TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل - اعمال صالحہ کی ترغیب دلانے کے مسائل - Book 153 of Musnad Ahmad with Urdu and English Translation

Book 153 of Musnad Ahmad, with 3 chapters and 48 Hadith. Read them below, or pick a chapter from the list to narrow it down.

48 Hadith · 3 Chapters
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
۔ (۸۹۳۷)۔ عَنْ اَبِی الدَّرْدَائِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّہٗسَمِعَالنَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَھُوَ یَقُصُّ عَلَی الْمِنْبَرِ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔} فَقُلْتُ: وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ؟ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثَّانِیَۃَ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔} فَقُلْتُ الثَّانِیَۃَ: وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الثَّالِثَۃَ: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ َربِّہِ جَنَّتَانِ۔} فَقُلْتُ الثَّالِثَۃَ: وَاِنْ زَنٰی وَاِنْ سَرَقَ یَا رَسُوْلُ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((نَعَمْ، وَاِنْ رَغِمَ اَنْفُ اَبِی الدَّرْدَائِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۶۸)
۔ سیدنا ابو درداء سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر پر یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: {وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہِ جَنَّتَانِ۔}… اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو باغات ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اور چوری بھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوسری دفعہ فرما دیا کہ اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔ میں نے بھی دوسری دفعہ کہہ دیا: اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا اور چوریبھی کرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تیسری دفعہ وہی آیت پڑھتے ہوئے فرمایا: اور جو آدمی اپنے ربّ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈر گیا، اس کے لیے دو باغات ہیں۔ اُدھر میں نے بھی تیسری دفعہ وہی سوال کر دیا کہ اے اللہ کے رسول! اگرچہ وہ زنا بھی کرے اور چوری بھی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور اگرچہ ابو درداء کا ناک خاک آلود ہو جائے۔
Takhreej
(۸۹۳۷) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ النسائی فی الکبری : ۱۱۵۶۰ (انظر: ۸۶۸۳)
Explanation
فوائد:… اس حدیث میں اللہ کے خوف کی فضیلت بیان کی گئی ہے، زنا اور چوری کی اجازت نہیں دی گئی، بہتر یہ ہے کہ جس حدیث ِ مبارکہ میں کسی چیز کی فضیلتیا مذمت بیان ہو رہی ہو تو اس کے موضوع کو سمجھ کر فضیلت والی چیز کو اپنایا جائے اور مذمت والی چیز سے اجتناب کیاجائے، مزید دیکھیں حدیث نمبر (۵۴۲۸) اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت ِ الٰہی ہی ایسا تصور ہے، جس کی وجہ سے نیکیوں کو سرانجام دینا اور برائیوں سے اجتناب کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے، سینکڑوں آیات و احادیث میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کی فضیلت بیان کی گئی اور اس کا درس دیا گیا ہے، ذیل میں اللہ تعالیٰ کے خوف پر آمادہ کرنے والے چند ایک خوبصورت اقوال بیان کیے جاتے ہیں،یہ اقوال (جامع العلوم والحکم: ۱/ ۱۶۲) سے نقل کیے گئے ہیں: وہب بن ورد ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌نے کہا: خَفِ اللّٰہَ عَلٰی قَدْرِ قُدْرَتِہٖعَلَیْکَ وَاسْتَحْیِ مِنْہُ عَلٰی قَدْرِ قُرْبِہٖمِنْکَ۔…اللہتعالیٰ سے اتنا ڈر، جتنی اس کو تجھ پر قدرت حاصل ہے اور اس سے اتنا شرما، جتنا وہ تیرے قریب ہے۔ ایک آدمی نے وہب بن ورد ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌سے کہا: آپ مجھے نصیحت کریں، انھوں نے کہا: اِتَّقِ اللّٰہَ أَنْ یَکُوْنَ أَہْوَنَ النَّاظِرِیْنَ إِلَیْکَ۔ … اللہ تعالیٰ سے اس چیز سے ڈر جا کہ تجھے دیکھنے والوں میں سے سب سے کم وقعت والا اللہ تعالیٰ ہو۔ یعنی ایسا نہ ہو کہ لوگوں کے سامنے تو تو برائی کرنے سے بچے اور جب تو اکیلا ہو تو اللہ تعالیٰ کا کوئی لحاظ رکھے بغیر اس برائی کا اجتناب کر دے، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جو اہمیت لوگوں کو دی جا رہی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کو نہیں دی جا رہی۔ سلف صالحین میں سے ایک نے کہا: ابْنَ آدَمَ إِنْ کُنْتَ حَیْثُ رَکِبْتَ الْمَعْصِیَۃَ لَمْ تَصِفْ لَکَ مِنْ عَیْنٍ نَاظِرَۃٍ إِلَیْکَ فَلَمَّا خَلَوْتَ بِاللّٰہِ وَحْدَہٗصِفْتَلَکَمَعْصِیَتہً وَلَمْ تَسْتَحْیِ مِنْہٗحَیَائَ کَ مِنْ بَعْضِ خَلْقِہٖمَاأَنْتَ إِلاَّ أَحَدُ رَجُلَیْنِ إِنْ کُنْتَ ظَنَنْتَ أَنَّہٗلَایَرَاکَ فَقَدْ کَفَرْتَ وَإِنْ کُنْتَ عَلِمْتَ أَنَّہٗیَرَاکَ فَلَمْ یَمْنَعْکَ مِنْہٗمَامَنَعَکَمِنْأَضْعَفِخَلْقِہٖلَقَدِاجْتَرَأْتَ۔