TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان - طاعون کی حقیقت، اس کے مفہوم، اس کی وجہ سے مرنے والے کی شہادت اور اس سے فرار اختیار نہ کرنے والے کا بیان - طاعون اور وبا کے ابواب - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 1 of طاعون اور وبا کے ابواب in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 1 of 4 · 11 Hadith
Whole book
Previous Chapter Next Chapter
۔
۔ ایوب، ابو قلابہ سے بیان کرتے ہیں کہ شام کے علاقہ میں طاعون پڑ گیا، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ عذاب ہے جو بپا ہوا ہے، اس سے بھاگ جائو، گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جائو، لیکن جب یہ بات سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انہوں نے اس کی تصدیق نہ کی، انہوں نے کہا: یہ عذاب نہیں ہے، بلکہ یہ تو شہادت اور رحمت ہے اور تمہارے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دعا ہے، اے اللہ! معاذ اس کے گھر والوں کو اپنی رحمت کا حصہ عطا کر۔ابوقلابہ کہتے ہیں: میں نے شہادت اور رحمت کو تو سمجھ لیا تھا، لیکن سیدنا معاذ کا یہ کہنا کہ یہ تمہارے نبی کی دعا ہے، مجھے اس کا پتہ نہ چل سکا، بعد میں مجھے بتایا گیا کہ ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نماز پڑھ رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی دعا میں یہ الفاظ دوہرائے: تب بخار یا طاعون، تو پھر بخار یا طاعون۔ تین بار یہ الفاظ دوہرائے،جب صبح ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر والوں میں سے ایک نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! میں نے رات آپ سے ایک دعا سنی ہے، جو آپ کررہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے وہ سن لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے سوال کیا کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کرنا، اس نے یہ مطالبہ قبول فرمالیا، میں نے دوسرا مطالبہ کیا تھا کہ ان پر ان کے غیر سے دشمن مسلط نہ کرنا، جو ان کو جڑ سے مار ڈالے، اس نے یہ مطالبہ بھی قبول کر لیااور میں نے ایک یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ میری امت کو فرقوں میں تقسیم نہ کرنا کہ یہ ایک دوسرے کو عذاب چکھانا شروع کر دیں، لیکن اللہ تعالی نے یہ دعا قبول نہ کی،پھر میں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر (یہ دعا قبول نہیں کرنی) تو بخار یا طاعون میں انہیں مبتلا کردینا، بخار یا طاعون، بخار یا طاعون۔ تین بار فرمایا۔
Takhreej
(۷۷۸۹) تخریج: رجالہ ثقات رجال الشیخین الا انہ مرسل، فان ابا قلابۃ لم یدرک زمن الطاعون، لکن ما ساقہ فی قصۃ الطاعون صحیح، وقد روی من غیر وجہ، والشطر الثانی منہ مرسل ایضا، وقد صح منہ دعاء النبی ان لا یھلک امتہ … الخ، دون قولہ: حمی اذا أو طاعونا (انظر: ۲۲۱۳۶)
Explanation
فوائد:… طاعون ایک وبائی بیماری ہے جس میں جلد میں پھوڑے کی طرح خطرناک ورم ہو جاتا ہے، اس سے انسان مر جاتا ہے۔
7789
Sahih
۔
۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ انھوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے طاعون کے بارے میں سوال کیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بتایا کہ طاعون اللہ تعالی کا عذاب ہے، وہ جس پر چاہتا ہے مسلط کر دیتا ہے، لیکن اللہ تعالی نے اسے ایمانداروں کے لئے رحمت بنا دیا ہے، کوئی مئومن بندہ ، جو طاعون میں مبتلا ہو جائے اور وہ اپنے علاقہ میں صبر اورثواب کی نیت کے ساتھ ٹھہرا رہے اور اسے یقین ہو کہ اس کو وہی تکلیف پہنچے گی جو اللہ تعالی نے مقدر کی ہے، تو اس کے لیے شہید کا اجر لکھ دیا جاتا ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۰) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۷۴، ۵۷۳۴ (انظر: ۲۴۳۵۸)
7790
Sahih
۔
۔ عامر بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے طاعون کے متعلق دریافت کیا، سیدنا اسامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی موجود تھے، انھوں نے کہا: اس کے متعلق میں تجھے بیان کرتا ہوں، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: طاعون کو اللہ تعالی نے تم سے پہلے لوگوں یا بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر بھیجا تھا، کبھی یہ آجاتا ہے اور کبھی چلا جاتا ہے، جب طاعون کسی علاقے میں واقع ہو تو اس میں داخل نہ ہوا کرواور وہاں سے راہِ فرار بھی اختیار نہ کیا کرو۔
Takhreej
(۷۷۹۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۲۲۱۸(انظر: ۲۱۷۵۱)
7791
Sahih
۔
۔ سیدنا ابو عسیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے،سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام میرے پاس بخار اور طاعون لے کر آئے، میں نے بخار کو مدینہ میں روک لیا اور طاعون کو شام کے علاقہ میں بھیج دیا، یہ طاعون میری امت کے ایمانداروں کے لئے رحمت ہے اور کافروں کے لئے عذاب ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۲) تخریج: اسنادہ صحیح، أخرجہ ابن سعد: ۷/ ۶۱، والطبرانی: ۹۷۴ (انظر: ۲۰۷۶۷)
