TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

حرام دوا سے علاج کروانے کے متعلق نہی کا بیان - حرام دوا سے علاج کروانے کے متعلق نہی کا بیان - طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 2 of طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 2 of 4 · 4 Hadith
۔
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خبیث دواکے ساتھ علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی مراد زہر تھی۔
Takhreej
(۷۶۲۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۴۵۹ (انظر: ۱۰۱۹۴)
Explanation
فوائد:… اگر زہر کو مار کر اس کے اثر کو مفید ثابت کر لیا جائے تو یہ اور بات ہو گی، جیسے سانپ کے ڈسنے کا تریاق زہر سے تیار کیا جاتاہے۔
7629
Sahih
۔
۔ سیدنا طارق بن سوید حضرمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری سر زمین میں انگور ہیں، ہم ان کو نچوڑ کر (شراب بناتے ہیں) اور پھر پیتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعہ بیمار کے لیے شفا طلب کرتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شفا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود بیماری ہے۔
Takhreej
(۷۶۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۸۴(انظر: ۱۸۷۸۷)
Explanation
فوائد:… اس سے ثابت ہواکہ شراب سے علاج حرام ہے، اسے پینا بھی حرام ہے اور ہر نجس اور حرام چیز کا یہی حکم ہے۔دیکھیں حدیث نمبر (۷۵۷۶)
7630
Sahih
۔
۔ سیدنا وائل بن حجر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حاضر تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے خثعم قبیلہ کے ایک آدمی نے، جس کا نام سوید بن طارق تھا، شراب کے متعلق دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے اس سے منع فرمایا، اس نے کہا: کیا اس کو بطور دوا استعمال کر لیں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تو خود بیماری ہے۔
Takhreej
(۷۶۳۱) تخریج: انظر الحدیث السابق
7631
Sahih
۔
۔ سیدنا عبد اللہ الرحمن بن عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک حکیم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک دوا کا ذکر کیا اور کہا کہ اس میں مینڈک بھی ڈالا جاتا ہے تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
Takhreej
(۷۶۳۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۸۷۱، ۵۲۶۹، والنسائی: ۷/ ۲۱۰ (انظر: ۱۵۷۵۷)
Explanation
فوائد:… اس سے ثابت ہوا کہ مینڈک کو مارنا منع ہے، سو اسے دوا میں استعمال کرنا اور کھانا بھی منع ہے۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ حرام اور نجس چیز میں شفا نہیں ہوتی۔
7632
Sahih