TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب - شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب - Book 112 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 112 of Musnad Ahmad, with 3 chapters and 17 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

17 Hadith · 3 Chapters
قرآن مجید سے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی دلیل
۔ (۶۶۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی بَعَثَ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْزَلَ عَلَیْہِ الْکِتَابَ، فَکَانَ فِیْمَا أَنْزَلَ عَلَیْہِ آیَۃُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَا بِہَا وَعَقَلْنَاھَا وَوَعَیْنَاھَا فَأَخْشٰی أَنْ یَطُوْلَ بِالنَّاسِ عَہْدٌ فَیَقُوْلُوْا: إِنَّا لَا نَجِدُ اٰیَۃَ الرَّجْمِ فَتُرِکَ فَرِیْضَۃٌ أَنْزَلَھَا اللّٰہُ تَعَالٰی وَأَنَّ الرَّجْمَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالیٰ حَقٌّ عَلٰی مَنْ زَنَا إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الْرِجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا قَامَتِ الْبَیِّنَۃُ أَوْ کَانَ الْحَبْلُ أَوِ الْاِعْتِرَافُ۔ (مسند احمد: ۲۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا اور اس اللہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جو کتاب نازل کی، اس میں رجم والی آیت بھی تھی، ہم نے اس کو پڑھا تھا، سمجھا تھا اور خوب یاد کیا تھا، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ ہم قرآن مجید میں رجم کی آیت نہیں پاتے،اس طرح اللہ تعالی کے نازل کردہ ایک فریضے کو چھوڑ دیا جائے گا، جبکہ رجم اللہ تعالی کی کتاب میں ثابت ہے، اس مرد اور عورت کو رجم کیا جائے گا، جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے، جب گواہی ہو، یا حمل ظاہر ہو جائے، یا مجرم اعتراف کر لے۔
Takhreej
(۶۶۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۸۲۹، ومسلم: ۱۶۹۱ (انظر: ۲۷۶)
6682
Sahih
قرآن مجید سے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی دلیل
۔ (۶۶۸۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (وَفِیْ لَفْظٍ: خَطَبَنَا) فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَاَثْنٰی عَلَیْہِ فَذَکَرَ الرَّجْمَ فَقَالَ: لَا نُخْدَعَنَّ عَنْہٗفَاِنَّہٗحَدٌّمِنْحُدُوْدِاللّٰہِتَعَالٰی، أَلَا اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَہُ وَلَوْلَا أَنْ یَقُوْلَ قَائِلُوْنَ: زَادَ عُمَرُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ مَا لَیْسَ مِنْہُ لَکَتَبْتُہُ فِیْ نَاحِیَۃٍ مِنَ الْمُصْحَفِ، شَہِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَفَلَانٌ وَفَلَانٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِہِ، أَلَا وَإِنَّہُ سَیَکُوْنُ مِنْ بَعْدِکُمْ قَوْمٌ یُکَذِّبُوْنَ بِالرَّجْمِ وَبِالدَّجَّالِ وَبِالشَّفَاعَۃِ وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ، وَبِقَوْمٍ یُخْرَجُوْنَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا امْتَحَشُوْا۔ (مسند احمد: ۱۵۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم سے خطاب کیا،اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور پھر رجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس معاملے میں ہمیں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، بیشکیہ حدودِ الٰہی میں سے ایک حد ہے، خبردار ! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجم کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اگر کسی کہنے والے کے اس کہنے کا ڈر نہ ہوتا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کتاب اللہ تعالی میں اضافہ کر دیا ہے، تو میں قرآن پاک کے کنارے پر رجم کی آیت تحریر کر دیتا، سیدنا عمربن خطاب، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اور فلاں فلاں یہ گواہی دیتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجم کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ خبردار! تمہارے بعد کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے، جو رجم، دجال، شفاعت اور عذاب ِ قبر کو جھٹلائیں گے، اور حدیث کے مطابق کچھ لوگ جھلسنے کے بعد جہنم سے نکالے جائیں گے، یہ لوگ اس واقعہ کو بھی جھٹلا دیں گے۔
Takhreej
(۶۶۸۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا عمرb رجم کی جس آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اس سے مراد یہ آیت ہے: ((اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا اَلْبَتَّۃَ))… ’’جب شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو انھیں بہرصورت سنگسار کر دو۔‘‘ یہ الفاظ منسوخ ہو گئے ہیں، لیکنان کا حکم باقی ہے۔ اللہ تعالی کے فرمان {اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا} اور متعلقہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس آیت کا تعلق رجم سے بھی ہے۔
6683
Sahih
قرآن مجید سے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی دلیل
۔ (۶۶۸۴)۔ ) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّۃٌ مِنْ سُنَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ کَانَتْ نَزَلَتْ آیَۃُ الرَّجْمِ فَہَلَکَ مَنْ کَانَ یَقْرَؤُھَا وَآیًا مِنَ الْقُرْآنِ بِالْیَمَامَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رجم کرنا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی، جو لوگ اس کی اور قرآن کی دوسری آیات کی تلاوت کرتے تھے، وہ یمامہ میں شہید ہو گئے تھے۔
