TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان

Chapter 3 of اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل in Musnad Ahmad. Each Hadith below carries its Arabic text, its Urdu and English translation, its number and its grading.

Chapter 3 of 3 · 26 Hadith
۔ (۸۹۵۹)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: جَائَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! عَلِّمْنِیْ عَمَلا یُدْخِلُنِیْ الْجَنَّۃَ ؟ فَقَالَ: ((لَئِنْ کُنْتَ اَقْصَرْتَ الْخُطْبَۃَ لَقَدْ اَعْرَضْتَ الْمَسْاَلَۃَ، اَعْتِقِ النَّسَمَۃَ، وَفُکَّ رَقَبَۃً۔)) فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَ لَیْسَتَا بِوَاحِدَۃٍ ؟ قَالَ: ((لا، اِنَّ عِتْقَ النَّسَمَۃِ اَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِھَا، وَفَکَّ الرَّقَبَۃِ اَنْ تُعِیْنَ فِیْ عِتْقِھَا، وَالْمِنْحَۃُ الْوَکُوْفُ وَالْفَیْئُ عَلٰی ذِیْ الرَّحِمِ الظَّالِمِ، فَاِنْ لَّمْ تُطِقْ ذٰلِکَ فَاَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، فَاِنْ لَّمْ تُطِقْ ذٰلِکَ، فَکُفَّ لِسَانَکَ اِلاَّ مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۵۰)
۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک بدو، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسے عمل کی تعلیم دیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگرچہ تو نے بات تو مختصر کی ہے، لیکن مسئلہ بڑا پیش کر دیا ہے، جواب یہ ہے کہ تو مکمل غلام آزاد کر یا کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دے۔ میں نے کہا: کیا عِتْقُ النَّسَمَۃ اور فَکُّ الرَّقَبَۃ ایک ہی چیز نہیں ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، عِتْقُ النَّسَمَۃ سے مراد یہ ہے کہ تم خود مکمل غلام کو آزاد کرو اور فَکُّ الرَّقَبَۃ یہ ہے کہ تم کسی غلام کی آزادی میں کچھ حصہ ڈال دو، زیادہ دودھ والے جانور کا عطیہ دینا، ظالم رشتہ دار پر مہربانی کرنا اور اس سے نیکی کرنا، پس اگر تم کو اس کی طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلا دینا، پیاسے کو پانی پلا دینا، نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے منع کرنا، اور اگر تم کو اس کی طاقت بھی نہ ہو تو اپنی زبان کو روک لینا، ما سوائے امورِ خیر کے۔
Takhreej
(۸۹۵۹) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ الدارقطنی: ۲/ ۱۳۵، والطیالسی: ۷۳۹، والیبھقی: ۱۰/ ۲۷۲، وابن حبان: ۳۷۴ (انظر: ۱۸۶۴۷)
Explanation
فوائد:… معلوم ہوا کہ خیر کا کم از کم مرتبہ یہ ہے آدمی اپنے زبان کا غلط استعمال نہ کرے، کیونکہ اگر کسی آدمی میں کوئی عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو یہ تواس کے بس کی بات ہے کہ اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھے، ہاں اگر خیر کی بات ہو تو وہ کرے۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ لوگوں بڑے بڑے عمل تو کرسکتے ہیں، لیکن اپنی زبان کو کنٹرول نہیں کر سکتے۔
8959
Sahih
۔ (۸۹۶۰)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ حُبْشِیِّ نِ الْخَثْعَمِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((اِیْمَانٌ لَا شَکَّ فِیْہِ، وَجِہَادٌ لَا غُلُوْلَ فِیْہِ، وَحَجَّۃٌ مَبْرُوْرَۃٌ۔)) قِیْلَ: فَاَیُّ الصَّلَاۃِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((طُوْلُ الْقُنُوْتِ۔)) قِیْلَ: فَاَیُّ الصَّدَقَۃِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((جَہْدُ الْمُقِلِّ )) قِیْلَ: فَاَیُّ الْھِجْرَۃِ اَفَضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ ھَجَرَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) قیل فَاَیُّ الْجِھَادِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ جَاھَدَ الْمُشْرِکِیْنَ بِمَالِہِ وَنَفْسِہِ۔)) قِیْلَ: فَاَیُّ الْقَتْلِ اَشْرَفُ ؟ قَالَ: ((مَنْ اُھْرِیْقَ دَمُہُ، وَعُقِرَ جَوَادُہُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۴۷۶)
۔ سیدنا عبد اللہ بن حبشی خثعمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسا ایمان جس میں کوئی شک نہ ہو، ایسا جہاد کہ جس میں کوئی خیانت نہ ہو اور حج مبرور۔ کسی نے کہا: کون سی نماز افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لمبا قیام کرنا۔ کسی نے کہا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر۔ کسی نے کہا: کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اللہ کے حرام کردہ امور کو ترک کر دیا‘ اس کییہ ہجرت (یعنی حرام کاموں کو چھوڑ دینا) افضل ہے۔ کسی نے کہا: کون سا جہاد افضل ہے؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مال وجان سمیت مشرکین سے جہاد کرنا۔ پھر یہ سوال کیا گیا کہ کون سا قتل (یعنی شہادت) بلند مرتبہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس میں مجاہد کا خون بہا دیا جائے اور اس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں۔