…اےابنآدم! جبتونےبرائی کا ارتکاب کرنا چاہا تو دیکھنے والی آنکھ کی وجہ سے وہ تجھ سے سرزد نہ ہو سکی، لیکن جب تو اللہ تعالیٰ کے ساتھ اکیلا ہوا تو اس کا ارتکاب کر دیا اور اللہ سے اتنی بھی شرم نہیں کی، جتنی اس کی مخلوق کے بعض افراد سے کی۔ تو نہیں ہے، مگر دو آدمیوں میں سے ایک، اگر تو گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے دیکھ نہیں رہے تو تو کافر ہو گیا اور اگر تو جانتا ہے کہ وہ تجھ دیکھ رہا ہے تو یہ چیز تیرے لیے رکاوٹ نہ بن سکی، جبکہ کمزور ترین مخلوق رکاوٹ بن گئی تھی، تو یقینا تونے اللہ تعالیٰ پر جرأت کی۔ کسی نے رات کو ایک بدو خاتون سے برائی کرنے کا ارادہ کیا اور اس نے کہا: مَا یَرَانا إِلَّا الْکَوَاکِبُ۔ … اب تو ہمیں صرف ستارے دیکھنے والے ہیں، اس نے آگے سے جواب دیا: أَیْنَ مُکَوْکِبُہَا؟ … ستاروں کو چمکانے والا کہاں ہے؟ امام احمد ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌یہ شعر پڑھا کرتے تھے: إِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّہْــرَ یَوْمًا فَـلَا تَقُلْ خَلَوْتُ وَلٰکِنْ قُلْ عَلَیَّ رَقِیْبُ وَ لَا تَحْــــــسَبَنَّ اللّٰہَ یَغْفَلُ سَاعَۃً وَلَا أَنْ مـَـا یَخْفٰی عَلَیْہِیَغِیْبُ جب تو کسی وقت خلوت میں ہو تو یہ نہ کہہ کہ میں علیحدہ ہو گیا ہوں، بلکہ کہہ کہ مجھ پر نگہبان موجود ہے۔ کبھییہ گمان نہ کر کہ اللہ تعالیٰ کسی لمحے غافل ہو جاتا ہے اور نہ یہ خیال کر کہ جو چیزیں تجھ پر مخفی ہے، وہ اس سے بھی غائب ہیں ابن سماک ‌رحمتہ ‌اللہ ‌علیہ ‌یہ شعر پڑھا کرتے تھے: یَا مُدْمِنَ الذَّنْبِ أَمَا تَسْتَحْیِ وَاللّٰہُ فِــی الْخَلْوَۃِ ثَانِیْکَا غَــــــرَّکَ مِنْ رَّبِّکَ إِمْہَالُہٗوَسِـــتْرُہٗطُوْلَمَسَاوِیْکَا گناہوںپر ہمیشگی کرنے والے کیا تو شرماتا نہیں ہے، جبکہ خلوت میں تیرا دوسرا اللہ ہوتا ہے۔ تیرے پروردگار کے مہلت دینے نے تجھے دھوکہ دے رکھا ہے اور اس چیز نے کہ اس نے تیری برائیوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔
8937
Sahih
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
۔ (۸۹۳۸)۔ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُلَیْمٍ، قَالَ: قَالَ الْمِقْدَادُ بْنُ الْاَسْوَدِ: لا اَقُوْلُ فِیْ رَجُلٍ خَیْرًا وَلا شَرًّا حَتّٰی اَنْظُرَ مَا یُخْتَمُ لَہُ، یَعْنِیْ بَعْدَ شَیْئٍ سَمِعْتُہُ مِنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قِیْلَ: وَمَا سَمِعْتَ؟ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَقَلْبُ ابْنِ آدَمَ اَشَدُّ اِنْقِلَابًا مِنَ الْقِدْرِ اِذَا اجْتَمَعَتْ غَلْیًا۔)) (مسند احمد: ۲۴۳۱۷)
۔ سید مقداد بن اسود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ایک حدیث سننے کے بعد اب اس وقت تک کسی شخص کے بارے میں خیریا شرّ کا فیصلہ نہیں کرتا، جب تک یہ نہ دیکھ لوں کہ کس عمل پر اس کی زندگی کا اختتام ہو رہا ہے، کسی نے کہا: کون سی حدیث تو نے سنی ہے؟ میںنے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ابن آدم کا دل اس ہنڈیا سے بھی زیادہ الٹ پلٹ ہونے والا ہے، جو ساری کی ساری ابل رہی ہو۔
Takhreej
(۸۹۳۸) تخریج:حدیث حسن، أخرجہ الطبرانی: ۲۰/ ۶۰۳، والحاکم: ۲/ ۲۸۹ (انظر: ۲۳۸۱۶)
Explanation
فوائد:… پہلے دور کے لوگ رسوخ والے اور اپنے اپنے نظریوں پر قائم رہنے والے ہوتے تھے، عصر حاضر میں وقار، متانت اور سنجیدگی جیسی صفات نایاب ہوتی جارہی ہیں، اسی کی ایک شق یہ ہے کہ لوگوں کا نیکیوں سے برائیوں کی طرف اور برائیوں سے نیکیوں کی طرف منتقل ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتا، زیادہ غالب چیزیہی ہے کہ لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی معرفت اور محبت سے خالی ہوتے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بدعملی میں بڑا اضافہ ہو رہا ہے۔
8938
Sahih
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
۔ (۸۹۳۹)۔ عَنْ اَنَسٍ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُکْثِرُ اَنْ یَّقُوْلَ: ((یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔)) فَقَالَ لَہُ اَصْحَابُہُ وَاَھْلُہُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَتَخَافُ عَلَیْنَا؟ وَقَدْ آمَنَّا بِکَ وَبِمَا جِئَتَ بِہٖ،قَالَ: ((اِنَّالْقُلُوْبَبِیَدِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ یُقَلِّبُھَا۔)) (مسند احمد: ۱۲۱۳۱)
۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کثرت سے یہ دعا کیا کرتے تھے: … یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ! ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ۔(اے دلوں کو الٹ پلٹ کر دینے والے! میرے دل کو اپنے دین پر جمائے رکھنا)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ اور اہل و عیال نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو ہمارے بارے میں کوئی ڈر ہے، جبکہ ہم آپ پر اور آپ کی لائی ہو شریعت پر ایمان لائے ہیں؟آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک تمام دل اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں، وہ ان کو الٹ پلٹ کر دیتا ہے۔
Takhreej
(۸۹۳۹) تخریج:اسنادہ قوی علی شرط مسلم، أخرجہ الترمذی: ۲۱۴۰، وابن ماجہ: ۳۸۳۴(انظر: ۱۲۱۰۷)
8939
Sahih
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
۔ (۸۹۴۰)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃَ، عَنْ اَبِیْہِ، ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ رَجُلًا کَانَ فِیْمَنْ قَبْلَکُمْ رَغَسَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی مَالًا وَوَلَدًا، حَتّٰی ذَھَبَ عَصْرُہُ وَجَائَ عَصْرٌ فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُقَالَ: اَیْ بَنِیَّ! اَیَّ اَبٍّ کُنْتُ لَکُمْ؟ قَالُوْا: خَیْرَ اَبٍّ، قَالَ: اَنْتُمْ مُطِیْعِیَّ؟ قَالُوْا: نَعَمْ، قَالَ: انْظُرُوْا اِذَا اَنَا مِتُّ اَنْ تُحَرِّقُوْنِیْ حَتّٰی تَدَعُوْنِیْ فَحْمًا، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَفَعَلُوْا وَاللّٰہِ! ذٰلِکَ)) ثُمَّ اھْرُسُوْنِیْ بِالْمِہْرَاسِ یُوْمِئُی بِیَدِہِ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَفَعَلُوْا وَاللّٰہِ! ذٰلِکَ)) ثُمَّ اذْرُوْنِیْ فِی الْبَحْرِ فِیْیَوْمِ رِیْحٍ لَعَلِّیْ اَضِلُّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی۔)) قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَفَعَلُوْا وَاللّٰہِ! ذٰلِکَ)) فَاِذَا ھُوَ فِیْ قَبْضَۃِ اللّٰہِ تَبَارَکَ تَعَالٰی، فَقَالَ: یَا ابْنَ آدَمَ! مَاحَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: اَیْ رَبِّ مَخَافَتُکَ، قَالَ: فَتَلافَاہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِھَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۶۱)
۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے ایک آدمی کے مال و دولت میں بڑی برکت عطا کی تھی،یہاں تک کہ اس کا زمانہ گزر گیا اور نیا زمانہ آنے لگا، پس جب اس کی وفات کا وقت قریب ہوا تو اس نے کہا: تم نے مجھے کیسا باپ پایا؟انھوں نے کہا: بہترین باپ، اس نے کہا: کیا تم میری اطاعت کرو گے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، اس نے کہا: دیکھو، جب میں مر جاؤں تو تم نے مجھے اتنا جلانا ہے کہ میں کوئلے بن جاؤں۔ پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا۔ پھر اس نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا: پھر مجھے ہاون دستے سے کوٹ دینا۔ انھوں نے ایسے ہی کیا، پھر مجھے (یعنی میری راکھ کو) ہوا والے دن سمندر میں اڑا دینا، ہو سکتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ سے چھپ جاؤں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اللہ کی قسم! انھوں نے ایسے ہی کیا،لیکن اچانک اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنے قبضے میں کر کے پوچھا: اے آدم کے بیٹے! تجھے یہ کاروائی کرنے پر کس نے آمادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: اے میرے ربّ! تیرا ڈر تھا، پس اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی کوتاہی کو معاف کر دیا۔
Takhreej
(۸۹۴۰) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ الدارمی: ۲۸۱۳، والطبرانی فی الکبیر : ۱۹/ ۱۰۲۶ (انظر: ۲۰۰۱۲)
8940
Sahih
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
۔ (۸۹۴۱)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِنَحْوِہِ، وَفِیْہِ: ((فَجَمَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ وَقَالَ لَہُ: لِمَ فَعَلْتَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: مِنْ خَشْیَتِکَ، قَالَ: فَغَفَرَ لَہُ۔)) قَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَمْرٍو: اَنَا سَمِعْتُہُ یَقُوْلُ ذٰلِکَ، وَکَانَ نَبَّاشًا۔ (مسند احمد: ۲۳۷۴۵)
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے ، البتہ اس میں ہے: پس اللہ تعالیٰ نے اس کو جمع کر لیا اور کہا: تو نے ایسے کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر کی وجہ سے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو بخش دیا۔ عقبہ بن عمرو نے کہا: میں نے سنا ہے کہ وہ کفن چور تھا۔
Takhreej
(۸۹۴۱) ٍتخریج:أخرجہ البخاری: ۳۴۵۲، ۳۴۷۹ (انظر: ۲۳۳۵۳)
Explanation