Takhreej
(۶۶۸۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد بن سعید ، وفی الخبر الفاظ منکرۃ (انظر: ۱۲۱۰)
Explanation
فوائد:… دراصل رجم سے متعلقہ واضح آیت کی تلاوت منسوخ ہو گئی تھی، جیسا کہ سیدنا عمر b کی حدیث سے واضح ہو رہا ہے۔
6684
Zaeef
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک جلاوطن کرنے کا بیان
۔ (۶۶۸۵)۔ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّھْرِیِّ قَالَ: أَخْبَرَنِیْ عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ أَنَّہُ سَمِعَ أَبَا ھُرَیْرَۃَ وَزَیْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُہَنِیَّ وَشَبْلًا قَالَ سُفْیَانُ: قَالَ بَعْضُ النَّاسِ: اِبْنَ مَعْبَدٍ وَالَّذِیْ حَفِظْتُ: شِبْلًا، قَالُوْا: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: أَنْشُدُکَ اللّٰہَ اِلَّا قَضَیْتَ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللّٰہِ، فَقَامَ خَصْمُہُ وَکَانَ أَفْقَہَ مِنْہُ فَقَالَ: صَدَقَ، اِقْضِ بَیْنَنَا بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَائْذَنْ لِی فَأَتَکَلَّمَ، قَالَ: ((قُلْ۔)) قَالَ: إِنَّ ابْنِی کَانَ عَسِیْفًا عَلٰی ھٰذَا وَإِنَّہُ زَنٰی بِاِمْرَأَتِہِ فَافْتَدَیْتُ مِنْہُ بِمِائَۃِ شَاۃٍ وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَھْلِ الْعِلْمِ فَاَخْبَرُوْنِیْ أَنَّ عَلَی ابْنِی جَلْدَ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبَ عَامٍ وَعَلَی امْرَأَۃِ ھٰذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَأَقْضِیَنَّ بَیْنَکُمَا بِکِتَابِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، الْمِائَۃُ شَاۃٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَیْکَ، وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَۃٍ وَتَغْرِیْبُ عَامٍ، وَاغْدُ یَا أُنَیْسُ! (رَجُلٌ مِنْ اَسْلَمَ) عَلَی امْرَأَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْہَا۔))، فَغَدَا عَلَیْہَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَہَا۔ (مسند احمد: ۱۷۱۶۸)
۔ سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد جہنی اور سیدنا شبل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں، اس کا مد مقابل بھی کھڑا ہوا جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا اور اس نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، آپ ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے گفتگو کرنے کی اجازت دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کرو بات۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا، اُس نے اِس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا، میں نے اس سے ایک سو بکریاں اور خادم فدیہ کے طور پر دیئے ہیں، پھر جب میں نے اہل علم سے دریافت کیا ہے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی ہو گی اور اس آدمی کی بیوی کو سنگسار کر دیا جائے گا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تجھ کو لوٹا دیئے جائیں گے اور تیرے بیٹے پر ایک سال کی جلاوطنی اور اس کو سو کوڑے بھی لگائیں جائیں گے، اور اے انیس! تو اس کی بیوی کے پاس جا،اگر وہ زنا کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دینا۔ جب سیدنا انیس اس عورت کے پاس گئے تو اس نے اعتراف کرلیا ، پس انھوں اسے رجم کر دیا۔ سیدنا انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بنواسلم قبیلہ کے آدمی تھے۔
Takhreej
(۶۶۸۵) أخرجہ البخاری: ۶۸۲۷، ۶۸۲۸، ومسلم: ۱۶۹۷، وابوداود!: ۴۴۴۵(انظر: ۱۷۰۴۲)
Explanation
فوائد:… اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کنوارے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور شادی شدہ کی سزا یہ ہے کہ اس کو سنگسار کر دیا جائے، یعنی پتھر مار مار اس کی زندگی ختم کر دی جائے، ان معاملات میں فدیے نفع مند ثابت نہیں ہوتے۔ قارئین کرام! آپ غور کریں کہ آپ a نے اپنے فیصلے میں ان چیزوں کا ذکر کیا: سو بکریوں اور خادم کا لوٹا دیا جانا، بیٹے پر ایک سال کی جلا وطنی اور سو کوڑے، اعتراف کی صورت میں خاتون کو رجم کرنا۔ ان چیزوں میں سے قرآن مجید میں صرف سو کوڑوں کا ذکر ہے، لیکن آپ aتمام امور کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ ’’میں تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ a کے فیصلے دراصل قرآن مجید کی تفسیر ہیں اور ان کے بارے میںیہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلے کتاب اللہ کے مطابق ہیں۔ جو لوگ احادیث ِ مبارکہ کی حجیت پر طعن کرتے ہیں،یا ان کے ذریعے قرآن مجید پر زیادتی قبول نہیں کرتے، ان کو ایسی احادیث ِ نبویہ پر غور کرنا چاہیے، اللہ تعالی نے نبی کریمa کے قول و فعل کو حجت اور آپ a کو اپنی کتاب کا مفسِّر اور شارح قرار دیا۔
6685
Sahih
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک جلاوطن کرنے کا بیان
۔ (۶۶۸۶)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّہُ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا نَزَلَ الْوَحْیُ عَلَیْہِ کَرَبَ لِذَالِکَ وَتَرَبَّدَ، فَأَوْحٰی إِلَیْہِ ذَاتَ یَوْمٍ فَلَقِیَ کَذَالِکَ فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا عَنِّیْ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلًا، اَلثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ وَالْبِکْرُ بِالْبِکْرِ، الثَّیِّبُ جَلْدُ مِائَۃٍ ثُمَّ رُجِمَ بِالْحِجَارَۃِ، وَالْبِکْرُ بِالْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ ثُمَّ نَفْیُ سَنَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۱۴)
۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کرب و اذیت کا سامنا کرتے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رنگت تبدیل ہو جاتی، ایک دن جب آپ پر وحی کا نزول ہواتو آپ پر یہی کیفیت طاری ہو گئی، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد اور کنواری عورت کے ساتھ کنوارا مرد زنا کرے گا تو شادی شدہ کو سو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے گا اور کنواروں کو سو کوڑے لگا کر ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۶۸۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۹۰ (انظر: ۲۲۷۳۴)
Explanation
فوائد:… یہ حدیث دراصل اس آیت کی تفسیر تھی: {وَالّٰتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰییَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلَا}… ’’تمہاری عورتوں میں جو بے حیائی کا کام کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اورراستہ نکالے۔‘‘ (سورۂ نسائ: ۱۵) اس حدیث میں آپa زانیوں کی سزائیں بیان کر کے اسی راستے کی وضاحت کررہے ہیں۔
6686
Sahih
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک جلاوطن کرنے کا بیان
۔ (۶۶۸۷)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْمُحَبِّقِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خُذُوْا عَنِّیْ خُذُوْا عَنِّیْ قَدْ جَعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلَا، الْبِکْرُ بِا لْبِکْرِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَنَفْیُ سَنَۃٍ وَالثَّیِّبُ بِالثَّیِّبِ جَلْدُ مِائَۃٍ وَالرَّجْمُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۰۵)
۔ سیدنا سلمہ بن محبق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کی جلا وطنی ہو گی اور جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد برائی کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگا کر سنگسار کر دیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۶۸۷) حدیث صحیح۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۱۷، وأخرجہ مسلم (۱۶۹۰) عن عبادۃ بن الصامت، وقال ابو حاتم: ھذا الحدیث عن سلمۃ بن المحبق خطأ، والصحیح عن عبادۃ بن الصامت (انظر: ۱۵۹۱۰)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں ایک زائد حکم کا ذکر ہے، اور وہ ہے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے سے پہلے سو کوڑے لگانا، عام احادیث میں اس شادی شدہ کے لیے صرف رجم کا ذکر ہے، امام احمد، امام اسحاق اور امام داود ظاہری کی رائے یہی ہے کہ پہلے کوڑے لگائے جائیں، کیونکہ اس حدیث میں رجم کے ساتھ کوڑے لگانے کا ذکر موجود ہے، یہی مسلک راجح ہے، جن احادیث میں کوڑے لگانے کا ذکر نہیں ہے تو ان کے بارے میں گزارش ہے کہ کسی چیز کا عدم ذکر، اس کے معدوم ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔ امام مالک اور امام شافعی سمیت جمہور اہل علم ایسے زانی کے لیے سو کوڑوں کے قائل نہیں ہے، لیکن درج بالا حدیث میں ان کا ذکر موجود ہے۔ کنوارے مرد وزن، دونوں کے لیے سوکوڑوں اور جلا وطنی کا حکم ہے، عورت کو جلاوطن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا انتظام بھی کیا جائے گا، عورت کو جلاوطنی سے مستثنی قرار دینا بلا دلیل ہے۔ اگر بعض احادیث میں کوڑوں کا ذکر نہیں تو کئی ثابت، صحیح احادیث میں ان کا ذکر ہے، وہ ایک زائد بات ہے لہٰذا زائد بات کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ مطلق کو مفید پر محمول کرنے کا قاعدہ بھی معروف ہے۔ اس کا تقاضا بھییہی ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا دو طرح کی ہے، سو کوڑے اور پھر رجم۔ (عبداللہ رفیق)
6687
Sahih
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک جلاوطن کرنے کا بیان
۔ (۶۶۸۸)۔ عَنِ الْشَّعْبِیِّ قَالَ: أُتِیَ عَلَیٌّ بِزَانٍ مُحْصَنٍ فَجَلَدَہُ یَوْمَ الْخَمِیْسِ مِائَۃَ جَلَدَۃٍ ثُمَّ رَجَمَہُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقِیْلَ لَہُ: جَمَعْتَ عَلَیْہِ حَدَّیْنِ، فَقَالَ: جَلَدْتُہُ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَرَجَمْتُہُ بِسُنَّۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۹۴۱)
۔ امام شعبی کہتے ہیں کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس ایک شادی شدہ زانی کو لایا گیا،انھوں نے اس کو جمعرات کے دن سو کوڑے لگائے اور پھر جمعہ کے دن اس کو رجم کر دیا، کسی نے ان سے کہا: آپ نے تو اس پر دو حدّیں جمع کر دیں ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے مارے ہیں اور سنت ِ رسول کی روشنی میں رجم کیا ہے۔
Takhreej
(۶۶۸۸) اسنادہ صحیح علی شرط مسلم۔ أخرجہ ابویعلی: ۲۹۰، والدارقطنی: ۳/ ۱۲۳ (انظر: ۹۴۱)
Explanation
فوائد:… الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سیدنا علیb کا اجتہاد تھا، لیکن سابق حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنا رسول اللہa کی سنت ہے۔
6688
Sahih
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک جلاوطن کرنے کا بیان
۔ (۶۶۸۹)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَضٰی فِیْمَنْ زَنٰی وَلَمْ یُحْصِنْ أَنْ یُّنْفٰی عَامًا مَعَ الْحَدِّ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۹۸۴۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غیر شادی شدہ زانی کے بارے میںیہ فیصلہ کیا اسے حد کے ساتھ ساتھ ایک سال کے لئے جلاوطن بھی کیا جائے گا۔