Takhreej
(۸۹۶۰) تخریج:اسنادہ قوی، أخرجہ مختصرا ومطولا ابوداود: ۱۳۲۵، ۱۴۴۹، والنسائی: ۵/ ۵۸ (انظر: ۱۵۴۰۱)
Explanation
فوائد:… حج مبرور وہ ہے جس میں حاجی اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے محفوظ و سالم رہتا ہے۔
8960
Sahih
۔ (۸۹۶۱)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الصَّلَاۃِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((طُوْلُ الْقُنُوْتِ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَاَیُّ الْجِھَادِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ عُقِرَ جَوَادُہُ وَاُرِیْقَ دَمُہُ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْھِجْرَۃِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ ھَجَرَ مَا کَرِہَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاَیُّ الْمِسْلِمِیْنَ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِّسَانِہِ وَیَدِہِ۔)) قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَمَا الْمُوْجِبَتَانِ ؟ قَالَ: ((مَنْ مَاتَ لا یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ، وَمَنْ مَاتَ یُشْرِکُ بِاللّٰہِ شَیْئًا دَخَلَ النَّارَ۔)) (مسند احمد: ۱۵۲۸۰)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی نماز افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لمبے قیام والی۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا جہاد افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کے گھوڑے کی کونچیں کاٹ دی جائیں اور جس کا خون بہا دیا جائے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی ہجرت افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے نا پسندیدہ امور کو ترک کر دیا۔ اس نے کہا: کون سا مسلمان افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! واجب کرنے والی دو چیزیں کون سی ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کرتا ہو، وہ جہنم میںداخل ہو گا۔
Takhreej
(۸۹۶۱) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ القطعۃ الأولی والرابعۃ مسلم: ۷۵۶(انظر: ۱۵۲۱۰)
Explanation
فوائد:… حقیقی مجاہد اور مہاجر وہی ہے جو اپنے نفس کی مخالفت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کو ترک کر دے‘ اگر ایک انسان ہجرت (یعنی ترک وطن) اور جہاد کے باوجود اللہ تعالیٰ کی معصیتوں سے پرہیز نہیں کرتا تو ایسی ہجرت اور جہاد کا کیا فائدہ جو اس کے نفس میں ہی نیکی کا رجحان پیدا نہ کر سکے؟ ہجرت اور جہاد تو اس چیز کا نام ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر اس کے اوامر و نواہی کی پابندی کی جائے‘ وہ پابندی اپنا وطن چھوڑنے کی صورت میں ہو یا اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کے دشمنوں سے پنجہ آزمائی کرنے کی صورت میںیا شریعت کی منع کردہ چیزوں سے باز رہنے کی صورت میں۔
8961
Sahih
۔ (۸۹۶۲)۔ عَنْ مَاعِزٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ سُئِلَ: اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((اِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَحْدَہُ، ثُمَّ الْجِھَادُ، ثُمَّ حَجَّۃٌ بَرَّۃٌ تَفْضُلُ سَائِرَ الْعَمَلِ کَمَا بَیْنَ مَطْلَعَ الشَّمْسِ اِلٰی مَغْرِبِھَا۔)) (مسند احمد: ۱۹۲۱۹)
۔ سیدنا ماعز ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا گیا کہ اعمال میں سے کون سا عمل افضل ہے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، جو کہ یکتا و یگانہ ہے، پھر جہاد کرنا، پھر حج مبرور، یہ عمل تو باقی اعمال سے اس طرح فضیلت لے جاتا ہے، جیسے سورج کے طلوع اور غروب کے درمیان فاصلہ ہے۔
Takhreej
(۸۹۶۲) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۲۰/ ۸۱۱ (انظر: ۱۹۰۱۰)
8962
Sahih
۔ (۸۹۶۳)۔ عَنْ جَرِیْرٍ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْبَجَلِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اشْتَرِطْ عَلَیَّ ؟ قَالَ: ((تَعْبُدُ اللّٰہَ، وَلَا تُشْرِکُ بِہٖشَیْئًا، وَتُصَلِّی الصَّلاۃَ الْمَکْتُوْبَۃَ، وَتُؤَدِّی الزَّکٰوۃَ الْمَفْرُوْضَۃَ، وَتَنْصَحُ لِلْمُسْلِمِ، وَتَبْرَاُ مِنَ الْکَافِرِ۔)) (مسند احمد: ۱۹۳۶۶)
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بَجَلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھ پر کوئی شرط لگاؤ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، فرضی نمازیں ادا کرو، فرضی زکوۃ ادا کرو، ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرو اور کافرسے بری ہو جاؤ۔
