۔ وحشی بن حرب اپنے باپ سے اوروہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: ہم کھانا کھاتے ہیں، لیکن سیر نہیں ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شاید تم جدا جدا ہوکر کھاتے ہو، اکٹھا ہو کر کھانا کھایا کرو اور اس پر اللہ تعالیٰ کا نام ذکر کرو، تمہارے لیے برکت ہو گی۔
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہے، دو افراد کا کھانا چار کے لیے کافی ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح بیان کرتے ہیں۔
۔ سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم کے بیٹے نے کوئی ایسا برتن نہیں بھرا، جو اس کے پیٹ کی بہ نسبت برا ہو، حالانکہ ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں، اگر اس نے زیادہ کھانا ہی ہو تو پھر پیٹ کا تیسرا حصہ کھانے کے لیے، تیسرا حصہ پینے کے لیے اور تیسرا حصہ سانس کے لیے رکھا جائے۔
۔ نافع سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مسکین دیکھا، اس کو قریب کیا اور اس کے سامنے کھانے والی چیزیں رکھیں، اس نے بہت زیادہ کھایا، سو انہوں نے نافع سے کہا: آئندہ اس کو میرے پاس نہ لانا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے۔
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک انتڑی میں اور کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت وہ کافر تھا اور بسیار خور تھا، پھر جب وہ مسلمان ہوا تو کم کھانا کھانے لگا، جب اس نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے اور مسلمان ایک انتڑی میں کھاتا ہے۔
۔ سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: اسلام لانے سے پہلے جب میں نے ہجرت کی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے میرے لیے بکری کا دودھ دوہا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے دوہا کرتے تھے، میں نے وہ سارا پی لیا، جب صبح ہوئی تو میں مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروالوں نے کہا:آج بھی ہماری رات اسی طرح بھوک میں ہی گزرے گی، جس طرح گزشتہ رات گزری تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے بکری کا دودھ دوہا، میں نے پیا اور سیراب ہو گیا، مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا سیراب ہو گیاہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں خوب سیر ہو گیا ہوں، اتنا تو میں آج تک کبھی بھی سیراب نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک انتڑی میں۔ ‘
۔ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک انتڑی میں کھاتا ہے۔