Takhreej
(۶۶۸۹) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۸۳۳(انظر: ۹۸۵۶)
6689
Sahih
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
۔ (۶۶۹۰)۔ عَنْ مُسَاوِرِ بْنِ عُبَیْدٍ قَالَ: أَتَیْتُ أَبَا بَرْزَۃَ فَقُلْتُ: ھَلْ رَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجُلًا مِنَّا یُقَالُ لَہُ: مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۰۳۵)
۔ مسادر بن عبیدکہتے ہیں: میں سیدنا ابوبرزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کو رجم کیا تھا؟ انھوں نے کہا: جی ہاں،ہم میں سے ایک آدمی کو رجم کیا تھا، اس کا نام ماعز بن مالک تھا۔
Takhreej
(۶۶۹۰) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۱۰/ ۷۸، وابو یعلی: ۷۴۳۱ (انظر: ۱۹۷۹۷)
6690
Sahih
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
۔ (۶۶۹۱)۔ عَنْ اَبِی الزُّبَیْرِ قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا ھَلْ رَجَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، رَجَمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنَ الْیَہُوْدِ وَامْرَأَۃً وقَالَ لِلْیَہُوْدِیِّ: ((نَحْکُمُ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۱۸)
۔ ابوزبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کو رجم کیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! اسلم قبیلہ کے ایک آدمی کو، ایکیہودی کو اور ایک عورت کو رجم کیا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہودی سے فرمایاتھا: ہم آج تمہارا فیصلہ کریں گے۔
Takhreej
(۶۶۹۱) حدیث صحیح دون قولہ: وقال للیھودی: ’’نحن نحکم علیکم الیوم‘‘، وھذا الاسناد ضعیف من اجل عبد اللہ بن لھیعۃ۔ أخرجہ مسلم: ۱۷۰۱ دون لفظۃ: ’’نحن نحکم علیکم الیوم‘‘ (انظر: ۱۵۱۵۱)
6691
Sahih
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
۔ (۶۶۹۲)۔ حَدَّثَنَا وَکِیْعٌ ثَنَا ھِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنِییَزِیْدُ بْنُ نُعَیْمِ بْنِ ھَزَّالٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: کَانَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ فِیْ حِجْرِ اَبِیْ فَأَصَابَ جَارِیَۃً مِنَ الْحَیِّی فَقَالَ لَہُ اَبِیْ: إِئْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبِرْہُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّہ یَسْتَغْفِرُ لَکَ، وَإِنَّمَا یُرِیْدُ بِذَالِکَ رَجَائَ أَنْ یَکُوْنَ لَہُ مَخْرَجٌ، فَأَتَاہُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَأَعْرَضَ عنَہُ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکَ قَدْ قُلْتَہَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فِیْمَنْ؟)) قَالَ: بِفُلَانَۃٍ، قَالَ: ((ھَلْ ضَاجَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ بَاشَرْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ جَامَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُرْجَمَ، قَالَ: ((فَأُخْرِجَ بِہِ إِلَی الْحَرَّۃِ۔)) فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ جَزَعَ فَخَرَجَ یَشْتَدُّ فَلَقِیَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَہُ فَنَزَعَ لَہُ بِوَظِیْفِ بَعِیْرٍ فَرَمَاہُ بِہِ فَقَتَلَہُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ َذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: ((ھَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ لَعَلَّہ یَتُوْبُ فَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ ھِشَامٌ: إِئْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبِرْہُ بِمَا صَنَعْتَ لَعَلَّہ یَسْتَغْفِرُ لَکَ، وَإِنَّمَا یُرِیْدُ بِذَالِکَ رَجَائَ أَنْ یَکُوْنَ لَہُ مَخْرَجٌ، فَأَتَاہُ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَأَعْرَضَ عنَہُ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّانِیَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، ثُمَّ أَتَاہُ الرَّابِعَۃَ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ زَنَیْتُ فَأَقِمْ عَلَیَّ کِتَابَ اللّٰہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّکَ قَدْ قُلْتَہَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ، فِیْمَنْ؟)) قَالَ: بِفُلَانَۃٍ، قَالَ: ((ھَلْ ضَاجَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ بَاشَرْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((ھَلْ جَامَعْتَہَا؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِہِ أَنْ یُرْجَمَ، قَالَ: ((فَأُخْرِجَ بِہِ إِلَی الْحَرَّۃِ۔)) فَلَمَّا رُجِمَ فَوَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ جَزَعَ فَخَرَجَ یَشْتَدُّ فَلَقِیَہُ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ وَقَدْ أَعْجَزَ أَصْحَابَہُ فَنَزَعَ لَہُ بِوَظِیْفِ بَعِیْرٍ فَرَمَاہُ بِہِ فَقَتَلَہُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَذَکَرَ َذَالِکَ لَہُ فَقَالَ: ((ھَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ لَعَلَّہ یَتُوْبُ فَیَتُوْبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ ھِشَامٌ: فَحَدَّثَنِیْیَزِیْدُ بْنُ نُعَیْمِ بْنِ ھَزّالٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِأَبِی حِیْنَ رَأٰہُ: ((وَاللّٰہِ یَاھَزَّالُ! لَوْکُنْتَ سَتَرْتَہُ بِثَوْبِکَ کَانَ خَیْرًا مِمَّا صَنَعْتَ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۵)