فوائد:… ایک بڑا اہم سوال یہ ہے کہ اس آدمی کا نظریہیہ تھا کہ اگر اس کی میت کے ساتھ یہ کاروائی کی گئی تو وہ اللہ تعالیٰ سے چھپ جائے گا، جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یَخْفٰی عَلَیْہِ شَیْئ’‘ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآئِ۔} … بیشکنہ زمین میں کوئی چیز اللہ تعالیٰ پر مخفی ہے اور نہ آسمان میں۔ (سورۂ آل عمران: ۵) نیز اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے وہ جو چاہے کر سکتا ہے، اس آدمی کے نظریہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب اس کی راکھ ہواؤں اور سمندروں میں اڑا دی جائے تو اللہ تعالیٰ اس کو اکٹھا کرنے اور اس کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہو گا۔ اس سوال کے کئی جوابات دیئے گئے ہیں، تین درج ذیل ہیں: ۱۔ یہ آدمی اللہ تعالیٰ کا اقرار تو کرتا تھا،لیکن کسی فترہ کے زمانے میں ہونے کی وجہ سے اس کو کسی نبی کی مکمل تعلیمات کا علم نہیں تھا، اس لیےیہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اور ایمان کی تمام شرائط سے ناواقف تھا۔ ۲۔ ممکن ہے کہ اس آدمی نے یہ وصیت اس وقت کی ہو، جب دہشت اور خوف کی وجہ سے اس کی عقل زائل ہو چکی ہو۔ ۳۔ ممکن ہے کہ یہ آدمی خلوص کے ساتھ کسی شریعت کا تابع ہو، لیکن مکمل معلومات حاصل کرنے سے پہلے انتقال کر گیا ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔
8941
Sahih
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
۔ (۸۹۴۲)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اَنَّ رَجُلا لَمْ یَعْمَلْ مِنَ الْخَیْرِ شَیْئًا قَطُّ اِلَّا التَّوْحِیْدَ، فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ قَالَ لِاَھْلِہِ: اِذَا اَنَا مِتُّ، فَخُذُوْنِیْ وَاحْرُقُوْنِیْ، حَتّٰی تَدَعُوْنِیْ حُمَمَۃً، ثُمَّ اطْحَنُوْنِیْ، ثُمَّ اذْرُوْنِیْ فِی الْبَحْرِ فِیْیومٍ رَاحٍ، قَالَ: فَفَعَلُوْا بِہٖذٰلِکَ،فَاِذَاھُوَفِیْ قَبْضَۃِ اللّٰہِ، قَالَ: فَقَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ لَہُ: مَاحَمَلَکَ عَلٰی مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَخَافَتُکَ، قَالَ: فَغَفَرَاللّٰہُ لَہُ۔)) قَالَ یَحْيٰ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ عَنْ اَبِیْ رَافِعٍ، عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ بِمِثْلِہِ۔ (مسند احمد: ۳۷۸۴)
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا: جب میں مر جاؤں تو مجھے پکڑ کر جلا دینا اور کوئلہ بنا دینا، پھر پیس دینا اور ہوا والے دن سمندر میں اڑا دینا، انھوں نے ایسے ہی کیا، لیکن اچانک وہ اللہ تعالیٰ کے قبضے میں آگیا، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا: تجھے کسی چیز نے اس کاروائی پر آمادہ کیا؟ اس نے کہا: تیرے ڈر نے، پس اللہ تعالیٰ نے اس کو معاف کر دیا۔
Takhreej
(۸۹۴۲) تخریج:صحیح لغیرہ، أخرجہ ابویعلی: ۵۱۰۵، والطبرانی فی الکبیر : ۱۰۴۶۷(انظر: ۳۷۸۴)
Explanation
فوائد:… سابقہ حدیث کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
8942
Sahih
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
۔ (۸۹۴۳)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَحْوَہ۔ (مسند احمد: ۱۱۱۱۲)
۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔
Takhreej
(۸۹۴۳) تخریج: أخرجہ البخاری: ۳۴۷۸، ۶۴۸۱ (انظر: ۱۱۰۹۶)
8943
Sahih
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا بیان
۔ (۸۹۴۴)۔ عَنْ اَبِیْ قَتَادَۃَ وَاَبِی الدَّھْمَائِ، قَالَا: کَانَا یُکْثِرَانِ السَّفَرَ نَحْوَ ھٰذَا الْبَیْتِ، قَالَا: اَتَیْنَا عَلٰی رَجُلٍ مِّنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَقُلْنَا: ھَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا؟) فَقَالَ الْبَدَوِیُّ: اَخَذَ بِیَدِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَجَعَلَ یُعَلِّمُنِیْ مِمَّا عَلَّمَہُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی، وَقَالَ: ((اِنَّکَ لَنْ تَدَعَ شَیْئًا اِتْقَائَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ اِلَّا اَعْطَاکَ اللّٰہُ خَیْرًا مِنْہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۰۱۹)
۔ ابو قتادہ اور ابو دہماء سے مروی ہے کہ وہ بیت اللہ کی طرف کثرت سے سفر کرتے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ ہم ایک دیہاتی آدمی کے پاس آئے اور کہا: کیا تو نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ اس بدّو نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے بعض وہ چیزیں سکھائیں، جن کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو جس چیز کو بھی اللہ تعالیٰ کے ڈر کی وجہ سے چھوڑے گا، اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر عطا کرے گا۔
Takhreej