Takhreej
(۸۹۶۳) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ النسائی: ۷/ ۱۴۷ (انظر: ۱۹۱۵۳)
8963
Sahih
۔ (۸۹۶۴)۔ عَنْ اَبِیْ مُرَاوِحٍ، عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ! اَیُّ الْعَمَلِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اِیْمَانٌ بِاللّٰہِ تَعَالٰی وَجِھَادٌ فِیْ سَبِیْلِہِ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاَیُّ الرِّقَابِ اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((اَنْفَسُھَا عِنْدَ اَہْلِھَا وَاَغْلاھَا ثَمَنًا۔)) قَالَ: فَاِنْ لَّمْ اَجِدْ؟ قَالَ: ((تُعِیْنُ صَانِعًا اَوْ تَصْنَعُ لِاَخْرَقَ۔)) وَقَالَ: فَاِنْ لَّمْ اَسْتَطِعْ ؟ قَالَ: ((کُفَّ اَذَاکَ عَنِ النَّاسِ، فَاِنَّھَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِھَا عَنْ نَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۵۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا۔ میں نے کہا: کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مالکوں کے ہاں سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمت والی ہو۔ میں نے کہا: اگر مجھ میں یہ عمل کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جواب دیا: تو کسی ہنر مند کی معاونت کر دیا کرو یا کسی بے ہنر انسان کا کوئی کام کر دیا کرو۔ میں نے کہا: اگر میں یہ کارِ خیر کرنے سے بھی عاجز رہوں تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’تو تم لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھو‘ یہ بھی تمہارا اپنے آپ پر صدقہ ہو گا۔
Takhreej
(۸۹۶۴) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۵۱۸، ومسلم: ۸۴ (انظر: ۲۱۳۳۱)
Explanation
فوائد:… خیر کا کم از کم مرتبہ یہ ہے کہ آدمی لوگوں کو اپنے شرّ سے محفوظ رکھے، جبکہ آج بڑی بڑی نیکیوں کا دعوی کرنے والے اس کم سے کم مرتبے سے محروم ہیں۔
8964
Sahih
۔ (۸۹۶۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَسَاَلَہُ، فَقَالَ: یَانَبِیَّ اللّٰہِ اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ فَذَکَرَہُ۔ (مسند احمد: ۹۰۲۶)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا اور کہا: اے اللہ کے نبی! کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟ …۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح ذکر کیا۔
Takhreej
(۸۹۶۵) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ البخاری فی خلق افعال العباد : ۱۵۵ (انظر: ۹۰۳۸)
8965
Sahih
۔ (۸۹۶۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ! ((اَلا اُخْبِرُکُمْ بِخَیْرِ الْبَرِیَّۃِ ؟)) قَالُوْا: بَلٰی،یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کُلَّمَا کَانَتْ ھَیْعَۃٌ، اِسْتَوٰی عَلَیْہِ۔ اَلا اُخْبِرُکُمْ بِالَّذِیْیَلِیْہِ ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: ((الرَّجُلُ فِیْ ثُلَّۃٍ مِنْ غَنَمِہِ یُقِیْمُ الصَّلَاۃَ وَیُؤْتِی الزَّکَاۃَ اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِشَرِّ الْبَرِیَّۃِ؟)) قَالُوْا: بَلٰی قَالَ: ((اَلَّذِیْیُسْئَلُ بِاللّٰہِ وَلایُعْطِی بِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۹۱۳۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین مخلوق کے بارے میں بتلا نہ دوں؟ صحابہ نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی ہے جس اللہ تعالیٰ کے راستے میں گھوڑے کی لگام پکڑ رکھی ہو، جب کبھی کہیں سے کوئی خوفناک آواز آتی ہے تو وہ اس پر سوار ہو کر تیار ہو جاتا ہے۔ اب کیا میں تمہیں اس آدمی کے بارے میں بھی نہ بتلا دوں، جس کا مرتبہ اس سے کچھ کم ہے۔ انھوں نے کہا: کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ آدمی جو اپنی بکریوںکے ایک ریوڑ میں ہو اور نماز ادا کرتا ہو اور زکوۃ دیتا ہو۔ اب کیا میں تمہیں بد ترین آدمی کے بارے میں نہ بتلا دوں؟ انھوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہے، جس سے اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کیا جاتا ہے، لیکن پھر بھی وہ نہیں دیتا۔
Takhreej
(۸۹۶۶) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ مسلم: ۱۸۸۹دون قولہ: الا اخبرکم بشر البریۃ…۔ (انظر: ۹۱۴۲)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کے نام پر سوال کرنا، اس کی مفصل حقیقت جاننے کے لیے ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (۳۵۵۲)
8966
Sahih