۔ نعیم بن ہزال کہتے ہیں: ماعز بن مالک میرے ابا جان کی زیر پرورش تھا، اس نے قبیلہ کی ایک لونڈی سے زنا کر لیا، میرے ابا جان نے اس سے کہا: تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چل اور آپ کو اپنے کیے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تیرے لیے بخشش کی دعا کر دیں، ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید بچائو کی کوئی صورت نکل آئے، چنانچہ ماعز آپ کے پاس حاضر ہوا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے اعراض کر لیا، وہ دوسری جانب آ گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں زنا کر بیٹھا ہوں، آپ مجھ پراللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری فرمائیں، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رخ پھیر لیا)، وہ تیسری بار سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم نافذ کریں، (آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اعراض کیا)، پھر چوتھی مرتبہ وہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ سے زنا سرزد ہوا ہے، آپ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا حکم جاری کریں، اب کی بار نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے چار مرتبہ اعتراف کر لیا ہے، اب مجھے بتا کہ تو نے کس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: فلاں عورت سے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کے ساتھ لیٹا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’کیا تو نے اس کے ساتھ مباشرت کی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا آپ نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا کہ اس کو رجم کردیا جائے، پس اس کو حرّہ کی طرف لے جایا گیا، جب اسے پتھر زنی کی تکلیف ہوئی تو وہ بے سے ہو کر وہاں سے نکل کر بھاگا، آگے سے سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو ملے، اُدھر اس کو رجم کرنے والے اب عاجز آ چکے تھے، چنانچہ سیدنا عبد اللہ نے اونٹ کی پنڈلی کی ایک ہڈی لی اور اس کو مار دی، پس وہ فوت ہو گیا، پھر جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس کے بھاگ جانے کا واقعہ بیان کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا۔ نعیم بن ہزال نے اپنے ابا جان سے روایت کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا: اے ہزال! اگر تم نے اس کی پردہ پوشی کی ہوتی تو بہتر ہوتا، بہ نسبت اس کے جو آپ نے اس کو مشورہ دے کر اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔
Takhreej
(۶۶۹۲) تخریج: صحیح لغیرہ۔ أخرجہ أبوداود: ۴۴۱۹ (انظر: ۲۱۸۹۰)
Explanation
فوائد:… ماعز بن مالک شادی شدہ تھے، انھوں نے زنا کیا اور نبی کریمa نے ان کو رجم کرنے کا حکم دیا اور صحابۂ کرام نے رجم کر دیا۔ اس حدیث میں دو امور غور طلب ہیں: آپ a کا فرمانا کہ ’’تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا، شاید وہ توبہ کر لیتا اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا‘‘ اس جملے کی وضاحت درج ذیل روایت سے ہو گی: سیدنا جابر بن عبد اللہb سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: أَیْ قَوْمِ! رُدُّوْنِی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ V فَاِنَّ قَوْمِیْ قَتَلُوْنِیْ وَغَرُّوْنِی مِنْ نَفْسِی وَقَالُوْا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ V غَیْرُ قَاتِلِکَ، قَالَ: فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْہُ حَتّٰی فَرَغْنَا مِنْہُ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ V ذَکَرْنَا لَہُ قَوْلَہُ، فَقَالَ: ((اَلَا تَرَکْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُوْنِی بِہِ؟)) اِنَّمَا أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِV أَنْ یَتَثَبَّتَ فِیْ أَمْرِہِ۔… لوگو! مجھے رسول اللہ a کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ a کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپa کو سنائی تو آپ a نے فرمایا: ’’تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیںلے آئے تھے؟‘‘ دراصل آپ a کا ارادہ یہ تھا کہ آپa اس کے معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے، ممکن تھا کہ وہ رجم کا حقدار نہ ہوتا۔ (ابوداود: ۴۴۲۰، مسند احمد: ۱۵۰۸۹، وسیاتی برقم۶۷۱۱) اس روایت سے معلوم ہوا کہ آپ a کے فرمان کا مطلب یہ تھا کہ ممکن ہے کہ وہ آدمی اپنے اقرار سے انکار کرنا چاہتا ہو، یا اس کی کوئی ایسی تفصیل ہو، جس کی وجہ سے وہ حد سے بچ جاتا۔ چار دفعہ اقرار کرواناصرف تحقیق و تفتیش کے لیے ہے، وگرنہ آپ a نے ایک دفعہ اقرار کرنے پر بھی حد نافذ کی ہے، جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد d کی روایت کے مطابق آپ a نے فرمایا: ((عَلٰی اِبْنِکَ جَلْدُ مِائَۃٍ، وَتَغْرِیْبُ عَامٍ، وَاَمَّا اَنْتَیَا اُنَیْسٌ! فَاغْدُ عَلٰی امْرَأَۃِ ھٰذَا فَاِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْھَا۔))… ’’تیرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، انیس! تو نے صبح کو اس کی بیوی کے پاس جانا ہے، اگر وہ (زنا کا) اعتراف کرے تو اسے رجم کر دینا ہے۔‘‘ (صحیح بخاری: ۲۳۱۴، ۱۶۹۵) اس حدیث میں اعتراف کا بلا قید ذکر ہے، جس کو ایک دفعہ پر محمول کیا جائے گا، اسی طرح سیدنا لجلاج b کی روایت کے مطابق ایک عورت کو ایک مرتبہ اقرار کرنے پر رجم کروا دیا تھا۔ (ابوداود: ۴۴۳۵) اسی طرح آپa نے ایک دو اور واقعات پر بھی صرف ایک مرتبہ اعتراف کرنے پر حدّ نافذ کی تھی۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ مجرم کی کیفیت کو سامنے رکھ کر اس سے ایکیا زائد بار جرم کا اعتراف کروایا جائے، اسی طرح وہ جس جرم کا اعتراف کر رہا ہو، اس کے بارے میں بھییقین دہانی کر لی جائے کہ کیا اس مجرم کو اپنے جرم کی حقیقت کا علم بھی ہے یا نہیں،مثلا حدیث نمبر (۶۷۰۷) کے مطابق زنا کا اعتراف کرنے والے سے آپ a نے فرمایا کہ’’شاید تو نے بوسہ لیا ہو یا ویسے ہاتھ لگایا ہو؟‘‘ یہی معاملہ چوری، ڈاکہ زنی، تہمت اور دوسرے تعزیر اور حدّ والے جرائم کا ہے۔ حدیث کا آخری جملہ ’’لَوْ سَتَرْتَہُ…‘‘ محتاج وضاحت ہے، کیونکہ اس کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے، امام باجی نے (المنتقی: ۷/ ۱۳۵) میں اس کی تفسیریوں کی: ہزال، جس نے نبی کریمa، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر d کو اس کے جرم پر مطلع کیا،کو چاہیے تھا کہ اِس کو توبہ کرنے کی تلقین کرتا اور اس کے گناہ پر پردہ ڈالتا، چادر کا ذکر مبالغہ کے طور پر کیا گیا ہے۔ جس کا معنییہ ہے کہ اگر اس کے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ ہوتا، سوائے اس کے کہ اس پر چادر کی اوٹ کر لیتا تاکہ گواہوں کی نگاہ اس پر نہ پڑ سکتی، تو اس کو آپ a کے پاس بھیجنے اور اس پر حد کے نفاذ کا سبب بننے سے بہتر تھا۔ حافظ ابن حجر نے (فتح الباری: ۱۲/ ۱۲۵) میںیہی تفسیر نقل کی اور اس کو برقرار رکھا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس حدیث کو ماعز جیسے لوگوں پر محمول کیا جائے، جو زنا کے عادی نہیں ہوتے اور مرتکب ہونے کی صورت میں نادم و پشیمان ہو جاتے ہیں، ایسے لوگوں کے جرائم پر پردہ ڈالا جائے اور ان کی تشہیر نہ کی جائے۔ لیکن جو آدمی تسلسل اور ڈھٹائی اور بے حیائی کے ساتھ اِن جرائم کا ارتکاب کر رہا ہو، ایسے آدمی کا کوئی لحاظ نہ کیا جائے اور اس کا معاملہ حاکم تک پہنچایا جائے تاکہ وہ اس پر حد نافذ کرے، جس کا حکیم شارع نے حکم دیا۔ اس مسئلہ کی تفصیل کے لیے (المرقاۃ: ۴/ ۷۶) دیکھیں۔
6692
Sahih
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
۔ (۶۶۹۳)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ نُعَیْمِ بْنِ ھَزَّالٍ أَنَّ ھَزَّالًا کَانَ اِسْتَأْجَرَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ وَکَانَتْ لَہُ جَارِیَۃٌ،یُقَالُ لَھَا: فَاطِمَۃُ، قَدْ أَمْلَکَتْ وَکَانَتْ تَرْعٰی غَنَمًا لَھُمْ وَأَنَّ مَاعِزًا وَقَعَ عَلَیْہَا فَأَخْبَرَ ھَزَّالًا فَخَدَعَہُ فَقَالَ: اِنْطَلِقْ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبِرْہُ، عَسٰی أَنْ یَنْزِلَ فِیْکَ قُرْآنٌ، فَأَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَرُجِمَ، فَلَمَّا عَضَّتْہُ مَسُّ الْحِجَارَۃِ انْطَلَقَ یَسْعٰی فَاسْتَقْبَلَہُ رَجُلٌ بِلَحْیِ جَزُوْرٍ أَوْ سَاقِ بَعِیْرٍ فَضَرَبَہُ بِہِ فَصَرَعَہُ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَیْلَکَیَاھَزَّالُ! لَوْ کُنْتَ سَتَرْتَہُ بِثَوْبِکَ کَانَ خَیْرًا لَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۳۶)
۔ (دوسری سند) نعیم بن ہزال سے روایت ہے کہ سیدنا ہزال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ماعز بن مالک کو کرائے پر رکھا اور ہزال کی فاطمہ نامی ایک لونڈی تھی،اس نے خاوند سے طلاق لے رکھی تھی اور وہ بکریاں چرایا کرتی تھی۔ ماعز نے اس سے برائی کر لی اور پھر سیدنا ہزال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی بتا دیا، انھوں نے اس کو دھوکہ دیا اور کہا:تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا اورآپ کو اس وقوعے پر مطلع کر، ممکن ہے کہ تیرے بارے میں قرآن مجید نازل ہو اور اس طرح کوئی بہتر سبیل نکل آئے، جب اس نے تفصیل بتائی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو رجم کرنے کا حکم دے دیا،پس اس کو رجم کیا جانے لگا، جب اس کو پتھر لگے تو وہ بھاگ پڑا، آگے سے ایک آدمی اونٹ کے جبڑے کییا پنڈلی کی ایک ہڈی لے کرآ رہا تھا، اس نے اس کو وہ ہڈی مار کر گرا دیا، بعد میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’اے ہزال! تیرے لیے ہلاکت ہو، اگر تو نے اپنے کپڑے سے اس پر پردہ کیا ہوتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا۔
Takhreej
(۶۶۹۳) تخریج:انظر الحدیث بالطریق الاول
6693
Sahih
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
۔ (۶۶۹۴) عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: أُتِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٍ قَصِیْرٍ فِیْ إِزَارِہِ، مَا عَلَیْہِ رِدَائٌ قَالَ: وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُتَّکِیئٌ عَلٰی وِسَادَۃٍ عَلٰییَسَارِہِ، فَکَلَّمَہُ وَمَا أَدْرِیْ مَایُکَلِّمُہُ وَأَنَا بَعِیْدٌ مِنْہُ بَیْنِیْ وَبَیْنَہُ قَوْمٌ، فَقَالَ: ((اذْھَبُوْا بِہِ۔))، ثُمَّ قَالَ: ((رُدُّوْہُ۔)) فَکَلَّمَہُ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ: ((اذْھَبُوْا بِہِ فَارْجُمُوْہُ۔))