مسنداحمد

Musnad Ahmad

نیت اور عمل میں اخلاص

خیر و بھلائی کے لیے نیت کو اچھا کرنے، اس کی وجہ سے اجر کے بڑھ جانے اور عزم اور ارادے کا بیان


۔ (۸۸۹۹)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْمَا رَوٰی عَنْ رَّبِّہِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اِنَّ رَبَّکَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی رَحِیْمٌ، مَنْ ھَمَّ بِحَسَنَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہٗحَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗعَشْرَۃٌ اِلٰی سَبْعِمِائَۃٍ، اِلٰی اَضْعَافٍ کَثِیْرَۃٍ، وَمَنْ ھَمَّ بِسَیِّئَۃٍ فَلَمْ یَعْمَلْھَا کُتِبَتْ لَہُ حَسَنَۃٌ، فَاِنْ عَمِلَھَا کُتِبَتْ لَہٗوَاحِدَۃٌ، اَوْ یَمْحُوْھَا اللّٰہُ، وَلا یَھْلِکُ عَلٰی اللّٰہِ تَعَالٰی اِلَّا ھَالِکٌ۔))(مسند احمد: ۲۵۱۹)

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے ربّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا: بیشک تیرا ربّ نہایت رحم کرنے والا ہے، جو آدمی نیکی کا ارادہ کرتا ہے، لیکن اس پر عمل نہیں کر پاتا تو اس کے لیے ایک نیکی تو لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتاہے تو وہ اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک، بلکہ کئی گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے، لیکن اگر کوئی برائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس پر عمل نہیں کرتا تو اس وجہ سے اس کی ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور اگر وہ اس پر عمل کر لیتا ہے تو اس کے لیے ایک برائی لکھی جاتی ہے، یا اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف کر دیتا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی ہلاک ہو گا، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔

Status: Sahih
حکمِ حدیث: صحیح
Conclusion
تخریج
(۸۸۹۹) تخریج:أخرجہ مسلم: ۱۳۱ (انظر: ۲۵۱۹)
Explanation
شرح و تفصیل
فوائد:… اگر نیکی اور برائی کا یہ معیار ہو اور یقینا ہے بھی تو پھر وہی ہلاک ہو سکتا ہے، جس نے ہلاک ہی ہونا ہے۔