طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا - طب، دم، نظر بد، بیماری کا متعدی ہونا ، بد فال لینا اور نیک فال لینا - Book 135 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation
Book 135 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 48 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی نے جہاں بیماری پیدا کی ہے، وہاں اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے، پس علاج کیا کرو۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بیماری کا علاج ہے، جب دواء بیماری کے مطابق ہو جاتی ہے تو اللہ تعالی کے حکم سے مریض صحت مند ہو جا تا ہے۔
۔ اسامہ بن شریک اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں میں سے سب سے زیادہ بہتر کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ بہتر اخلاق والا ہو۔ اس نے پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم علاج معالجہ کروا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل علاج کروائو، اللہ تعالیٰ نے جو بیماری نازل کی ہے، اس کی دوا بھی پیدا کی ہے اور شفاء بھی پیدا کی ہے، اسے جان لیا جس نے جان لیا اور اس سے بے خبر رہا ہے، جو بے خبر رہا ہے۔
۔ (دوسری سند) شعبہ، زیاد بن علاقہ سے اور وہ سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ کے صحابۂ کرام بھی موجود تھے، وہ ایسے باادب بیٹھے تھے جیسے کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کہا اور وہاں بیٹھ گیا، ایک دیہاتی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم علاج کروا سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! علاج کرواؤ یا کرو، بے شک اللہ تعالیٰ نے جو بیماری بھی پیدا کی ہے، اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے، صرف بڑھاپے کا (اور ایک روایت کے مطابق موت کا بھی) کوئی علاج نہیں۔ جب سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بوڑھے ہو گئے تو وہ کہتے تھے: کیا اب تم میرا علاج کر سکتے ہو۔اس کے علاوہ دیہاتیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ فلاںفلاں چیز میں کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ کے بندو! اللہ تعالیٰ نے دین میں حرج رکھی ہی نہیں، مگر اس معاملہ میں حرج ہے جو مسلمان ظلم کرتا ہے، یہ حرج ہے، یہ ہلاکت ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سب سے بہتر کیا چیز ہے، جو لوگوں کو عطا کی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھے اخلاق۔
۔ ایک صحابی سے سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کے ایک آدمی کی عیادت کی، جسے زخم لگا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنو فلاں کا حکیم بلا کر لائو۔ لوگوں نے اس کو بلایا اور وہ آ گیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اے اللہ کے رسول! کیا دوا کام آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! زمین میں جو بیماری بھی ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کی شفاء بھی پیدا کی ہے۔
۔ عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں کہ میں عبد الرحمن کے پاس آیا، وہ ایک غلام کو داغ لگا رہے تھے، میں نے کہا: تم اسے داغتے ہو؟ انھوں نے کہا: ہاں یہ عرب والوں کا طریقۂ علاج ہے، سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے جو بیماری بھی پیدا کی ہے، اس کے ساتھ اس کی دواء بھی نازل کی ہے، تم میں سے جو آدمی اس سے نادان رہا ہے، وہ نادان رہا ہے اور جس نے اسے جان لیا ہے، سو اس نے جان لیا۔
فوائد:… جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و دانائی کے تقاضے کے مطابق مختلف قسم کی بیماریاں نازل کی ہیں، وہاں اپنے بندوں پر احسان کرتے ہوئے ان کے علاج کے اسباب بھی پیدا فرمائے ہیں۔ عصرِ حاضر میں مختلف بیماریوں کے مختلف قسم کے علاج کی تحقیقات سامنے آ رہی ہیں، جو سکون دہ بھی ہیں اور شافی بھی۔
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: داغنے کے بجائے کپڑے سے سینکنا بہتر ہے، گلے میں انگلی مارکر دوائی لگانے کی بجائے ناک میں قطرہ ڈالنا بہتر طریقہ علاج ہے اور اب گلے میں پھونکیں مارنے کی بہ نسبت منہ کی ایک جانب سے دوائی ڈالنا بہتر طریقہ علاج ہے۔
Takhreej
(۷۶۲۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، ابراہیم بن یزید النخعی لم یسمع من عائشۃ، ومغیرۃ الضبی روایتہ عن ابراہیم ضعیفۃ (انظر: ۲۵۳۷۱)
Explanation
فوائد:… کپڑنے سے سینکنے سے مراد یہ ہے کہ کپڑے کو گرم کر کے زخم پر رکھا جائے اور یہ عمل بار بار دوہرایا جائے۔
۔ ابو خذامہ، جو بنو حارث بن سعد بن مریم میں سے ہیں، بیان کرتے ہیں: اے اللہ کے رسول! آپ بتائیں کہ ایک دوا کے ذریعہ ہم علاج کرواتے ہیں اور دم کے ذریعے دم کرواتے ہیں اوربچائو کے ذریعہ سے ہم بچائو اختیار کرتے ہیں (یعنی احتیاط کر لیتے ہیں، کیا یہ امور اللہ تعالیٰ کی تقدیر کو ردّ کر دیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی اللہ تعالی کی تقدیر کاحصہ ہیں۔
فوائد:… کسی بیماری کا علاج کرنے یا کروانے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالی کی تقدیر کا مقابلہ کیا جا رہا ہے، بیماری اللہ تعالی کی آزمائش ہے، ہمیشہ اس سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے، اور اگر آدمی اس میں مبتلا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کا علاج کرے، ممکن ہے کہ شفا ہو جائے اور یہ بھی ممکن ہے کہ شفا نہ ہو۔