۔ (۸۹۶۷)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: سَاَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَیُّ الْعَمَلِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ ؟ قَالَ: ((اَلصَّلَاۃُ عَلٰی وَقْتِھَا۔))، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ؟ قَالَ: ((ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ۔))، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ اَیٌّ ؟ قَالَ: ((ثُمَّ الْجِِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔))، قَالَ: فَحَدَّثَنِیْ بِہٖنَّوَلَوِاسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِیْ۔ (مسند احمد: ۳۸۹۰)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔ میں نے کہا: پھر کون سا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ امور بیان کیے اور اگر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے زیادہ کا مطالبہ کرتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بھی مجھے زیادہ بتلانا تھا۔
Takhreej
(۸۹۶۷) تخریج:أخرجہ البخاری: ۵۲۷، ۵۹۷۰، ومسلم: ۸۵(انظر: ۳۸۹۰)
8967
Sahih
۔ (۸۹۶۸)۔ عَنِ الشِّفَائِ بِنْتِ عَبْدِ اللّٰہِ، وَکَانَتِ امْرَاَۃً مِنَ الْمُہَاجِرَاتِ قَالَتْ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سُئِلَ عَنْ اَفْضَلِ الْاَعْمَالِ فَقَالَ: ((اِیْمَانٌ بِاللّٰہِ وَجِھَادٌ فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَحَجٌّ مَبْرُوْرٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۳۴)
۔ سیدہ شفاء بنت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، جو کہ مہاجر صحابیات میں سے تھیں، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے افضل اعمال کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا اور حج مبرور ادا کرنا۔
Takhreej
(۸۹۶۸) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ الطبرانی: ۲۴/ ۷۹۱ (انظر: ۲۷۰۹۴)
8968
Sahih
۔ (۸۹۶۹)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ۔ (مسند احمد: ۷۵۸۰)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔
Takhreej
(۸۹۶۹) تخریج:أخرجہ البخاری: ۲۶، ۱۵۱۹، ومسلم: ۸۳ (انظر: ۷۵۹۰)
8969
Sahih
۔ (۸۹۷۰)۔ عَنْ سُلَیْمٍ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا اُمَامَۃَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَخْطُبُ النَّاسَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَھُوَ عَلٰی الْجَدْعَائِ وَاضِعٌ رِجْلَہُ فِیْ غَرْزِ الرَّحْلِ یَتَطَاوَلُیَقُوْلُ: ((اَلا تَسْمَعُوْنَ؟)) فَقَالَ رَجُلٌ مِّنْ آخِرِ الْقَوْمِ مَاتَقُوْلُ؟ قَالَ: ((اعْبُدُوْا رَبَّکُمْ، وَصَلُّوْا خَمْسَکُمْ، وَصُوْمُوْا شَہْرَکُمْ، وَاَدُّوْا زَکَاۃَ اَمْوَالِکُمْ، وَاَطِیْعُوْا ذَا اَمْرِکُمْ، تَدْخُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ۔)) قُلْتُ: فَمُذْ کَمْ سَمِعْتَ ھٰذَا الْحَدِیْثَیَا اَبَا اُمَامَۃَ ؟ قَالَ: وَاَنَا ابْنُ ثَلَاثِیْنَ سَنَۃً۔ (مسند احمد: ۲۲۵۱۴)
۔ سُلیم بن عامر سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جدعاء اونٹنی پر سوار تھے، اپنا پاؤں رکاب میں رکھا ہوا تھا اور کھڑے ہو کر اونچے ہوئے اور فرمایا: کیا تم سن رہے ہو؟ لوگوں کے پیچھے سے ایک آدمی نے کہا: آپ کیا فرما رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنے پروردگار کی عبادت کر، پانچ نمازیں ادا کرو، اپنے مہینے کے روزے رکھو، اپنے مالوں کی زکوۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو، اپنے رب کی جنت میںداخل ہو جاؤ گے۔ میں نے کہا: اے ابو امامہ! تم نے یہ حدیث کب سنی تھی؟ انھوں نے کہا: اس وقت سنی تھی، جب میری عمر تیس سال تھی۔
Takhreej
(۸۹۷۰) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۶۱۶(انظر: ۲۲۱۶۱)
8970
Sahih
۔ (۸۹۷۱)۔ عَنْ اَبِیْ مَالِکٍ الْاَشْعَرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الطُّہُوْرُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلاَُ الْمِیْزَانَ، وَسُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ تَمْلَاُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: مَا بَیْنَ السَّمٰوٰتِ) وَالْاَرْضِ، وَالصَّلاَۃُ نَوْرٌ، وَالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ عَلَیْکَ اَوْ لَکَ، کُلُّ النَّاسِ یَغْدُو فَبَائِعٌ نَفْسَہُ فَمُوْبِقُھَا اَوْ مُعْتِقُھَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۶)
۔ سیدناابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وضو نصف ایمان ہے، الحمد للہ سے ترازو بھر جاتا ہے، اور سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ سے آسمانوں اور زمین کا درمیانی خلا بھر جاتا ہے، نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے اور قرآن تیری مخالفت میںیا تیرے حق میں دلیل ہو گا، اور ہر آدمی صبح کو اپنا نفس بیچ رہا ہوتا ہے تو کوئی اس کو ہلاک کر دیتا ہے اور کوئی اس کو آزاد کرتا ہے۔
Takhreej
(۸۹۷۱) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۲۳(انظر: ۲۲۹۰۸)
