TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان

Chapter 3 of اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 3 · 26 Hadith
۔ (۸۹۷۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَائِشٍ، عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خَرَجَ عَلَیْھِمْ ذَاتَ غَدْوَۃٍ وَھُوَ طَیِّبُ النَّفْسِ، مُسْفِرُ الْوَجْہِ، اَوْ مُشْرِقُ الْوَجْہِ، فَقُلْنَا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّا نَرَاکَ طَیِّبَ النَّفْسِ، مُسْفِرَ الْوَجْہِ، اَوْ مُشْرِقَ الْوَجْہِ، فَقَالَ: ((وَمَایَمْنَعُنِیْ، وَاَتَانِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ اللَّیْلَۃَ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ، قَالَ: یَامُحَمَّدُ! قُلْتُ: لَبَّیْکَ رَبِّیْ وَسَعْدَیْکَ، قَالَ: فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: لا اَدْرِیْ اَیْ رَبِّ!، قَالَ: ذٰلِکَ مَرَّتَیْنِ اَوْ ثَلاثًا، قَالَ: فَوَضَعَ کَفَّیْہِ بَیْنَ کَتِفَیَّ فَوَجَدْتُّ بَرْدَھَا بَیْنَ ثَدْیَیَّ حَتّٰی تَجَلّٰی لِیْ مَا فِی الْسَمٰوٰتِ وَمَافِیْ الْاَرْضِ، ثُمَّ تَلا ھٰذِہِ الْآیَۃَ {وَکَذٰلِکَ نُرِی اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ} ثُمَّ قَالَ: یَامُحَمَّدُ ! فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی ؟ قَالَ: قُلْتُ فِی الْکَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا الْکَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ: الْمَشْیُ عَلَی الْاَقْدَامِ اِلَی الْجُمُعَاتِ، وَالْجُلُوْسُ فِی الْمَسْجِدِ خِلافَ الصَّلَوَاتِ، وَاِبْلاغُ الْوُضُوْئِ فِی الْمَکَارِہِ، قَالَ: مَنْ فَعَلَ ذٰلِکَ عَاشَ بِخَیْرٍ وَمَاتَ بِخَیْرٍ، وَکَانَ مِنْ خَطِیْئَتِہِ کَیَوْمِ وَلَدَتْہُ اُمُّہُ، وَمِنَ الدَّرَجَاتِ طَیِّبُ الْکَلَامِ، وَبَذْلُ السَّلامِ، وَاِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَالصَّلاۃُ بِاللَّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، قَالَ: یَامُحَمَّدُ ! اِذَا صَلَیَّتَ فَقُلْ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ، وَاِذَا اَرَدْتَو فِتْنَۃً فِی الْنَّاسِ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۹۷)
۔ عبد الرحمن بن عائش ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خوشگوار موڈ میں تھے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے پر سفیدییا چمک محسوس ہو رہی تھی، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج تو ہم آپ کو بڑے عمدہ موڈ میں دیکھ رہے ہیں اور آپ کے چہرے پر سفیدییا چمک بھی محسوس کی جا رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بھلا مجھے کون سی چیز اس سے محروم کر سکتی ہے، بات یہ ہے کہ آج رات میرا ربّ سب سے خوبصورت شکل میں میرے پاس آیا اور کہا: اے محمد! میں نے کہا: جی میرے ربّ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، اللہ تعالیٰ نے کہا: مقرب فرشتے کس موضوع پر بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، ایسے دو تین دفعہ ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں پر کے درمیان رکھیں، مجھے اپنے سینے میں ان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور آسمان و زمین کی ہر چیز میرے لیے واضح ہو گی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {وَکَذٰلِکَ نُرِی اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ} … اور ہم نے ایسے ہی ابراہیم ( علیہ السلام ) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں سے ہو جائیں۔ (سورۂ انعام: ۷۵) پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفّارات میں، اللہ تعالیٰ نے کہا: کفارات سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند حالتوں کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر فرمایا: جس نے یہ امور سر انجام دیئے، اس نے خیر کے ساتھ زندگی گزاری اور خیر کے ساتھ فوت ہوا، اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، اور درجات یہ ہیں: اچھا کلام کرنا، سلام پھیلانا، کھانا کھلانا اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! جب تم نماز پڑھو تو یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃًفِی الْنَّاسِ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔ … اے اللہ ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کو کرنے، برائیوں کو ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ تو مجھ پر رجوع کر اور جب تو لوگوں کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔
Takhreej
(۸۹۷۹) تخریج:انظر الحدیث السابق (انظر: ۲۳۲۱۰)
Explanation
فوائد:… ان دو احادیث ِ مبارکہ کے متن پر غور کریں اور اندازہ لگائیں کہ جن اعمال کی ہمارے معاشرے میں کوئی خاص قدر وقیمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کتنے اہم ہیں۔ دیکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ملاقات ہوئی تو جہانوں کے پروردگار اور بشریت کے سردار کی باتوں کا موضوع کیا تھا، یہ کتنی پاکیزہ مجلس تھی،یہ کتنا بابرکت کلام تھا، یہ سوالات و جوابات کی کتنی عمدہ نشست تھی، سبحان اللہ۔ قارئین سے گزارش ہے کہ ان دو احادیث میںجن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے، ان کو حرزِ جان بنائیں اور ان پر دوام اختیار کریں۔ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔
8979
Sahih
۔ (۸۹۸۰)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَاُنَبِّئُکَ بِاَبْوَابٍ مِّنَ الْخَیْرِ، الصَّوْمُ جُنَّۃٌ، وَالصَّدَقَۃُ تُطْفِیُٔ الْخَطِیْئَۃَ کَمَا یُطْفِیُٔ الْمَائُ النَّارَ، وَقِیَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّیْلِ۔)) ثُمَّ قَرَاَ {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ} الآیَۃَ۔ [السجدۃ: ۱۶] (مسند احمد: ۲۲۴۸۴)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تجھے خیر و بھلائی کے دروازوں کے بارے میں بتلاتا ہوں، روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہوں کو اس طرح مٹاتا ہے، جیسے پانی آگ کو ختم کر دیتا ہے اور رات کو بندے کا قیام کرنا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ…}۔
Takhreej
(۸۹۸۰) تخریج:صحیح بطرقہ و شواھدہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۲۰۰(انظر: ۲۲۱۳۳)
Explanation
فوائد:… پوری آیتیہ ہے: {تَتَجَافٰی جُنُوبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔}… ان کی کروٹیں اپنے بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے، وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ (سورۂ سجدہ: ۱۶)
8980
Sahih
۔ (۸۹۸۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ تَمِیْمَۃَ، عَنْ رَجُلٍ مِّنْ قَوْمِہِ اَنَّہُ اَتٰی رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَوْ قَالَ:شَہِدْتُّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَوْ قَالَ: اَنْتَ مُحَمَّدٌ ؟ فَقَالَ:(( نَعَمْ۔)) قَالَ: فَاِلامَ تَدْعُوْا؟ قَالَ: ((اَدْعُوْ اِلَی اللّٰہِ وَحْدَہُ، مَنْ اِذَا کَانَ بِکَ ضُرٌ فَدَعَوْتَہُ کَشَفَہُ عَنْکَ، وَمَنْ اِذَا اَصَابَکَ عَامُ سَنَۃٍ فَدَعَوْتَہُ اَنْبَتَ لَکَ، وَمَنْ اِذَا کُنْتَ فِیْ اَرْضٍ قَفْرٍ فَاَضْلَلْتَ فَدَعَوْتَہُ رَدَّ عَلَیْکَ۔)) قَالَ: فَاَسْلَمَ الرَّجُلُ، ثُمَّ قَالَ: اَوْصِنِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ لَہُ: ((لا تَسُبَّنَّ شَیْئًا اَوْ قَالَ: اَحَدًا ۔)) شَکَّ الْحَکَمُ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ شَیْئًا بَعِیْرًا وَلا شَاۃً مُنْذُ اَوْصَانِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ،((وَلا تَزْھَدْ فِی الْمَعْرُوْفِ وَلَوْ بِبَسْطِ وَجْھِکَ اِلٰی اَخِیْکَ وَاَنْتَ تُکَلِّمُہُ، وَاَفْرِغْ مِنْ دَلْوِکَ فِیْ اِنَائِ الْمُسْتَسْقِیْ، وَاتَّزِرْ اِلٰی نِصْفِ السَّاقِ، فَاِنْ اَبَیْتَ فَاِلَی الْکَعْبَیْنِ، وَاِیَّاکَ وَاِسْبَالَ الْاِزَارِ قَالَ: فَاِنِّھَا مِنَ الْمَخِیْلَۃِ، وَاللّٰہُ لا یُحِبُّ الْمَخِیْلَۃَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۳۳)
