TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

قرآن مجید سے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی دلیل - قرآن مجید سے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی دلیل - شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 3 · 3 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔ (۶۶۸۲)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی بَعَثَ مُحَمَّدًا ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنْزَلَ عَلَیْہِ الْکِتَابَ، فَکَانَ فِیْمَا أَنْزَلَ عَلَیْہِ آیَۃُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَا بِہَا وَعَقَلْنَاھَا وَوَعَیْنَاھَا فَأَخْشٰی أَنْ یَطُوْلَ بِالنَّاسِ عَہْدٌ فَیَقُوْلُوْا: إِنَّا لَا نَجِدُ اٰیَۃَ الرَّجْمِ فَتُرِکَ فَرِیْضَۃٌ أَنْزَلَھَا اللّٰہُ تَعَالٰی وَأَنَّ الرَّجْمَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ تَعَالیٰ حَقٌّ عَلٰی مَنْ زَنَا إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الْرِجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا قَامَتِ الْبَیِّنَۃُ أَوْ کَانَ الْحَبْلُ أَوِ الْاِعْتِرَافُ۔ (مسند احمد: ۲۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا اور اس اللہ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر جو کتاب نازل کی، اس میں رجم والی آیت بھی تھی، ہم نے اس کو پڑھا تھا، سمجھا تھا اور خوب یاد کیا تھا، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ ہم قرآن مجید میں رجم کی آیت نہیں پاتے،اس طرح اللہ تعالی کے نازل کردہ ایک فریضے کو چھوڑ دیا جائے گا، جبکہ رجم اللہ تعالی کی کتاب میں ثابت ہے، اس مرد اور عورت کو رجم کیا جائے گا، جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے، جب گواہی ہو، یا حمل ظاہر ہو جائے، یا مجرم اعتراف کر لے۔
Takhreej
(۶۶۸۲) تخریج: أخرجہ البخاری: ۶۸۲۹، ومسلم: ۱۶۹۱ (انظر: ۲۷۶)
6682
Sahih
۔ (۶۶۸۳)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ (وَفِیْ لَفْظٍ: خَطَبَنَا) فَحَمِدَ اللّٰہَ تَعَالٰی وَاَثْنٰی عَلَیْہِ فَذَکَرَ الرَّجْمَ فَقَالَ: لَا نُخْدَعَنَّ عَنْہٗفَاِنَّہٗحَدٌّمِنْحُدُوْدِاللّٰہِتَعَالٰی، أَلَا اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَہُ وَلَوْلَا أَنْ یَقُوْلَ قَائِلُوْنَ: زَادَ عُمَرُ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ مَا لَیْسَ مِنْہُ لَکَتَبْتُہُ فِیْ نَاحِیَۃٍ مِنَ الْمُصْحَفِ، شَہِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَوْفٍ وَفَلَانٌ وَفَلَانٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِہِ، أَلَا وَإِنَّہُ سَیَکُوْنُ مِنْ بَعْدِکُمْ قَوْمٌ یُکَذِّبُوْنَ بِالرَّجْمِ وَبِالدَّجَّالِ وَبِالشَّفَاعَۃِ وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ، وَبِقَوْمٍ یُخْرَجُوْنَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا امْتَحَشُوْا۔ (مسند احمد: ۱۵۶)
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہم سے خطاب کیا،اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور پھر رجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس معاملے میں ہمیں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، بیشکیہ حدودِ الٰہی میں سے ایک حد ہے، خبردار ! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجم کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اگر کسی کہنے والے کے اس کہنے کا ڈر نہ ہوتا کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کتاب اللہ تعالی میں اضافہ کر دیا ہے، تو میں قرآن پاک کے کنارے پر رجم کی آیت تحریر کر دیتا، سیدنا عمربن خطاب، سیدنا عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اور فلاں فلاں یہ گواہی دیتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے رجم کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ خبردار! تمہارے بعد کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے، جو رجم، دجال، شفاعت اور عذاب ِ قبر کو جھٹلائیں گے، اور حدیث کے مطابق کچھ لوگ جھلسنے کے بعد جہنم سے نکالے جائیں گے، یہ لوگ اس واقعہ کو بھی جھٹلا دیں گے۔
Takhreej
(۶۶۸۳) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… سیدنا عمرb رجم کی جس آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اس سے مراد یہ آیت ہے: ((اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا اَلْبَتَّۃَ))… ’’جب شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو انھیں بہرصورت سنگسار کر دو۔‘‘ یہ الفاظ منسوخ ہو گئے ہیں، لیکنان کا حکم باقی ہے۔ اللہ تعالی کے فرمان {اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا} اور متعلقہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس آیت کا تعلق رجم سے بھی ہے۔
6683
Sahih
۔ (۶۶۸۴)۔ ) عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّۃٌ مِنْ سُنَنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَدْ کَانَتْ نَزَلَتْ آیَۃُ الرَّجْمِ فَہَلَکَ مَنْ کَانَ یَقْرَؤُھَا وَآیًا مِنَ الْقُرْآنِ بِالْیَمَامَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۱۰)
۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رجم کرنا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی، جو لوگ اس کی اور قرآن کی دوسری آیات کی تلاوت کرتے تھے، وہ یمامہ میں شہید ہو گئے تھے۔
Takhreej
(۶۶۸۴) تخریج: اسنادہ ضعیف لضعف مجالد بن سعید ، وفی الخبر الفاظ منکرۃ (انظر: ۱۲۱۰)
Explanation
فوائد:… دراصل رجم سے متعلقہ واضح آیت کی تلاوت منسوخ ہو گئی تھی، جیسا کہ سیدنا عمر b کی حدیث سے واضح ہو رہا ہے۔
6684
Zaeef