۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیث دواکے ساتھ علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد زہر تھی۔
۔ سیدنا طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری سر زمین میں انگور ہیں، ہم ان کو نچوڑ کر (شراب بناتے ہیں) اور پھر پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعہ بیمار کے لیے شفا طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شفا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود بیماری ہے۔
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حاضر تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خثعم قبیلہ کے ایک آدمی نے، جس کا نام سوید بن طارق تھا، شراب کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس سے منع فرمایا، اس نے کہا: کیا اس کو بطور دوا استعمال کر لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو خود بیماری ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک حکیم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دوا کا ذکر کیا اور کہا کہ اس میں مینڈک بھی ڈالا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