(۸۹۴۴) تخریج:اسنادہ صحیح، أخرجہ البیھقی: ۵/ ۳۳۵ (انظر: ۲۰۷۳۹)
Explanation
فوائد:… کتنی خوبصورت حدیث ِ مبارکہ ہے، مسلمان کی زندگی کے لمحہ لمحہ کو شامل ہے، یہ فرمانِ عالی شان اس قابل ہے کہ ہر اقدام سے پہلے اس کو مد نظر رکھا جائے، زندگی حقیقی لذتوںسے بھر جائے گی۔
8944
Sahih
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۴۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لا اَسْأَلُکُمْ عَلٰی مَا اَتَیْتُکُمْ بِہٖمِنَالْبَیِّنَاتِ وَالْھُدٰی اَجْرًا، اِلَّا اَنْ تَوَدُّوْا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ وَاَنْ تَقَرَّبُوْا اِلَیْہِ بِالطَّاعَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۱۵)
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں واضح دلائل اور ہدایت کی روشنی میں سے جو چیزیں تمہارے پاس لایا ہوں، ان پر تم سے کسی قسم کے اجر کا سوال نہیں کرتا، مگر اتنا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا حق ادا کرو اور اطاعت کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو۔
Takhreej
(۸۹۴۵) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف قزعۃ بن سوید الباھلی، أخرجہ الحاکم: ۲/ ۴۴۳(انظر: ۲۴۱۵)
8945
Zaeef
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۴۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم :(( قَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: یَاابْنَ آدَمَ! تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِیْ اَمْلَاُ صَدْرَکَ غِنًی، وَاَسُدَّ فَقْرَکَ، وَاِلاَّ تَفْعَلْ مَلَاْتُ صَدَرْکَ شُغْلاً وَلَمْ اَسُدَّ فَقْرَکَ۔)) (مسند احمد: ۸۶۸۱)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کہا: اے آدم کے بیٹے! تو میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا، میں تیرے سینے کو غِنٰی سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو ختم کر دوں گا، اور اگر تو نے ایسے نہ کیا تو تیرے سینے کو مصروفیت سے بھر دوں گا اور تیری فقیری کو پورا نہیں کروں گا۔
Takhreej
(۸۹۴۶) تخریج:اسنادہ محتمل للتحسین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۱۰۷، والترمذی: ۲۴۶۶(انظر: ۸۶۹۶)
Explanation
فوائد:… اللہ تعالیٰ کی عبادت میں منہمک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عبادات اور دنیوی معاملات کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت کرتے ہوئے اس پر مکمل بھروسہ کیا جائے۔ مثلا معاملات کے سلسلے میں صرف ان چیزوں کا کاروبار کیا جائے، جن کی تجارت کرنے کی شریعت نے اجازت دی ہے اور ان اشیا کی خرید و فروخت سے مکمل اجتناب کیا جائے، جو شریعت کی روشنی میں حرام ہیں۔ مثلا سگریٹ، نسوار، ہیروئن، چرس، شیو کرنا، بالوں کو کالا رنگ کرنا وغیرہ وغیرہ۔ اگر کسی کا کوئی سرکارییا پرائیویٹ کام ہو تو امانت و دیانت سے متصف ہو کر اور نگران کی موجودگی و عدم موجودگی کی پرواہ کئے بغیر اس کے تمام تقاضوں کو پورا کیا جائے اور نماز فجر، نماز عشاء کے وقت یا تعطیل کی صورت میں کچھ وقت کے لیے اللہ تعالیٰ کے گھروں میںیا اپنے گھروں میں بیٹھ کر ذکر اذکار اور تلاوت ِ قرآن کے ذریعے روح میں پیدا ہونے والی آلودگی کو صیقل و زائل کیا جائے۔ اس سلسلے میں دوسرا پہلو یہ ہے کاروبار، کھیتی باڑی اور دفتری کام کے دوران اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے فوراً پورا کیا جائے۔ مثلا نماز کا وقت، کسی تنگدست کی معاونت، کسی بیمار کی تیماری داری، کسی مہمان کی میزبانی، زکوۃ کی ادائیگی،حج کی ادائیگی وغیرہ وغیرہ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ کسی دنیوی پہلو کو اللہ تعالیٰ کے کسی حکم پر ترجیح نہ دی جائے اور حسب استطاعت نفلی عبادات کا بھی اہتمام کیا جائے، اسے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں منہمک ہونے سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ہر وقت اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ موجود رہے۔
8946
Sahih
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۴۷)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا، اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((قَالَ رَبُّکُمْ عَزَّوَجَلَّ: لَوْ اَنَّ عِبَادِیْ اَطَاعُوْنِیْ لَاَسْقَیْتُھُمْ الْمَطْرَ بِاللَّیْلِ، وَاَطْلَعْتُ عَلَیْھِمُ الشَّمْسَ بِالنَّہَارِ، وَلَمَا اَسْمَعْتُھُمْ صَوْتَ الرَّعْدِ۔)) (مسند احمد: ۸۶۹۳)
۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے ربّ نے کہا: اگر میرے بندے میری اطاعت کریں گے تو میں ان پر رات کو بارش نازل کروں گا اور دن کو سورج کو نکال دوں گا اور انہیں گرج کی آواز تک نہیں سناؤں گا۔
Takhreej
(۸۹۴۷) تخریج: اسنادہ ضعیف، صدقۃ بن موسی ضعفوہ، أخرجہ الطیالسی فی مسندہ : ۲۵۸۶، والبزار: ۶۶۴ (انظر: ۸۷۰۸)