Explanation
فوائد:… صدقہ، صدقہ کرنے والے کے ایمان کی دلیل ہے، کیونکہ منافق عدمِ ایمان کی وجہ سے صدقہ و خیرات سے اجتناب کرتا ہے۔ جو صبر شریعت میں محبوب ہے، وہ مراد ہے، یعنی نیکیوں کی ادائیگی اور برائیوں سے اجتناب پر صبر کرنا اور اسی طرح جسمانی اور روحانی پریشانیوں پر صبر کرنا۔ ہر صبح کو ہر انسان اپنے جسم کا سودا کر رہا ہوتا ہے، کوئی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کر کے اس کو بیچتا ہے اور جہنم سے آزاد ہو جاتا ہے اور کوئی غفلت میں پڑھ کر اور شیطان کے پیچھے چل کر اس کو ہلاک کر دیتا ہے، اس معاملے میں انسانوں کییہ دو ہی قسمیں ہیں، ہر انسان آسانی سے اپنی ذات کا فیصلہ کر سکتاہے۔
8971
Sahih
۔ (۸۹۷۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ فِیْ الْجَنَّۃِ غُرْفَۃًیُرٰی ظَاہِرُھَا مِنْ بَاطِنِھَا، بَاطِنُھَا مِنْ ظَاہِرِھَا، اَعَدَّھَا اللّٰہُ لِمَنْ اَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَاَلاَنَ الْکَلَامَ، وَتَابَعَ الصِّیَامَ، وَصَلّٰی وَالنَّاسُ نِیَامٌ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۹۳)
۔ سیدناابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک جنت میں ایسے بالا خانے ہیں کہ ان کے اندر سے ان کے باہر کے سماں کو اور باہر سے ان کے اندر کے منظر کو دیکھا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اِن کو ان کے لیے تیار کیا ہے، جو کھانا کھلاتے ہیں، نرم کلام کرتے ہیں، تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے ہیں اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو اس وقت نماز پڑھتے ہیں۔
Takhreej
(۸۹۷۲) تخریج:اسنادہ حسن ان کان ابن معانق سمعہ من ابی مالک، لکن لہ شواھد، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۳۴۶۷، وابن خزیمۃ: ۲۱۳۷، وعبد الرزاق: ۲۰۸۸۳، و البیھقی: ۴/ ۳۰۰ (انظر: ۲۲۹۰۵)
Explanation
فوائد:… آخر میں رات کے قیام کا بیان ہے۔
8972
Sahih
۔ (۸۹۷۳)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ وَفِیْہِ فَقَالَ اَبُوْمُوْسٰی الْاَشْعَرِیُّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، لِمَنْ ھِیَیَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ: ((لِمَنْ اَلانَ الْکَلامَ، وَاَطْعَمَ الطَّعَامَ وَبَاتَ لِلّٰہِ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِیَامٌ۔)) (مسند احمد: ۶۶۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے، سیدنا ابو موسی اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے لیے جو نرم کلام کرتا ہے، کھانا کھلاتا اور اللہ تعالیٰ کے لیے قیام کرتے ہوئے رات گزارتا ہے، جبکہ اس وقت لوگ سو رہے ہوتے ہیں۔
Takhreej
(۸۹۷۳) تخریج:حدیث حسن لغیرہ، أخرجہ الحاکم: ۱/ ۳۲۱ (انظر: ۶۶۱۵)
8973
Sahih
۔ (۸۹۷۴)۔ وَعَنْ دُرَّۃَ بِنْتِ اَبِیْ لَھْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، قَالَتْ: قَامَ رَجُلٌ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ عَلٰی الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ النَّاسِ خَیْرٌ؟ فَقَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((خَیْرُ النَّاسِ اَقْرَؤُھُمْ، وَاَتْقَاھُمْ، وَآمَرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَاَنْھَاھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَاَوْصَلُہُمْ لِلرَّحِمِ۔)) (مسند احمد: ۲۷۹۸۰)
۔ سیدہ درہ بنت ابی لہب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تھے، اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سے لوگ بہتر ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگوں میں بہترین وہ ہے جو سب سے زیادہ تلاوت کرنے والا ہو، سب سے زیادہ ڈرنے والا ہو، سب سے زیادہ نیکی کا حکم دینے والا ہو، سب سے زیادہ برائی سے منع کرنے والا ہو اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا ہو۔
Takhreej
(۸۹۷۴) تخریج: اسنادہ ضعیف أخرجہ ابن ابی شیبۃ: ۸/ ۵۳۹، والطبرانی فی الکبیر : ۲۴/ ۶۵۷ (انظر: ۲۷۴۳۴)
8974
Zaeef
۔ (۸۹۷۵)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ: ((اَلْاِیْمَانُ بِاللّٰہِ وَالْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔))، قَالَ: فَاِنْ لَّمْ اَسْتَطِعْ ذٰلِکَ، قَالَ: ((اِحْبِسْ نَفْسَکَ عَنِ الشَّرِّ، فَاِنِّھَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِھَا عَلٰی نَفْسِکَ۔)) (مسند احمد: ۱۰۸۹۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔ اس نے کہا: اگر مجھ میں اتنا کچھ کرنے کی طاقت نہ ہو تو؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے نفس کو شرّ سے روکے رکھنا، کیونکہیہبھی صدقہ ہو گا جو تو اپنے نفس پر کرے گا۔
Takhreej