، ثُمَّ قَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَطِیْبًا وَأَنَا أَسْمَعُہُ فَقَالَ: ((أَ کُلَّمَا نَفَرْنَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ خَلَفَ أَحَدُھُمْ لَہُ نَبِیْبٌ کَنَبِیْبِ التَّیْسِیَمْنَحُ إِحْدَاھُنَّ الْکُثْبَۃَ مِنَ اللَّبَنِ، وَاللّٰہِ! لَا اَقْدِرُ عَلٰی اَحَدِھِمْ اِلَّا نَکَّلْتُ بِہِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۸۴)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ماعز بن مالک کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا گیا،یہ ایک چھوٹے قد کا آدمی تھا اور اس نے صرف تہبندباندھا ہوا تھا، اس پر اوپر والی چادر نہیں تھی، اُدھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تکیے پر اپنی بائیں جانب سے ٹیک لگائی ہوئی تھی، پس اس نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کلام کیا، لیکن میں دور تھا اور میرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے درمیان لوگ بھی حائل تھے، اس لیے مجھے پتہ نہ چل سکا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: ’اس کو لے جائو۔ پھر فرمایا: اس کو واپس لائو۔ اس نے پھر بات کی اور میں سن رہا تھا، اب کی بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کو لے جائو اور سنگسار کر دو۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھڑے ہو کر خطاب کیا اور فرمایا: جب ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتے ہیں اور لوگوں میں سے ایک آدمی پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی شدت کو پورا کر نے کے لئے بکرے کی سی آواز نکالتا ہے اور معمولی سا دورہ دے کر ایک عورت کو پھنسا لیتا ہے،اللہ کی قسم! جب کسی ایسے شخص پر قدرت پا لوں گا تو اسے عبرت ناک سزا دوں گا۔
Takhreej
(۶۶۹۴) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۶۲(انظر: ۲۰۸۰۳)
6694
Sahih
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
۔ (۶۶۹۵)۔ ) وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاعْتَرَفَ عِنْدَہُ بِالزِّنَا، قَالَ: فَحَوَّلَ وَجْہَہُ، قَالَ: فَجَائَ فَاعْتَرَفَ مِرَارًا فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ فَرُجِمَ، ثُمَّ أُتِیَ فَأُخْبِرَ، فَقَامَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَأَثْنٰی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((مَا بَالُ رِجَالٍ کُلَّمَا نَفَرْنَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وتَعَالٰی تَخَلَّفَ عِنْدَھُنَّ أَحَدُھُمْ، لَہُ نَبِیْبٌ کَنَبِیْبِ التَّیْسِیَمْنَحُ اِحْدَاھُنَّ الْکُثْبَۃَ، لَئِنْ أَمْکَنَنِی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مِنْہُمْ لَأَجْعَلَنَّہُمْ نَکَالًا۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۸۹)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے اس طرح بھی روایت ہے کہ ماعز بن مالک ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور زنا کا اعتراف کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا چہرہ پھیر لیا، لیکن وہ اُس طرف سے آگیا اور پھر زنا کا اعتراف کیا اور پھر بار بار اعتراف کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلایا گیا کہ اس کو سنگسار کیا جا چکا ہے، پس آپ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اورپھر فرمایا: ان لوگوں کاکیا بنے گا کہ جب ہم اللہ تعالیٰ کی راہ میں جاتے ہیں تو کوئی آدمی پیچھے رہ جاتا ہے تو وہ اپنی خواہش کی شدت کو پورا کر نے کے لئے بکرے کی سی آواز نکالتا ہے اور تھوڑا سا دورہ دے کر ایک عورت کو پھنسا لیتا ہے،اللہ کی قسم! اگر اللہ تعالی نے مجھے کسی ایسے شخص پر قدرت دی تو میں اس کو لوگوں کے لیے عبرت بناؤں گا۔
Takhreej
(۶۶۹۵) تخریج: انظر الحدیث السابق۔ أخرجہ (انظر: )
Explanation
فوائد:… آپa کا اعراض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اس اعتراف سے باز آ جائے اور اس طرح سزا سے بچ جائے۔ معلوم ہوا کہ جو آدمی مجاہدین کے گھر والوں کا لحاظ بھی نہیں کرتا، وہ سخت سزا کا مستحق ہے، غور کیا جائے کہ کسی کو پتھر مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دینابڑی سخت سزا ہے، لیکن نبی کریمa ایسے مجرم کو اس سے بھی سخت سزا دینے کا ارادہ کرتے ہیں۔ اضافی سزا دینے کی بات تو نہیں کی گئی۔ کسی شادی شدہ انسان کو سو کوڑے لگا کر پھر اسے رجم کیا جائے تو یہی بڑی سخت سزا ہے اور لوگوں کے لیے عبرت کا سامان ہے۔ (عبداللہ رفیق)
6695
Sahih
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
۔ (۶۶۹۶)۔ ) عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَۃَ قَالَ: أُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجُلٍ قَصِیْرٍ أَشْعَثَ ذِیْ عَضَلَاتٍ، عَلَیْہِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنٰی فَرَدَّہُ مَرَّتَیْنِ قَالَ: ثُمَّ أَمَرَ بِہِ فَرُجِمَ (فَذَکَرَ نَحْوَ الْحَدِیْثِ السَّابِقِ وَنَسِیَ آخِرَہُ) قَالَ: فَحَدَّثَنِیْہِ سَعِیْدُ بْنُ جُبَیْرٍ فَقَالَ: إِنَّہُ رَدَّہُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ۔ (مسند احمد: ۲۱۲۹۴)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک کوتاہ قد آدمی لایا گیا، اس کی حالت پراگندہ تھی، وہ مضبوط پٹھوں اور گٹے بدن والا تھا، اس نے تہبند پہنا ہوا تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا ہوا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو مرتبہ اس کو ردّ کر دیا، پھر اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کو رجم کیا گیا، … سابقہ روایت کی طرح کی روایت ذکر کی…، سعید بن جبیر نے اپنی حدیث میںیہ الفاظ نقل کیے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کوچار مرتبہ ردّ کیا تھا۔
Takhreej
(۶۶۹۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۶۹۲ (انظر: ۲۰۹۸۳)
Explanation