8947
Zaeef
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۴۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃً ثُمَّ قَالَ: ((عَلٰی مَکَانِکُمْ اثُبُتُوْا۔)) ثُمَّ اَتَی الرِّجَالَ فَقَالَ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاْمُرُنِیْ اَنْ آمُرَکُمْ اَنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ، وَاَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیٍْدا۔)) ثُمَّ تَخَلَّلَ اِلٰی النِّسَائِ فَقَالَ لَھُنَّ: (( اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَاْمُرُنِیْ اَنْ آمُرَکُنَّ اَنْ تَتَّقُوْا اللّٰہَ وَاَنْ تَقُوْلُوْا قَوْلٍا سَدِیْدًا۔)) قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ حَتّٰی اَتَی الرِّجَالَ فَقَالَ: ((اِذَا دَخَلْتُمْ مَسَاجِدَ الْمُسْلِمِیْنَ وَاَسْوَاقَھُمْ، وَمَعَکُمْ النَّبْلُ، فَخُذُوْا بِنُصُولِھَا،لاَ تُصِیْبُوْا بِھَا اَحَدًا فَتُؤْذُوْہُ اَوْ تَجْرَحُوْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۱۷)
۔ سیدنا عبد اللہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی اور پھر فرمایا: اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مردوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیںیہ حکم دوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بیچوں بیچ سے عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا کہ میں تمہیںیہ حکم دوں کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈر جاؤ اور درست بات کہا کرو۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مردوں کے پاس واپس تشریف لے آئے اور فرمایا: جب تم مسلمانوں کی مسجدوں اور بازاروں میں داخل ہو اور تمہارے پاس نیزہ ہو تو اس کے پھلکے کو پکڑ کر رکھو تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو مار دو اور اس طرح اس کو تکلیف پہنچاؤ یا زخمی کر دو۔
Takhreej
(۸۹۴۸) تخریج:قولہ منہ: اذا دخلتم مساجد … الی آخر الحدیث صحیح، وھذا اسناد ضعیف لضعف لیث بن ابی سلیم (انظر: ۱۹۴۸۸)
8948
Sahih
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۴۹)۔ عَنْ شَدَّادِ بْنِ اَوْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ، وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ، وَالْعَاجِزُ مَنِ اتَّبَعَ نَفْسَہُ ھَوَاھَا وَتَمَنّٰی عَلٰی اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۲۵۳)
۔ سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس میں عاجزی پیدا کر لے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے اور عاجز اور بے بس وہ ہے جو اپنے نفس کو اپنے خواہشات کے پیچھے لگا دے اور اللہ تعالیٰ پر تمنا کر نے لگے۔
Takhreej
(۸۹۴۹) تخریج:اسنادہ ضعیف لضعف ابی بکر بن ابی مریم أخرجہ الترمذی: ۲۴۵۹، وابن ماجہ: ۴۲۶۰(انظر: ۱۷۱۲۳)
Explanation
فوائد:… بہرحال عقل مندییہی کہ آخرت کو ترجیح دی،
8949
Zaeef
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۵۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَثَلَ الَّذِیْیَعْمَلُ السَّیِّئَاتِ ثُمَّ یَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ کَمَثَلِ رَجُلٍ کَانَتْ عَلَیْہِ دِرْعٌ ضَیِّقَۃٌ قَدْ خَنَقَتْہُ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَۃً فَانْفَکَّتْ حَلْقَۃٌ ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَۃً اُخْرٰی، فَانْفَکَّتْ حَلْقَۃٌ اُخْرٰی حَتّٰی تَخْرُجَ اِلٰی الْاَرْضِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۴۰)
۔ سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی برائیاں کرنے کے بعد نیکیاں کرتا ہے، اس کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جس نے گلے کو دبا دینے والی تنگ زرہ پہن رکھی ہو، پھر جب وہ نیکی کرتا ہے تو اس کا ایک کڑا کھل جاتا ہے، پھر جب وہ کوئی اور نیکی کرتا ہے تو دوسرا کڑا کھل جاتا ہے، یہ سلسلہ جاری رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ زرہ زمین پر گر جاتی ہے۔
Takhreej
(۸۹۵۰) تخریج:اسنادہ حسن، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۷/ ۷۸۳ (انظر: ۱۷۳۰۷)
Explanation
فوائد:… برائیاں آدمی کے سینے کو تنگ کر دیتی ہیں، لیکن برا آدمی نیکیوں والی راحت سے اس قدر محروم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اس تنگی کو محسوس تک نہیں کر سکتا، اس کے برعکس نیکیوں سے انشراحِ صدر ہوتا ہے اور دل و دماغ کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔
8950
Sahih