۔ ابو تمیمہ اپنی قوم کے ایک آدمی سے بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا،یا اس نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس ایک آدمی آیا، جبکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیںیا آپ محمد( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس نے کہا: آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس یکتا و یگانہ رب کی طرف دعوت دیتا ہوں کہ اگر تجھ پر کوئی تکلیف آ پڑے گی اور تو اس کو پکارے گا تو وہ تیری تکلیف کو دور کر دے گا، جب تو قحط سالی میں مبتلا ہو جائے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیرے لیے انگوریاں اگانے کے لیے (بارش نازل کرے گا)اور جب تو بے آب و گیاہ زمین میں اپنی سواری کھو بیٹھے گا اور اس کو پکارے گا تو وہ تیری سواری کو واپس تیرے پاس لے آئے گا۔ پس وہ آدمی مسلمان ہو گیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے نصیحت فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی کو گالی نہ دینا، (یعنی برا بھلا نہ کہنا)۔ اس آدمی نے کہا: جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ نصیحت کی اس وقت سے میں نے کسی چیز، وہ اونٹ ہو یا بکری، کو گالی نہیں دی۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نیکی سے بے رغبتی اختیار نہ کر، اگرچہ وہ اپنے بھائی سے بات کرتے وقت اس کے سامنے خندہ پیشانی کا اظہار کرنے کی صورت میں ہو، پانی مانگنے کے ڈول میں پانی ڈال اور نصف پنڈلی تک اپنے ازار کو اٹھا کے رکھ، پس اگر تو اس قدر عمل نہ کر سکے تو ٹخنوں تک رکھ لے، خبردار چادر کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے سے بچنا ہے، کیونکہیہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں کرتا۔
Takhreej
(۸۹۸۱) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ ابوداود: ۳۵۶۲ (انظر: ۱۶۶۱۶)
Explanation
فوائد:… ابوداود کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ((وَإِنْ امْرُؤٌ شَتَمَکَ وَعَیَّرَکَ بِمَا یَعْلَمُ فِیکَ فَـلَا تُعَیِّرْہُ بِمَا تَعْلَمُ فِیہِ فَإِنَّمَا وَبَالُ ذٰلِکَ عَلَیْہِ۔))… اور اگر کوئی آدمی تجھے برا بھلا کہے اور تیرے کسی عیب کی وجہ سے تجھے عار دلائے تو تو نے اس کو اس عیب کی وجہ سے عار نہیں دلانی جو تو جانتا ہے، کیونکہ اس چیز کا وبال اس پر ہو گا۔ اس حدیث کے آخری جملے سے معلوم ہوا کہ چادر اور شلوار کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ہی تکبر کی علامت ہے، خواہ دل میں تکبر پیدا ہو یا نہ ہو، اس لیے ہر وقت ہر مرد کو کم از کم اپنے ٹخنوں کو ننگا رکھنا چاہیے، اگر نصف پنڈلی تک رکھ لے تو افضل ہو گا۔ چند افراد کے علاوہ تمام مسلمان لباس کے اس ادب کا خیال نہیں رکھتے اور وہ کہتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ یہ ادب اس کے لیے ہے، جو تکبر کرے۔ یہ دراصل ان لوگوں کی کج فہمی ہے، کیونکہ مرد کا ٹخنوں کو چھپانا تکبر ہی کی علامت ہے، جیسا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حدیث ِ مبارکہ میں واضح کیا ہے، اس نظریہ کے حاملین سے دوسرا سوال یہ ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابہ کرام اپنے ٹخنوں کو ننگا کیوں رکھتے تھے؟ کیا ان میں تکبر پیدا ہو جانے کا شبہ پایا جاتا تھا؟ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ۔
8981
Sahih
۔ (۸۹۸۲)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلا جَائَ ہُ فَقَالَ: اَوْصِنِیْ، فَقَالَ: سَاَلْتَ عَمَّا سَاَلْتُ عَنْہُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْ قَبْلِکَ، اُوْصِیْکَ بِتَقْوَی اللّٰہِ فَاِنَّہٗرَاْسُکُلِّشَیْئٍ، وَعَلَیْکَ بِالْجِھَادِ فَاِنَّہُ رَھْبَانِیَّۃُ الْاِسْلَامِ، وَعَلَیْکَ بِذِکْرِ اللّٰہِ وَتَلاوَۃِ الْقُرْآنِ فَاِنَّہُ رَوْحُکَ فِی الْسَّمَائِ وَذِکْرُکَ فِی الْاَرْضِ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۹۶)
۔ سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: مجھے کوئی وصیت کریں۔ میں نے کہا: تو نے جو سوال مجھ سے کیا ہے، میں نے تجھ سے پہلے یہی سوال رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تھا (اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا): میں تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی نصیحت کرتا ہوںکیونکہیہ ہر چیز کی بنیا دہے، جہاد کو لازم پکڑ کہ وہ اسلام کی رہبانیت ہے اور اللہ تعالیٰ کے ذکر اور قرآن مجید کی تلاوت کا اہتمام کیا کر، کیونکہ وہ آسمان میں تیرے لیے باعثِ رحمت اور زمین میں تیرے لیے باعث تذکرہ ہیں۔
Takhreej