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبیث دواکے ساتھ علاج کرنے سے منع فرمایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد زہر تھی۔
Takhreej
(۷۶۲۹) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ ابن ماجہ: ۳۴۵۹ (انظر: ۱۰۱۹۴)
Explanation
فوائد:… اگر زہر کو مار کر اس کے اثر کو مفید ثابت کر لیا جائے تو یہ اور بات ہو گی، جیسے سانپ کے ڈسنے کا تریاق زہر سے تیار کیا جاتاہے۔
۔ سیدنا طارق بن سوید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری سر زمین میں انگور ہیں، ہم ان کو نچوڑ کر (شراب بناتے ہیں) اور پھر پیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے پھر اپنی بات دہرائی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے کہا: ہم اس کے ذریعہ بیمار کے لیے شفا طلب کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ شفا نہیں ہے، بلکہ یہ تو خود بیماری ہے۔
Takhreej
(۷۶۳۰) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۹۸۴(انظر: ۱۸۷۸۷)
Explanation
فوائد:… اس سے ثابت ہواکہ شراب سے علاج حرام ہے، اسے پینا بھی حرام ہے اور ہر نجس اور حرام چیز کا یہی حکم ہے۔دیکھیں حدیث نمبر (۷۵۷۶)
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حاضر تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خثعم قبیلہ کے ایک آدمی نے، جس کا نام سوید بن طارق تھا، شراب کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس سے منع فرمایا، اس نے کہا: کیا اس کو بطور دوا استعمال کر لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو خود بیماری ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ الرحمن بن عثمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک حکیم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک دوا کا ذکر کیا اور کہا کہ اس میں مینڈک بھی ڈالا جاتا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مینڈک کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔
فوائد:… اس سے ثابت ہوا کہ مینڈک کو مارنا منع ہے، سو اسے دوا میں استعمال کرنا اور کھانا بھی منع ہے۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ حرام اور نجس چیز میں شفا نہیں ہوتی۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کرو۔
فوائد:… آنے والی روایات میں بھی بخار میں نہانے اور پانی کے ذریعے اس کے اثر کو کم کرنے یا ختم کرنے کا ذکر ہے، لیکن یاد رہنا چاہیے کہ بخارکی بعض قسموں میں یہ علاج کیا جاتا ہے۔
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بخار محسوس کرو تو ٹھنڈے پانی کے ذریعے اس کے اثر کو ختم کرو۔
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کا جوش ہے، پانی کے ذریعے اس کے اثر کو زائل کیا کرو۔
۔ ابوحمزہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں لوگوں کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دور ہٹایا کرتا تھا، ایک دفعہ میں کچھ دن نہ جا سکا، پھر بعد میں جب میں گیا تو انھوں نے کہا: میرے پاس آنے میں کیا چیز رکاوٹ بنی رہی؟ میں نے کہا:جی بخار میں مبتلا ہو گیا تھا، بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے آب زم زم کے ذریعے ٹھنڈا کیا کرو۔
فوائد:… زمزم کا پانی مبارک ہے، اس لیے اس سے کیا جانے والا غسل زیادہ مفید ہو گا، لیکن اس چیز کابھی امکان ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ ہو گا کہ زمزم کا پانی پیا جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((مَائُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَہٗ۔)) … زمزم کا پانی اسی مقصد کے لیے ہو گا، جس مقصد کے لیے پیا جائے گا۔ (ابن ماجہ: ۳۰۶۲)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخار کی شدت دوزخ کی بھاپ میں سے ہے، اسے پانی کے ذریعے ٹھنڈا کیا کرو۔
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بخار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ بخار نے کہا: میں ام ملدم ہوں،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قباء والوں کے پاس چلے جانے کا حکم دیا، بس پھر اللہ ہی جانتا ہے کہ ان کو اس سے کیا تکلیف ہوئی، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو ،اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں، وہ اسے تم سے دور کر دے گا اور اگر تم چاہتے ہو کہ یہ تمہارے گناہوں سے طہارت کا باعث بنے (تو اس طرح کر لو)۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا واقعتا یہ گناہ صاف کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: پھر اس کو اِدھر ہی رہنے دیں۔
Takhreej
(۷۶۳۹) تخریج: رجالہ رجال الصحیح وفی متنہ غرابۃ، أخرجہ ابویعلی: ۱۸۹۲، وابن حبان: ۲۹۳۵، والحاکم: ۱/ ۳۴۶ (انظر: ۱۴۳۹۳)
Explanation
فوائد:… ام ملدم ، بخار کی کنیت ہے اور یہ بات اپنی جگہ پر درست ہے کہ جسمانی تکالیف کی وجہ سے گناہوں کی معافی اور بلندیٔ درجات جیسے نعمتیں نصیب ہوتی ہیں۔
۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب ان کے پاس کوئی عورت لائی جاتی تاکہ اس کے لیے بخار سے نجات کی دعا کریں، تو وہ اس عورت کے دامن میں پانی ڈالتی اور کہتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم بخار کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کیا کریں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ دوزخ کی بھاپ سے ہے۔