فوائد:… مقصد چار مرتبہ ان سے اعتراف کرواتا تھا جو چار گواہیوں کے قائمقام ہو جاتا اس لئے لوٹا دیا جب یہ اصول پورا ہوا تو پھر رجم کا حکم دیا۔ یہ آدمی سیدنا ماعز ہی تھے۔ b۔ فوائد کے تحت یہ بات پہلے واضح کر دی گئی ہے کہ چار دفعہ اعتراف و اقرار کرانا ضروری نہیں ہے یہ صرف احتیاط کے پیش نظر ہے۔ ورنہ ایک دفعہ اعتراف پر بھی حد لگائی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
6696
Sahih
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
۔ (۶۶۹۷)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجَمَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ وَلَمْ یَذْکُرْ جَلْدًا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۵۵)
۔ سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ماعز بن مالک کو رجم کیا، راوی نے کوڑوں کا ذکر نہیں کیا۔
Takhreej
(۶۶۹۷) تخریج: صحیح لغیرہ، وانظر الحدیث رقم (۶۶۹۴)
Explanation
فوائد:… ہم پہلے یہ وضاحت کر آئے ہیں کہ کسی چیز کے عدمِ ذکر کا یہ مفہوم نہیں ہوتا ہے کہ سرے سے اس چیز کا وجود نہیں ہے، حدیث نمبر (۶۶۸۷) میںیہ بات گزر چکی ہے کہ شادی شدہ زانی کو پہلے سو (۱۰۰) کوڑے لگائے جائیں گے، پھر اس کو رجم کیا جائے گا۔
6697
Sahih
ماعزبن مالک اسلمی کے قصے اور رجم کا بیان
۔ (۶۶۹۸)۔ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْلَجْلَاجِ أَنَّ أَبَاہُ حَدَّثَہُ قَالَ: بَیْنَمَا نَحْنُ فِی السُّوْقِ إِذْ مَرَّتِ امْرَأَۃٌ تَحْمِلُ صَبِیًّا فَثَارَ النَّاسُ وَثُرْتُ مَعَہُمْ، فَانْتَہَیْتُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُوْلُ لَھَا: ((مَنْ اَبُوْ ھٰذَا؟)) فَسَکَتَتْ، فَقَالَ: ((مَنْ اَبُوْ ھٰذَا؟)) فَسَکَتَتْ،فَقَالَ شَابٌّ بِحِذَائِھَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّہَا حَدِیْثَۃُ السِّنِّ، حَدِیْثَۃُ عَہْدٍ بِخَزْیَۃٍ، وَاِنَّہَا لَمْ تُخْبِرْکَ وَأَنَا أَبُوْہُ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! فَالْتَفَتَ إِلٰی مَنْ عِنْدَہُ کَأَنَّہُ یَسْأَلُھُمْ عَنْہُ، فَقَالُوْا: مَا عَلِمْنَا اِلَّا خَیْرًا أَوْ نَحْوَ ذٰلِکَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَحْصَنْتَ؟)) قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَ بِرَجْمِہِ فَذَھَبْنَا فَحَفَرْنَا لَہُ حَتّٰی أَمْکَنَّا وَرَمَیْنَاہُ بِالْحِجَارَۃِ حَتّٰی ھَدَأَ، ثُمَّ رَجَعْنَا اِلٰی مَجَالِسِنَا فَبَیْنَمَا نَحْنُ کَذَالِکَ اِذَا اَنَا بِشَیْخٍیَسْأَلُ عَنِ الْفَتٰی فَقُمْنَا اِلَیْہِ فَأَخَذْنَا بِتَلَابِیْبِہِ فَجِئْنَا بِہِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ ھٰذَا جَائَ یَسْأَلُ عَنِ الْخَبِیْثِ، فَقَالَ: ((مَہْ لَھُوَ أَطْیَبُ عِنْدَ اللّٰہ رِیْحًا مِنَ الْمِسْکِ۔)) قَالَ: فَذَھَبْنَا فَأَعَنَّاہُ عَلٰی غُسْلِہِ وَتَکْفِیْنِہِ وَحَفَرْنَا لَہُ، وَلَمْ أَدْرِ أَذَکَرَ الصَّلَاۃَ أَمْ لَا۔ (مسند احمد: ۱۶۰۳۰)
۔ لجلاج سے روایت ہے، وہ کہتا ہے: ہم بازار میں تھے، وہاںسے ایک عورت گزری، اس نے ایک بچہ اٹھائے ہوئے تھا، لوگ اس کی طرف کود پڑے اور میں بھی ان کے ساتھ کود پڑا، جب میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس خاتون سے پوچھ رہے تھے: اس بچے کا باپ کون ہے۔ وہ خاموش رہی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: بتا اس کا باپ کون ہے؟ وہ پھر خاموش رہی، اتنے میں اس کے سامنے کھڑے ہوئے ایک نوجوان نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ خاتون نوعمر ہے اور اس کا رسوا کن معاملہ بھی ابھی ابھی پیش آیا ہے، اے اللہ کے رسول! میں اس بچے کا باپ ہوں، مجھ سے اس کے ساتھ برائی ہو گئی ہے۔آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حاضرین کی طرف متوجہ ہوئے، گویا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے اس کے متعلق مشورہ لے رہے تھے، لوگوں نے کہا: ہم تو اس کے بارے میں صرف خیر و بھلائی کی بات ہی جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس نوجوان سے پوچھا: کیا تو شادی شدہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں میں شادی شدہ ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا، پس ہم گئے، اس کے لئے گڑھا کھودا اور جب ہم نے اس پر قدرت پا لی تو اس پر پتھر بر سائے، یہاں تک کہ اس کا دم نکل گیا، پھر ہم واپس آ کر اپنی مجلس میں بیٹھ گئے، اس دوران میں نے ایک بوڑھا آدمی دیکھا، وہ اس نوجوان کے متعلق پوچھ رہا ہے، ہم نے اسے اس کے گریبان سے پکڑ لیا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آئے اور ہم نے کہا اے اللہ کے رسول! یہ بوڑھا اس خبیث نوجوان کے بارے میں پوچھتا پھرتا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسی باتوں سے باز آ جاؤ،وہ جوان تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ عمدہ مہک والا ہے۔ جونہی ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کییہ بات سنی تو ہم گئے اور اس کے غسل اور کفن میں تعاون کیا، پھر اس کے لیے قبر تیار کی،یہ مجھے معلوم نہیں ہے کہ نماز جنازہ پڑھنے کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔
Takhreej
(۶۶۹۸) اسنادہ ضعیف، محمد بن عبد اللہ بن علاثۃ مختلف فیہ، قال البخاری: فی حفظہ نظر، وقال ابو حاتم: یکتب حدیثہ ولا یحتج بہ، وقال الدارقطنی: متروک۔ أخرجہ ابوداود: ۴۴۳۵(انظر: ۱۵۹۳۴)
Explanation
فوائد:… لیکنیہ بات درست ہے کہ جس شخص کو رجم کیا جائے، اس پر طعن نہ کیا جائے، کیونکہ اس کی حدّ اس کے گناہ کا کفارہ بنتی ہے اور جو توبہ تائب ہو کر اپنے آپ کو اس حدّ کے لیے پیش کر دے، وہ بافضیلت آدمی ہو گا۔
6698
Zaeef