(۸۹۷۵) تخریج: اسنادہ حسن، أخرجہ البخاری فی خلق افعال العباد : ۱۵۴(انظر: ۱۰۸۷۸)
8975
Sahih
۔ (۸۹۷۶)۔ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسْارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ صَلَّی الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَحَجَّ الْبَیْتَ الْحَرَامَ وَصَامَ رَمْضَانَ، (وَلا اَدْرِیْ اَذَکَرَ الزَّکاۃَ اَمْ لا) کَانَ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ اَنْ یَّغْفِرَ لَہُ، اِنْ ھَاجَرَ فِیْ سَبِیْلِہِ، اَوْ مَکَثَ بِاَرْضِہِ الَّتِیْ وُلِدَ بِھَا۔)) فَقَالَ مُعَاذٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَفَاُخْبِرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((ذَرِ النَّاسْ، یَا مُعَاذُ! فِی الْجَنَّۃِ مِائَۃُ دَرَجَۃٍ بَّیْنَ کُلِّ دَرَجَۃٍ مِائَۃُسَنَۃٍ، الْفِرْدَوْسُ اَعْلَی الْجَنَّۃِ، وَاَوْسَطُھَا وَمِنْھَا تَفَجَّرُ اَنْھَارُ الْجَنَّۃِ، فَاِذَا سَاَلْتُمُ اللّٰہَ فَاسْاَلُوْہُ الْفِرْدَوْسَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۳۷)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس نے پانچ نمازیں ادا کیں، حرمت والے گھر کا حج کیا، رمضان کے روزے رکھے، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے، وہ اس کی راہ میں ہجرت کرے یا اسی علاقے میں سکونت اختیار کیے رکھے، جس میں پیدا ہوا تھا۔ راوی کو یہیاد نہیں رہا کہ اس حدیث میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے زکوۃ کا ذکر کیا تھا یا نہیں، سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس حدیث کی خبر دے دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: معاذ! رہنے دو اور لوگوں کو نہ بتلاؤ (تاکہ وہ دوسرے نیک عمل بھی کرتے رہیں) کیونکہ جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت کا فرق ہے، جنت کا سب سے اعلی اور ممتاز درجہ فردوس ہے، اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں، اس لیے جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کیا کرو۔
Takhreej
(۸۹۷۶) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الترمذی: ۲۵۳۰، وابن ماجہ: ۴۳۳۱ (انظر: ۲۲۰۸۷)
Explanation
فوائد:… اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک خوبصورت نقطے کا بیان ہے اور وہ یہ کہ جتنی احادیث میں آسان عمل پر بڑے اجرو ثواب کی بشارتیں بیان کی گئی ہے، ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے نیک اعمال سے غفلت برتی جائے، اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہوا کہ اس حدیث کا علم بھی ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیاکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک خاص مصلحت کی وجہ سے اس حدیث کو بیان کرنے سے منع فرمایا تھا۔ جنت کے درجوں کے حصول کے لیے اجتہاد اور محنت کی ضرورت ہے۔
8976
Sahih
۔ (۸۹۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ فِی الْمَسْجِدِ، فَجَلَسْتُ فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ، ھَلْ صَلَّیْتَ؟)) قُلْتُ: لا، قَالَ: ((قُمْ فَصِلِّ۔)) فَصَلَّیْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! تَعَوَّذْ بِاللّٰہِ مِنْ شَرِّ شَیَاطِیْنِ الْاِنْسِ وَالْجِنِّ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلِلْاِنْسِ شَیَاطِیْنُ ؟ قَالَ:((نَعَمْ۔)) قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! الصَّلاۃُ، قَالَ: ((خَیْرٌ مَّوْضُوْعٌ مَنْ شَائَ اَقَلَّ وَمَنْ شَائَ اَکْثَرَ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! الصَّوْمُ، قَالَ: ((فَرْضٌ مَّجْزِیٌٔ وَعِنْدَ اللّٰہِ مَزِیْدٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَالصَّدَقَۃُ، قَالَ: ((اَضْعَافٌ مُّضَاعَفَۃٌ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَاَیُّھَا اَفْضَلُ؟ قَالَ: ((جَہْدٌ مِّنْ مُقِلٍّ اَوْ سِرٍّ اِلٰی فَقِیْرٍ۔)) قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّ الْاَنْبِیَائِ کَانَ اَوّلاً ؟ قَالَ: ((آدَمُ۔)) قُلْتُ: وَنَبِیًّا کَانَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمِ الْمُرْسَلُوْنَ؟ قَالَ: ((ثَلاثُمِائَۃٍ وَبِضْعَۃَ عَشَرَ۔)) وَقَالَ: ((مَرَّۃً وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غَفِیْرًا۔))، قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَیُّمَا اُنْزِلَ عَلَیْکَ اَعْظَمُ ؟ قَالَ: ((آیَۃُ الْکُرْسِیِّ: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: حَتّٰی خَتَمَ الْآیَۃَ) (مسند احمد: ۲۱۸۷۹)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو۔ پس میں نے نماز پڑھی اور پھر بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! انسانوں اور جنوں کے شیطانوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز کے بارے میں کچھ فرمائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز ہے، جس کو بنایا گیا ہے، جو چاہے کم پڑھ لے اور جو چاہے زیادہ پڑھ لے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! روزہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایسا فرض ہے کہ اس کا بدلہ بھی دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مزید بھی بہت کچھ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! صدقہ، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر یا کسی فقیر کو چپکے سے دے دینا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلا نبی کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، نبی تھے اور ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرسلین کی تعداد کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سو اور پندرہ سولہ کے لگ بھگ۔ ایک روایت میں ہے: تین سو پندرہ ہے، جم غفیر ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر کون سی عظیم ترین چیز اتاری گئی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آیۃ الکرسی {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}، ایک روایت میں ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوری آیت تلاوت کی۔
Takhreej
(۸۹۷۷) تخریج:اسنادہ ضعیف جدا لجھالۃ عبید بن الخشخاش، ولضعف ابی عمر الدمشقی، وقال الدارقطنی: المسعودی عن ابی عمر الدمشقی متروک، أخرجہ النسائی: ۸/ ۲۷۵(انظر: ۲۱۵۴۶)
Explanation
فوائد:… بعض انسان شیطان ہوتے ہیں، جیسا کہ سورۂ ناس میں بھی ہے، جو آدمی دوسرے کو گمراہ کرے، وہ شیطان ہے۔ انبیاء و رسل کی تعداد کے بارے میں دو طرق کے ساتھ مروی درج ذیل حدیث پر غور کریں: سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَبِيٌّکَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مُعَلَّمٌ، مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: کَمْ کَانَ بَیْنَ نُوْحٍ وَاِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِیْرًا۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ’دس صدیاں (یا دس زمانے)۔ اس نے کہا: نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ پھر صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ ، جم غفیرہے۔ (حاکم: ۲/۲۶۲، معجم کبیر للطبرانی: ۸/۱۳۹،صحیحہ: ۳۲۸۹) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے اس حدیث کا ایک موقوف شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا: نوح اور آدم کے مابین دس صدیاں تھیں، سارے لوگ شریعت ِ حقہ پر تھے، پھر اختلاف پڑ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، تاکہ وہ خوشخبریاں دیں اور ڈرائیں، عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت یوں تھی: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِـدَۃً فَاخْتَلَفُوْا} (تفسیرطبری: ۲/ ۱۹۴، حاکم: ۲/ ۵۴۶) اس میں ایک اہم فائدے کا بیان ہے کہ لوگ شروع میں ایک امت تھے، خالص توحید ان کا مذہب تھا، پھر بعد میں ان پر شرک کے آثار طاری ہوئے۔ اس سے ان فلسفیوں اور ملحدوں کا ردّ ہوتا ہے، جو کہتے ہیں کہ اصل میں شرک تھا، بعد میں توحید کو وجود ملا۔ (صحیحہ: ۳۲۸۹) سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَبِیًّا کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَاَل: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَّخَمَسْۃَ عَشَرَ۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنافاصلہ تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۱/ ۲۴/ ۲/ ۳۹۸، معجم کبیر للطبرانی: ۸/ ۱۳۹، حاکم : ۲/ ۲۶۲،صحیحۃ: ۲۶۶۸) شیخ البانی ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌ نے شواہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طویل حدیث کا ایک اقتباس یہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلا نبی کون تھا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاںہاں، وہ نبی تھے، جن سے کلام بھی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: آدم! پتلا بن جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (احمد: ۵/ ۲۶۵)
8977
Zaeef
