TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طاعون اور وبا کے ابواب - طاعون اور وبا کے ابواب - Book 137 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 137 of Musnad Ahmad, with 4 chapters and 20 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

20 Hadith · 4 Chapters
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ ایوب، ابو قلابہ سے بیان کرتے ہیں کہ شام کے علاقہ میں طاعون پڑ گیا، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عذاب ہے جو بپا ہوا ہے، اس سے بھاگ جائو، گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جائو، لیکن جب یہ بات سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی، انہوں نے کہا: یہ عذاب نہیں ہے، بلکہ یہ تو شہادت اور رحمت ہے اور تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا ہے، اے اللہ! معاذ اس کے گھر والوں کو اپنی رحمت کا حصہ عطا کر۔ابوقلابہ کہتے ہیں: میں نے شہادت اور رحمت کو تو سمجھ لیا تھا، لیکن سیدنا معاذ کا یہ کہنا کہ یہ تمہارے نبی کی دعا ہے، مجھے اس کا پتہ نہ چل سکا، بعد میں مجھے بتایا گیا کہ ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دعا میں یہ الفاظ دوہرائے: تب بخار یا طاعون، تو پھر بخار یا طاعون۔ تین بار یہ الفاظ دوہرائے،جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں میں سے ایک نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! میں نے رات آپ سے ایک دعا سنی ہے، جو آپ کررہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے وہ سن لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرنا، اس نے یہ مطالبہ قبول فرمالیا، میں نے دوسرا مطالبہ کیا تھا کہ ان پر ان کے غیر سے دشمن مسلط نہ کرنا، جو ان کو جڑ سے مار ڈالے، اس نے یہ مطالبہ بھی قبول کر لیااور میں نے ایک یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ میری امت کو فرقوں میں تقسیم نہ کرنا کہ یہ ایک دوسرے کو عذاب چکھانا شروع کر دیں، لیکن اللہ تعالی نے یہ دعا قبول نہ کی،پھر میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر (یہ دعا قبول نہیں کرنی) تو بخار یا طاعون میں انہیں مبتلا کردینا، بخار یا طاعون، بخار یا طاعون۔ تین بار فرمایا۔
Takhreej
(۷۷۸۹) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین الا انہ مرسل، فان ابا قلابۃ لم یدرک زمن الطاعون، لکن ما ساقہ فی قصۃ الطاعون صحیح، وقد روی من غیر وجہ، والشطر الثانی منہ مرسل ایضا، وقد صح منہ دعاء النبی ان لا یھلک امتہ … الخ، دون قولہ: حمی اذا أو طاعونا (انظر: ۲۲۱۳۶)
Explanation
فوائد:… طاعون ایک وبائی بیماری ہے جس میں جلد میں پھوڑے کی طرح خطرناک ورم ہو جاتا ہے، اس سے انسان مر جاتا ہے۔
7789
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے طاعون کے بارے میں سوال کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بتایا کہ طاعون اللہ تعالی کا عذاب ہے، وہ جس پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالی نے اسے ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے، کوئی مئومن بندہ ، جو طاعون میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے علاقہ میں صبر اورثواب کی نیت کے ساتھ ٹھہرا رہے اور اسے یقین ہو کہ اس کو وہی تکلیف پہنچے گی جو اللہ تعالی نے مقدر کی ہے، تو اس کے لیے شہید کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۷۴، ۵۷۳۴ (انظر: ۲۴۳۵۸)
7790
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ عامر بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے طاعون کے متعلق دریافت کیا، سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، انھوں نے کہا: اس کے متعلق میں تجھے بیان کرتا ہوں، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون کو اللہ تعالی نے تم سے پہلے لوگوں یا بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے، جب طاعون کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرواور وہاں سے راہِ فرار بھی اختیار نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۷۷۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۱۸(انظر: ۲۱۷۵۱)