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ: ((یَقُوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ : مَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَلَہُ عَشْرُاَمْثَالِھَا اَوْ اَزِیْدُ، وَمَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَجَزَاؤُہُ مِثْلُھَا اَوْ اَغْفِرُ، وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْاَرْضِ خَطِیْئَۃً ثُمَّ لَقِیَنِیْ لَا یُشْرِکُ بِیْ شَیْئًا جَعَلَتُ لَہُ مِثْلَھَا مَغْفِرَۃً، مَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ شِبْرًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ اَتَانِیْیَمْشِیْ اَتَیْتُہُ ھَرْوَلَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۸۷)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کہتا ہے: جس نے نیکی کی، میں اس کو دس گنا یا اس سے بھی زیادہ عطا کروں گا اور جس نے برائی کی، تو اس کا بدلہ اسی کی مثل ہو گا یا میں اس کو بھی معاف کر دوں گا، جس نے زمین بھرنے کے بقدر گناہ کیے اور پھر مجھے اس حال میں ملا کہ اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو تو اس کو اس کے گناہوں کے بقدر بخشش عطا کر دوں گا، جو ایک بالشت میرے قریب ہوا، میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوں گا، جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوا، میں دو بازوؤں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہو جاؤں گا اور جو میری طرف چل کر آئے گا، میں اس کی طرف دوڑ کر آؤں گا۔
Takhreej
(۸۹۵۱) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۸۷(انظر: ۲۱۳۶۰)
Explanation
فوائد:… توبہ سے ہر قسم کا گناہ معاف ہو جاتا ہے، بشرطیکہ وہ خالص ہو۔
8951
Sahih
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہُ: ((یَقُوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ : مَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَلَہُ عَشْرُاَمْثَالِھَا اَوْ اَزِیْدُ، وَمَنْ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَجَزَاؤُہُ مِثْلُھَا اَوْ اَغْفِرُ، وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْاَرْضِ خَطِیْئَۃً ثُمَّ لَقِیَنِیْ لَا یُشْرِکُ بِیْ شَیْئًا جَعَلَتُ لَہُ مِثْلَھَا مَغْفِرَۃً، مَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ شِبْرًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنِ اقْتَرَبَ اِلَیَّ ذِرَاعًا اِقْتَرَبْتُ اِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ اَتَانِیْیَمْشِیْ اَتَیْتُہُ ھَرْوَلَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۶۸۷)
۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے کہا: جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب ہو کر مجھے ملتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو کر اسے ملتا ہوں، اسی طرح اگر وہ ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھوں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہوں اور جب وہ دو ہاتھ کے پھیلاؤ کے بقدر میرے قریب ہوتا ہے تو میں اس سے جلدی اس کے قریب ہوتا ہوں۔
Takhreej
(۸۹۵۲) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۷۵ (انظر: ۸۱۹۳)
8952
Sahih
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۵۳)۔ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ نُعَیْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِیَّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، وَھُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ بِالْفُسْطَاطِ، یَقُوْلُ: سَمِعْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ تَقَّرَبَ اِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ شِبْرًا تَقَرَّبَ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ اِِلَی اللّٰہِ ذِرَاعًا تَقَرَّبَ اِلَیْہِ بَاعًا، وَمَنْ اَقْبَلَ عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ مَاشِیًا اَقْبَلَ اللّٰہُ اِلَیْہِ مُہَرْوِلًا، وَاللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ، وَاللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ، وَاللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَلُّ۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۰۲)
۔ سیدنا ابو ذر غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جبکہ وہ فسطاط میں منبر پر بیان کررہے تھے، سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی ایک بالشت اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہے، اور جب بندہ ایک ہاتھ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ دو بازوؤں کے پھیلاؤ کے بقدر اس کے قریب ہوتا ہے، جو چل کر اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے، اللہ تعالیٰ دوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے، اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے، اللہ تعالیٰ بہت بلند و بالا اور بہت بڑے جلال والا ہے۔