۔ (۸۹۷۸)۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: احْتَبَسَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ غَدَاۃٍ عَنْ صَلاۃِ الصُّبْحِ، حَتّٰی کِدْنَا نَتَرَائٰی قَرْنَ الشَّمْسِ، فَخَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَرِیْعًا فَثُوِّبَ بِالصَّلاۃِ، وَصَلّٰی وَتَجَوَّزَ فِیْ صَلَاتِہِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: ((کَمَا اَنْتُمْ عَلٰی مَصَافِّکُمْ۔)) ثُمَّ اَقْبَلَ اِلَیْنَا فَقَالَ: ((اِنِّیْ سَاُحَدِّثُکُمْ مَا حَبَسَنِیْ عَنْکُمُ الْغَدَاۃَ،اَنِّیْ قُمْتُ مِنَ اللَّیْلِ فَصَلَّیْتُ مَا قُدِّرَ لِیْ فَنَعِسْتُ فِیْ صَلاتِیْ حَتَّی اسْتَیْقَظْتُ، فَاِذَا اَنَا بِرَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ! اَتَدْرِیْ فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: لا اَدْرِیْیَارَبِّ! قَالَ: یَامُحَمَّدُ! فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: لا اَدْرِیْیَارَبِّ! فَرَاَیْتُہُ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ حَتّٰی وَجَدْتُّ بَرْدَ اَنَامِلِہِ بَیْنَ صَدْرِیْ فَتَجَلّٰی لِیْ کُلُّ شَیْئٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ: یَا مُحَمَّدُ فِیْمَیَخْتَصِمُ الْمَلَاُ الْاَعْلٰی؟ قُلْتُ: فِیْ الْکَفَّارَاتِ، قَالَ: وَمَا الْکَفَّارَاتُ ؟ قُلْتُ: نَقْلُ الْاَقْدَامِ اِلَی الْجُمُعَاتِ وَجُلُوْسٌ فِی الْمَسْجِدِ بَعْدَ الصَّلاۃِ وَاِسْبَاغُ الْوُضُوئِ عَنْدَ الْکَرِیْھَاتِ، قَالَ: وَمَا الدَّرَجَاتُ ؟ قُلْتُ: اِطْعَامُ الطَّعَامِ، وَلِیْنُ الْکَلامِ، وَالصَّلاۃُ وَالنَّاسُ نِیَامٌ، قَالَ: سَلْ، قُلْتُ: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَاَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ، وَاَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمْلٍ یُّقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ۔)) وَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَنَّھَا حَقٌّ فَادْرُسُوْھَا وَتُعَلِّمُوْھَا۔)) (مسند احمد: ۲۲۴۶۰)
۔ سیدنا معاذ بن جبل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ایک صبح کو نماز فجر سے اتنی دیر تک رکے رہے کہ قریب تھا کہ سورج کا کنارہ نظر آ جاتا، بہرحال پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جلدی جلدی تشریف لائے، نماز کے لیے اقامت کہی گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مختصر سی نماز پڑھائی اور جب سلام پھیرا تو فرمایا: جیسے ہو، اپنی صفوں پر بیٹھے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بیشک میں تم کو بیان کرتا ہوں کہ آج صبح کس چیز نے مجھے روکے رکھا، میں رات کو کھڑا ہوا اور جتنی نصیب میں تھی، نماز پڑھی، ابھی میں نماز میں ہی تھا کہ اونگھ آگئی، پھر جب بیدار ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں اپنے ربّ تعالیٰ کے سامنے ہوں، اللہ تعالیٰ بہت ہی خوبصورت شکل میں تھے، اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کن امور میں بحث مباحثہ کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، اللہ تعالیٰ نے پھر کہا: مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے رب! مجھے تو علم نہیں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلی پر میرے کندھوں کے درمیان رکھی، مجھے اپنے سینے میں اس کے پورں کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور ہر چیز میرے لیے واضح ہو گئی اور مجھے معرفت حاصل ہو گئی، پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! (اب بتاؤ کہ) مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفارات میں، اس نے کہا: کفّارات کیا ہوتے ہیں؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف چل کر جانا، نماز کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند امور کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: درجات کیا ہیں؟ میں نے کہا: کھانا کھلانا، نرم کلام کرنا اور اس وقت نماز ادا کرنا، جب لوگ سو رہے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: سوال کرو، میں نے کہا: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ فَعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ وَاَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ، وَاَسْاَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمْلٍ یُّقَرِّبُنِیْ اِلٰی حُبِّکَ۔ (اے اللہ! میں تجھ سے نیکی کے کام نیکیاں کرنے، برائیوں کو ترک کرنے، مسکینوں سے محبت کرنا، مجھے بخشنے اور مجھ پر رحم کرنے کا سوال کرتا ہوں اور جب تو کسی قوم میں فتنہ برپا کرنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس فتنے میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا اور میں تجھ سے تیری محبت کا، تجھ سے محبت کرنے والے کی محبت کااور ایسے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت کے قریب کر دے)۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ حق ہے، لہٰذا اس کو سیکھوں اور سکھاؤ۔
Takhreej
(۸۹۷۸) تخریج:صحیح، قالہ الالبانی، أخرجہ الترمذی: ۳۲۳۵ (انظر: ۲۲۱۰۹)
Explanation
فوائد:… اگلی حدیث کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
8978
Sahih