7791
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو عسیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے،سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس بخار اور طاعون لے کر آئے، میں نے بخار کو مدینہ میں روک لیا اور طاعون کو شام کے علاقہ میں بھیج دیا، یہ طاعون میری امت کے ایمانداروں کے لئے رحمت ہے اور کافروں کے لئے عذاب ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن سعد: ۷/ ۶۱، والطبرانی: ۹۷۴ (انظر: ۲۰۷۶۷)
7792
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون میںہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کا طعنہ ہے۔ اور (طاعون ہو یا طعنہ زنی) ہر ایک میں شہداء ہیں۔
Takhreej
(۷۷۹۳) تخریج: ھذا اسناد اختلف فیہ علی زیاد بن علاقۃ …، أخرجہ الطیالسی: ۵۳۴، والبزار: ۳۰۴۰، والطبران فی الاوسط : ۱۴۱۸ (انظر: ۱۹۵۲۸)
7793
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ امام شعبہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دروازے پر ان سے اجازت ملنے کے انتظار میں کھڑے تھے، میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون سے ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمیں طعنہ زنی کی معرفت تو ہے، یہ طاعون کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کی طعنہ زنی ہے، اور ہر ایک میں شہادت ہے۔ زیاد کہتے ہیں: ان کی بات میرے دل نہ لگی، پس میں نے قبیلہ کے سردار سے پوچھا، جو اس وقت ان کے ساتھ تھا، تو اس نے تصدیق کی اور کہا یہ حدیث واقعی سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کی ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۴) تخریج: ھذا اسناد اختلف فیہ علی زیاد بن علاقۃ …، أخرجہ الطیالسی: ۵۳۴، والبزار: ۳۰۴۰، والطبران فی الاوسط : ۱۴۱۸ (انظر: ۱۹۷۴۳)
7794
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ اسامہ بن شریک کہتے ہیں: ہم بنو ثعلبہ میں سے چودہ پندرہ آدمی نکلے اور اچانک ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جا ملے، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری قوم کی فنا طاعون کے ذریعہ کر۔ پھر اوپر والی حدیث کی مانند بیان کیا۔
Takhreej
(۷۷۹۵) تخریج: انظر الحدیث السابق
7795
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کو اپنے راستے میں طعنہ زنی اور طاعون کے ذریعے فنا کرنا۔
Takhreej
(۷۷۹۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۹۳، والبیھقی فی الدلائل : ۶/ ۳۸۴ (انظر: ۱۵۶۰۸)
7796
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں: جب شام کے علاقے میں طاعون آیا تو سیدنا عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: یہ طاعون ایک عذاب ہے، اس سے بھاگتے ہوئے گھاٹیوں میں بکھر جائو اور وادیوں میں چلے جائو، جب یہ بات سیدنا شرجیل بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو وہ غضبناک ہوئے اور جوتا ہاتھ میں اٹھائے چادر کھینچتے ہوئے آئے اور کہا: میں نے اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صحابیت کا شرف حاصل کیا ہے، جب عمرو اپنے گھر والوں کے گدھے سے زیادہ گمراہ تھے، یہ طاعون تو تمہارے رب کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالح لوگوں کی وفات کا باعث بنتی رہی ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۷) تخریج: صحیح، أخرجہ الحاکم: ۳/ ۲۷۶، والطبران فی الکبیر : ۷۲۰۹، والبزار: ۳۰۴۲ (انظر: ۱۷۷۵۳)
7797