Takhreej
(۸۹۵۳) تخریج:حدیث صحیح، أخرجہ الطبرانی فی الکبیر : ۱۶۴۶(انظر: ۲۱۳۷۴)
8953
Sahih
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۵۴)۔ عَنْ مُعَاذٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: کُنْتُ رَدِیْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَامُعَاذُ ! اَتَدْرِیْ مَاحَقُّ اللّٰہِ عَلَی الْعِبَادِ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَنْ یَّعْبُدُوْہُ وَلا یُشْرِکُوْا بِہٖشَیْئًا۔)) قَالَ: ((فَہَلْ تَدْرِیْ مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَی اللّٰہِ اِذَا ھُمْ فَعَلُوْا ذٰلِکَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: اللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ اَعْلَمُ، قَالَ: ((اَنْ لَّایُعَذِّبَھُمْ۔)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ: قُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَلاَ اُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: ((دَعْھُمْ یَعْمَلُوْا۔)) (مسند احمد: ۲۲۳۵۶)
۔ سیدنا معاذ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ردیف تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ تعالیٰ کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ جانتے ہو کہ جب بندے یہ حق ادا کر دیں تو ان کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہوتا ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حق یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس چیز کی لوگوں کو خوشخبری نہ دے دوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔
Takhreej
(۸۹۵۴) تخریج:اسنادہ صحیح علی شرط الشیخین، أخرجہ ابن ماجہ: ۴۲۹۶ (انظر: ۲۲۰۰۶)
Explanation
فوائد:… اس میں امت ِ مسلمہ کے شرف کا بیان بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کو اپنی رحمت کا مستحق قرار دیا ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ انتہائی قابل غور ہے، یعنی زیادہ اجرو ثواب والے اعمال کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بندہ مزید عمل کرنا ترک کر دے، دیکھیں اس قسم کی احادیث کے اولین مخاطَب صحابۂ کرام تھے، لیکن انھوں نے ان کی وجہ سے کسی عمل کو ترک کرنا گوارا نہ کیا،نیز اگلی حدیث پر غور کریں۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا ہماری عملی زندگی سے تعلق یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں۔
8954
Sahih
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۵۵)۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوْفِ شَیْئًا فَاِنْ لَّمْ تَجِدْ فَالْقَ اَخَاکَ بِوَجْہٍ طَلْقٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۵۲)
۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو حقیر نہ جان، پس اگر کچھ دینے کے لیے تیرے پاس کچھ نہ ہو تو اپنے بھائی کو ہنس مکھ اور کھلے ہوئے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔
Takhreej
(۸۹۵۵) تخریج:أخرجہ مسلم: ۲۶۲۶ (انظر: ۲۱۵۱۹)
Explanation
فوائد:… کسی کو مسکراتے چہرے کے ساتھ ملنا، ہر معاشرے میں اس کو معمولی نیکی سمجھا جاتا ہے، اسی وجہ سے اس معاملے میں غفلت کرنے والے زیادہ افراد نظر آتے ہیں، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر ترک نہ کیا جائے، بلکہ جہاں تک ممکن ہو توشۂ آخرت تیار کیا جائے۔ سابق حدیث کا لب لباب یہ تھا کہ بڑے عمل کی وجہ سے دوسرے اعمالِ صالحہ سے غفلت نہ برتی جائے اور اس حدیث میں یہ ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی ترک نہ کیا جائے۔
8955
Sahih
مطلق طور پر نیکی اور اطاعت کے اعمال کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان
۔ (۸۹۵۶)۔ عَنْ جَابِرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: اَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ، فَقَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَرَاَیْتَ اِنْ حَلَّلْتُ الْحَلَالَ وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ، وَصَلَّیْتُ الْمَکْتُوْبَاتِ وَلَمْ اَزِدْ عَلٰی ذٰلِکَ، اَاَدْخُلُ الْجَنَّۃَ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((نَعَمْ۔)) (مسند احمد: ۱۴۴۴۷)
۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا نعمان بن قوقل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں حلال کو حلال سمجھوں، حرام کو حرام سمجھوں اور فرضی نمازیں ادا کروں اور اس کے علاوہ کچھ نہ کروں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کہا: جی ہاں۔
Takhreej
(۸۹۵۶) تخریج: أخرجہ مسلم: ۱۵ (انظر: ۱۴۳۹۴)
8956
Sahih