TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان - خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان - نیت اور عمل میں اخلاص - Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Chapter 4 of نیت اور عمل میں اخلاص in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 4 of 5 · 4 Hadith
۔ (۸۸۹۸)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِذَا اَحْسَنَ اَحَدُکُمْ اِسْلَامَہٗ،فَکُلُّحَسَنَۃٍیَعْمَلُھَا تُکْتَبُ بِعَشْرِ اَمْثَالِھَا اِلٰی سَبْعِمِائَۃِ ضِعْفٍ وَکُلُّ سَیِّئَۃٍیَّعْمَلُھَا تُکْتَبُ لَہٗبِمِثْلِھَا،حَتّٰییَلْقَی اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ۔)) (مسند احمد: ۸۲۰۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے اسلام میں حسن پیدا کر لیتا ہے تو اس کی کی ہوئی ہر نیکی دس سے سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور اس کی کی ہوئی ہر برائی کو اس کی مثل ہی لکھا جاتا ہے، (یہ سلسلہ جاری رہتا ہے) یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جا ملتا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۸) تخریج:أخرجہ البخاری: ۴۲، ومسلم: ۱۲۹ (انظر: ۸۲۱۷)
Explanation
فوائد:… اسلام کے حسن سے مراد یہ ہے کہ وہ ظاہر و باطن سے اور اخلاص کے ساتھ اسلام میں داخل ہو۔
8898
Sahih
۔ (۸۸۹۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا رَوٰی عَنْ رَّبِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِنَّ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی رَحِیْمٌ، مَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہٗحَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗعَشْرَۃٌ اِلٰی سَبْعِمِائَۃٍ، اِلٰی اَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗوَاحِدَۃٌ، اَوْ یَمْحُوْھَا اللّٰہُ، وَلا یَھْلِکُ عَلٰی اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّا ھَالِکٌ۔))(مسند احمد: ۲۵۱۹)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تیرا ربّ نہایت رحم کرنے والا ہے، جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی تو لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے تو وہ اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اس وجہ سے اس کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ہلاک ہو گا، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔
Takhreej
(۸۸۹۹) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۳۱ (انظر: ۲۵۱۹)
Explanation
فوائد:… اگر نیکی اور برائی کا یہ معیار ہو اور یقینا ہے بھی تو پھر وہی ہلاک ہو سکتا ہے، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔
8899
Sahih
۔ (۸۹۰۰)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طِرِیْقٍ ثَانٍ) یَرْوِیْہِ عَنِِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَرْوِیْہِ عَنْ رَّبِّہِ عَزَّوَجَلَّ، قَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ کَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ، فَمَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، کَتَبَ اللّٰہُ لَہٗعِنْدَہُحَسَنَۃً کَامِلَۃً، وَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبَھَا اللّٰہُ عَشْرًا اِلٰی سَبْعِمِائَۃٍ اِلٰی اَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ اَوْ اِلٰی مَاشَائَ اللّٰہُ اَنْ یُضَاعِفَ، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا، کَتَبَھَا اللّٰہُ لَہٗعِنْدَہُحَسَنَۃً کَامِلَۃً، فَاِنْ عَمِلَھَا کَتَبَھَا اللّٰہُ سَیِّئَۃً وَاحِدَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۸۲۷)
۔ (دوسری سند) نبی کریم، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: بیشک اللہ تعالیٰ نے نیکیوں اور برائیوں کو لکھا ہے، پس جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس کو عملاً کرتا نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنے پاس ایک مکمل نیکی کی صورت میں لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس پر عمل بھی کر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا تک یا جتنا اللہ تعالیٰ خود چاہتا ہے، اس کو بڑھا کر لکھ لیتا ہے، لیکن جو برائی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک مکمل نیکی لکھ لیتا ہے اور اگر وہ اس کو عملاً کر بھی لیتا ہے تو وہ اس کو ایک برائی ہی لکھتاہے۔
Takhreej
(۸۹۰۰) تخریج: انظر الحدیث بالطریق الأول
Explanation
فوائد:… برائی کا خیال آنا اور عملی طور پر اس کا ارتکاب کرنا، اس کے کل چار مراتب ہیں: ۱۔ محض کسی چیز کا خیال آ جانا اور پھر اس خیال کا ختم ہو جانا، یہ محض انسان کا جبلی اور فطرتی خیال ہے ۲۔ برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا، لیکن پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنا ۳۔ برائی کا عزم کرنا اور اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں لگے رہنا ۴۔ برائی کا ارادہ کرنا اور عملی طور پر اس کا مرتکب ہو جانا پہلا مرتبہ قابل مؤاخذہ نہیں ہے، دوسرے مرتبے کا نتیجہ نیکی ہے، اور تیسرا اور چوتھا مرتبہ قابل مؤاخذہ جرائم ہیں۔ اس موضوع کی تمام احادیث کو ان مراتب کی روشنی میں سمجھا جائے۔
8900
Sahih
۔ (۸۹۰۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوُہٗ۔ (مسنداحمد: ۷۱۹۵)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی مروی ہے۔
Takhreej
(۸۹۰۱) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۲۸، ۱۳۰ (انظر: ۷۱۹۶)
8901
Sahih