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ (دوسری سند) شرجیل بن شفعہ بیان کرتے ہیں کہ جب طاعون آیا تو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ ایک عذاب ہے، اس سے پرے ہٹ جائو، جب یہ بات سیدنا شرجیل بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: میں اس وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابی بنا ہوا تھا، جب یہ عمرو اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ بھٹکنے والے تھے،یہ طاعون تو تمہارے نبی کی دعا ہے اور تمہارے لئے باعث ِ رحمت ہے اور تم سے پہلے صالح لوگوں کی موت کا باعث بنتا رہا ہے، پس جمع رہو اور منتشر نہ ہو جاؤ، جب یہ بات سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: شرجیل نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7798
Sahih
طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان
۔
۔ (تیسری سند) سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے طاعون کے بارے میں خطبہ کے آخر میں کچھ بیان کیا اور کہا: یہ سیلاب کی مانند ایک عذاب ہے، جو اس کی زد میں بچ جائے گا، یہ اس سے درگزر کرے گا اور یہ آگ کی مانند ہے، جو اس سے دور رہے گا، یہ اس سے تجاوز کرجائے گا اور جو اس میں ٹھہرا رہے گا، یہ اسے خاکستر بنادے گا، اذیت میں مبتلا کردے گا، سیدنا شرجیل بن حسنہ نے کہا: یہ تمہارے نبی کی دعا اور رحمت ہے اور اس کے ذریعہ نیکوکار لوگ فوت ہوتے رہے ہیں۔
Takhreej
(۷۷۹۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس باب میں اس چیز کا بیان ہے کہ طاعون ایک موذی اور مہلک بیماری ہے، لیکن اللہ تعالی نے اس بیماری کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کے لیے باعث ِ رحمت و شہادت قرار دیا ہے، اگلے دو ابواب میں اس بیماری کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔
7799
Sahih
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس طاعون کا ذکر کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ عذاب تھا، جو تم سے پہلے لوگوں کو پہنچایا گیا، جب یہ کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرو اور جب تم کسی زمین میں موجود ہو تو یہ طاعون پڑ جائے تو وہاں سے باہر نہ جاؤ۔
Takhreej
(۷۸۰۰) تخریج: حدیث صحیح، أخرجہ الطیالسی: ۲۰۴، وابویعلی: ۸۰۰، والطبران فی الکبیر : ۳۳۰ (انظر: ۱۵۲۷)
7800
Sahih
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شام کی جانب گئے، جب سرغ مقام تک پہنچے تو آپ کو اطلاع ملی کہ شام میں طاعون کی وباء پڑ چکی ہے، سیدنا عبدالرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے وہاں بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم سنو کہ کسی زمین میں طاعون پڑچکا ہے تو اس میں نہ جاؤاور جب تم ایسے علاقے میں موجود ہو، یہاں طاعون پڑ چکا ہو تو پھر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے اس سے باہر مت نکلو۔ پس سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سرغ مقام سے ہی لوٹ گئے، ایک روایت میں ہے: اس پر سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا اور واپس لوٹ گئے۔
Takhreej
(۷۸۰۱) تخریج: أخرجہ البخاری: ۵۷۳۰، ومسلم: ۲۲۱۹ (انظر: ۱۶۸۲)
7801
Sahih
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ عکرمہ بن خالد مخزومی اپنے باپ سے یا اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی زمین میں جب طاعون واقع ہو اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے باہر نہ جاؤ اور جب طاعون ایسے علاقے میں پڑ جائے، جس میں تم پہلے سے موجود نہ ہو تو اس علاقے میں نہ گھسو۔
Takhreej
(۷۸۰۲) تخریج: صحیح لغیرہ (انظر: ۱۷۵۹۵)
7802
Sahih
طاعون زدہ زمین میں داخل ہونے کی اور وہاں موجود لوگوں کا فرار ہوتے ہوئے وہاں سے نکل جانے کی ممانعت کا بیان
۔
۔ سیدنا فروہ بن مسیک مرادی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہماری ایک زمین ہے،اس کو ابین کہتے ہیں، یہ زرخیز علاقہ ہے اور ہمارا غلہ وغیرہ بھی اسی سے حاصل ہوتا ہے، لیکن وہ وباء والی ہے اور وہاں سخت وبا پڑتی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، کیونکہ وبا کے قریب ہونا ہلاکت ہے۔
Takhreej
(۷۸۰۳) تخریج: اسنادہ ضعیف لابھام الرجل الذی سمع فروۃ بن مسیک، ولجھالۃ یحییی بن عبد اللہ بن بحیر، أخرجہ ابوداود: ۳۹۲۳(انظر: ۱۵۷۴۲)
