والے بچے کی دیت لونڈییا غلام دینا پڑے گی۔
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فقیر لوگوں کے غلام نے مالدار لوگوں کے غلام کا کان کاٹ دیا، اس کے مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور شکایت کی، لیکن کان کاٹنے والے غلام کے مالکوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم فقیر لوگ ہیں، ہمارے پاس کچھ نہیں، پس آپ نے ان پر کوئی دیت نہ ڈالی۔