(۸۹۸۲) تخریج: صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ ابویعلی: ۱۰۰۰(انظر: ۱۷۷۴)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق کی بنیاد تقوی اور اللہ کے خوف پر ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ مأمورات پر عمل کیا جائے اور منہیات سے اجتناب۔
8982
Sahih
۔ (۸۹۸۳)۔ عَنْ سَہْلٍ بْنِ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِنَّہُ قَالَ: ((اَفْضَلُ الْفَضَائِلِ اَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَکَ وَتُعْطِیْ مَنْ مَنَعَکَ وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۷۰۳)
۔ سیدنا معاذ بن انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے زیادہ فضیلت والا عمل یہ ہے کہ تو اس سے صلہ رحمی کر جو تجھ سے قطع رحمی کرے، اس کو دے جو تجھ کو محروم کرے اور اس سے درگزر کر جو تجھے گالیاں دے۔
Takhreej
(۸۹۸۳) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف زبان بن فائد وسھل بن معاذ فی روایۃ زبان عنہ، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۴۳۱(انظر: ۱۵۶۱۸)
8983
Zaeef
۔ (۸۹۸۴)۔ عَنْ شَیْبَۃَ الْحَضْرَمِیِّ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ عُمَرَبْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ فَحَدَّثَنَا عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبِیْرِ، عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ثَلاثٌ اَحْلِفُ عَلَیْھِنَّ، لا یَجْعَلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَنْ لَہٗسَہْمٌفِی الْاِسْلامِ کَمَنْ لا سَہْمَ لَہُ، فَاَسْہُمُ الْاِسْلامِ ثَلاثَۃٌ: الصَّلاۃُ وَالصَّوْمُ وَالزَّکَاۃُ، وَلایَتَوَلَّی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا فَیُوَلِّیَہُ غَیْرَہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَلا یُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا اِلاَّ جَعَلَہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ مَعَھُمْ، وَالرَّابِعَۃُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَیْھَارَجَوْتُ اَنْ لَا آثَمَ، لا یَسْتُرُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَبْدًا فِی الدُّنْیَا اِلاَّ سَتَرَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔))، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیْزِ: اِذَا سَمِعْتُمْ مِثْلَ ھٰذَا الْحَدِیْثِ مِنْ مِثْلِ عُرْوَۃَیَرْوِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاحْفَظُوْہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۶۳۴)
۔ شیبہ حضرمی کہتے ہیں: ہم عمر بن عبد العزیز کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، عروہ بن زبیر نے ہم کو بیان کیا کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین چیزوں پر میں قسم اٹھاتا ہوں، جس آدمی کا اسلام میں حصہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو اس آدمی کی طرح نہیں کرے گا، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہوتا، وہ تین چیزیںیہ ہیں: (۱) اسلام کے تین حصے ہیں: نماز، روزوہ اور زکوۃ، (۲) یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک آدمی سے محبت رکھے اور پھر قیامت کے دن اس کو کسی کے سپرد کر دے، (۳) بندہ جن لوگوں سے محبت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو ان کے ساتھ ہی کر دے گا، اور اگر میں چوتھی چیز پر بھی قسم اٹھا لوں تو مجھے امید ہے کہ گنہگار نہیں ہوں گا اور وہ یہ ہے کہ جو آدمی دنیا میں کسی شخص پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس پر پردہ ڈالے گا۔ یہ حدیث سن کر عمر بن عبد العزیز نے کہا: جب تم ایسی حدیث سنو جس کو عروہ سیدہ عائشہ سے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہی ہوں تو اس کو یاد کر لیا کرو۔
Takhreej
(۸۹۸۴) تخریج:حسن لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۱۹، وابویعلی: ۴۵۶۶ (انظر: ۲۵۱۲۱)
Explanation
فوائد:… اس باب کی احادیث ِ مبارکہ میںمختلف نیکیوں اور برائیوں کا ذکر ہوا ہے، قارئین الفاظ سے ہی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا مقصود سمجھ سکتے ہیں، اس لیے زیادہ شرح نہیں کی گئی، ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے فہم و عقل کی روشنی میں معمولی اور غیر معمولی حسنات و سیئات کا تعین نہ کریں، بلکہ شریعت کے تابع ہو کر زندگی گزاریں۔
8984
Sahih