Explanation
فوائد:… یہ روایت ضعیف ہے، بہرحال اگر کسی علاقے میں سکونت اختیار کرنا فضیلت والا عمل نہ ہو، جبکہ اس میں ایسی وبائیں پائی جاتی ہوں، جو واقعی بندے کے جسم پر اثر کرتی ہوں تو اس علاقے کو چھوڑ دینا چاہیے، ایسے علاقے میں رہنے کی وجہ سے آدمی توہم پرستی میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے اور ایسی بیماریوں کو اپنی زمین اور علاقے کی طرف منسوب کرنے لگتا ہے، نہ کہ اللہ تعالی کی طرف۔
7803
Zaeef
طاعون سے بھاگ جانے والے کے گناہ اور اس میں صبر کرنے والے کے ثواب کا بیان
۔
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون سے بھاگنے والے کو اتنا گناہ ہوتا ہے، جتنا جنگ سے بھاگنے والے کو ہوتا ہے اور طاعون میں صبر کرنے والا میدان جنگ میں صبر کرنے والے کی مانند اجر پاتا ہے۔
Takhreej
(۷۸۰۴) تخریج: حسن لغیرہ، أخرجہ البزار: ۳۰۳۸، والطبران فی الاوسط : ۳۲۱۷، وعبد بن حمید: ۱۱۱۸ (انظر: ۱۴۴۷۸)
7804
Sahih
طاعون سے بھاگ جانے والے کے گناہ اور اس میں صبر کرنے والے کے ثواب کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون سے بھاگنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی مانند مجرم ہے۔
Takhreej
(۷۸۰۵) تخریج: حدیث جیّد، أخرجہ ابویعلی: ۴۴۰۸، والطبرانی فی الاوسط : ۱۲۰۳ (انظر: ۲۴۵۲۷)
7805
Sahih
طاعون سے بھاگ جانے والے کے گناہ اور اس میں صبر کرنے والے کے ثواب کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت طعنہ زنی اور طاعون سے فنا ہوگی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون سے کیامراد ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون میں انسان کی گردن میں اونٹ کی گلٹی کی مانند گلٹی نکلتی ہے، جو آدمی اس طاعون میں ٹھہرا رہا، وہ شہید کی مانند ہے اور جو اس سے بھاگ گیا، وہ میدان جنگ سے بھاگنے والے کی مانند ہے۔
Takhreej
(۷۸۰۶) تخریج: اسنادہ جیّد، أخرجہ البزار: ۳۰۴۱، والطبرانی فی الاوسط : ۵۵۲۷ (انظر: ۲۵۱۱۸)
Explanation
فوائد:… ان احادیث سے ثابت ہوا کہ طاعون جس جگہ پر بپا ہو وہاں ہی صبر کرکے رہیں تو شہید کا ثواب ہے۔ اگر وہاں سے بھاگ جائیں تو اتنا گناہ ہے جتنا میدان جنگ سے بھاگ جانے والے کا ہے، جبکہ میدان جنگ سے بھاگ جانا کبیرہ گناہ ہے، اس لیے طاعون زدہ علاقے سے فرار اختیار کرنا بھی کبیرہ گناہ ہو گا۔
7806
Sahih
اچانک موت کا بیان
۔
۔ سیدنا عبید بن خالد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو صحابۂ کرام میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ناگہانی موت غضب الٰہی کی گرفت ہے۔ وہ بعض اوقات اس حدیث کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف منسوب کرتے تھے۔
Takhreej
(۷۸۰۷) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ البیھقی فی السنن : ۳/ ۳۷۸ (انظر: ۱۵۴۹۶)
7807
Sahih
اچانک موت کا بیان
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اچانک موت کے بارے میں دریافت کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسی موت مؤمن کے لئے تو باعث ِ راحت ہے اور فاجر کے لئے غضب الٰہی کا سبب ہے۔
Takhreej
(۷۸۰۸) تخریج: اسنادہ واہٍ، عبید اللہ بن الولید الوصافی متروک، وعبد اللہ بن عبید اللہ بن عمیر لم یسمع من عائشۃ، أخرجہ البیھقی: ۳/ ۳۷۹، والطبرانی فی الاوسط : ۳۱۵۳(انظر: ۲۵۰۴۲)
Explanation
فوائد:… چونکہ مؤمن ایسے طرز حیات اختیار کر کے رکھتا ہے کہ وہ ہر وقت موت کے لیے تیار ہوتا ہے، اس لیے اچانک موت اس کے باعث ِ رحمت ٹھہرتی ہے کہ صحت و تندرستی کی حالت میں اعمال خیر میں مصروف تھا کہ اللہ تعالی نے اپنے پاس بلا لیا، امام غزالی رحمہ اللہ نے کہا: جس نے موت کی تیاری کررکھی تھی اس کے لئے یہ موت تخفیف کا باعث ہے اور جو تیار نہ تھا اس کے لئے بوجھ ہے۔ (احیاء اعلوم) امام نووی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے کہا: اچانک موت اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے تخفیف ہے۔ (تہذیب)
7808
Zaeef