7792
Sahih
۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون میںہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! طعنہ زنی کو تو ہم جانتے ہیں، طاعون کیا چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کا طعنہ ہے۔ اور (طاعون ہو یا طعنہ زنی) ہر ایک میں شہداء ہیں۔
Takhreej
(۷۷۹۳) تخریج: ھذا اسناد اختلف فیہ علی زیاد بن علاقۃ …، أخرجہ الطیالسی: ۵۳۴، والبزار: ۳۰۴۰، والطبران فی الاوسط : ۱۴۱۸ (انظر: ۱۹۵۲۸)
7793
Sahih
۔
۔ امام شعبہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دروازے پر ان سے اجازت ملنے کے انتظار میں کھڑے تھے، میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے سنا، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کی فنا طعنہ زنی اور طاعون سے ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمیں طعنہ زنی کی معرفت تو ہے، یہ طاعون کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے دشمن جنوں کی طعنہ زنی ہے، اور ہر ایک میں شہادت ہے۔ زیاد کہتے ہیں: ان کی بات میرے دل نہ لگی، پس میں نے قبیلہ کے سردار سے پوچھا، جو اس وقت ان کے ساتھ تھا، تو اس نے تصدیق کی اور کہا یہ حدیث واقعی سیدنا ابو موسیٰ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کی ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۴) تخریج: ھذا اسناد اختلف فیہ علی زیاد بن علاقۃ …، أخرجہ الطیالسی: ۵۳۴، والبزار: ۳۰۴۰، والطبران فی الاوسط : ۱۴۱۸ (انظر: ۱۹۷۴۳)
7794
Sahih
۔
۔ اسامہ بن شریک کہتے ہیں: ہم بنو ثعلبہ میں سے چودہ پندرہ آدمی نکلے اور اچانک ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو جا ملے، انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری قوم کی فنا طاعون کے ذریعہ کر۔ پھر اوپر والی حدیث کی مانند بیان کیا۔
Takhreej
(۷۷۹۵) تخریج: انظر الحدیث السابق
7795
Sahih
۔
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! میری امت کو اپنے راستے میں طعنہ زنی اور طاعون کے ذریعے فنا کرنا۔
Takhreej
(۷۷۹۶) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۹۳، والبیھقی فی الدلائل : ۶/ ۳۸۴ (انظر: ۱۵۶۰۸)
7796
Sahih
۔
۔ عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں: جب شام کے علاقے میں طاعون آیا تو سیدنا عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: یہ طاعون ایک عذاب ہے، اس سے بھاگتے ہوئے گھاٹیوں میں بکھر جائو اور وادیوں میں چلے جائو، جب یہ بات سیدنا شرجیل بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو وہ غضبناک ہوئے اور جوتا ہاتھ میں اٹھائے چادر کھینچتے ہوئے آئے اور کہا: میں نے اس وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے صحابیت کا شرف حاصل کیا ہے، جب عمرو اپنے گھر والوں کے گدھے سے زیادہ گمراہ تھے، یہ طاعون تو تمہارے رب کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا ہے اور تم سے پہلے صالح لوگوں کی وفات کا باعث بنتی رہی ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۷) تخریج: صحیح، أخرجہ الحاکم: ۳/ ۲۷۶، والطبران فی الکبیر : ۷۲۰۹، والبزار: ۳۰۴۲ (انظر: ۱۷۷۵۳)
7797
Sahih
۔
۔ (دوسری سند) شرجیل بن شفعہ بیان کرتے ہیں کہ جب طاعون آیا تو سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یہ ایک عذاب ہے، اس سے پرے ہٹ جائو، جب یہ بات سیدنا شرجیل بن حسنہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: میں اس وقت نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابی بنا ہوا تھا، جب یہ عمرو اپنے گھر کے اونٹ سے زیادہ بھٹکنے والے تھے،یہ طاعون تو تمہارے نبی کی دعا ہے اور تمہارے لئے باعث ِ رحمت ہے اور تم سے پہلے صالح لوگوں کی موت کا باعث بنتا رہا ہے، پس جمع رہو اور منتشر نہ ہو جاؤ، جب یہ بات سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تک پہنچی تو انھوں نے کہا: شرجیل نے سچ کہا ہے۔
Takhreej
(۷۷۹۸) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
7798
Sahih
۔
۔ (تیسری سند) سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے طاعون کے بارے میں خطبہ کے آخر میں کچھ بیان کیا اور کہا: یہ سیلاب کی مانند ایک عذاب ہے، جو اس کی زد میں بچ جائے گا، یہ اس سے درگزر کرے گا اور یہ آگ کی مانند ہے، جو اس سے دور رہے گا، یہ اس سے تجاوز کرجائے گا اور جو اس میں ٹھہرا رہے گا، یہ اسے خاکستر بنادے گا، اذیت میں مبتلا کردے گا، سیدنا شرجیل بن حسنہ نے کہا: یہ تمہارے نبی کی دعا اور رحمت ہے اور اس کے ذریعہ نیکوکار لوگ فوت ہوتے رہے ہیں۔
Takhreej
(۷۷۹۹) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الاول
Explanation
فوائد:… اس باب میں اس چیز کا بیان ہے کہ طاعون ایک موذی اور مہلک بیماری ہے، لیکن اللہ تعالی نے اس بیماری کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی امت کے لیے باعث ِ رحمت و شہادت قرار دیا ہے، اگلے دو ابواب میں اس بیماری کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔
7799
Sahih